The Role of Islam in the Emerging Scenario.
Al-Risala, May 2001, pp. 47–49
By Maulana Wahiduddin Khan
تین گھنٹہ کا یہ پروگرام صرف اسلام کے موضوع پر تھا۔ تقریر کے بعد سوال و جواب سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ چنانچہ جو لو اسلام کو اختیار کرتے ہیں ان کا احساس یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے خود اپنی فطرت کے دین اختیار کر لیا ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ ہم تو اسلام کو مسلمانوں کی تصویر میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بتائی ہوئی تصویر سے مختلف ہے۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ یہ مطالعہ کا اگر آپ ڈیما کریسی کا علمی مطالعہ کریں تو کیا آپ ایسا کریں گے کہ بہار لال پور شاد اور را بڑی دیوی کے نمونہ کو لے کر ڈیموکریسی کے بارے میں رائے قائم کریں۔
۲۹ جنوری ۲۰۰۱ کو بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر مارک لنڈلے (Mark Lindley) نے صدر اسلامی مرکز سے ملاقات کی اور اپنی ایک زیر تیاری کتاب کے لئے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ان کی اس کتاب میں ایک باب اسلام پر ہے۔ انہیں اسلام سے متعلق ضروری معلومات دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں عام تاثر یہ ہے کہ اسلام ایک تشدد کا قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کو اسلام کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرایا گیا۔ انٹرویو کے دوران وہ تمام باتوں کو اپنے کمپیوٹر(laptop) کے ذریعہ نوٹ کرتے رہے۔ انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک امریکی ادارہ انٹرنیشنل سوسائٹی ڈاوری اینڈ برانڈ (International Society Against Dowry & Bride Burning)
کے تحت دو روزہ سیمنار ہوا۔ اس کی دعوت پر ۳۰ جنوری ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز نے اس کے اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ زیادہ تر لوگ اس مسئلہ پر جہیز وغیرہ کے خلاف آواز اٹھانے کو کام سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک زیادہ مفید بات یہ ہے کہ عورت کی اہمیت اور افادیت کو مردوں کے ذہن نشین کرایا جائے۔ عورت ایک مرد کے لئے بہترین رفیقہ حیات ہے۔ مرد اگر عورت کو جان لے تو اپنے آپ جہیز کا اور جلانے مارنے کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد مرد کے لئے عورت ایک سرمایه (asset) بن جائے گی نہ کہ ایک بوجھ (liability)۔ اس سلسلہ میں مزید بتایا گیا کہ الرساله مشن کے تحت اس کا کامیاب تجربہ کیا جارہاہے۔
۳۱ جنوری ۲۰۰۱ کو اگھل بھارتیہ یووا مورچہ کی طرف سے جنتر منتر روڈ (نئی دہلی) میں ایک جلسہ کیا گیا۔ اس کا موضوع آتنک واد تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آتنک واد کیا ہے، آتنک واد تجھو واد ہے، آتنک واد بھیٹریا داد ہے۔ یہ انسان کے لئے شرم کی بات ہے کہ وہ آتنک وادی ہو۔ ہر انسان خدا کی ہر انسان خدا کا ایک پھول ہے۔ دنیا کے باغ میں پھول اور کانٹے ایک ساتھ
پھول اور کانٹے آپس میں تشدد نہیں کرتے۔ پھر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ پھول اور پھول ایک ساتھ امن کے ساتھ نہ رہ سکیں۔ جو آدمی دوسرے آدمی کو پھول کے روپ میں دیکھے وہ خود بھی پھول بن جائے گا۔ اور جو انسان دوسرے انسان کو کانٹے کے روپ میں دیکھے وہ خود ایک کانٹا بن جائے گا۔ آہنگ وادی پہلے اپنے آپ کو مارتا ہے، اس کے بعد دوسرے انسان کو۔
کیتھولک کیتھیڈرل (گول مارکیٹ، نئی دہلی) میں ۹ فروری ۲۰۰۱ کو ایک پروگرام ہوا۔ گجرات کے زلزلہ ۲۶ جنوری ۲۰۰۱ کے اوپر تھا۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندے شریک اسلام کی نمائندگی کے لئے صدر اسلامی مرکز کو بلایا گیا تھا۔ انہوں نے اس موضوع پر مختصر انداز میں اظہار خیال کیا۔ اور دعا کی کہ اللہ گجرات کے ان پریشان حال لوگوں کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ اور ان کو دوبارہ ایک نئی زندگی کی تعمیر کے قابل بنائے۔ گجرات کے زلزلہ (۲۶ جنوری ۲۰۰۱) کے حادثہ پر ۱۱ فروری ۲۰۰۱ کو گاندھی درشن (راج گھاٹ، نئی دہلی) کے ہال میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس کے چیر مین سابق صدر جمہوریہ مسٹر آر وینکٹ رمن تھے۔ اس میں مختلف ملکی تنظیموں کے نمائندے اور ریلیف کے لئے کام کرنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز بھی اس میں انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ گجرات کا زلزلہ ہمارے لئے ایک بے حد بھیانک واقعہ تھا۔ یہ ایک اچھی علامت ہے کہ اس موقع پر پورے ملک نے باہمی اختلاف کو بھلا کر تعاون کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے معاملے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر شخص اپنے بس بھر خدمت کرے، جس آدمی کے پاس جسمانی طاقت ہو وہ اپنی جسمانی طاقت سے لوگوں کی خدمت کرے ۔ جس کے پاس پیسہ ہو وہ اس میں اپنا پیسہ دے۔ کے پاس دینے کے لئے اس قسم کی کوئی چیز نہ ہو تب بھی اس کا فرض ہے کہ وہ دل سے مصیبت زدہ لوگوں کے لئے تڑپے۔ وہ آنسو بہا کر ان کے لئے خدا سے دعا کرے ۔