تلاوت قرآن
Al-Risala, June 2001, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی تلاوت وہ چیز ہے جس کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ ایمان والے وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں (الانفال ۲) دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے (المائدہ ۸۳۔ قرآن براہ راست خدا کا کلام ہے۔ اس میں خداوندی جلال کی گرج ہے۔ اس میں عبدیت کے احساس کو جگانے والی بجلیاں ہیں۔ اس میں وہ نور ربانی ہے جو کسی کے اندر اترے تو اس کے پورے داخلی وجود کو روشن کردے۔ اس میں وہ شعلہ حق ہے جو کسی قلب پر اترے تو وہ اس کو کوہ طور کی طرح ریزہ ریزہ کردے۔ ایسے کلام کی تلاوت سادہ طور پر تکرار الفاظ کا نام نہیں ہوتی۔ دل ودماغ میں آگ لگانے کے ہم معنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کا بار بار پڑھنا شخصیت انسانی میں ایک انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
قرآن کی تلاوت سادہ طور پر ایک کتاب کی تلاوت نہیں ہے۔ یہ کلام الہی کا مطالعہ ہے۔ گویا بالواسطہ انداز میں خدا سے ہم کلام ہونا ہے۔ ایسی حالت میں تلاوت قرآن کے دوران اس کے مطابق کیفیات کا ظہور ہونا چاہئے۔ اگر اس غیر معمولی کلام سے مطابقت رکھنے والی کیفیات آدمی کے اندر پیدا نہ ہوں تو سمجھا جائے گا کہ وہ غفلت میں مبتلا ہے، اس نے زندہ شعور کے ساتھ قرآن کو نہیں پڑھا۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے ایسا ہونا چاہئے کہ آدمی کے اوپر خدا کی ہیبت طاری ہو۔ آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگے۔ قرآن کا پڑھنا اس کو خدا سے ملانے والا بن جائے۔ قرآن کو پڑھنا اس کے لیے خدا سے زندہ تعارف کے ہم معنی ہو۔ قرآن میں وہ ایک طرف اپنی عبدیت کو پالے اور دوسری طرف خدا کی معبودیت اور اس کے جلال کو۔