Al-Risala · June 2001

فرق کا مسئلہ

Al-Risala, June 2001, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک چیز اور دوسری چیز میں فرق کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے قانونی تفریق اور دوسری ہے فطری تقسیم۔ قانونی تفریق انسان وضع کرتا ہے۔ اس لئے اس کو بدلنا ممکن ہے۔ تقسیم خود خالق کائنات کی طرف سے قائم کی گئی ہے۔ اس کو بدلنے کی کوشش کرنا حقیقت واقعہ سے لڑنا ہے۔ اور حقیقت واقعہ سے لڑ کر کبھی کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر کسی ملک میں اگر یہ قانون بنا دیا جائے کہ ٹرین کے فرسٹ کلاس میں صرف سفید فام لوگ سفر کر سکتے ہیں، اور جو لوگ سیاہ فام ہیں وہ صرف سیکنڈ کلاس کی بوگی میں انسانی ضمیر کبھی اس کو قبول نہیں کرے گا۔ ایسے قانون کے معاملہ میں درست بات یہ ہوگی کہ ہمیشہ کے لئے اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔

مگر عورت اور مرد کے درمیان فرق کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہ سادہ طور پر ایسا نہیں ہے کہ جس طرح اونچی ذات کے لوگوں نے اپنے اور نیچی ذات کے درمیان امتیازی قوانین بنا ڈالے اسی طرح مردوں نے بھی عورتوں کے خلاف امتیازی قانون بنا رکھے ہیں۔ اور اس بنا پر عورت اور مرد زندگی کے میدان میں دوش بدوش نہیں چل رہے ہیں۔ بلکہ یہ معاملہ فطری تقسیم کا معاملہ ہے۔ خالق فطرت ہے جس نے عورت اور مرد کے درمیان فرق قائم کیا ہے۔ نہ کہ کسی انسان نے۔ اصل یہ ہے کہ انسانی زندگی میں مختلف قسم کے کام ہوتے ہیں۔ مختلف قسم کے کاموں کی درست ادائیگی سے ایک اچھا سماج بنتا ہے۔ اس معاملہ میں فطرت نے یہ کیا ہے کہ اس نے تقسیم کار کے اصول پر کچھ کام مردوں کے لئے خاص کر دئے ہیں۔ اور کچھ کام عورتوں کے لئے۔ مثلاً سخت کام مردوں کے لئے اور ہلکے کام عورتوں کے لئے۔ یا سماج کے خارجی امور کو بنیادی طور پر مردوں سے متعلق کر دیا گیا اور داخلی امور کو بنیادی طور پر عورتوں سے۔ عورت اور مرد کا تخلیقی نقشہ اسی تقسیم کار کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس تقسیم کار کو بدلنے کے لئے ہمیں خود تخلیقی نقشہ کو بدلنا پڑے گا۔ نقشہ کو بدل نہیں سکتے اس لئے واحد عملی طریقہ یہ ہے کہ تقسیم کار کے ان اصول کو مان لیا جائے۔

Printed page