Al-Risala · June 2001

استحقاق جنت

Al-Risala, June 2001, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے پھر ہر اس بندے کو بخش دیا جاتا ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتا۔ شخص کے جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ ہو، پس کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کے معاملے کو مؤخر کرو یہاں تک کہ وہ دونوں اپنے باہمی معاملہ کو درست کر لیں۔ حتى يصطلحا) کتاب البر والصلة والآداب، صحیح مسلم بشرح النووی ۱۲/ ۱۴۲۔ اس حدیث میں جس بات کی نشاندہی کی گئی ہے اس سے مراد وقت نہیں ہے بلکہ نفسیات اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ فلاں وقت تک آدمی کے بارے میں جنت کا فیصلہ نہیں اور اس کے بعد جب فلاں وقت آ جاتا ہے تو اس کے لیے جنت کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے بلکہ اس سے مراد خود اس کی داخلی نفسیات ہے۔ جو دراصل اس کے لیے جنت کا استحقاق پیدا کرتی ہے۔ ایک آدمی کا حال اگر یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کی طرف سے پیش آنے والے کسی ناپسندیدہ تجربے کے بعد اس سے متنفر ہو گیا۔ اور اس کے خلاف کینہ اور نفرت کے جذبات اس کے دل میں بھڑک اٹھے تو یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ ایسی نفسیات کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کی روحانیت جاتی رہے گی۔ اس کا دماغ منفی خیالات کا کار خانہ بن جائے گا۔ وہ اپنی منفی سوچ کی بنا پر اس قابل نہ رہے گا کہ خدا کا فیض اس کے اوپر اترے اور اس کی زبان سے وہ پاکیزہ دعائیں نکلیں جو کسی آدمی کو جنت کا مستحق بناتی ہیں۔

اس کے برعکس جب ایسا ہو کہ ایک آدمی کا وقتی طور پر کسی سے بگاڑ ہو جائے مگر جلد ہی وہ اس سے توبہ کرے۔ وہ نفرت کے جذبات کو اپنے اندر سے نکالے اور اس کے بجائے محبت کے جذبہ سے دوبارہ مذکورہ شخص سے اپنے تعلقات کو درست کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کو فرشتوں کی ہم نشینی حاصل ہو جائے گی۔ خدا کی یاد کا نورانی چشمہ اس کے سینے میں جاری ہو جائے گا۔ اس کی زبان سے دعا کے وہ ربانی کلمات نکلنے لگیں گے جو سیدھے خدا تک پہنچتے ہیں اور آدمی کو جنت کا مستحق بنا دیتے ہیں۔

Printed page