Al-Risala · June 2001

قناعت کامیابی کا راز

Al-Risala, June 2001, pp. 15–20

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک عوامی مثل ہے۔ یہ مثل زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتاتی ہے اس مثل کے الفاظ یہ ہیں ”آدھی چھوڑ کے پوری دھاوے، پوری ملے نہ آدھی پاوے“۔

اصل یہ ہے کہ انسان بیشتر حالات میں اپنی خواہشات اور اپنی امنگوں (ambitions) کے تحت سوچتا ہے اس بنا پر اکثر وہ ایسے اقدامات کر بیٹھتا ہے جو حقیقی حالات کے اعتبار سے اس کے لئے قابلِ حصول نہیں ہوتے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا عمل انجام کے اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوتا ہے، وہ نا ممکن کو حاصل کرنے کی کوشش میں ممکن کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مشہور مسلم رہنماؤں کی کہانی یہی ہے۔ انہوں نے حقائق کی رعایت کے بغیر محض اپنی خواہشوں اور۔ امنگوں کے تحت بڑی بڑی چھلانگ لگادی، اس کا نتیجہ ملت کے حصہ میں تباہی کے سوا کچھ اور نہ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے چند مثالیں لیجئے۔

سردار شوکت حیات خاں مشہور پاکستانی لیڈر ہیں۔ وہ متحدہ پنجاب کے سابق وزیر اعظم مرحوم سر سکندر حیات خاں کے صاحبزادے ہیں۔ سردار شوکت حیات خاں نے اپنے کیریئر کا آغاز دوسری جنگِ عظیم میں فوجی افسر کی حیثیت سے کیا۔ ۱۹۲۳ میں مسلم لیگ کی سیاست میں سر گرم طور پر شامل ہو گئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ پنجاب کے وزیر بنے اور وہاں کے دوسرے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔

سردار شوکت حیات خاں نے اپنی زندگی کے حالات پر ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی ہے جس کا نام (دی نیشن دیٹ لوسٹ اُٹس سول) (The Nation that lost its soul) اس کتاب کا اردو ترجمہ (گم گشتہ قوم) دسمبر ۱۹۹۵ء میں پاکستان سے چھپا ہے۔ کتاب کا یہ اردو ایڈیشن ۴۶۱ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے ناشر جنگ پبلشرز لا ہور ہیں۔ اس کتاب کے ایک باب کا عنوان ”لیاقت علی خاں“ ہے۔ جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ اس باب میں

مختلف باتیں کہی گئی ہیں ان میں سے ایک کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

"نواب زادہ لیاقت علی خان" کو حقائق اور ملک کے جغرافیہ سے بھر پور واقفیت نہ تھی۔ جس کے وہ پہلے وزیر اعظم بن چکے تھے.......... بعد میں کشمیر پر حملہ کے دوران جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاہور آیا۔ ایک ڈنر، جس میں لیاقت، گورنر مودی اور پنجاب کے چار وزیر موجود تھے، لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سردار پٹیل کا پیغام پہنچایا۔ پٹیل جو ہندوستان کی ایک طاقتور شخصیت تھا۔ پیغام تھا کہ اس اصول کی پابندی کی جائے جو کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین ریاستوں کے مستقبل کے بارے میں طے پایا تھا وہ یہ کہ ریاست اپنے باشندوں کی اکثریت اور سرحدوں کے ساتھ ملاپ کی بنا پر پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں گی۔ پٹیل نے کہا کہ پاکستان کشمیر کو لے لے اور حیدر آباد دکن کا مطالبہ چھوڑ دے جہاں پر ہندو آبادی کی اکثریت تھی اور جس کا پاکستان کے ساتھ زمینی یا سمندری ذریعہ سے کوئی اتصال بھی نہ تھا۔ یہ پیغام دینے کے بعد ماؤنٹ بیٹن گورنمنٹ ہاؤس میں آرام کرنے چلا گیا۔

میں کشمیر آپریشن کا مکمل نگراں تھا۔ میں نے لیاقت علی خاں کے پاس جا کر انہیں تجویز دی کہ ہندوستان کی فوج جو کشمیر میں داخل ہو چکی ہے ہم قبائلیوں کی مدد سے اس کو باہر نکالنے اور کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ یہاں تک کہ ہماری اس وقت کی فوج بھی اس کامیابی کے حصول میں شاید مددگار ثابت نہ ہو سکے گی۔ لہذا ہمیں سردار پٹیل کی پیشکش کو ٹھکرانا نہیں چاہئے۔ نواب زادہ نے میری جانب مڑ کر کہا"سردار صاحب، کیا میں پاگل ہو گیا ہوں کہ میں کشمیر کے پہاڑوں اور ٹیلوں کے بدلے ریاست حیدر آباد دکن کو چھوڑ دوں جو پنجاب سے بھی بڑی ریاست ہے"

پرائم منسٹر کے اس رد عمل کو دیکھ کر میں تو سن ہو گیا کہ ہمارا وزیر اعظم ملکی جغرافیہ سے اتنا بے خبر تھا۔ اس کی ذہانت کا یہ معیار کہ وہ حیدر آباد دکن کو کشمیر پر ترجیح دے رہا ہے۔ احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات تھی۔ حیدر آباد کا حصول ایک سراب تھا جب کہ کشمیر اپنے

آپ مل رہا تھا۔ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ اہمیت سے وہ قطعی واقف نہیں تھے۔ چنانچہ احتجاج کے طور پر میں نے کشمیر آپریشن کی نگرانی سے استعفیٰ دے دیا (صفحہ ۲۳۱ ۲۳۲) سردار شوکت حیات خاں کا یہ بیان اس درد ناک حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈر کس طرح مذکورہ مثل کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ ممکن اور نا ممکن کے فرق کو سمجھ نہ سکے۔ وہ نہ ملنے والی چیز کو پانے کے لئے دوڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملنے والی چیز بھی ان سے کھوئی گئی اور نہ ملنے والی چیز تو سرے سے ملنے والی ہی نہ تھی۔

اب اس نوعیت کی ایک اور مثال لیجئے۔ اس مثال کا تعلق ۱۹۴۷ء سے پہلے کے دور سے ہے جب کہ بر صغیر ہند میں انگریزوں کا سیاسی اقتدار قائم تھا۔ اس مثال کو اردو ہفت روزہ الجمعیۃ سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس امروہہ (۳۔ ۵ مئی ۱۹۳۰ء) سے کچھ روز قبل وائسرائے ہند کی کونسل کے ایک ذمہ دار ممبر سر میاں فضل حسین مرحوم نے سبحان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی کو بلا کر یہ پیش کش کی کہ آپ جمعیۃ علماء کے اجلاس امروہہ میں کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل کی تجویز پاس نہ ہونے دیں۔ میں حکومت برطانیہ سے مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے ملحقہ جائداد بمعہ اراضی جمعیۃ علماء ہند کے علمی کاموں کے لئے دلوا دوں گا۔ حضرت مولانا نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا ” میاں صاحب ! تمام علماء کرام وزعماء عظام مجھے بے وقوف نہیں بنائیں گے کہ ہم پورے ملک کو حاصل کرنے کی تجویز پاس کر رہے ہیں اور تم صرف ایک مقبرہ وہ بھی مسلمانوں کی وقف ملکیت پر فیصلہ کر رہے ہو۔ مولانا کے جواب سے میاں صاحب موصوف کو بہت مایوسی ہوئی۔ یہ واقعہ حضرت مولانا نے راقم الحروف سے خود بیان فرمایا تھا۔ (جمعیۃ علماء ہند کا پچاس سالہ عہد، از شیخ عبد الحق پراچہ دہلوی ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مطبوعہ الجمعیۃ ویکلی، دہلی، ۲ جنوری ۱۹۷۰ء، صفحہ ۸)

۱۹۳۰ء کے اس واقعہ کو اب ۷۵ سال کے بعد کے حالات کی روشنی میں دیکھئے تو معلوم

ہو گا کہ اس معاملہ میں وہی صورت پیش آئی جس کا ذکر مذکورہ عوامی مثل میں کیا گیا ہے، پچھتر سال پہلے کے رہنماؤں کو ایک نہایت قیمتی موقع کسی کوشش کے بغیر مل رہا تھا مگر وہ اس قیمتی موقع سے صرف اس لئے فائدہ نہ اٹھا سکے کہ ان کے ذہن میں ایک بہت بڑی چیز بسی ہوئی تھی۔ اگرچہ حقیقت واقعہ کے اعتبار سے وہ چیز انہیں ملنے والی ہی نہ تھی۔

انگریزوں کی مذکورہ پیش کش اپنے امکانات کے اعتبار سے وہی اہمیت رکھتی تھی جس کی پیش کش مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانہ میں انگریز تاجر کو کی گئی۔ اور اس نے اس کو فورا قبول کر لیا۔ پچھتر سال پہلے کے مسلم رہنما اگر انگریز کی مذکورہ پیش کش کو قبول کر لیتے اور اس کو علمی اور تعلیمی اور دعوتی مرکز بنا دیتے تو اس کے نتائج اتنے دور رس نکلتے کہ شاید تاریخ کا نقشہ ہی کچھ

اوپر جو دو مثالیں پیش کی گئیں یہی موجودہ زمانہ کے تقریباً تمام مشہور رہنماؤں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لئے کام کے عظیم مواقع موجود تھے۔ مگر تقریباً ہر ایک کا یہ حال ہوا کہ وہ ناممکن کو نشانہ بنا کر اس کی طرف دوڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن کو بھی حاصل نہ کر سکا اور ناممکن تو حاصل ہونے والا ہی نہ تھا۔

مثلاً سید جمال الدین افغانی کو ترکی کی عثمانی سلطنت نے کام کے عظیم مواقع دیے مگر جمال الدین افغانی خود عثمانی سلطنت کی جڑ اکھاڑنے پر تل گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ترکی کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، مصر کے سید قطب کو وزارت تعلیم بہت چھوٹی چیز لگی۔ وہ خود ناصر کے سیاسی اقتدار کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم

یہی معاملہ پاکستان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کے ساتھ پیش آیا۔ وہاں کے سابق حکمراں صدر محمد ایوب خاں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے ساتھیوں کو یہ پیش کش کی کہ وہ حکومت کے مکمل تعاون سے پاکستان میں بڑے پیمانہ پر ایک نیشنل یونیورسٹی بنائیں اور اس کے ذریعہ وہ نئی

نسل کی تعلیم و تربیت پر کام کریں۔ مگر دوبارہ یہی ہوا کہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کو مذکورہ پیش کش چھوٹی معلوم ہوئی۔ انہوں نے پوری حکومت پر قبضہ کرنے کی دھواں دھار تحریک شروع کردی مگر تمام کوششوں کے بعد آخر کار جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ وہ چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہو کر رہ گئے۔

یہی موجودہ زمانہ کے اکثر مسلم رہنماؤں کی کہانی ہے۔ وہ اپنی خیالی امنگوں میں اتنا گم ہوئے کہ انہیں حقائق و واقعات کی خبر نہ ہو سکی۔ وہ بڑے بڑے نشانوں کو اپنا مقصد بنا کر ان کی طرف دوڑتے رہے، حالانکہ یہ نشانے سرے سے ان کے لئے قابل حصول ہی نہ تھے۔ اور جو چیز ان کے لئے حالات کے اعتبار سے قابل حصول تھی وہ انہیں دکھائی ہی نہ دی۔ اسی غیر حقیقت پسندانہ مزاج کا نتیجہ ہے کہ ان مشہور رہنماؤں نے صرف ناکام اقدامات کی مثالیں قائم کیں، وہ کامیاب اور نتیجہ خیز اقدام کی مثال قائم نہ کر سکے۔ زیادہ کو پانے کی کوشش میں وہ تھوڑے سے بھی محروم

مسلم رہنماؤں کی اس بھیانک غلطی کا سبب یہ تھا کہ تھوڑے کو وہ صرف تھوڑا سمجھے، وہ تھوڑے کو زیادہ کے روپ میں نہ دیکھ سکے۔ وہ زندگی کے اس راز سے نا آشنا رہے کہ عمل کا آغاز ہمیشہ تھوڑے سے کیا جاتا ہے، زیادہ سے عمل کا آغاز ممکن نہیں، جو آدمی اس راز کو سمجھ لے وہ تھوڑے سے شروع کر کے آخر کار زیادہ تک پہنچ جائے گا۔ اور جو شخص اس راز کو نہ سمجھے وہ اپنے غیر حقیقت پسندانہ مزاج کی بنا پر اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہ پائے گا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز پالے وہ کبھی نہ کبھی اپنی منزل تک پہنچ جائے گا، اور جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز نہ پائے وہ کبھی اپنی منزل تک نہ پہنچے گا خواہ وہ ساری عمر بے فائدہ دوڑ دھوپ کرتا زندگی کے اسی اصول کا نام دینی اصلاح میں قناعت ہے اور قناعت بلاشبہ ہر قسم کی انفرادی اور اجتماعی کامیابیوں کا واحد راز ہے۔

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ آئی ہے۔

مسلم، کتاب الزکاة۔ الترمذی، کتاب الزھد۔ مسند احمد بن حنبل، وغیرہ۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قد أفلح من أسلم رزق كفافاً و قنعه الله بما أتاه (مسند احمد (۱۶۸/۲) یعنی اسی شخص نے فلاح پائی جس نے اسلام قبول کیا اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے اس کو اس پر قناعت دی جو اس کو اس نے دیا۔ اس حدیث کو عام طور پر انفرادی معنوں میں اور معاشی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔ مگر وہ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے، اس حدیث کا پورا مطلب یہ ہے کہ افراد یا قوموں کو موجودہ زمانہ میں جو کچھ ملے یا حالات کے اعتبار سے جو ان کے لئے ممکن ہو اس کو وہ خوش دلی کے ساتھ قبول کرلیں، اس پر راضی رہتے ہوئے وہ اپنا علم شروع کردیں۔ اس کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ملے ہوئے کو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ جو کچھ ان کو حال میں حاصل نہیں، وہ ان کی منصوبہ بند جد و جہد کے نتیجہ میں مستقبل میں حاصل ہو جائے۔ Discovering Islam from its Original Sources By Maulana Wahiduddin Khan 1, Nizamuddin West Market New Delhi-110 013 Maulana Wahiduddin Khan Tel. 435 5454, 435 6666, 435 1128 Fax: 435 7333, 435 7980

Printed page