Al-Risala · June 2001

خشیتِ انسانی کے دور کا خاتمہ

Al-Risala, June 2001, pp. 21–24

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں وہ آیت ہے جو پیغمبرِ اسلام ﷺ کے آخری دور میں اتری۔ آیت میں ایک اہم تاریخی اعلان کیا گیا۔ وہ اعلان یہ تھا کہ اب اہلِ توحید کے لئے خشیتِ انسانی کا دور ختم ہو گیا۔ اسلام کے بعد توحید کی تاریخ اب خشیتِ خدا وندی کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ”آج انکار کرنے والے تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔ تم ان سے نہ ڈرو، اور تم مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا“ (المائدۃ ۳)

اصل یہ ہے کہ توحید کی تحریک کا ایک دور اسلام پر ختم ہونا ہے اور اس تحریک کا دوسرا دور اسلام سے شروع ہوتا ہے۔ اسلام سے پہلے جو دور گزرا ہے اس میں مسلسل طور پر توحید کی تحریک خشیتِ انسانی کے مسئلہ سے دوچار رہی۔ قرآن کی سورہ البروج میں اسی قدیم نا موافق دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور سورہ البقرہ میں اسی نا موافق صورت حال سے نجات کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی ہے (البقرۃ ۲۸۶)۔

اسی قدیم نا موافق صورت حال کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے، اور حکم دیا گیا ہے کہ اہل فتنہ سے لڑو تا کہ فتنہ کی حالت ختم ہو جائے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے (الانفال ۳۹)۔ کے معنی آزمائش یا روکنے کے ہیں۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ فتن فلاناً عن رایہ - ”اس نے فلاں شخص کو اس کی رائے سے روک دیا۔ یہاں فتنہ سے مراد وہ غیر فطری حالت ہے جو اللہ کی تخلیقی اسکیم کے خلاف اہل باطل نے دنیا میں قائم کر رکھی تھی۔ اس قدیم دور میں وہ فطری حالت ختم ہو گئی تھی جو اللہ کو اپنی اس دنیا کے لئے مطلوب ہے۔ یعنی لوگوں کے لئے آزادانہ طور پر یہ موقع ہوتا کہ وہ جس چیز کو حق

سمجھیں اس کو اختیار کر سکیں۔ مذکورہ آیت میں رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ اولاً پر امن کوشش سے اور اگر ناگزیر ہو تو مسلح کوشش کے ذریعہ اس غیر فطری صورت حال کو ختم کر دو۔ تم اپنی کوشش اس وقت تک جاری رکھو جب تک کہ اللہ کے تخلیقی نقشہ کے مطابق فطری حالت پوری طرح قائم نہ ہو جائے۔

رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ ساتویں صدی میں جو انقلاب لایا گیا وہ اسی مقصد کے یہ انقلاب گویا انسانی تاریخ کو ری پروسس (re-process) کرنے کے ہم معنی تھا۔ انقلاب نے انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کر دیا۔ یہ عمل اپنی پوری طاقت کے ساتھ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ وہ اپنے نقطہ اختتام تک پہنچ گیا۔ اللہ کے فضل سے اسی نئے دور میں جی رہے ہیں۔ گویا اب اصحاب رسول کی وہ دعا اپنے قبولیت کے تکمیلی دور میں پہنچ گئی ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: ”ربنا ولا تحمل علينا اصراً كما حملته على الذين من قبلنا“(البقره (۲۸۶) یعنی اے ہمارے رب، ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلے لوگوں پر ڈالا تھا۔

اسلامی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں تدریجی طور پر ایک عظیم تبدیلی آئی ہے۔ تبدیلی کے کچھ خاص پہلو یہ ہیں —— توہماتی سوچ کے بجائے سائنٹفک طرزِ فکر کا ظہور میں آنا، مذہبی جبر کے بجائے مذہبی آزادی کا دور شروع ہونا، مطلق العنان بادشاہی کے بجائے جمہوری سیاست کا پیدا ہونا۔ ذہنی تنگ نظری کے بجائے ذہنی کھلے پن کا رائج ہونا۔ تشدد دانہ طریقہ کے بجائے پر امن طریقہ کی اہمیت کا مسلم ہونا۔ اندھی تقلید کے بجائے دلیل پر مبنی رائے کا معتبر قرار پانا، نسلی اور طبقاتی تفریق کے بجائے انسانی مساوات کا قائم ہونا، وغیرہ۔ مذکورہ آیت سے مراد یہی عالمی تبدیلیاں ہیں۔ ان تبدیلیوں نے توحید کی دعوت کو اب ہر خطرہ سے باہر کر دیا ہے۔ قدیم زمانے کی طرح، اب یہ اندیشہ نہیں کہ کوئی موحد توحید کا اعلان کرنے تو اس کو یہ کہہ کر جبر آروک دیا جائے کہ تمہارا یہ اعلان سرکاری مذہب کے خلاف ہے۔

اب دعوت توحید کے لئے یہ خطرہ نہیں کہ کچھ لوگ صرف اندھی عصبیت کی بنا پر اس کے دشمن اب موحدین کے گروہ کو اس مسئلہ کا سامنا پیش نہیں آسکتا کہ نسلی عصبیت کی بنا پر ان کی دعوت کو رد کر دیا جائے۔ اب موحدین کے لئے ایسا ہونے والا نہیں کہ وہ انتہائی پر امن انداز میں اپنی دعوت دیں اور پھر بھی انہیں اپنا کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اگر کوئی فرد یا گروہ "اسلام خطرہ میں ہے" (Islam is in danger) کے تصور کی بنیاد پر کوئی اسلامی تحریک اٹھائے تو وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے خلاف زمانہ روش (anachronism) کے ہم معنی ہوگی۔ اب قرآن کے مطابق، وہی اسلامی تحریک درست تحریک ہے جو اسلام خطرہ سے باہر ہے (Islam is out of danger) کے نظریہ کی بنیاد پر اٹھائی گئی ہو۔

مذکورہ قرآنی آیت بتاتی ہے کہ اب اہل اسلام کے لئے ان کی سوچ کا نقطہ آغاز (starting point) کیا ہونا چاہئے۔ حالات خواہ بظاہر جیسے بھی ہوں، اہل اسلام کو یہ یقین کرنا چاہئے کہ بعد کے دور میں اسلام کبھی بھی خطرہ میں نہیں ہو سکتا۔ ان کا طرز فکر ہر حال میں یہ ہونا چاہئے کہ اسلام اب خطرہ سے باہر ہے۔ اس لئے انہیں پیشگی طور پر یہ سمجھ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہئے کہ ان کے منصوبہ کے اجراء اور تکمیل کے لئے اب کوئی حقیقی خطرہ یا رکاوٹ موجود نہیں۔ اسی سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگر کبھی کسی مقام پر اہل اسلام کی کسی تحریک کو خطرہ کی صورت حال پیش آئے تو اس کا سبب تلاش کرنے کے لئے انہیں باہر دیکھنے کے بجائے خود اپنے اندر دیکھنا چاہئے۔ کیوں کہ یہ خطرہ یقینی طور پر کسی خارجی سازش کی بنا پر نہ ہو گا بلکہ داخلی غلطی کی بنا پر ہوگا۔ اس لئے اب اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ اپنی ساری تو جہ داخلی کوتاہی کو دور کرنے پر لگائیں نہ کہ باہر کے مفروضہ دشمنوں سے ٹکراؤ پر۔

قرآن میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ : قد افلح المومنون الذین هم فی صلاتهم خاشعون (المومنون ا-۲) یعنی یقیناً فلاح پا گئے ایمان والے جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں۔

کا اعلان ہر نماز سے پہلے مؤذن کی زبان سے ان الفاظ میں کیا جاتا ہے ”حی علی الفلاح“۔ اب اگر کوئی شخص یہ نظریہ قائم کرے کہ نماز موجودہ زمانہ میں فلاح کا ذریعہ نہیں کیوں کہ وہ روزانہ پانچ بار لوگوں کا وقت لیتی رہتی ہے، نیز یہ کہ وہ لوگوں کے ذہن کو موجودہ دنیا کی حقیقتوں سے ہٹانے کا سبب بنتی ہے تو ایسے نظریہ کو فوراً ہی رد کر دیا جائے گا۔ کیوں کہ یہ نظریہ فلاح کو کسی اور چیز کے ساتھ جوڑ رہا ہے، جب کہ قرآن میں فلاح کو نماز کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن کے مذکورہ اعلان کے بعد ”اسلام خطرہ میں ہے“ کے نظریہ کی بنیاد پر اٹھائی جانے والی تحریک بلا بحث ہی قابلِ رد ہے، کیوں کہ وہ قرآن کے واضح اعلان کی نفی کے ہم اب صرف وہی تحریک درست اور جائز ہے جو ”اسلام خطرہ سے باہر “ کے نظریہ کی بنیاد پر اٹھائی گئی ہو۔

موجودہ زمانہ میں کچھ لوگوں نے اسلام کے نام پر پر تشد د سیاسی تحریکیں اٹھائیں۔ نتیجہ میں ان کا ٹکراؤ وقت کے حکمرانوں سے ہوا۔ ان حکمرانوں نے تحریک کے علم برداروں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ اس طرح کے واقعات کا یہ مطلب نہیں کہ خشیت انسانی کے حالات آج بھی دنیا میں باقی ہیں۔ ان تحریکوں کو جس سیاسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا وہ ان کی اپنی نادانی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے اسلام کے نام پر غیر اسلامی تحریکیں چلائیں۔ انہوں نے اقتدار کو چھیننے کی تحریک اٹھائی جب کہ صحیح اسلامی تحریک وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت دینے کے لئے اٹھائی جائے۔ ایسی حالت میں موجودہ زمانہ کی سیاسی تحریکوں کے ساتھ جو متشد دانہ واقعات پیش آئے وہ ان کی اپنی نادانی کا نتیجہ تھے نہ کہ حقیقۃً اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ۔

Printed page