Al-Risala · January 2001

سوال و جواب

Al-Risala, January 2001, pp. 30–40

By Maulana Wahiduddin Khan

باتیں دو طرح کی ہوتی ہیں یا مسائل ، نظریات دو طرح کے ہوتے ہیں: (1) منصوصات (۲) مستنبطات اول الذکر میں کسی کو اختلاف کی قطعا گنجائش نہیں ہے۔ البتہ مستنبطات، یا مستخرجات میں دائرہ اختلاف وسیع سے وسیع تر ہوتا ہے۔

سلف صالحین، ائمہ مجتہدین، محد ثین تقریباً سبھوں نے اپنے فکر پر دلائل کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اپنے مخالف کے بارے میں اس طرح اعلان کیا ہے: نحن علی الصواب مع احتمال الخطاء ، انتم علی الخطأ مع احتمال الصواب۔ اور یہ کہ غیر منصوصات پر اصرار کی ایک جانب غیر شرعی چیز ہونے پر فقہاء امت کا تقریباً اتفاق ہے۔ ہر صاحب فکر جسے اللہ نے فکر مستقل سے نوازا ہو اسے یہ اعلان کر دینا چاہئے کہ انا علی الصواب مع احتمال الخطأ، انت على الخطأ مع احتمال الصواب۔ اور احقاق کے لئے راستہ صاف ہے۔ (سید احمد اللہ بختیاری، حیدر آباد) راقم الحروف کی تحریریں زیادہ تر منصوصات سے متعلق ہوتی ہیں نہ کہ مستنبطات سے ایسی حالت میں ان تحریروں پر مذکورہ قسم کے احتمال کا اصول چسپاں نہیں ہو تا۔ یہ کہتا ہوں کہ مسلمان کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلموں کی حیثیت مدعو کی۔ یہ یقینی طور پر نص کا مسئلہ ہے نہ کہ استنباط کا مسئلہ۔

موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم رہنما اور مسلم اخبارات ملی مسائل کو لے کر بار بار ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ٹکراؤ کا ماحول پیدا ہو۔ اس کے مقابلہ میں راقم الحروف کا کہنا یہ ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کا تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ نسبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے معاملات میں غیر مسلموں سے نزاع کو روائڈ کریں تاکہ وہ معتدل ماحول قائم ہو جس میں دعوت کا پر امن عمل جاری رہ سکے۔ یہ نظریہ صراحۃ نص قرآنی پر مبنی مثلاً فلا يناز عنك في الامر و ادع الى ربك (انج |۶۷)۔ ایسی حالت میں اس مسئلہ کو

بیان کرتے ہوئے مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ: رأیی صواب يحتمل الخطاء ورأی غیری خطأ يحتمل الصواب۔

یہی ہمیشہ خود علماء امت کا موقف رہا ہے۔ وہ مذکورہ قسم کے جملے صرف مستہلبات کے بیان میں لکھتے ہیں نہ کہ منصوصات کے بیان میں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام میں نماز پانچ وقت کی نہیں ہے بلکہ صرف دو وقت یا تین وقت کی ہے۔ مقابلہ میں جب علماء صالحین اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے مضمون کے آخر میں یہ لکھیں کہ: نحن على الصواب مع احتمال الخطأ و انتم علی الخطأ مع احتمال الصواب۔

البتہ کچھ دوسرے قسم کے مسائل جن کی بنیاد نص پر نہیں ہے بلکہ استنباط پر ہے، ان کے بیان میں علماء مذکورہ قسم کا اعتراف درج کرتے ہیں۔ مثلاً علماء کا ایک طبقہ اگر یہ اصرار کرے کہ جراب پر مسح کی اجازت صرف اس جراب کے لئے ہے جو قدیم طریقہ کے مطابق چمڑے سے بنایا اب دوسرا عالم اگر یہ کہے کہ صنعتی ریشوں سے بنے ہوئے جدید طرز کے موزوں کا بھی وہی حکم ہے اور ان پر بھی مسح جائز ہے، تو اپنے اس بیان کے ساتھ بطور احتیاط وہ مذکورہ قسم کے احتمالی الفاظ لکھ سکتا ہے، کیوں کہ یہ دوسری قسم کا بیان استنباط پر مبنی ہے نہ کہ براہ راست نص پر۔ میں ایسے موقع پر ”غالباً“ جیسا کوئی لفظ استعمال کرتا ہوں۔

میری تحریروں کا دوسرا جز وہ ہے جس کا تعلق جدید حالات کی نسبت سے تدبیر کار پر مثلاً پر تشدد جدوجہد کے مقابلہ میں پر امن جدوجہد۔ جلسہ جلوس کے طریقہ کے بجائے گفت و شنید کا طریقہ، اختلافی معاملات میں محاذ آرائی کے بجائے حکیمانہ انداز، خارجی اقدام سے پہلے داخلی تیاری، وغیرہ۔

یہ دوسری باتیں بھی اپنی اصل کے اعتبار سے منصوصات پر مبنی ہیں۔ البتہ چونکہ ان کا تعلق خارجی حالات سے ہے اور خارجی حالات بدلتے رہتے ہیں اس لئے ان باتوں پر انطباق

(application) کے اعتبار سے ، ایک سے زیادہ رائیں ہو سکتی ہیں۔ اس پہلو سے ایک شخص یہ حق اختلاف رکھتا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ یہ بتائے کہ حالات کی نوعیت اس کے نزدیک اس سے مختلف ہے جو میں نے اپنے مطالعہ سے سمجھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں خود سنت رسول میں مختلف نمونے پائے جاتے ہیں۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مشرکین سے جنگ کی انہی مشرکین سے حدیبیہ کے موقع پر آپ نے صلح کر لی۔ اسی طرح آپ نے احد کے موقع پر مدینہ سے تین میل باہر جا کر مخالفین سے مقابلہ کیا اور پھر احزاب کے موقع پر انہیں مخالفین سے مدینہ کے اندر رہ کر دفاع کیا ، وغیرہ۔ اس لئے شریعت کا یہ متفقہ اصول ہے کہ : تغیر الاحکام بتغیر الزمان و

تدبیر کار سے متعلق میری جو تحریریں ہیں وہ اسی آخری نوعیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ تحریروں میں مسلمانوں کو جو مشورہ دیا جاتا ہے اس کے رد و قبول کی بنیاد یہ ہے کہ حالات کا بے لاگ مطالعہ کر کے ان کی حقیقی نوعیت کو سمجھا جائے۔ اور پھر یہ دیکھا جائے کہ قرآن و سنت کے کون سے احکام ان حالات پر منطبق ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں اگر کسی کو مجھ سے اختلاف ہو تو اس کو الزام تراشی اور بہتان طرازی کے بجائے دلائل اور تجزیہ کی زبان میں بتانا چاہئے کہ میرے نقطہ نظر کے بجائے دوسرا نقطہ نظر قرآن و سنت سے کیوں اس کے نزدیک زیادہ قریب ہے۔ تبلیغی جماعت کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ وہ ہر جگہ کافی مقبول ہو رہی ہے۔ اس کی اس مقبولیت کا راز کیا ہے۔ (عمر فاروق، نیویارک، بذریعہ ٹیلی فون) تبلیغی جماعت کے ذریعہ امت کو کچھ فائدے مل رہے ہیں۔ مثلاً مسجد کے نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا۔ اس لحاظ سے وہ قابل قدر ہے۔ مگر تبلیغی جماعت کا طریقہ ایک اجتہادی طریقہ ہے وہ کوئی منصوص طریقہ نہیں۔ ان کے جلسوں میں قرآن کے بجائے فضائل کی

روایاتیں سنائی جاتی ہیں جو اکثر سند کے اعتبار سے غیر معتبر ہوتی ہیں۔ اسی طرح ان کے یہاں کوامت کے قصوں اور کہانیوں کی کثرت ہے جو بے بنیاد بھی ہوتے ہیں اور غیر مسنون بھی، جہاں تک اس کام کی مقبولیت کا معاملہ ہے تو اس کی مقبولیت کا راز یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے سارے معاملے کو ایک سمپل روٹین میں ڈھال دیا ہے:

They have reduced Islam to a simple routine. آپ کے لفظ (جہاد) کی تعریف میں منسلکات روانہ کئے جا رہے ہیں۔ تفصیل اور صبر کے ساتھ پڑھ کر جواب دو۔ قرآن کو خدائی کتاب کہنے والا انسانیت کا دشمن ہے اور سرودھرم سمبھاو کا بھی دشمن ہے۔

Shiva Goud, B.A. L.L.B. Advocate, H. No. 6-6-204, Sangareddy-502001 شییو اگوڑ صاحب نے اپنے اس مکتوب کے ساتھ ہمیں انگریزی میں ۴۱ صفحہ کی فوٹو کاپیاں اس کے دوحصے ہیں۔ دونوں کا جواب یہاں تحریر کیا جاتا ہے۔ آپ نے اپنے مکتوب میں قرآن کی 24 آیتیں نقل کی ہیں جن میں اس طرح کی باتیں ہیں کہـــــ ان سے لڑو، ان سے دوستی نہ کرو، ان کے ساتھ نرمی سے نہ پیش آؤ۔ خلاف جہاد کرو، وغیرہ۔ واضح ہو کہ قرآن کی یہ آیتیں جو آپ نے نقل کی ہیں وہ غیر مسلم کے ساتھ مسلمان کے تعلق کو نہیں بتاتیں۔ بلکہ وہ دشمن کے ساتھ مسلمان کے تعلق کو بتاتی ہیں۔ اور کسی کھلے دشمن کے معاملہ میں یہی ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے۔ ان آیتوں کی بنیاد پر آپ نے اسلام کے بارے میں جو شدید رائے قائم کی ہے، وہ سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آپ نے قرآن کی مذکورہ آیتوں کو عمومی معنوں میں لے لیا ہے۔ آیتیں ہنگامی حالات کے لئے ہیں۔ یہ اس وقت کے لئے ہیں جب کہ مسلمانوں اور دوسری قوم کے درمیان حالت جنگ (state of war) قائم ہو گئی ہو۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ

حالت جنگ میں ہمیشہ ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ جہاں تک نارمل حالات میں لوگوں کے ساتھ مسلمان کے سلوک کا تعلق ہے، وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے جو قرآن میں کثرت سے موجود ان دوسری آیتوں میں مسلمانوں کو لوگوں کے درمیان مرحمت کے ساتھ رہنے کا حکم دیا گیا ہے (البلد ۱۷) اسی طرح حکم ہے کہ لوگوں کے ساتھ عدل کا سلوک کرو (المائدہ ۸۲) اسی طرح فرمایا کہ لین دین میں ترازو کی طرح برابری کا معاملہ کرو (الرحمن ۹) وغیرہ، وغیرہ۔ جہاں تک غیر مسلموں سے تعلق کا معاملہ ہے، قرآن میں اس کی بابت بیک بنیادی اصول مقرر کر دیا گیا ہے۔ جس سے انحراف مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔ وہ یہ ہے : فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم ان الله يحب المتقين (التوبہ ۸) یعنی جب تک وہ تمہارے ساتھ مستقیم رہیں تم بھی ان کے ساتھ مستقیم رہو اور اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔ معاملات میں یہی مساویانہ اصول ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے اور اسلامی شریعت میں بھی مساویانہ سلوک کے اسی اصول کو اختیار کیا گیا ہے۔

واضح ہو کہ قرآن ایک وقت ایک واحد کتاب کی صورت میں نہیں اترا، بلکہ وہ حالات کے اعتبار سے ۲۳ سال کے دوران اترا۔ ۲۳ سال کی اس مدت کو عمومی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا ایک، ۲۰ سال۔ دوسرے، ۳ سال۔ ۲۳ سالہ مدت نزول میں ۲۰ سال گویا امن کے سال تھے اور تقریباً ۳ سال جنگی حالات کے سال۔ آپ نے جن 24 آیتوں کا حوالہ دیا ہے وہ مذکورہ تقسیم کے مطابق، ۳ سال والے حالات میں اتریں۔ قرآن کی دوسری آیتیں ۲۰ سال والی مدت میں اتریں اور وہ سب کی سب امن اور انصاف اور انسانیت جیسی مثبت تعلیمات پر مشتمل

مکتوب نگار نے دوسری بات جو لکھی ہے وہ حدیث پر مبنی ہے۔ انہوں نے صحیح مسلم کے انگریزی ترجمے کے کئی صفحات بھیجے ہیں۔ ان میں ایک حدیث وہ ہے جو صحیح مسلم (کتاب الایمان، کتاب الزکاة) میں آئی ہے۔ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں : من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة فقلت یا جبریل و إن سرق و إن زنی... قال نعم وإن شرب الخمر (جو اس

حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ جبرئیل سے کہا کہ اگر چہ اس نے چوری کی، اگرچہ اس نے زنا کیا....انہوں نے کہا کہ ہاں، اگرچہ اس نے شراب پیا)

اس حدیث کے بارے میں مکتوب نگار کی منفی رائے بھی صرف غلط فہمی پر مبنی ہے۔ انہوں نے غالباً اس کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ مومن خواہ مخواہ چوری کرتا رہے، زنا کرتا رہے، شراب پیتا رہے، پھر بھی وہ جنت میں جائے گا۔ حالانکہ حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ حدیث کا یہ مفہوم لینا اس وقت درست ہوتا جب کہ اس میں یسرق اور یزنی اور یشرب کے الفاظ مگر ایسا نہیں ہے۔ اس کے بجائے حدیث میں وإن سرق و إن زنی و إن شرب کے یعنی حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک شخص اگر استمراری طور پر سرقہ زنا اور شراب نوشی جیسے افعال میں مبتلا ہو تب بھی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ بلکہ حدیث میں ماضی کا صیغہ یعنی ماضی میں یا اتفاقاً اس سے یہ افعال ہو گئے تھے، پھر اس نے توبہ کر کے پاکیزہ زندگی اختیار کرلی تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس حدیث میں فعل اتفاقی کا ذکر ہے نہ کہ فعل جاری کا۔ اس حدیث میں عین وہی بات کہی گئی ہے جو صحیح مسلم اور دوسری کتابوں میں مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دور اول میں جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا ان میں کئی لوگ ایسے تھے جن سے ماضی میں ایسے افعال سرزد ہوئے تھے جو شریعت اسلامی کے خلاف تھے۔ ان کو اپنی ماضی کی اس غلطی کا شدید احساس ہو تا تھا۔ میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ آپ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسلام پچھلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے (الاسلام يهدم ما كان قبله)۔ میں ۱۹۹۱ سے الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ الرسالہ کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو ایک مخصوص خول سے نکال کر ایک وسیع النظر انسان بناتا ہے۔ الرسالہ پڑھنے کی وجہ سے میں اب ہر مکتب فکر کو پڑھنے لگا ہوں۔ میرے اندر جو ذہنی بزدلی تھی وہ الرسالہ کے پڑھنے سے دور

ابھی کچھ دن ہوئے میں مرزائیت کے متعلق غلام احمد پرویز کی کتاب پڑھ رہا تھا۔ دوست نے کہا کہ غلام احمد پرویز کو تو علماء نے کافر بتایا ہے۔ پھر تم کیوں اس کی کتاب پڑھتے ہو۔ اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (ایک قاری الرسالہ)

جہاں تک کتاب کا تعلق ہے، میرے نزدیک ہر کتاب کو پڑھنا چاہئے۔ البتہ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی عقل کو اتنا بیدار رکھے کہ وہ صحیح اور غلط میں فرق کر سکے۔ تکفیر کا موجودہ طریقہ بعد کے زمانہ کی ایک ایجاد ہے۔ وہ اسلام کے مطابق نہیں۔ مصر کے ایک عالم خالد العنبری کی ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام یہ ہے: هزيمة الفكر التکفیری۔ اس کے مصنف نے موجودہ طرزِ تکفیر کو غیر صحیح بتایا ہے۔ اس کتاب کی رد میں سعودی عرب کے ایک عالم الشيخ صالح بن فوزان کا ایک مضمون ریاض کے عربی مجلہ الدعوة (۴ ربیع الاول ۱۴۲۱ ھ۔ ۶ جولائی ۲۰۰۰) میں چھپا ہے۔ موصوف نے تکفیر کے طریقہ کو درست قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے قرآن وحدیث سے دو حوالے نقل کئے ہیں۔ ایک، منافقین مدینہ کے بارے میں قرآن کا یہ ارشاد کہ: قد کفرتم بعد ایمانکم (التوبہ ۶۶) اسی طرح حدیث سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ: بین العبد و بین الکفر ترك الصلوة۔

شیخ مذکور کا یہ استدلال درست نہیں۔ انہوں نے دو چیزوں میں فرق نہیں کیا۔ ہے کہ مذکورہ آیت یا حدیث عمومی اظہارِ ناراضگی کی مثال ہے نہ کہ شخصی تکفیر کی مثال۔ ثبوت یہ ہے کہ قرآن میں مدینہ کے جن منافقین کے بارے میں ”کفر“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے۔ مگر اس آیت کے نزول کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افراد کا نام لے کر مشخص انداز میں کبھی ان کی تکفیر نہیں کی۔ اسی طرح حدیث میں ترک صلاۃ کے بارے میں ”کفر“ کا لفظ آیا ہے۔ مگر اس سے مراد مشخص تکفیر نہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں بہت سے مسلمان ایسے رہے ہیں اور آج بھی ہیں جو نماز کے تارک ہیں مگر علماء اسلام نے کبھی شخصاً مشخص نام لے کر ان کی تکفیر نہیں کی۔

ہیں کہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے اس قسم کی دنیوی آسائشوں سے میں آخری حد تک بیزار ہوں۔ مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ مئی۔ جون کے سورج کی گرمی میرے کمرے میں داخل ہو تو اس کے تجربہ سے مجھے نار جہنم یاد آئے اور میں بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ پکار اٹھوں کہ اے میرے رب، مجھے جہنم کی شدید گرمی سے بچا۔ کولر اور اے سی کی مصنوعی ٹھنڈک سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے مقابلہ میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میرے کمرہ کی کھلی کھڑکی سے ہوا کا جھونکا میرے کمرے میں داخل ہو جو مجھے لمس ربانی کے تجربہ سے آشنا کرے ۔ میں اپنی تنہائیوں میں اکثر اس قولِ رسول کو دہراتا ہوں: ہوںاللہم لا عيش الا عيش الآخرة۔ میرا عمل خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کی اس نصیحت پر ہے جو انہوں نے ان الفاظ میں فرمائی تھی: اخشو شنواء (لسان العرب ۱۳/ ۱۴۰) سورہ الاعراف میں یہود کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: واذ تاذن ربك ليبعثن عليهم إلى يوم القيامة من يومهم سوء العذاب إن ربك لسريع العقاب وانه لغفور رحيم اس آیت کی تشریح کیا ہے۔ براہ کرم جواب تحریر فرمائیں۔ (سید حلیم، پنچ، سعودی عرب) اس آیت کی مفصل تشریح تذکیر القرآن (جلد اول، صفحه ۴۱۹-۴۱۸) میں ملاحظہ خلاصہ یہ کہ اس آیت سے مراد استمراری عذاب نہیں ہے۔ خود قرآن کے مطابق، ان پر حسنات (الاعراف ۱۶۸) کے وقفے آتے رہیں گے، اور یہود کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس آیت کا تعلق جس طرح یہودیوں سے ہے اسی طرح اس کا تعلق مسلمانوں وہ یہود کے لئے تہدید ہے اور مسلمانوں کے لئے تنبیہہ ۔ اللہ کا یہ قانون صرف یہود کے لئے نہیں تھا۔ وہ بعد کے اس گروہ کے لئے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ وہ غیر مسلم قوموں کی چیرہ دستی کا شکار ہو رہے ہوں اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہو گئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹنا چاہئے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الہی کی اسی زد میں آگئے ہیں جس میں یہود آئے۔

محترمہ صوفیہ حیدر صاحبہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۱۸ ستمبر ۲۰۰۰ ملا۔ یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ آپ کے دینی شعور اور دینی جذبات میں ترقی ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ مزید توفیق عطا فرمائے۔ ایمان رسمی عقیدہ کا نام نہیں۔ ایمان دراصل ایک دریافت (ڈسکوری) ہے۔ یا مرد کے اوپر جب شعوری طور پر یہ حقیقت منکشف ہو کہ اس دنیا کا ایک زندہ خالق ہے جس نے اس کو وجود بخشا ہے تو اسی دریافت کا نام ایمان ہے۔ یہ ایمان یا انکشاف جتنا گہرا ہو، اتنا ہی زیادہ اس کے اثرات صاحب انکشاف کی زندگی میں ظاہر ہوں گے۔ شعوری ایمان کی پہچان یہ ہے کہ انسان کی سوچ میں انقلاب آ جائے۔ اس کی پسند اور ناپسند کا معیار بدل جائے۔ اس کی روح کی گہرائیوں میں اللہ کی یاد اس طرح سما جائے کہ ہر واقعہ اور ہر تجربہ اس کو اللہ کی یاد دلانے والا بن جائے۔ یہ ایمان کوئی جامد چیز نہیں۔ وہ درخت کی مانند ایک اضافہ پذیر چیز ہے۔ جب کسی کو اللہ کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے تو اس کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ اللہ کے پڑوس میں پہنچ گیا ہے، وہ اپنے آپ کو روحانی طور پر اللہ کے قریب محسوس کرنے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کا وہ حال ہو جاتا ہے جس کو حدیث میں یتاجی ربہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ سے اس کی سرگوشیاں ہونے لگتی ہیں۔ وہ اللہ کو پکارتا ہے۔ اور اللہ کی طرف سے وہ اس کا جواب پاتا ہے (ادعوني استجب لكم)۔

اس سلسلہ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ اللہ کی معرفت کا نہایت گہرا تعلق علم سے ہے۔ فارسی کا ایک شعر بالکل درست ہے: کہ بے علم نتواں خدا را شناخت (علم کے بغیر خدا کو پہچانا نہیں حقیقت یہ ہے کہ جتنا زیادہ علم اتنی ہی زیادہ معرفت۔ اس لئے جو عورت یا مرد اعلیٰ ایمان حاصل کرنا چاہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے علم کو بڑھائے۔

علم سے مراد نہ رسمی علم ہے اور نہ محض معلومات۔ علم سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنے شعور کو اتنا بڑھائے کہ وہ قرآن وحدیث کی سطور کے ساتھ وہ اس کے بین السطور (between the lines) کو بھی پڑھنے لگے۔ وہ کائنات کے مظاہر میں چھپی ہوئی اللہ کی نشانیوں کا ادراک کرنے کے قابل اس کا شعور اتنا زیادہ بیدار ہو جائے کہ وہ دنیا میں پیش آنے والے تجربات اور واقعات میں ربانی سبق اور نصیحت اخذ کرنے لگے۔ علم سے سنجیدگی آتی ہے اور سنجیدگی سے معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔

علم کس طرح معرفت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے، اس کی ایک مثال لیجئے۔ سجدہ ایک اعلیٰ ترین عبادت ہے۔ سجدہ کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی سادہ طور پر اس احساس کے ساتھ سجدہ کرے کہ اس نے رب العالمین کے سامنے اپنا سر زمین پر رکھ دیا ہے۔ اس قسم کا سجدہ بھی ایک عظیم عبادت ہے۔ مگر اس سے زیادہ عظیم وہ سجدہ ہے جس میں علم و شعور کا سرمایہ شامل ہو گیا ہو۔ یہ دوسرا سجدہ جو علم کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ سجدہ کی عبادت کو بہت زیادہ عظیم بنا دیتا ہے۔ مثلاً ایسے شعور والا آدمی جب زمین پر اپنا سر رکھے گا تو وہ تصور کرے گا کہ وہ ایک ایسے کرہ (Planet) کے اوپر حالت سجدہ میں ہے جو اپنے محور اور اپنے مدار پر بیک وقت دو قسم کی گردش کرتا ہوا سورج کے دیکھتے ہوئے الائو کے گرد اتھاہ خلا میں گھوم رہا ہے۔ پھر یہ پورا شمسی نظام ایک وسیع تر کہکشاں کی پلیٹ پر نہایت تیز رفتاری کے ساتھ حالت گردش میں ہے۔ اس طرح کی بہت سی کہکشائیں انگنت ستاروں اور سیاروں کے ساتھ ایک غیبی مرکز کائنات کے گرد نا قابل شمار حد تک وسیع فاصلوں کے دائرہ میں رواں دواں ہیں۔ یہ آفاقی تصور سجدہ کرنے والے کی شخصیت کو ہیبت ناک حد تک ہلا دے گا، وہ اس کے سجدہ کو کائنات کا سب سے زیادہ عظیم واقعہ بنا دے گا۔ علم کیا ہے۔ ابتدائی مفہوم میں علم کا مطلب یہ ہے کہ مختلف ذرائع اسے اپنی معلومات میں اضافہ کیا جائے۔ کوئی عورت یا مرد اپنی معلومات میں جتنا زیادہ اضافہ کرے اتنا ہی زیادہ اس کو صاحب علم کہا جائے گا۔

مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے علم کا مقصد صرف صاحب معلومات بننا نہیں ہے بلکہ اس کا

مقصد صاحب بصیرت بننا ہے۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے:

Printed page