Al-Risala · June 2001

غلطی کہاں ہے

Al-Risala, June 2001, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں سوال یہ ہے کہ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اہل ایمان کی کوششوں کو بار آور کرے گا پھر موجودہ زمانہ میں برعکس طور پر کیوں ایسا ہو رہا ہے کہ مسلم رہنما ؤں کی کوششیں ایک کے بعد ایک مکمل طور پر بے نتیجہ ہوتی جا رہی ہیں۔

اس کا سبب یہ ہے کہ ان نام نہاد اسلامی قائدین کا نشانہ عمل ہی غلط تھا۔ وہ اپنی تمام کوششیں سسٹم کو بدلنے پر لگاتے رہے۔ جب کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ فرد کو بدلنے پر ساری

کوشش صرف کی جائے۔ سسٹم پر عمل کرنا درخت کی شاخوں پر عمل کرنا ہے۔ اور فرد یا ذہن پر عمل کرنا درخت کی جڑوں پر عمل کرنا۔ درخت کی شاخوں پر عمل خدا کی اس دنیا میں کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس اگر درخت کی جڑوں پر عمل کیا جائے تو نتیجہ اتنا ہی یقینی ہو جاتا ہے جتنا شام کے بعد اگلی صبح کو سورج کا نکلنا۔

اسلامی نقطہ نظر سے اصل کام یہ ہے کہ فرد کو بدلا جائے۔ فرد کی سوچ میں تبدیلی لائی فرد کی پسند نا پسند کے معیار کو درست کیا جائے۔ فرد کے اندر غیر حق پسندی کے مزاج کو ختم کرکے اس کو حق پسند بنایا جائے۔ فرد بدلے گا تو انسان بدلے گا، انسان بدلے گا تو سماج بدلے اور جب سماج بدلے گا تو اس کے بعد سسٹم اپنے آپ بدل جائے گا۔

مبنی بر نظام جدوجہد کے مقابلہ میں مبنی بر انسان جدوجہد کی اہمیت یہ ہے کہ ہر چیز آخر کار انسان کے ہاتھ میں ہے۔ باطل نظام کو بدلنے کے نام سے پچھلی صدیوں میں جن چیزوں کے خلاف تحریکیں چلائی گئیں ان سب کو بنانے اور چلانے والا براہ راست یا بالواسطہ طور پر انسان ہی کوئی بھی نظام اپنے آپ وجود میں نہیں آتا۔ بلکہ کچھ انسان اس کو وجود میں لاتے ہیں۔ لئے نظام کو بدلنے کا کام انسان کو بدلنے سے شروع ہوگا، جس طرح درخت کو وجود میں لانے کا عمل بیج پر عمل سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسرا طریقہ اس دنیا میں نہ ممکن ہے اور نہ نتیجہ خیز۔

Printed page