Al-Risala · June 2001

قرآن وحدیث کی روشنی میں

Al-Risala, June 2001, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن اور حدیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک انسانی اصلاح کے معاملہ میں اصل اہمیت قلب کی ہے۔ اسلامی جدوجہد کا سارا نشانہ یہ ہے کہ انسان کے قلب کو قلب ہی کی درستگی پر کسی انسان کو جنت کا داخلہ ملتا ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: إلا من أتى الله بقلب سليم (الشعراء (۸۹) یعنی جنت میں داخلہ صرف اُس شخص کو ملے گا جو قلب سلیم کے ساتھ وہاں پہنچے۔

کله، الا وَهِيَ القلب (سن لو کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تا ہے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑتا ہے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ سن لو کہ وہ قلب

اسلام میں انسان کی جو اہم صفات بتائی گئی ہیں ان سب کا تعلق قلب سے ہے۔ معرفت، اخلاص، حسن نیت، تقویٰ، شکر، خشوع، تضرع، انابت، اخبات، وغیرہ، سب کا سر چشمہ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کی پوری تحریک قلب پر مبنی ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ داخل القلب ایمان (الحجرات ۱۴) ہے۔ اسلام پہلے قلب کے اندر جڑ پکڑتا ہے، اس کے بعد وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا نتیجہ ظاہر

یہ قلب کہاں ہوتا ہے۔ قلب نہ سماج میں ہوتا ہے اور نہ حکومتی ادارہ یا سیاسی نظام میں۔ قلب ہمیشہ ایک فرد انسانی میں ہوتا ہے۔ سماج یا سیاسی ادارہ افراد ہی کے مجموعے کا ایک علامتی نام افراد سے الگ ہو کر سماجی نظام یا سیاسی ادارہ کا کوئی وجود ہی نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تحریک کا اصل نشانہ فرد ہے، سماجی یا سیاسی نظام اسلامی تحریک کا براہ راست نشانہ نہیں۔ اسلام کا تقاضہ ہے کہ اصلاح کی ساری کوشش افراد انسانی پر جاری کی جائے کیوں کہ افراد ہی کی اصلاح سے اجتماعی زندگی کی اصلاح ہوگی، اور افراد ہی کے بگڑنے سے اجتماعی زندگی بگڑ جائے گی۔

Printed page