Al-Risala · June 2001

اسلامی تاریخ کی مثال

Al-Risala, June 2001, pp. 28–30

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی تاریخ اس اصول کی ایک نہایت کامیاب مثال ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم

نے اپنے بعد امت کو جو ہدایات دیں، ان میں ایک انتہائی اہم ہدایت یہ تھی کہ سیاسی نظام میں بگاڑ ہو تب بھی تم لوگ نظام سے نہ ٹکرانا بلکہ نظام (سسٹم) کو نظر انداز کرتے ہوئے فرد کی اصلاح پر اپنی ساری کوششیں جاری رکھنا۔ (تفصیلی حوالوں کے لئے ملاحظہ ہو 'فکر اسلامی') واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم رہنماؤں کے استثناء کو چھوڑ کر اسلام کی اب تک کی پوری تاریخ میں پیغمبر اسلام کی اس ہدایت پر عمل ہوتا رہا ہے۔ خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ کے زمانہ ہی میں سیاسی بگاڑ آگیا تھا۔ یہ بگاڑ انیسویں صدی کے مسلم حکمرانوں تک جاری مگر ہر دور میں امت کے نمائندہ لوگوں نے اعراض کی پالیسی اختیار کی۔ وہ مختلف پہلوؤں سے اس کام پر لگے رہے جس کو ہم نے اصلاح افراد یا اصلاح قلب کا نام دیا ہے۔ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء اور صوفیاء ہر دور میں کثیر تعداد میں پیدا ہوئے مگر تقریباً ہر ایک نے اصلاح پر اپنے آپ کو وقف رکھا۔ وہ موجودہ طرز کے انقلاب نظام والے کام میں کبھی مشغول

اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام کی پچھلی ہزار سالہ تاریخ ان تباہیوں سے پاک رہی جس کا نمونہ موجودہ زمانہ میں دیکھا جا رہا ہے۔ اسلامی ادارے پر سکون طور پر کام کرتے رہے۔ اسلامی علوم کی خدمت موافق حالات میں جاری رہی۔ دعوت و اصلاح کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر فطری انداز میں مسلم معاشرہ میں کم و بیش اسلامی قدروں کا رواج ہر دور میں باقی رہا، وغیرہ۔ تفسیر کے نام پر تحریف مذکورہ برائی کی آخری بدترین صورت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ایسے مسلم مفکرین اٹھے جنھوں نے اسلام کی محرفانہ تعبیر کر کے انقلاب نظام کے کام ہی کو امت مسلمہ کا مشن ثابت کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے شرک کی فہرست میں "سیاسی شرک" کا اضافہ کیا۔ انہوں نے طاغوت کے مفہوم میں خود ساختہ توسیع کر کے سیکولر حکمرانوں کو طاغوت کے ہم معنی قرار دیا۔ نے عبادت کو اطاعت بتایا اور اس کے بعد ساری سیاست کو اس میں داخل کر دیا۔ انہوں نے حکم کو

فوق الفطری حکم کے بجائے سیاسی حکم کے ہم معنی بنا کر اعلان کیا کہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم خدا کی سیاسی حکمرانی کو زمین پر قائم کریں۔ قرآن کے لازم کو متعدی بنا کر یہ کیا کہ عدل کی پیروی کرنے کے بجائے عدل کا جھنڈا اٹھانے کو مسلمانوں کا فریضہ منصبی قرار دیا۔ انہوں نے دعوت کو عملی شہادت سے جوڑ کر یہ ذہن نشین کرانے کی کوشش کی کہ جب تک سیاسی اقتدار پر قبضہ کر کے زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی قوانین جاری نہ کئے جائیں اس وقت تک دعوت و شہادت کا کام انجام ہی نہیں دیا جا سکتا، وغیرہ۔

اس قسم کی ہر تعبیر سراسر محرفانہ تعبیر ہے۔ وہ اسلام کے پورے ڈھانچے کو بدل دینے ان تعبیرات کا نتیجہ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ ان سے متاثر ہونے والوں کے اندر احتساب خویش کے بجائے احتساب غیر کا مزاج پیدا ہو۔ ان کے اندر متقیانہ ذہن کے بجائے سیاسی ذہن تشکیل پائے، وہ اہل عالم کو مدعو کے بجائے حریف کی نظر سے دیکھنے لگیں، وہ محبت انسانیت کے بجائے نفرتِ انسانیت میں جینے لگیں۔ وہ مسلم معاشرہ کو حکمراں اور غیر حکمراں میں تقسیم کر کے لامتناہی قسم کی باہمی نزاع چھیڑ دیں۔ وہ لوگوں کو تعمیری کام کے بجائے تخریبی کام میں مشغول خلاصہ یہ کہ اسلام کے نام پر وہ لوگوں کو غیر اسلام کی راہوں میں دوڑا دیں۔

Printed page