تفسیر بالرائے
Al-Risala, June 2001, pp. 31–39
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرنا ایک گناہ کا فعل ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قرآن کی کسی آیت کا غلط مفہوم بیان کرے تو یہ تحریف ہے، (البقرہ (۷۵) اور قرآن میں اس قسم کی تحریف بلا شبہ ایک نا قابل معافی جرم ہے۔
یہ معاملہ اتنا زیادہ نازک ہے کہ محض اپنی رائے کے تحت کی ہوئی تفسیر اگر بالفرض درست ہو، تب بھی یہ اندیشہ ہے کہ وہ آدمی کے لئے گناہ کا سبب نہ بن جائے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”من قال فی کتاب الله عز و جل برأيه فأصاب فقد أخطأ“، (سنن ابی داود، کتاب العلم (۳۱۹۳) یعنی جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی رائے سے کہا اور اس نے صحیح کہا تب بھی اس نے غلطی کی۔
ضروری تفسیری تقاضوں کو پورا کئے بغیر محض اپنی رائے سے قرآن کا مفہوم بیان کرنا ایک غیر محتاط روش ہے۔ اس لئے ایسے کسی آدمی کی تفسیر اگر اتفاقاً درست ہو تب بھی ایسا شخص اپنی غیر محتاط روش کی بنا پر غلط کار ٹھہرے گا۔ ایسے آدمی کو صحیح تفسیر کرنے کا انعام نہیں مل سکتا۔ تفسیر قرآن کے سلسلے میں کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حدیث اور آثار میں جو تفسیریں منقول ہیں یا قدماء نے قرآنی آیات کی جو تفسیریں بیان کی ہیں، تفسیر قرآن کا کام بس اسی دائرے کے اندر ہونا چاہئے۔ گویا بعد کی مسلم نسلوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ابتدائی دور کے علماء اور مفسرین کے اقوال کو دہراتے رہیں۔ مگر مذکورہ حدیث کا یہ مطلب درست نہیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک با برکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں (ص ۲۹) قرآن جب ایک ایسی کتاب ہے جس پر ہر قاری تدبر اور غور و فکر کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف پچھلی بیان کردہ باتوں کو پڑھا جائے اور بس انہیں کو دہرایا جاتا رہے۔
لفظ اپنے آپ میں اس بات کا ثبت ہے کہ قرآن کے قاری سے یہ مطلب ہے کہ وہ گہرے غور و فکر سے اس میں نئے نئے معانی دریافت کرے اور ان سے اپنے ایمانی شعور میں اضافہ کرتا رہے۔ قرآن میں اگر یہ صفت نہ ہو تو وہ لوگوں کے لئے نصیحت اور اضافہ ایمان کی کتاب نہ بن سکے گا۔ نصیحت نئے نئے معانی کی دریافت کے ذریعہ ہوتی ہے نہ کہ کچھ معلوم اور محدود باتوں کی تکرار سے۔ یہ کوئی قیاسی بات نہیں۔ حدیث سے صراحتہ بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں نئے معانی کی دریافت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ نے فرمایا "ولا تنقضی عجائبہ" (الدارمی، فضائل القرآن، الترمذی، ثواب القرآن) یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے۔ ایک اور روایت میں "لا تفنی" کا لفظ ہے۔ کے عجائب کبھی فنانہ ہوں گے۔ اس حدیث میں عجائب سے مراد معنوی عجائب ہیں۔ کے معانی اتنے زیادہ ہیں کہ ہر دور کے علماء اس سے نئے نئے معانی دریافت کرتے رہیں گے۔ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
تاریخ کے ہر دور میں قرآن کی آیتوں میں نئے نئے معانی کی دریافتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے جس کو استنباط کہا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں تفسیر کی ہر کتاب میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ زمانہ میں بھی یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں اعداد و قوت کے حکم کے تحت جنگی گھوڑوں کی فراہمی کا حکم دیا گیا ہے (الانفال - ٦٠)۔ موجودہ زمانہ میں جنگی گھوڑوں کی جگہ جنگی مشینوں نے لے لی ہے۔ چنانچہ تمام علماء اب اس آیت کی تفسیر کے تحت کہتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی کی بنا پر اس آیت میں جنگی گھوڑوں کے بجائے جنگی مشینوں کی فراہمی مراد لی جائے گی۔ کیونکہ اب جنگی گھوڑوں کے ذریعہ ارہاب کا فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا جس کو مذکورہ آیت میں اعداد و قوت کا مقصود بتایا گیا ہے۔ اب ارہاب کا یہ فائدہ مشینی طاقت کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے۔ قرآن ہر دور میں مسلمانوں کے لئے ذہنی اور علمی ارتقاء کا ذریعہ رہا ہے۔ قرآن کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ ذہن انسانی کو مہمیز کرتا ہے اور اس کو بار بار غور و فکر کے اوپر ابھارتا
قرآن اپنے لا محدود معانی کی بنا پر اہل اسلام کے لئے فکری ارتقاء کا ضامن ہے۔ میں نئی علمی دریافتوں کا دروازہ بند کرنا خود اس کتاب کے مقصد کی نفی کے ہم معنی ہے۔ کی صورت میں اہل اسلام ذہنی جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ نہ خود علمی ترقی کریں گے اور نہ انسانی قافلوں کی علمی و فکری قیادت کا مطلوب کام انجام دے سکیں گے۔
اصل یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ تفسیر جو تدبر کے ساتھ کی جائے اور دوسری تفسیر وہ ہے جو تدبر کے بغیر کی جائے۔ اسی دوسری تفسیر کا نام تفسیر بالرائے تدبر کے ساتھ تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ قاری عربی زبان نیز احادیث و آثار سے بخوبی واقفیت حاصل کرے۔ وہ قرآن کی صرف ایک آیت کو لے کر اس کی تفسیر نہ کرنے لگے، بلکہ وہ مجموعی طور پر پورے قرآن کے منشاء و مقصود کو سامنے رکھے۔ وہ قرآن سے متعلق دوسرے علوم سے گہری واقفیت حاصل کرے۔ اسی طرح وہ یہ کرے کہ دورِ اول سے لے کر بعد کے زمانہ تک مسلمہ دینی شخصیتوں نے جو تفسیریں کی ہیں ان سے وہ بھر پور واقفیت حاصل کرے۔ ساتھ وہ تقویٰ کی صفت اپنے اندر پیدا کرے جس کو قرآن میں علم کا سر چشمہ بتایا گیا ہے۔ یہ قرآن کی تفسیر کا صحیح طریقہ ہے۔
اس کے بر عکس تفسیر بالرائے یہ ہے کہ آدمی صرف اپنی رائے پر اعتماد کرے۔ حوالے سے اس کے ذہن میں جو بھی خیال آجائے وہ اس کو قرآن کی تفسیر سمجھ کر اسے بیان خواہ آیت کے سیاق و سباق سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ خواہ قرآن کے مجموعی احکام سے وہ مطابقت نہ رکھتا ہو۔ یہاں تفسیر بالرائے کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ تفسیربالرائے کی ایک صورت وہ ہے جو اتنی قبیح ہے کہ اس کو سننے اور پڑھنے کے بعد فورا ہی سنجیدہ آدمی کا ذہن اس کو رد کر دے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے ”وربك فكبر“ (المدثر ۳) اس آیت کا ترجمہ کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ اور تم اپنے رب کو بڑا کرو، اس ترجمہ کو لے کر آیت کی تفسیر انہوں نے یہ کی کہ خدا کی (سیاسی بڑائی) دنیا میں قائم کرو، خدا کی حکومت کا جھنڈا
دنیا میں بلند کرو۔
یہ ترجمہ اور تفسیر دونوں تفسیر بالرائے کی ایک بدترین صور تیں ہے، عقلِ سلیم ہی اس کو غلط سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ اللہ اپنے آپ میں بڑا ہے۔ وہ اس کا محتاج نہیں کہ اس کی کوئی مخلوق کسی پہلو سے اس کو بڑا کرے۔ آیت کے مطابق، انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کو اپنے دل اور دماغ میں اتارے۔ اللہ کی عظمت کا احساس اس کی روح کے اندر تیرنے لگے۔ ہونے اور اللہ کے بڑا ہونے کا عرفان اس کو انسان اصلی (man cut to size) بنا دے۔ تکبیر رب کا مطلب ہے۔
مذکورہ آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ __ اور اپنے رب کی بڑائی کرو، یا اپنے رب کی بڑائی بول، یا اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اس ترجمہ کے مطابق، آیت میں جس تکبیرِ رب کا ذکر ہے اس کا تعلق کسی خارجی سیاست سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آدمی کی اپنی داخلی کیفیت سے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا دماغ اللہ کی عظمت کو شعوری طور پر دریافت کرے۔ اس کا دل اللہ کی عظمت کے احساس سے تڑپ اٹھے۔ اللہ کی عظمت کا اعتراف اس کی زبان پر جاری ہو جائے۔ وہ تکبیرِ رب ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔
قرآن کے آغاز میں یہ آیت آئی ہے ”ذالک الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیْہِ“ (البقرہ ۲) یعنی یہ کتاب (الہی) ہے، اس میں کوئی شک نہیں، یا یہ کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک اس آیت کی نحوی ترکیب میں کچھ اختلاف ہے۔ تاہم ہر مفسر نے یہاں کتاب کو کتاب ہی کے معنی میں لیا ہے۔ اس کے بارے میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ وہ تمام ترجمے غلط ہیں جن میں ”ذالك الکتاب“ کا ترجمہ کتاب سے کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک قرآن تمام علوم کا خزانہ اس لئے ذٰلِکَ الْکِتَاب کا سب سے قریبی ترجمہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک انسائیکلو پیڈیا ہے۔ یہ ترجمہ یقینی طور پر رائے کی بنیاد پر کیا گیا ہے نہ کہ حقیقی علم کی بنیاد پر، اس لئے کہ انسائیکلو پیڈیا ایسی کتاب کا نام ہو تا ہے جس میں ہر قسم کی معلومات یکجا کی گئی ہوں۔
انسائیکلو پیڈیا کی مفہوم میں معلومات کا مجموعہ فہمیں۔ اس کے بجائے وہ علم اور معرفت کا مجموعہ ہے، وہ خزانہ حکمت ضرور ہے مگر وہ معروف معنی میں، خزانہ معلومات نہیں۔ مثال کے طور پر اسلام کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے، مگر قرآن میں یکجائی طور پر کہیں یہ کلمہ موجود نہیں۔ اسلام میں نماز پانچ وقتوں کے لئے فرض کی گئی ہے۔ پانچ کے عددی تعین کے ساتھ قرآن میں نماز کا حکم موجود نہیں۔ انسائیکلو پیڈیا میں جن اشخاص کا ذکر آتا ہے، اس میں سال پیدائش اور سال وفات کے ساتھ ان کا ذکر آتا ہے۔ مگر قرآن میں پیغمبر اسلام نیز دوسرے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کی سال پیدائش یا سال وفات قرآن میں اس طرح کی ہزاروں معلوماتی باتیں ہیں جن سے قرآن کے صفحات خالی ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کتاب کا ترجمہ انسائیکلو پیڈیا کے لفظ سے کرنا ایک ذاتی اپج ہے، اس کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔
قرآن میں ایک حکم وہ ہے جو ”اقیموا الدین“ (الشوریٰ ۱۳) کے الفاظ میں بیان اس آیت کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ تم الدین کو قائم کرو۔ کچھ لوگوں نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں الدین سے مراد قرآن و حدیث میں وارد شدہ تمام شرعی اور دینی احکام اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام شرعی اور دینی احکام کو ایک مکمل نظام کے طور پر دنیا میں نافذ کرو۔
آیت کی یہ تفسیر بلا شبہ تفسیر بالرائے کے حکم میں آتی ہے کیوں کہ وہ قرآن نہی کے واضح اصولوں کے خلاف ہے۔ مثال کے طور پر، اس آیت میں صراحتہ اس حصہ دین کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے جو حضرت نوح کو اور حضرت ابراہیم کو اور حضرت موسیٰ کو اور حضرت عیسیٰ کو اور حضرت محمد کو مشترک طور پر دیا گیا۔ اس مخصوص انداز بیان کی بنا پر تمام مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ یہاں الدّین سے مراد صرف دین کی اساسی تعلیمات ہیں کیوں کہ مختلف پیغمبروں کا مشترک دین یہی اساسی تعلیمات تھیں۔ جہاں تک تفصیلی شرائع کا تعلق ہے وہ نص
قرآنی (المائدہ ۴۸) کے مطابق مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف تھیں ۔
اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ الدین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہو (الشورئیٰ ۱۳) چونکہ دین کی مشترک پیروی صرف اساسی دینی تعلیمات ہی میں ہو سکتی ہے اس لئے یہاں صرف اساسی دینی تعلیمات کو اقامت کے تحت سمجھا جائے گا۔ تمام شرائع کو اس کے تحت لینے کی صورت میں تفرق لازم آئے گا، یعنی وہی چیز جس سے آیت میں منع کیا گیا ہے۔ تفسیر بذریعہ تدبر عام طور پر تفسیر کی دو قسمیں سمجھی جاتی ہیں۔ تفسیر ماثور، اور تفسیر بالرائے۔ مگر تفسیر کی ایک اور قسم ہے جس کو تفسیر بذریعہ تدبر کہا جا سکتا ہے۔ احادیث و آثار اور اقوال سلف کی روشنی میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرنا، بلاشبہہ بہت اہم اور ضروری ہے۔ مگر قرآن کے عجائب کو مزید دریافت کرنے کے لئے ہر دور میں اس پر غور و تدبر کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جائز دائرے میں اس کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہو گا۔ یہاں قرآن سے ایک مثال دی جاتی ہے جس سے یہ معاملہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔
قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں حضرت یوسف کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف کو مصر کے ارضی خزائن پر حاکم مقرر کیا گیا۔ قحط کے زمانہ میں ان کے خصوصی انتظام کے تحت لوگوں کو غلہ فراہم کیا جانے لگا۔ اسی زمانہ میں غلہ لینے کے لئے ان کے بھائی کنعان سے مصر آئے۔ اور غلہ حاصل کر کے روانہ ہوئے۔ پھر یہ واقعہ ہوا کہ دربار کے کارکنوں نے حضرت یوسف کے چھوٹے بھائی بن یامین کے اونٹ پر لدے ہوئے غلہ سے ایک شاہی سامان بر اس کے بعد بن یامین کو چوری کے الزام میں ماخوذ کر کے حضرت یوسف کے حوالے کر دیا گیا۔ یہاں قرآنی آیتوں کی تفسیر عام طور پر یہ کی جاتی ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بن یامین کو پہچان کر انہیں اپنے پاس رو کنا چاہا مگر چونکہ وہ اپنی شخصیت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے یہ تدبیر کی کہ جب بھائیوں کو غلہ دیا جانے لگا تو ان کے حکم سے ایک شاہی سامان
(سقایہ) بن یامین کے سامان میں رکھ دیا گیا پھر جب وہ لوگ اپنا غلہ لے کر جانے لگے تو نعوذ باللہ حضرت یوسف نے یہ کیا کہ قافلے کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی کر وائی۔ پھر جب منصوبہ کے مطابق، شاہی سقایہ بن یامین کے سامان سے نکل آیا تو انہوں نے بن یامین کو نعوذ باللہ چور قرار دے کر اپنے پاس روک لیا اور بقیہ بھائیوں سے کہا کہ تم لوگ واپس جاؤ۔ یہ تفسیر واضح طور پر ایک پیغمبر کے اخلاق کو داغدار کرتی ہے۔ مگر جب قرآن کی متعلق آیتوں کا گہر امطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ تفسیر کے علاوہ یہاں ایک اور زیادہ صحیح تفسیر موجود ہے۔ اس دوسری تفسیر میں حضرت یوسف مکمل طور پر بری الذمہ قرار پاتے ہیں۔ یہ دوسری تفسیر سورۃ یوسف (رکوع 9آیت ۷۰- 70۔ 76)کے کے گہرے مطالعہ سے معلوم ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف نے جب ان کا سامان سفر درست کیا تو اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں اپنا سقایہ (پینے کا پیالہ) رکھ دیا پھر جب بھائیوں کا یہ قافلہ روانہ ہوا تو در باریوں کو کسی وجہ سے اپنا صواع (ناپنے کا پیمانہ) دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ انہوں نے قافلہ والوں کو پکار کر روکا اور کہا کہ ہم کو شبہہ ہے کہ تم نے ہمارا (چاندی کا) صواع چرا لیا ہے۔ چنانچہ قافلہ کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی لی گئی۔ آخر کار حضرت یوسف کے بھائی بن یامین کے سامان سے وہ بر آمد ہو گیا۔ پھر کنعان کے قانون کے مطابق بن یامین کو پکڑ کر حضرت یوسف کے حوالے کر اس طرح حضرت یوسف کو اپنا وہ بھائی مل گیا جس کو وہ اپنے پاس روک لینا چاہتے تھے۔ ان آیتوں کے الفاظ پر غور کیجئے تو ایک بہت با معنی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ عربی قاعدہ کے مطابق، ضمیر کے فرق میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان میں جو چیز رکھی وہ سقایہ (۷۰) تھا۔ یعنی ایک ایسی چیز جو عربی قاعدے کے مطابق، مونث ہے مگر دربار کے کارکنوں نے قافلے والوں کی تلاشی کے بعد ان کے سامان میں سے جو چیز بر آمد کی اُس کو قرآن میں ضمیر مذکر کے بجائے ضمیر مونث (ثم استخرجھا) کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ضمیر ’ہ‘ کی بجائے ’ھا‘۔
ضمیر کے اس فرق پر غور کرنے سے معاملہ کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان میں برادرانہ محبت کے تحت زادِ راہ کے ساتھ اپنا پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا تھا۔ درباری کارکن اس سے باخبر نہ تھے۔ البتہ اس دوران دربار کی ایک اور زیادہ بڑی چیز ، صواع (غلہ ناپنے کا پیمانہ) سامانوں میں دب کر بظاہر گم ہو گیا۔ جلدی میں درباری کارکنوں کا دھیان قافلے والوں کی طرف گیا اور انہوں نے ان پر شبہ کرتے ہوئے انہیں روکا اور ان کے سامان کی تلاشی لی۔ اس تلاشی کے دوران ان کا مطلوب پیمانہ "صواع" تو نہیں ملا البتہ اس دربار کی ایک اور چیز، پانی پینے کا پیالہ (سقایہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہو گیا۔ نے بن یامین کو خود برادرانِ یوسف کی شریعت کے مطابق روک لیا۔
یہ سارا معاملہ حضرت یوسف کے کسی حکم کے بغیر درباریوں نے بطور خود کیا۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی، وہ بادشاہ کے قانون کے رو سے اپنے بھائی کو نہیں لے سکتا تھا۔ مگر یہ کہ اللہ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے بالا تر ایک علم والا (یوسف (۷۶) یہ تفسیر قرآنی الفاظ کے مطابق بھی ہے اور حضرت یوسف کی پیغمبرانہ عظمت کے مطابق بھی۔
قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : وأعدوا لهم مااستطعتم من قوة و من رباط الخيل ترهبون به عدو الله و عدو كم و آخرين من دونهم لا تعلمونهم الله يعلمهم (الانفال (۶۰) یعنی اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمہاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے علاوہ دوسرے پر بھی جن کو تم نہیں جانتے ۔ اللہ ان کو جانتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے ایک عرب مفسر قرآن نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اعدادِ قوت کا مقصد تحریر الانسان ہے۔ اہلِ ایمان کو طاقت کی فراہمی کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ
ہ ساری دنیا کے انسانوں کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرائیں ۔ مثلاً کمیونزم، نازی ازم، سیکولرزم اور زائنزم (صیہونیت)، وغیرہ کی غلامی سے نجات دلانا۔ آیت کا یہ تفسیر بظاہر ایک انقلابی تفسیر معلوم ہوتی ہے، مگر یقینی طور پر وہ تغیر بالائے ایت فایہ سیر بظاہر ایک انقلابی سیر معلوم ہوئی ہے۔ مگر یہ کس طور پر وہ سیر بار اہے مفسر نے قرآن کے الفاظ پر غور کیے بغیر اپنے ذہن میں موجود خیالات کو آیت کی تفسیر میں شامل کردیا آ یت کے الفاظ پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس کے مطابق ، اعداد و قوت کا مقصد اربابِ عدو ہے یعنی دشمن کو ہیبت زدہ رکھنا تا کہ وہ اہلِ ایمان کر سکیں ۔ لفظوں کے معنی اور آیت کے مفہوم پر غور کا حکم کے خلاف چار خیت کا حوصلہ نہ نے اگر مؤقف کے تحت پیداکی لفظوں میں یہ کہ آیت میں اعداد و فوت کا علم وفنائی کے مقصد کے تحت دیا گیا ہے۔ دوسرے کے لئے ، مکر مذکورہ مفسر نے اس کو اقدامی معنی میں لے لیا۔