۴۱ مارچ، ۲۰۰۱ء دعا گو وحید الدین
Al-Risala, June 2001, pp. 47–50
By Maulana Wahiduddin Khan
صدر اسلامی مرکز نے ۱۹- ۲۰ فروری ۲۰۰۱ کو حیدر آباد کا سفر کیا۔ وہاں علماء اور طلبہ اور تعلیم یافتہ مسلمانوں کے درمیان چند خطابات ہوئے۔ ان میں اسلام کے دعوتی پہلو پر زور اس کے علاوہ مختصر مجالس میں اسلام اور ملت مسلمہ کے موضوعات پر اظہار خیال
انڈیا انٹر نیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ۲۱ فروری ۲۰۰۱ کو ایک سمینار ہوا۔ یہ التجارہ میگزین کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا۔ تعلیم یافتہ مسلمان نیز ہندو اس میں شریک ہوئے۔ مرکز نے اس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اور سیرت رسول کے موضوع پر ایک
وائی ایم سی اے کے انٹر نیشنل کانفرنس سنٹر (نئی دہلی) میں ۲۲ فروری ۲۰۰۱ کو مختلف مذاہب کا ایک سمینار ہوا۔ اس کا موضوع تھا ’مذہب اور روحانیت‘۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور اسلام میں روحانیت کے موضوع پر تقریر کی۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ کو جو روحانیت ملی وہ کیا اسلامی تصوف کی دین ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ روحانیت کا اصل سر چشمہ خدا کا عقیدہ ہے۔ جب ایک آدمی کو خدا کی دریافت ہوتی ہے تو اس کو ہر لمحہ اپنے آس پاس خدا کی موجودگی (presence of God) کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اپنے پاس خدا کی موجودگی کا یہی یقین روحانیت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ صدر اسلامی مرکز نے یکم مارچ ۲۰۰۱ کو حیدر آباد کا سفر کیا۔ وہاں ان کے چند پروگرام ایک عمومی خطاب مثالی گیسٹ ہاؤس میں ۲ مارچ کی شام کو ہوا۔ ان اجتماعات میں اسلام کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی گئی۔ شہر کے تعلیم یافتہ لوگ اس میں شریک
ای نیڈ وٹیلی ویژن (Eenedu Television) کے نمائندہ کر تک مہتا نے ۴ مارچ ۲۰۰۱
کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر افغانستان میں بدھا کے مجسموں کو توڑنے سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ افغانی طالبان کا یہ عمل سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ مگر اس سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں۔ اس لئے کہ اس قسم کی سرگرمیوں سے اسلام نیوز میں آتا ہے۔ اور اہل اسلام کو موقع ملتا ہے کہ وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو میڈیا کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا سکیں ۔ 6 ہند ی اخبار راشٹر یہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر ودود سا جد نے ۴ مارچ ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق دو مسئلوں سے تھا۔ سماجی امن اور یکجہتی کے لئے اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ افغانستان میں بدھا کے مجسموں کو توڑنے کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے۔ دونوں سوالات کے بارہ میں اسلام کا نقطہ نظر تفصیل کے ساتھ بیان کیا
زی نیوز (نئی دہلی) نے ۴ مارچ ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ان کا سوال افغانستان میں طالبان کی بدھا کے مجسموں کو توڑنے کی کارروائی کے بارہ میں تھا۔ بتایا گیا کہ یہ اسلام کے خلاف ہے۔ افغانستان میں صحابہ کے زمانہ میں اسلام آیا۔ اس طرح صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور دوسرے علماء اسلام کے ذریعہ افغانستان میں اسلام پھیلتا رہا۔ یہ مجسمے ظہور اسلام کے پانچ سو سال پہلے سے افغانستان میں موجود ہیں۔
8 آ ل انڈیا ریڈیو نئی دہلی (اردو مجلس) کے تحت ۵ مارچ ۲۰۰۱ کو ایک پینل ڈسکشن تھا جس میں صدر اسلامی مرکز سمیت چار افراد شریک ہوئے۔ ڈسکشن کا موضوع افغانستان میں طالبان کے بدھا کے مجسموں کو توڑنا تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر اسلام کا نقطہ نظر پیش اس ڈسکشن کو آر ڈی نیٹر پروفیسر اختر الواسع تھے۔
9 آ ل انڈیا ریڈیو نئی دہلی کی انگریزی سروس کے تحت ۵ مارچ ۲۰۰۱ ء کو افغانستان کے موجودہ بحران پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ اس انٹرویو میں بتایا گیا کہ گو تم بدھ کے
مجسمہ کو توڑنے کی جو مہم افغانستان میں جاری کی گئی ہے وہ سراسر اسلام کے خلاف ہے۔ اسلام کا نشانہ پتھر کے بتوں کو توڑنا نہیں ہے بلکہ انسان کے قلب و ذہن کی اصلاح کرنا ہے اور انہیں ایک اللہ کا پرستار بنانا ہے۔ یہ مقصد ترغیب (persuasion) کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے نہ کہ توڑ پھوڑ کے ذریعہ۔
10 6مارچ ۲۰۰۱ کو انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کے زیر اہتمام انٹر نیٹ پر سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اس کا پہلے سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ ۶ مارچ کی شام کو صدر اسلامی مرکز سوال کا جواب دینے کے لئے ٹائمس آف انڈیا کے دفتر میں موجود رہیں گے۔ سوال اور اسی وقت جواب کا پروگرام دو کمپیوٹروں کے ذریعہ منظم کیا گیا۔ اخبار والوں نے بتایا کہ یہ ایک ریکارڈ ہے کہ صرف ایک شخص سے سوال کرنے کے لئے ایک وقت میں آٹھ سو سوالات آئے۔ ان سوالات کا فوری جواب انٹر نیٹ پر دیا گیا۔ فوری طور پر کچھ تاثرات بھی آئے۔
ہندی روزنامہ دینک جاگرن (نئی دہلی) کے نمائندہ نے ۶ مارچ ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر اس سے تھا کہ طالبان نے افغانستان میں گوتم بدھ کے جو مجسمے توڑے ان کا اسلامی حکم کیا ہے۔ بتایا گیا کہ یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام میں پر امن دعوت ہے نہ کہ متشددانہ توڑ پھوڑ۔ اسٹار پلس ٹی وی کے نمائندہ مسٹر ترویدی نے ۷ مارچ ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ایک سوال یہ تھا کہ طالبان کا مورتیوں کو توڑنا کیا بابری مسجد کے توڑنے کا ری ایکشن ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ طالبان کے معاملہ کو بابری مسجد سے جوڑنا درست اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ بابری مسجد کے توڑنے کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ کیوں کہ اگر طالبان کو اپنے ملک میں غیر مسلم یادگاروں کو مٹانے کا حق ہے تو انڈیا کے کٹر لوگ یہ کہیں گے کہ پھر ہمیں بھی اسی طرح اپنے ملک میں مسلم یادگاروں کو مٹانے کا حق ہے۔
۱۳ مسٹر کاظمی نے ایران ریڈیو کے لئے ۸ مارچ ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو سوالات کا تعلق زیادہ تر افغانستان میں بدھا کے مجسموں کو توڑنے سے تھا۔ کے جواب میں کہا گیا کہ افغانستان میں بدھا کے مجسموں کے توڑنے کو بابری کا مسجد کارد عمل بتانا سخت ناعاقبت اندیشانہ فعل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بالواسطہ انداز میں اس کو درست قرار دے رہے ہیں کہ ہر ملک دوسری قوم کی تاریخی یادگار کو توڑے ۔ ۱۴ ہندی روزنامہ راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر اپادھیائے نے ۸ مارچ ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر بدھا کے مجسموں کو توڑنے سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم پہلے فلاں کام کی مذمت کرو، اس کے بعد ہم افغانستان میں بتوں کو توڑنے کی مذمت کریں گے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ کسی شرط کے بغیر برائی کی مذمت کی جائے۔ ۱۵ بی بی سی لندن (اردو سروس) کی نمائندہ ایلیا حیدر نے ۹ مارچ ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر افغانستان میں بت شکنی یا مجسمہ شکنی سے تھا۔ طالبان کے لیڈر ملا عمر کے حکم سے ہو رہا ہے۔ بتایا گیا کہ طالبان حکومت کا یہ فعل اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں مختلف ممالک فتح ہوئے مگر ان ملکوں میں بت شکنی کی مہم نہیں چلائی گئی۔ سوال یہ ہے کہ خلیفہ عمر کا طریقہ مسلمانوں کے لئے نمونہ ہے یا ملا عمر کا طریقہ۔ ۱۶ روہیل کھنڈ یونیورسٹی (بریلی) میں سالانہ لکچر کا نظام ہے۔ اس کے تحت صدر اسلامی مرکز کو دعوت دی گئی۔ ۱۴ مارچ ۲۰۰۱ کو یونیورسٹی میں ان کا لکچر ہوا جس کا عنوان اسلام اینڈ پیس یہ سالانہ لکچر ڈپارٹمنٹ آف اینشنٹ ہسٹری اینڈ کلچر کے تحت منعقد کیا تھا۔ بعد سوال اور جواب کا پروگرام تھا۔ یونیورسٹی کے لوگوں نے نہایت دلچسپی کے ساتھ اس میں حصہ لیا۔ اسلام کے بارے میں ان کی بہت سی غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔