Al-Risala · July 2001

تقلید اور اجتہاد

Al-Risala, July 2001, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی ذہن کی دو قسمیں ہیں ــــ تقلیدی ذہن اور اجتہادی۔ تقلیدی ذہن اور اجتہادی ذہن کے فرق کو سادہ طور پر اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ تقلیدی ذہن سے مراد بند ذہن ہے اور اجتہادی ذہن سے مراد کھلا ذہن تقلیدی انسان کا ذہنی سفر ایک حد پر پہنچ کر رک جاتا ہے۔ کے برعکس اجتہادی انسان کا ذہنی سفر برابر آگے کی طرف جاری رہتا ہے، وہ موت سے پہلے کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اس فرق کو ایک مثال سے سمجھئے۔

شیکسپیئر انگریزی زبان کا بہت بڑا ادیب ہے۔ اس کی وفات ۱۶۱۶ء میں ہوئی۔ کے زمانہ کا انگریزی ادیب جارج برناڈشا ہے، جس کی پیدائش ۱۸۵۶ء میں ہوئی۔ زمانہ عمل کے اعتبار سے دونوں کے درمیان تقریباً تین سو سال کا فاصلہ ہے۔ برناڈشا کا مقام انگریزی ادب کی تاریخ میں شیکسپیئر سے کم ہے۔ برناڈ شا نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ : میرا قد اگرچہ شیکسپیئر سے چھوٹا ہے مگر میں شیکسپیئر کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں۔

I am samller in stature than Shakespeare, but I stand upon his shoulder. یہ مجتہدانہ طرزِ فکر کی ایک مثال ہے۔ اس طرزِ فکر سے بلند نظری اور حوصلہ مندی پیدا جس معاشرہ کے لوگوں میں یہ مزاج ہو وہاں ذہنی ارتقاء کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے گا۔ ہر نسل کے افراد پچھلے لوگوں کے علمی سرمایہ پر اضافہ کریں گے اور اس کو مزید ترقی دے کر اگلی نسل تک پہنچاتے رہیں گے۔

Printed page