Al-Risala · July 2001

موجودہ مسلم معاشرہ

Al-Risala, July 2001, pp. 4–9

By Maulana Wahiduddin Khan

اب مسلم معاشرہ کو لیجئے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل تقریباً رک گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر مقلدانہ طرزِ فکر کارواج ہو گیا، اور مجتہدانہ طرزِ فکر کا اس طرح خاتمہ ہو گیا جیسے کہ وہ کوئی برائی ہو اور جس کو چھوڑ دینا ہی بہتر ہو۔ عام طور پر لوگوں کا

ذہن یہ بن گیا کہ علم و تحقیق کا سارا کام علمائے سلف کر چکے ہیں۔ اب ہمارے لئے کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ ہم ان کی کتابوں کو پڑھیں اور ان کا اتباع کریں۔ مگر اس قسم کی سوچ فکری ترقی کے لئے ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کے لئے طرزِ فکر کی دو صورتیں ہو سکتی یہ دونوں صورتیں حسب ذیل ہیں :

میرا قد اسلاف سے چھوٹا ہے مگر میں اسلاف کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں۔ میرا قد اسلاف سے چھوٹا ہے اس لئے میں اسلاف کے قدموں میں پڑا ہوا ہوں۔ مذکورہ تقسیم میں پہلا طرزِ فکر مجتہدانہ ہے۔ وہ مسلم گروہ کے علمی اور ذہنی سفر کو مسلسل ترقی کی طرف لے جانے والا ہے۔ جس گروہ کے اندر یہ فکری روایت ہو اس کی ہر اگلی نسل اپنی پچھلی نسل کا مکمل احترام کرتے ہوئے اس کی ترقی کو زینہ کے طور پر استعمال کرے گی۔ ہر اگلی نسل اپنی پچھلی نسل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھتی رہے گی۔

اس کے مقابلہ میں دوسرا طرزِ فکر مقلدانہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے ذہنی سفر کو ایک حد پر روک دینے والا ہے۔ اس طرزِ فکر کا بیک وقت دو نقصان ہو گا۔ ایک یہ کہ ایسے لوگ اسلام کے اعلیٰ فکری درجات پر پہنچنے سے محروم رہ جائیں گے۔ وہ اضافہ پذیر معرفت سے آشنا نہ ہو سکیں اس کا مزید نقصان یہ ہو گا کہ وہ علمی و فکری میدان میں دوسری قوموں سے پچھڑ جائیں گے۔ انسانیت کے رواں دواں قافلہ میں وہ گرد راہ بن کر رہ جائیں گے۔

یہ تقلیدی طرزِ فکر عین وہی ہے جس کو جاہلی دور کے مشہور شاعر عنترہ بن شداد العبسی (وفات ۶۱۵ء) نے اپنے معلقہ کے مطلع میں ان الفاظ میں بیان کیا تھا : هل غادر الشعراءاء من متردم اس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے شعر نے کیا کوئی جگہ پیوند لگانے کی باقی چھوڑی ہے۔ وہ سب کچھ کہہ گئے ہیں، اب کسی شاعر کے لئے کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اس پر وہ کچھ اضافہ کر سکے۔ ادب کی دنیا کا یہ طرزِ فکر جب مذہب میں داخل ہو جائے تو اسی کو تقلیدی فکر کہا جاتا ہے۔

اس قسم کا تقلیدی فکر ذہنی ترقی کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کو ذہنی جمود میں مبتلا کر دینے والا ہے۔ اور بلاشبہ ذہنی جمود سے زیادہ مہلک کوئی اور چیز کسی فرد یا گروہ کے لئے نہیں۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے یہاں میں ذخیرہ حدیث سے چند مثالیں دوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ مختلف راویوں کے ذریعہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ صحیح الالبخاری میں یہ واقعہ اس طرح ہے کہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا۔ اس وقت آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ جنازہ کو دیکھ کر اس کے احترام میں آپ کھڑے ہو گئے۔ آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی کھڑے ہو گئے۔ کہا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ تھا (وہ مسلمان کا جنازہ نہ تھا۔ آپ نے فرمایا: الیست نفساً (فتح الباری ۲۱۴/۳) یعنی کیا وہ انسان نہیں۔

امام بخاری کا یہ ایک عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے لاکھوں حدیثیں جمع کیں۔ غیر معمولی محنت کے ذریعہ (مکررات سمیت) ان میں سے ۵۶۳۷ حدیثیں منتخب کیں اور وہ قیمتی مجموعۂ احادیث تیار کیا جو صحیح البخاری کے نام سے ہمارے پاس موجود ہے اور جس کو 'اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے امام البخاری کا کارنامہ اتنا عظیم ہے کہ شاید اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔

لیکن بعد کی نسلوں کو یہیں رک جانا نہیں ہے، بلکہ اور آگے بڑھنا ہے۔ مثلاً امام البخاری نے مذکورہ حدیث کو اپنے مجموعہ میں کتاب الجنائز (باب من قام لجنازہ یہودی) کے تحت درج کیا ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ اپنی سوچ کو امام البخاری کے قائم کردہ ترجمہ باب تک محدود کر لیں تو وہ اس حدیث کو صرف جنازہ کا ایک معاملہ سمجھیں گے اور اس سے جنازہ کے مسائل نکالنے پر اکتفا کریں گے۔ ان کا ذہنی سفر، اس حدیث کے تعلق سے مسئلہ جنازہ سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔ اس کے بعد دوسرا گروہ شارحین کا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، احادیث کی شرح میں کثرت

سے لکھی گئیں ۔ ان شارحین نے حدیث اور روایت کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی بحثیں کی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بے حد ضروری مواد فراہم کیا ہے ۔ یہ مواد بے حد اہم ہے۔ حدیث کی مختلف جہتیں معلوم ہوتی ہیں جو حدیث کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے بلا شبہ ضروری ہیں۔

لیکن اگر بعد کے لوگ حدیث کی ان شرحوں کو حرف آخر قرار دے دیں تو پیغمبر اسلام کی احادیث پر مزید غور و فکر کا عمل رک جائے گا۔ اور یہ فکری ارتقاء کے اعتبار سے بہت بڑے نقصان کا باعث ہو گا۔ مثلاً مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے مختلف علماء نے اس کا جو مفہوم بتایا ہے اس میں حدیث کا ایک اہم پہلو بیان ہونے سے رہ گیا۔ ان مختلف اقوال کو ابن حجر العسقلانی اور دوسرے شارحین حدیث کے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے مطابق، کسی شارح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا سبب ملائکہ کو بتایا ہے۔ کسی نے لکھا ہے کہ آپ نے کراہت. بخور (دھونی) کے لیے ایسا کیا۔ کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایسا کیا تھا مگر اب یہ عمل منسوخ ہو چکا ہے۔ (فتح الباری ۳: ۲۱۵-۲۱۶)۔ ایک قول کے مطابق، آپ نے اس کو پسند نہیں کیا کہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے گزرے اس لئے آپ کھڑے ہو گئے (وکره أن تعلو رأسه جنازة یهودی، فقام) حدیث کی یہ تمام شرحیں علمی اور اصولی اعتبار سے درست نہیں۔ یہ تمام شرحیں ذاتی قیاس پر مبنی ہیں نہ کہ کسی واقعی علمی دلیل پر۔ حدیث کا ظاہری متن واضح طور پر بتاتا ہے کہ آپ نے اس یہودی کو انسان کی حیثیت سے دیکھا اور بحیثیت انسان آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ یہ حدیث اپنے متن کے مطابق، احترام انسانیت کی ایک عظیم مثال ہے۔

اب اس معاملہ کو موجودہ زمانہ کی نسبت سے دیکھئے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں احترام مسلم تو ہے مگر اس میں احترام انسانیت نہیں۔ یہ اعتراض بلا شبہ غلط ہے۔ قرآن و حدیث کے مختلف

حوالوں سے اس کی تردید کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں بلاشبہ ایک اہم حوالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ واقعہ میں ملتا ہے۔ اس کو لے کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام میں انسان کا احترام کامل درجہ میں موجود ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان جس کو خدا نے پیدا کیا ہے وہ ہر حال میں قابلِ احترام ہے، خواہ وہ اپنے مذہب کا ہو یا غیر مذہب کا، خواہ وہ ایک قوم سے تعلق رکھتا ہو یا دوسری قوم سے، حتیٰ کہ اگر وہ بظاہر دشمن قوم کا فرد ہو تب بھی انسان کی حیثیت سے اس کا احترام کیا جائے گا۔ جب کہ مذکورہ شرح کی صورت میں اسلامی تعلیم کا یہ اہم اصول اوجھل ہو جاتا ہے۔ حالات کی رعایت صحیح البخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ قریش نے بعد کو جب کعبہ کی تعمیر کی تو انہوں نے اس کو حضرت ابراہیم کی اساس پر نہیں بنایا بلکہ اس کو بدل کر بنایا (حضرت ابراہیم نے کعبہ کو لمبائی میں بنایا تھا مگر قریش نے اس کو مربع صورت میں بنا دیا۔ انہوں نے قدیم کعبہ کے ایک حصہ کو خالی چھوڑ دیا جس کو اب حطیم کہا جاتا ہے) حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ کیوں نہیں کعبہ کو دوبارہ ابراہیمی اساس پر بنا دیتے۔ رسول اللہ نے جواب دیا کہ تمہاری قوم (قریش) ابھی جلد ہی کفر کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئی ہے۔ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ اس سے بھڑک نہ جائے۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہو تا تو میں ضرور ایسا کر تا (فتح الباری امام البخاری نے یہ حدیث کتاب الحج (باب فضل مکہ وبنیا نہا)میں میں درج کی ہے۔ اگر بعد کے لوگ امام البخاری کے قائم کردہ اس ترجمہ باب پر اکتفا کر لیں تو وہ اس حدیث سے صرف فضائل مکہ جیسے مسائل اخذ کریں گے، اس کے علاوہ اور کوئی تعلیم وہ اس حدیث میں دریافت نہ کر سکیں گے۔ حالانکہ اس حدیث میں اسلام کی ایک نہایت اہم تعلیم بیان کی گئی ہے۔ اس تعلیم کو ایک لفظ میں حکمتِ حیات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ صحیح بات یہ تھی کہ کعبہ کی اساس کو دوبارہ حضرت ابراہیم کی اصل اساس پر قائم کیا جائے۔ اس کو مشرکین کی اساس پر چھوڑنا

بظاہر ایک غیر صحیح فعل تھا اس کے باوجود آپ نے اس کی تصحیح کی کوشش نہیں کی، کیوں کہ اس وقت کے حالات میں کعبہ کی تعمیر میں یہ تصحیح نئے مسائل پیدا کر سکتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی اس سنت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ زندگی میں بعض اوقات ایسی صورت حال پیش آتی ہے جب کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ کیا درست ہے(what is right) اور کیا نادرست(what is wrong)۔ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ کیا ممکن ہے(what is possible) اور کیا ممکن نہیں ہے(what is impossible)۔

یہ بے حد اہم بات ہے، حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اس اصول کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اکثر ناکامیاں اسی لئے پیش آئیں ہیں کہ انہوں نے ممکن اور نا ممکن کے اعتبار سے معاملہ کو نہیں دیکھا بلکہ اس کو صرف درست اور نادرست کے اعتبار سے دیکھا اور پھر جو انہیں درست نظر آیا اس کی طرف وہ فوراً دوڑ پڑے۔ حالانکہ حالات کے اعتبار سے اس کا حصول ان کے لئے ممکن ہی نہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بے نتیجہ قربانیاں تمام تر اسی اصول کو ترک کرنے کا نتیجہ ہیں۔

اس مہلک انجام کا واحد سبب تقلید ہے۔ انہوں نے مذکورہ حدیث کو البخاری کے ترجمہ باب کی بنا پر صرف فضائل مکہ کے اعتبار سے دیکھا، وہ اس کو حکمتِ حیات کے اصول کے طور پر اخذ نہ کر سکے، وہ تقلید کے دائرہ میں بند ہو کر رہ گئے، وہ اجتہاد کی اگلی منزلیں طے نہ کر سکے جس کے بغیر ترقی کا سفر ممکن ہی نہیں۔

Printed page