Al-Risala · July 2001

نفاذ احکام میں تدریج

Al-Risala, July 2001, pp. 9–14

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح البخاری کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قرآن میں پہلے جو کلام اتراوہ اس کی مفصل سور تیں تھیں، ان میں جنت اور جہنم کا ذکر یہاں تک کہ جب لوگوں کے دل اسلام پر مطمئن ہو گئے تو اس کے بعد حلال و حرام کی آیتیں اس کے بعد حضرت عائشہ کہتی ہیں: ولو نزل أول شي لا تشربوا الخمر لقالوا

لاندع الخمر ابداً، ولو نزّل لا تزنوا لقالوا لا ندع الزنا ابداً (فتح الباری ج ۸ ص ۶۵۵) یعنی اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ تم لوگ شراب نہ پیو تو ضرور لوگ یہ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے، اور اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ تم لوگ زنانہ کرو تو ضرور لوگ یہ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے۔

امام بخاریؒ نے اس روایت کو اپنی صحیح میں کتاب فضائل القرآن (باب تالیف القرآن) کے تحت درج کیا ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ حضرت عائشہ کی اس روایت کا مطالعہ صرف امام بخاری کے ترجمہ باب کے تحت کریں تو وہ اس سے صرف فضائل قرآن یا تالیف قرآن کے مسائل اخذ کریں گے، اس سے زیادہ کوئی اور چیز انہیں اس روایت میں نہ مل سکے گی۔ غور و فکر کے سفر کو بخاری کے ترجمہ باب پر روکا نہ جائے بلکہ اس کو مزید آگے جاری رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس روایت میں اسلام کا ایک نہایت اہم مسئلہ بیان ہوا ہے۔ اس روایت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز جس کو تطبیق شریعت یا نفاذ شریعت کہا جاتا ہے، اس کے لئے ایک حکمت کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ یہ حکمت تدریجی عمل (gradual process) کی حکمت ہے۔ اسلام کے دور اول میں شرعی قانون کا نفاذ ایک تدریجی حکمت کے تحت کیا گیا۔ وہ حکمت یہ تھی کہ پہلے لوگوں کے دلوں میں اطاعت احکام کی آمادگی پیدا کی جائے، اور جب یہ داخلی آمادگی پیدا ہو جائے تو اس کے بعد خارجی احکام کا نفاذ کیا جائے۔ اس روشنی میں موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحیح البخاری کی مذکورہ حدیث کو بس اس کے ترجمہ باب کے تحت پڑھتے رہے، وہ ترجمہ باب سے آگے بڑھ کر اس پر غور نہ کر سکے۔ اس تقلیدی طرزِ فکر کا نقصان یہ ہوا کہ وہ اسلام کی اس اہم حکمتِ تدریج کو سمجھنے سے قاصر رہے جو اس حدیث میں بتائی گئی تھی۔

موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں لمبی مدت سے تطبیق شریعت یا نفاذ شریعت کے نعروں کا شور سنائی دے رہا ہے۔ مثلاً مصر، پاکستان، ایران، سوڈان، افغانستان، الجزائر، انڈونیشیا،

نائجیریا، بنگلہ دیش، وغیرہ وغیرہ۔ مگر بے شمار قربانیوں کے باوجود کسی بھی مسلم ملک میں اب تک شرعی قوانین کا نفاذ عمل میں نہ آسکا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں طول آمد (الحدید ۱۶) کے نتیجہ میں ضعف ایمان پیدا ہو چکا تھا۔ ان کے اندر وہ ذہنی موافقت اور قلبی آمادگی باقی نہیں رہی تھی جو شرعی احکام کو عملی طور پر قبول کرنے کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے۔ ان کا حال مذکورہ روایت کے مطابق، یہ ہو گیا تھا کہ جب ان کو خمر اور زنا کے احکام کا مخاطب بنایا جائے تو وہ کہہ دیں کہ: لاندع الخمر ابداً و لاندع الزنا ابداً۔

مثال کے طور پر اکثر مسلم ملکوں میں پر جوش مسلم رہنماؤں نے یہ کیا کہ میڈیا کو اسلامائز کرنے کے لئے ٹی وی کے نظام پر قبضہ کیا اور پھر اس کے ذریعہ ’’اسلامی پروگرام‘‘ دکھانا شروع لیکن وہ عملاً مکمل طور پر بے فائدہ رہا۔ کیوں کہ مسلم گھروں میں ٹی وی سیٹ پر جب یہ اسلامی پروگرام آتے تو گھر والے اس کو دیکھتے ہی نہ تھے۔ وہ اس وقت ٹی وی سیٹ کی سوئی گھما کر دوسرا کوئی تفریحی پروگرام دیکھنے لگتے۔

نفاذ شریعت کی ہنگامہ خیز کوششوں کے باوجود اس کی مکمل ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں اجتہادی فکر موجود نہ تھی۔ وہ صرف تقلیدی فکر کا سرمایہ لے کر میدان سیاست میں کود پڑے۔ اس قسم کے تقلیدی فکر کا انجام وہی ہو سکتا تھا جو عملاً پیش آیا۔ میدان عمل کی تبدیلی صحیح البخاری میں حضرت ابو ہریرہ کے حوالہ سے ایک روایت ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أمرتُ بقرية تأكل القرى، يقولون: يثرب، وهي المدینہ (فتح الباری ۴ / ۱۰۴) یعنی مجھے ایک بستی کی طرف ہجرت) کا حکم دیا گیا ہے، وہ بستیوں کو کھائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے۔

امام بخاری نے یہ حدیث اپنی صحیح میں کتاب فضائل المدینہ (باب فضل المدينة و أنها

تنفی الناس) کے تحت درج کی ہے۔ اب بعد کے لوگ اگر اس کو تقلیدی ذہن کے تحت دیکھیں تو وہ اس سے صرف فضائل مدینہ کا مسئلہ نکالیں گے، چنانچہ حدیث کے شارحین نے اس روایت کے تحت زیادہ تر اسی قسم کی بحثیں کی ہیں۔ مثلا اکثر شارحین حدیث اس کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ مدینہ کو یثرب کہنا مکروہ ہے اس کو صرف مدینہ یا مدینہ منورہ کہنا چاہئے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن میں مدینہ کے لئے یثرب کا لفظ استعمال ہوا ہے (الاحزاب ۱۳) اس قرآنی استعمال سے مذکورہ تاویل پر زد پڑتی ہے۔ چنانچہ اس کی توجیہہ محض ذاتی قیاس کے تحت یہ کر لی گئی کہ وہ صرف غیر مسلموں کے قول کی حکایت ہے (فتح الباری ۲/ ۱۰۵)۔ لیکن اگر تقلید اسلاف سے آگے بڑھ کر اس حدیث پر مجتہدانہ انداز سے غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی طریق کار کا ایک اہم اصول بیان اس اصول کو ایک لفظ میں، میدان عمل کی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مکہ میں اہل اسلام کے لئے احوال سخت ہو گئے تو اللہ نے حکم دیا کہ تم مکہ سے نقل مکانی کر کے عرب کے دوسرے شہر یثرب چلے جاؤ۔ وہاں تم کو مکہ کے مقابلہ میں موافق حالات ملیں گے، یہاں تک کہ وہ اسلام کا مرکز بن جائے گا اور لوگ اس کو یثرب کے بجائے مدینۃ الرسول یا مدینۃ الاسلام کہنے لگیں گے۔

موجودہ دنیا میں عملی کامیابی کا یہ ایک نہایت قیمتی اصول ہے۔ اس اصول کو ہجرت کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مقام پر تم کو موافق حالات نہ مل رہے ہوں تو تم وہاں سے نکل کر دوسرے مقام پر چلے جاؤ۔ ٹکراؤ کے طریقہ سے مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو تو مفاہمت کے طریقہ سے اپنا مقصد حاصل کرو۔ تشدد کے ذریعے کامیابی نہ مل رہی ہو تو امن کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرو۔

واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اپنے تقلیدی ذہن کی بنا پر اس عظیم حکمت کو دریافت نہ کر سکے۔ اس کے نتیجہ میں انہیں زبردست نقصان اٹھانا پڑا۔ مثلاً وہ مختلف

مقامات پر اسلام کے نام سے پُرتشدد تحریکیں چلا رہے ہیں جس کے نتیجہ میں مسلمان بے شمار جانی اور مالی نقصان سے دوچار ہو رہے ہیں۔ مگر اپنے تقلیدی ذہن کی بنا پر وہ مذکورہ حکمتِ نبوی کو دریافت نہ کر سکے۔ حالاں کہ اگر ان کے اندر اجتہادی ذہن ہو تا تو مذکورہ حدیث میں ان کو اس کا حل معلوم ہو جاتا۔ اس کے بعد وہ پر تشدد طریق کار کو چھوڑ کر پر امن طریق کار کا انداز اختیار کر لیتے اور پھر قانون فطرت کے مطابق، وہ کامیابی کے مرحلے تک پہنچ جاتے۔

مذکورہ مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقلیدی فکر کیا ہے اور اجتہادی فکر کیا۔ میں تقلیدی فکر گویا پہلے زینہ پر رک جانے کا نام ہے۔ اس کے مقابلہ میں اجتہادی فکر اگلے زینوں کو طے کرتے ہوئے اوپر کی منزل تک پہنچ جانا ہے۔ پہلا زینہ اگرچہ ابتدا میں ہوتا ہے مگر اس کی اہمیت یہ ہے کہ اگر پہلا زینہ نہ ہو تو اگلے زینوں کا وجود بھی نہ ہوگا۔ مطالعہ حدیث کے درجات ابتدائی دور کے محدثین کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے حدیثوں کی جمع اور تدوین کا انتہائی مشکل کام انجام دیا۔ یہ گویا مطالعہ حدیث کا ابتدائی درجہ تھا۔ اس کے بعد اگلی نسل کا یہ کام ہے کہ وہ حدیثوں کا جامع انڈکس (Index) تیار کر کے حدیثوں سے علمی استفادہ کو آسان بنا اس کے بعد اس معاملہ کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ میں احادیث کی جو تشریحات کی گئیں ان کو مرتب کیا جائے تا کہ ان احادیث کو سمجھنے کے لئے ابتدائی بیک گراؤنڈ معلوم ہو سکے۔

اس کے بعد اس معاملہ کا چوتھا درجہ یہ ہے کہ ان احادیث کا مطالعہ زمانی حالات کے پس منظر میں کیا جائے تا کہ ان احادیث کا تو سُعی مفہوم معلوم کیا جا سکے۔ احادیث کے تو سُعی مفہوم سے کیا مراد ہے، اس کے چند نمونے اوپر کی مثالوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح اس معاملہ کا پانچواں درجہ یہ ہو سکتا ہے کہ تمام صحیح احادیث کا مکمل انسائیکلو پیڈیا تیار کیا جائے، تاکہ جدید انسان کے لئے اس کے اپنے مانوس اسلوب میں حدیثوں کا مطالعہ ممکن ہو سکے، وغیرہ۔

حدیث کے مطالعہ کے درجات جو یہاں بتائے گئے، وہ حتمی درجات نہیں ہیں۔ صرف اس مسئلہ کو بتانے کے لئے دی گئی ہیں کہ تقلیدی مطالعہ کے مقابلہ میں اجتہادی مطالعہ کہ فرق کیا ہے اور اس سے انسان کو کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

Printed page