Al-Risala · July 2001

اجتہادی عمل کی اہمیت

Al-Risala, July 2001, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتہاد محض ایک ذہنی مشغلہ نہیں، اجتہاد اہل اسلام کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ اجتہادی عمل کے ذریعہ اہل اسلام ہر زمانہ میں اپنی دینی حیثیت کو از سر نو قائم کرتے رہتے ہیں۔ بدلے ہوئے حالات میں اسلام کو از سر نو منطبق کر کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام ایک ابدی وہ ہر آنے والے زمانہ میں اتناہی مناسب (relevant) ہے جتنا کہ کسی قدیم زمانہ گویا کا اجتہاد کا عمل اسلامی فکر کو مسلسل طور پر مطابق وقت (update) بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ اجتہاد کیا ہے؟

اجتہاد سے مراد آزادانہ رائے قائم کرنا نہیں ہے۔ اجتہاد سے مراد یہ ہے کہ قرآن وسنت جو اسلام کے اصل مصادر (sources) ہیں، ان پر غور کر کے قیاسی یا استنباطی طور پر شریعت کے نئے احکام معلوم کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد بھی تقلید ہی کی ایک قسم ہے۔ عام مقلد فقہاء کی تقلید کرتا ہے، اور مجتہد وہ ہے جو خدا اور رسول کی تقلید کرے اور قرآن وحدیث کے نصوص پر غور کر کے براہ راست طور پر احکام کا استنباط کرے۔

اجتہاد سے مراد وہی فکری عمل ہے جس کو قرآن میں استنباط (الننساء ۸۳) کہا گیا ہے۔ اصطلاح میں اسی کا نام قیاس ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس بات کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اجتہاد سے مراد بالواسطہ اخذ احکام ہے، جب کہ براہ راست اخذ احکام کی صورت بظاہر موجود نہ ہو۔ استنباط کا لفظ نبط سے ماخوذ ہے۔ نبط کے لفظی معنی ہیں زمین کے اندر سے پانی کا نکلنا۔ استنبط البئر کے معنی ہوتے ہیں کنواں کھود کر اس سے پانی نکالنا۔ اسی سے یہ کہا جاتا ہے کہ "استنبط الفقیہ" یعنی فقیہ نے قرآن وحدیث پر غور کر کے اس کے پوشیدہ معنی کو نکالا۔

مفسر قرطبی نے لکھا ہے : الاستنباط فی اللغۃ، الاستخراج و هو يدل علی الِاجْتِهَادِ اذا عدم النص والاجماع (الجامع لأحکام القرآن، ۲۹۲/۵) یعنی استنباط کے معنی استخراج اس کا مطلب ہے نص اور اجماع کی غیر موجودگی میں اجتہاد کر کے شریعت کا حکم

فقہاء اسلام نے دوسری صدی ہجری میں اجتہاد کا یہی کام کیا۔ عباسی خلافت کے زمانہ میں کثرت سے نئے مسائل پیدا ہوئے ۔ ان مسائل کا براہ راست یا منصوص جواب بظاہر قرآن وسنت میں موجود نہ تھا۔ اس وقت فقہاء اسلام نے اجتہاد کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کیا۔ قرآن وسنت کے نصوص سے قیاس یا استنباط کے ذریعہ نئے حالات کے لئے شرعی احکام معلوم اسی اجتہاد کا یہ فائدہ تھا کہ اہل اسلام کے قافلہ نے بدلے ہوئے حالات میں اپنے لئے شرعی رہنمائی پائی ۔ تاریخ میں ان کا سفر کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل جاری رہا۔ مگر دوسری اور تیسری صدی ہجری کے بعد اہل اسلام کے درمیان بعض اسباب سے ایک غلط تصور قائم ہو گیا، وہ یہ کہ قرآن وسنت سے براہ راست طور پر جو اجتہاد یا استنباط کرنا تھا وہ اس ابتدائی دور کے فقہاء نے تکمیلی طور پر انجام دے دیا۔ اب براہ راست نصوص سے احکام اخذ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بعد کے مسلمانوں کے لئے کرنے کا جو کام ہے وہ یہ ہے کہ وہ ان فقہاء کی کتابوں کو پڑھیں اور ان پر غور کر کے بعد کے زمانوں کے لئے شرعی احکام معلوم کرتے رہیں۔ اس طرح اسلام کی علمی تاریخ میں عباسی دور کے فقہاء کو مجتہد مطلق کا درجہ مل گیا اور بعد کے دور کے فقہاء کو صرف مجتہد مقید کا۔ دور اول کے فقہاء کا اجتہاد قرآن وسنت پر مبنی ہوتا تھا مگر بعد کے علماء کے لئے اجتہاد کا مطلب صرف یہ رہ گیا کہ وہ دور اول کے فقہاء کے دائرہ میں محدود رہتے ہوئے اپنے لئے شرعی احکام کا تعین کریں۔

Printed page