Al-Risala · July 2001

فکری المیہ

Al-Risala, July 2001, pp. 15–19

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وہ مقام ہے جہاں سے مسلمانوں کے فکری المیہ کا آغاز ہوتا ہے۔ اس فکری موقف

نے مسلمانوں کو ایک ٹھہرا ہوا قافلہ بنادیا۔ امیر شکیب ارسلان (وفات ۱۹۴۶) نے اپنی کتاب "لماذا تأخر المسلمون و تقدم غيرهم" میں جو بحث چھیڑی تھی، اس کا اصل جواب یہی ہے کہ زمانہ جدید میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا واحد سبب یہ تھا کہ ان کے درمیان اجتہاد کا عمل رک گیا۔ اجتہاد کوئی اختیاری عمل نہیں، وہ ایک ناگزیر فطری عمل ہے۔ ایسا نہیں کہ اجتہاد خواہ کیا جائے یا نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتہاد کے عمل کو روکنا گویا فطرت کے عمل کو روکنا ہے، اور فطرت کے عمل کو روکنا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ خود کو رکنے والا اپنی ترقی کے سفر کو ختم

دریا کی زندگی اس کی روانی میں ہے۔ دریا کے جاری پانی کو اگر روک دیا جائے تو اس کے بعد وہ دریا نہ رہے گا بلکہ وہ ایک متعفن گڑھے میں تبدیل ہو جائے گا۔ اسی طرح کوئی گروہ اگر اپنے درمیان اجتہاد کے عمل کو روک دے تو اس کے اندر ایسا جمود پیدا ہو گا جو اس کے لئے ہر قسم کی ترقی کو نا ممکن بنادے گا، صرف مادی ترقی نہیں بلکہ خود مند ہی اور روحانی ترقی بھی۔ از سر نو غور کرنے کی صلاحیت مقلد انسان، عوامی مقولہ کے مطابق، صرف لکیر کا فقیر ہوتا ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ کسی معاملہ کا از سر نو اندازہ (reassessment) کرسکے۔ وہ ایک ہی مانوس ڈگر پر چلتا رہتا ہے، خواہ عملاً وہ سرا سر بے نتیجہ کیوں نہ ہو۔ اس کے بر عکس اجتہادی مزاج رکھنے والا آدمی بار بار معاملات پر نظر ثانی کرتا ہے۔ وہ ماضی اور حال کا مطالعہ کر کے اپنے عمل کا نیا منصوبہ بناتا ہے۔ مقلد انسان اگر ماضی میں ہوتا ہے تو مجتہد انسان اس کے مقابلہ میں مستقبل میں۔ اس کی ایک مثال بر صغیر ہند کے حالات میں ملتی ہے۔ اٹھار ہویں اور انیسویں صدی میں جب ہندوستان میں انگریزیوں کا غلبہ ہوا تو اس زمانہ کے مسلم رہنما صرف ایک ہی بات سوچ سکے۔ انگریزوں سے مسلح ٹکراؤ تھا۔ دار الحرب اور جنگ و قتال کے قدیم نظریات کے تحت ان کا جوڑ ہن بناتھا وہ ان کو صرف ایک ہی سبق دیتا تھا اور وہ یہ کہ انگریزوں سے لڑکر ان بیرونی دشمنوں کا خاتمہ کریں۔

اس مزاج کے تحت ۱۷۹۹ء میں سلطان ٹیپو انگریزوں کی فوجوں سے لڑگئے۔ اگر چہ اس کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ وہ خود بھی ہلاک ہوئے اور ان کی وسیع سلطنت بھی ختم ہو گئی۔ کے تحت ۱۸۵۷ء میں مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جنگ چھیڑ دی۔ یہ جنگ مختلف شکلوں میں نصف صدی سے زیادہ لمبی مدت تک جاری رہی۔ اس کا نتیجہ بھی معلوم طور پر مسلم رہنماؤں کی یک طرفہ تباہی کی صورت میں نکلا۔ اس خونیں جنگ کا کوئی بھی فائدہ نہ اسلام کو ملا اور نہ مسلمانوں کو۔

یہ ان لوگوں کی مثال تھی جنہوں نے انگریزوں کے معاملہ کو مقلدانہ نظر سے دیکھا۔ ٹھیک اسی معاملہ میں مجتہدانہ نظر کی ایک مثال بھی تاریخ میں موجود ہے۔ یہ سید محمد رشید رضا مصری (وفات ۱۹۳۵ء) کی مثال ہے۔ وہ ۱۹۱۲ء (۱۳۳۰ھ) میں مولانا شبلی نعمانی کی دعوت پر لکھنؤ آئے تھے تاکہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے اجلاس میں شرکت کر سکیں۔ اس کے بعد وہ دار العلوم دیوبند آئے جو اس وقت گویا انگریزوں کے خلاف تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس موقع پر دار العلوم دیوبند میں ایک خصوصی جلسہ ہوا۔ دار العلوم کی طرف سے مولانا انور شاہ کشمیری نے اس کے بعد سید محمد رشید رضا نے جلسہ کو خطاب کیا۔ انہوں نے اس موقع پر عربی زبان میں جو تقریر کی، وہ دار العلوم دیوبند کی روداد (۱۳۳۰ھ) میں چھپی ہوئی موجود ہے۔ تقریر کا ایک حصہ یہ تھا:

’’اسلام کی اشاعت کا دوسرا حصہ غیر مسلموں سے متعلق ہونا چاہئے۔ ہندوستان میں صدہا قسم کے بت پرست ہیں، یہاں بتوں کو پوجنے والے، درختوں اور پتھروں کے پوجنے والے، چاند، سورج، ستاروں اور نہایت لغویات اور خرافات کو پوجنے والے بھی موجود ہیں۔ پس اگر ہمارے پاس دعاۃ اور مبلغین کی ایک مضبوط جماعت موجود ہو تو ان لوگوں میں اسلام کی اشاعت اس قدر سرعت کے ساتھ ہو گی جو اس وقت ہمارے خیال میں بھی نہیں آسکتی۔ ہمیں عیسائیوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ کامیابی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک خاص بات اور ہے جو ہر ایک دور

اندیش مسلمان کی توجہ کے لائق ہے اور وہ یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد غیر مسلموں کے مقابلہ میں اس قدر کم ہے کہ ان کی ہستی کو اس ملک میں ہمیشہ معرض خطر میں سمجھنا چاہئے۔ انگریزی حکومت نے، جو عقل و عدل کی حکومت ہے، غیر مسلموں اور مسلمانوں کے درمیان موازنہ قائم کر رکھا ہے۔ اگر خدانخواستہ یہ موازنہ کسی وقت ٹوٹ جائے تو آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ کیا نتیجہ ہوگا؟ غالباً مسلمانوں کا وہی حشر ہوگا جو اندلس میں ہوا تھا۔ اس لئے ایک جماعت ہم میں ایسی ہونی چاہئے جو ان شبہات کو رفع کرے جو اسلام پر عائد کئے جاتے ہیں۔ یہ شبہات جو موجودہ زمانہ کے علوم و فنون کی بنا پر پیدا ہوگئے ہیں، ان کا دور کرنا بہت ضروری ہے۔ شبہات کا رفع کرنا بغیر فلسفہ جدید کی واقفیت کے ناممکن ہے۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس داعی جماعت کے اشخاص فلسفہ جدید کے اہم مسائل سے واقفیت رکھتے ہوں۔ (الجمعية ویکلی، دہلی، ۶ فروری، ۱۹۷۰ء، صفحہ ۱۰)

سید محمد رشید رضا کی یہ تقریر مجتہدانہ بصیرت کی ایک مثال ہے۔ حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کر کے انہوں نے پیشگی طور پر یہ جان لیا تھا کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلم اقلیت اور غیر مسلم اکثریت کے درمیان بظاہر جو موازنہ (balance) قائم ہے وہ ایک تیسری طاقت (انگریز) کی موجودگی کی بنا پر ہے۔ اس تیسری طاقت کے ہٹتے ہی اس کا قائم کردہ موازنہ اچانک ٹوٹ جائے گا۔ اس کے بعد جو صورت حال پیدا ہوگی وہ اس سے بالکل مختلف ہوگی جو ۱۹۱۲ء میں بظاہر دکھائی دے رہی تھی۔ گویا سیاسی آزادی کا آنا مسلمانوں کے لئے ایک نئے مسئلہ کا آنا ہو گانہ کہ مسئلہ کا ختم ہونا۔

اس دور رس اندازہ کی بنا پر سید رشید رضا نے ہندوستان کے مسلم رہنماؤں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ میدان جنگ کے بجائے میدان دعوت میں سرگرم ہوں۔ وہ جنگی تیاری کے بجائے علمی تیاری کریں تاکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق مؤثر انداز میں دعوت و تبلیغ کا کام کر سکیں۔ اس وقت کے مسلم رہنما انگریز سے نفرت میں اتنا زیادہ گم تھے کہ وہ یہ سوچ ہی نہ سکے کہ انگریز کی

موجودگی میں کوئی مثبت کام کرنا بھی ان کے لئے ممکن ہو سکتا ہے۔ ایک عظیم تاریخی امکان استعمال ہوئے بغیر ختم ہو گیا۔ اور اس کا سبب صرف اجتہادی بصیرت کا فقدان تھا۔ اجتہادی تاخر کی چند مثالیں دیں گے جن سے اندازہ ہوگا کہ مقلدانہ فکر کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں مسلمان کس قسم کے نقصانات سے دوچار ہوئے۔ اجتہادی عمل کو موقوف کرنے کے نتیجہ میں کس طرح وہ دورِ جدید میں ایک کھڑا ہوا قافلہ بن کر رہ گئے۔

Printed page