Al-Risala · July 2001

فقہ کی تدوین دور اقتدار میں

Al-Risala, July 2001, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

اس حادثہ کی جڑ یہ ہے کہ ہماری موجودہ فقہ خلافت عباسیہ کے زمانہ میں مدون ہوئی۔ زمانہ ہے جب کہ اہل اسلام کو عالمی دبدبہ حاصل تھا، ان کو دنیا میں سب سے بڑی سیاسی طاقت کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اس صورت حال کو ایک شاعر نے اپنے ان الفاظ میں نظم کیا ہے: ہمیں چھائے ہوئے شرق سے تاغرب دنیا میں نہ تھا پلہ کسی ملت کا دنیا میں گراں ہم سے موجودہ فقہ اسی حاکمانہ دور میں مدون ہوئی، اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اپنے دور کا مزاج ان کے اندر داخل ہو گیا۔ یہ مدون فقہ ایک قسم کی حاکمانہ فقہ بن گئی۔ نمونہ موجود نہیں میں نے ایک مشہور عالم اور مفکر کی تقریر سنی، یہ تقریر ہندوستان کے ایک شہر میں ہوئی ان کی تقریر کا موضوع ”جدید دور میں اسلام“ تھا۔ تقریر کے آخر میں حاضرین میں سے ایک شخص نے سوال کیا کہ یہ بتائیے کہ ہندوستان جیسے ملک میں ہمارے لئے شریعت میں کیا رہنمائی مذکورہ مسلم رہنما یہ سوال سن کر کچھ دیر خاموش رہے، اس کے بعد کہا کہ اس سوال کا جواب بہت مشکل ہے۔ کیوں کہ اسلامی شریعت میں طاقتور حالت (position of strength) کا ماڈل تو موجود ہے، مگر اسلام میں متواضع حالت (position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔ میں عرصہ تک یہ سوچتا رہا کہ مذکورہ مسلم رہنما کو اسلامی شریعت میں متواضع حالت کا ماڈل کیوں نہیں ملا۔ آخر کار یہ سمجھ میں آیا کہ مذکورہ مسلم رہنما (دورِ جدید کے دوسرے مسلم

رہنماؤں کی طرح) شریعت اسلام کے نام سے صرف مدوّن فقہ کو جانتے تھے، یعنی وہ فقہ جو اس وقت تیار ہوئی جب کہ اہل اسلام ہر اعتبار سے طاقت اور اقتدار کی حالت میں تھے۔ اس بنا پر اس زمانہ میں بننے والی اسلامی فقہ شعوری یا غیر شعوری طور پر، گویا طاقتوروں کی فقہ ہو گئی۔ اور اقتدار کی حالت کی نمائندگی کر رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جب مسلم رہنماؤں نے دیکھا کہ اب وہ مطلق اقتدار سے محروم ہو گئے ہیں تو انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی شریعت انہیں ان کی متواضع حالت کے لئے کوئی مثبت رہنمائی نہیں دے رہی ہے۔ اس بنا پر موجودہ زمانہ میں انہیں اس کے سوا کوئی اور کام نظر نہ آیا کہ وہ اقتدار کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے دوسروں سے لڑائی چھیڑ دیں۔

دور اقتدار میں مدوّن ہونے والی فقہ میں بلاشبہ یہ رہنمائی موجود نہ تھی مگر دور اول میں جو قرآن اترا وہ بلاشبہ ابدی تعلیمات پر مشتمل تھا۔ اس میں ہر حالت کے لئے رہنمائی موجود تھی، حتی کہ اُس حالت کے لئے بھی جس کو مذکورہ مسلم رہنما نے متواضع حالت سے تعبیر کیا کیوں کہ اللہ تعالی کو پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ مسلمان ہمیشہ یکساں حالت پر نہیں رہیں ان کو کبھی ایک حالت سے سابقہ پیش آئے گا اور کبھی دوسری حالت سے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو دوسروں کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان لانے والوں کو جان لے اور تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا (آل عمران ۱۴۰)

پیغمبر اسلام ﷺ پر یہ دونوں حالتیں گزریں۔ آپ کا مکی دور گویا آپ کے لئے متواضع حالت کا دور تھا اور آپ کا مدنی دور گویا آپ کے لئے طاقتور حالت کا دور۔ یہ دونوں حالتیں یکساں طور پر مطلوب حالتیں ہیں، اور دونوں حالتوں کے لئے پیغمبر کی سیرت میں یکساں نمونہ موجود دونوں نمونوں میں سے کوئی نمونہ نہ کمتر نمونہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی برتر نمونہ۔ اللہ تعالی کے یہاں سارا فیصلہ داخلی نیت پر ہوتا ہے نہ کہ خارجی اعتبار سے سیاسی یا غیر سیاسی حالت پر۔

Printed page