شتم رسول کا مسئلہ
Al-Risala, July 2001, pp. 21–24
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے: کام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ پر شتم کرے، خواہ وہ اشارہ ہی کیوں نہ ہو، اس کی لازمی سزا قتل ہے۔ کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یقتل حداً) اس معاملہ میں بہت کم کسی قابل ذکر فقیہہ کا استثناء پایا اس حکم کی تفصیل کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کیجئے: الصارم الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ابن تیمیہ السیف المسلول علی من سب الرسول، تقی الدین ابو الحسن علی السبکی تنبیہ الولاة والحکام علی أحکام شاتم خیر الأنام أو أحد اصحابه الکرام، ابن اس مسئلہ پر جب بھی کوئی شخص کوئی مضمون یا کتاب لکھتا ہے تو وہ ہمیشہ یہی کرتا ہے کہ ان فقہاء کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرتا ہے کہ شتم رسول کی سزا اسلام میں قتل ہے، اور یہ کہ یہ ایک ایسا متفق علیہ مسئلہ ہے جس پر شاید کسی فقیہہ کا کوئی اختلاف نہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شریعت کا مسئلہ یہی ہے کہ شاتم رسول کو لازماً بطور حد قتل کیا جائے تو یہ مسئلہ دورِ اول کے اسلام میں کیوں موجود نہ تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخ بتاتی ہے کہ اُس زمانہ میں بہت سے ایسے افراد موجود تھے جو شتم رسول کا فعل کر رہے تھے، مگر انہیں قتل نہیں کیا گیا۔
اس سلسلہ میں ایک انتہائی واضح مثال مدینہ کے عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ہے۔ کھلا ہوا شاتم رسول تھا ۔ وہ رات دن شتم رسول کے تمام میں مشغول رہتا تھا۔ اس کا شاتم ہونا غیر مشتبہ طور پر ثابت تھا۔ پھر بھی لوگوں کے اصرار کے باوجود، رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم نہیں دیا یہاں تک کہ وہ اپنی طبعی موت مرا۔
اس عدمِ قتل کا سبب کیا تھا؟ علامہ ابن تیمیہ (وفات ۷۲۸ھ) نے اس واقعہ کا ذکر کرتے
ہوئے لکھا ہے کہ وانما ترک النبی صلی علیہ وسلم قتله لما خیف فی قتله من نفور الناس عن الاسلام لما کان ضعیفاً (الصارم المسلول علی شاتم الرسول، ۱۷۹) یعنی رسول اللہ ﷺ صرف اس لیے اس کے قتل سے باز رہے کیوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اس کے قتل سے لوگ اسلام سے برگشتہ ہو جائیں گے ، کیوں کہ (اس وقت) اسلام ضعیف تھا۔ کے زمانہ میں اور عباسی خلافت کے زمانہ میں بننے والی فقہ کے درمیان یہ فرق کیوں۔ جیسا کہ معلوم ہے، فروری ۱۹۸۹ء میں ایران کے آیت اللہ خمینی نے یہ فتویٰ دیا کہ سلمان رشدی نے اپنی کتاب سیٹینٹک ورینز (Satanic Verses) کے ذریعہ پیغمبر اسلام کی توہین اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس کو قتل کر دیں۔ یہ فتویٰ جب چھپا تو غالباً راقم الحروف کے واحد استثناء کو چھوڑ کر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں نے اس فتویٰ کی تائید کی۔ حمایت میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ مگر مسلمانوں کی عالمی تائید کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہوسکا۔ مزید یہ کہ قتل کے اس فتویٰ اور مسلمانوں کی طرف سے اس کی حمایت کے نتیجہ میں اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ اور اس کی تصویر یہ بن گئی کہ اسلام خدا نخواستہ ایک وحشیانہ مذہب ہے۔
موجودہ زمانہ میں آزادی رائے کو انسان کا سب سے بڑا حق سمجھا جاتا ہے۔ یہ گویا ان کا مذہب اس بنا پر پوری جدید دنیا نے اس فتویٰ کو اپنے مذہب (آزادی) پر براہ راست حملہ سمجھا۔ لوگ پوری طاقت کے ساتھ رُشدی کے دفاع پر آگئے۔ اسی کے ساتھ جدید میڈیا نے اس معاملہ کو اتنا پھیلایا کہ اس کی خبر ساری دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس اندیشہ کی بنا پر مدینہ کے عبداللہ بن ابی کے قتل سے پر ہیز کیا، وہ اندیشہ سلمان رشدی کے خلاف قتل کے فتویٰ کے نتیجہ میں ہزار گنا زیادہ بڑے پیمانہ پر اہل اسلام کے لیے پیش آگیا۔ اب ان دو متقابل نظیروں پر غور کیجئے ۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی نظیر بتاتی ہے کہ شتم رسول کے معاملہ میں، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ بڑے پیمانہ پر ہو، یہ دیکھا جائے گا کہ شاتم کو اگر قتل کیا جائے تو
اس کا عملی نتیجہ کیا نکلے گا۔ اگر حالات پر اہل اسلام کا اتنا کنٹرول نہ ہو کہ وہ قتل کے منفی نتائج کو روک سکیں تو اہل اسلام قتل کا اقدام نہیں کریں گے۔ وہ اس معاملہ کو اللہ کے حوالہ کر دیں گے۔ اس کے برعکس فقہاء کی مثال بتاتی ہے کہ جب کوئی شخص شتم کا فعل کرے تو اس کو فوراً قتل کر دیا
اب سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کی نظیر سے اپنے لیے ہدایت نہیں لی۔ ان کی نظر فقہاء کے مسلک پر اٹک کر رہ گئی نہ فقہاء کی پیروی میں متحد ہو کر وہ قتل شاتم کے علم بردار بن گئے۔
اس سوال کا جواب تقلید ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان متفقہ طور پر یہ رائے بنا چکے تھے کہ اب امت کے لیے براہ راست قرآن و سنت سے اجتہاد کا دروازہ بند ہے۔ اب صرف اجتہاد مقید ہی کا دروازہ ان کے لیے کھلا ہوا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اب مسلمان براہ راست قرآن اور سنت سے مسائل اخذ نہیں کر سکتے۔ اب ان کے لیے صرف ایک ہی ممکن صورت ہے، اور وہ یہ کہ وہ فقہاء کے فتووں کو جانیں اور پورے تقلیدی جذبہ کے ساتھ اُس پر قائم ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے رشدی کے معاملہ میں یہی کیا۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، موجودہ فقہ کی تدوین اس وقت ہوئی جب کہ اہل اسلام کو مکمل اقتدار حاصل تھا۔ ان کو حالات پر اتنا زیادہ کنٹرول تھا کہ کسی قوم کی طرف سے اگر باغیانہ روش کا اندیشہ ہو تا تو خلیفہ صرف دھمکی کا ایک خط لکھتا اور باغی گروہ پست ہمت ہو کر خاموش ہو جاتا۔ اسی قسم کے ایک واقعہ پر عربی شاعر نے یہ پر فخر شعر کہا تھا:۔
إذا ما أرسل الأمراء تجيشاً إلى الأعداء أرسلنا الكتابا مگر موجودہ زمانہ میں حالات بدل چکے تھے۔ اب اہل اسلام کو پہلے کی طرح حالات پر کنٹرول حاصل نہ تھا۔ مزید یہ کہ ان کے لیے بہت سے ناموافق حالات پیدا ہو چکے تھے۔ آزادی کا موجودہ زمانہ میں خیر اعلیٰ (summum bonum) کی حیثیت اختیار کر لینا اور اظہار
رائے کی آزادی کو مقدس حق کے طور پر مان لیا جانا۔ اسی طرح جدید میڈیا کا ظہور میں آنا جو گویا گرم خبر(hot-news) کی عالمی ایجنسی ہے، وغیرہ۔
انہی نئے حالات کا یہ نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی عالمی حمایت کے باوجود سلمان رشدی کو قتل کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ مزید یہ ناقابل تلافی نقصان ہوا کہ اسلام ساری دنیا میں بدنام ہو گیا۔ انسان کی نظر میں اسلام کی یہ تصویر بن گئی کہ اسلام خدانخواستہ دہشت گردی کا مذہب ہے، وہ اپنے پیروؤں کو مذ ہبی جنون(fanaticism) کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ نتیجہ تھا بدلے ہوئے زمانہ میں حاکمانہ دور کی فقہ کو نافذ کرنے کا۔
سلمان رشدی کے معاملہ میں موجودہ زمانہ کے مسلمان اگر اجتہاد مطلق کا طریقہ اختیار کرتے تو وہ اس معاملہ میں براہ راست قرآن وسنت سے روشنی حاصل کرتے اور پھر انہیں معلوم ہو جاتا کہ اس مسئلہ کا حل قتل کا فتویٰ نہیں ہے بلکہ ردِ عمل سے بچتے ہوئے پرامن دائرہ میں اپنی دعوتی کو شش کرنا ہے۔ مگر چونکہ وہ اپنے مقلد انہ ذہن کی بنا پر دور اقتدار میں بننے والی فقہ کے اندر اٹکے ہوئے تھے اس لیے ان کو وہی حاکمانہ مسئلہ نظر آیا جو فقہ کی ان کتابوں میں لکھا ہوا تھا، یعنی: الشاتم