امن کی طاقت
Al-Risala, July 2001, pp. 24–26
By Maulana Wahiduddin Khan
جدید صنعتی انقلاب کے بعد جب نو آبادیاتی دور آیا اور مغربی قو میں تمام دنیا میں سیاسی اور تہذیبی اعتبار سے غالب آ گئیں تو یہ مسلمانوں کے لیے ایک نیا مسئلہ تھا۔ ساری مسلم دنیا میں کثرت سے مسلم لیڈر پیدا ہوئے۔ ان تمام لیڈروں کا مشترک ذہن یہ تھا کہ: الجهاد هو الحل الوحيد (جہاد ہی واحد حل ہے)۔ مگر تقریبا دو سو سال کی غیر معمولی جد و جہد اور قربانی کے باوجود اس مسلح جہاد کا کوئی مثبت فائدہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔
اس مسئلہ پر اگر قرآن و حدیث کی روشنی میں غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا حل پر امن دعوت ہے۔ قرآن میں اسی طرح کی صورت حال میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا تھا
کہ تم اللہ کی دی ہوئی تعلیمات کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ یہ عمل تمہارے لیے حفاظت کا ضامن (المائدہ ۶۷) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حکمت کے ساتھ دعوت و تبلیغ کا کام کرو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جو تمہارا دشمن ہے وہ تمہارا دوست بن جائے گا۔ (حم السجدہ ۳۴) یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قرآن اپنی خاموش زبان میں پکار کر یہ کہہ رہا تھا کہ : الدعوة هی الحل الوحيد (دعوت ہی واحد حل ہے)۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ دورِ جدید کے مسلمان قرآن کے اس واضح بیان میں ہدایت نہ پا سکے۔ وہ دعوت کے بجائے جہاد بمعنی قتال) کے میدان میں سرگرم ہو گئے۔ جب کہ حالات کے اعتبار سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ اس قسم کے متشددانہ اقدام کا نتیجہ مزید تباہی کے سوا کچھ اور نکلنے والا نہیں۔
پھر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں سے یہ بھیانک غلطی کیوں ہوئی کہ انہوں نے الجہاد ہو الحل الوحید کا غیر قرآنی نظریہ قائم کر لیا۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اجتہاد مطلق یعنی قرآن وسنت سے براہِ راست اخذاحکام کواپنے لئے امر ممنوع قرار دے چکے تھے۔ وہ اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر صرف یہ جانتے تھے کہ موجودہ مدون فقہ سے اپنے لیے احکام حاصل کرتے رہیں۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ فقہ کی یہ کتابیں جہاد و قتال کے احکام سے بھری ہوئی تھیں، ہر فقہی کتاب میں اس کے احکام موجود تھے۔ دوسری طرف فقہ کی ان کتابوں کا حال یہ تھا کہ وہ دعوتِ الی اللہ کے مسائل و احکام سے یکسر خالی تھیں۔ ان میں کتاب الجہاد تو تفصیلی طور پر موجود تھا مگر کتاب الدعوة یا کتاب التبلیغ سرے سے وہاں موجود ہی نہ تھا۔ دعوت کا حکم وہ قرآن میں پاسکتے تھے مگر قرآن کو انہوں نے ماخذ احکام کی حیثیت سے چھوڑ رکھا تھا۔ وہ اخذِ احکام کا ذریعہ صرف فقہ کو سمجھتے تھے، اور کتب فقہ کے صفحات دعوتی رہنمائی سے بالکل خالی تھے۔ اس نئے اندازہ ہو تا ہے کہ اجتہاد، بالفاظ دیگر، قرآن وسنت سے براہِ راست احکام اخذ کرنا کتنا زیادہ مفید ہے اور تقلید، بالفاظ دیگر، مدون فقہ کو احکام اخذ کرنے کا واحد ذریعہ سمجھ لینا، کتنا زیادہ نقصان دہ ہے۔
یہی غلطی بر صغیر ہند کے مسلم رہنماؤں سے اس وقت ہوئی جب کہ انگریزوں کے غلبہ کے بعد انہوں نے ہندوستان کے دار الحرب ہونے کا اعلان کیا۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی نے ۱۸۲۳ میں یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پانچ سو علماء نے اپنے مشترک دستخطوں سے یہ فتویٰ جاری کیا کہ مسلمانان پر جہاد فرض ہو چکا ہے۔ مسلمانوں ہند کو چاہئے کہ وہ انگریزوں کے خلاف جہاد (قتال) کا آغاز کردیں۔
مسلم رہنماؤں کے ان فتووں اور اپیلوں کے بعد ہندوستان کے مسلمان ایک مذہبی فریضہ سمجھ کر انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد میں مشغول ہوگئے۔ سوسالہ جنگ کے باوجود یہ جہاد عملاً سراسر بے نتیجہ ثابت ہوا۔ مگر عجیب بات ہے کہ آج بھی یہ مسلمان اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان یہی سمجھتے ہیں کہ ہندوستان دارالحرب ہے اور انہیں جہاد کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کرنا چاہئے۔
یہ عجیب و غریب صورت حال کیوں ہے، اس کا سبب یقینی طور پر یہی ہے کہ اجتہاد اور تقلید کے بارے میں اپنے مذکورہ مقلدانہ مسلک کی بنیاد پر ان کا ذہن بعد کو مدون ہونے والی فقہ میں اٹکا ہوا ہے۔ اور اس فقہ میں ملکوں کی جو تعریف و تقسیم کی گئی ہے، اس کے مطابق، ہندوستان جیسا ملک دارالحرب ہی قرار پاتا ہے۔
یہ مسلم رہنما اگر فقہ اور فقہاء کے درمیانی دور سے پیچھے جاتے اور قرآن وسنت کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کہ ہندوستان کی شرعی حیثیت کیا ہے تو یقینی طور پر وہ جان لیتے کہ موجودہ ہندوستان ان کے لیے دار الدعوۃ کی حیثیت رکھتا ہے، جیسا کہ دور اول میں اس قسم کے تمام علاقے اہل اسلام کے لیے دار الدعوۃ کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر اجتہاد (براہ راست قرآن و سنت سے مسئلہ اخذ کرنا) ان کے لیے امر ممنوع بنا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے مقلدانہ ذہن کی بناپر صرف مدون فقہ پر انحصار کیا۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ مدون فقہ میں صرف دارالحرب کا باب ہے، اس میں دار الدعوۃ کا تصور سرے سے موجود ہی نہیں۔