Al-Risala · July 2001

جدید امکانات کا استعمال

Al-Risala, July 2001, pp. 29–33

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے مسلمان عجیب و غریب طور پر ایک استثنائی محرومی سے دوچار ہوئے اس محرومی میں شاید کوئی بھی دوسری قوم یا دوسرا گروہ ان کا شریک نہیں۔ وہ ہے دورِ جدید کے عظیم امکانات کو استعمال کرے میں ناکام رہنا۔

موجودہ زمانہ میں جن امکانات (opportunities) کا دروازہ انسان کے لئے کھلا، ان میں سے ایک نہایت قیمتی امکان وہ تھا جس کو آزادی (freedom) کہا جاتا ہے۔ فرانس کے انقلابی مفکر روسونے اپنی کتاب معاہدہ عمرانی (Social Contract) کا آغاز اس جملہ سے کیا تھا: انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پاتا ہوں۔ یہ قول دورِ جدید کا کلمہ بن گیا۔ تصور اتنا بڑھا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمہ طور پر یہ مان لیا گیا کہ آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔ ہر انسان کا یہ ناقابلِ تنسیخ حق ہے کہ وہ جس چیز کو درست سمجھتا ہے اس کو اختیار کرنے اور اس کے مطابق عمل کرے۔ اس مطلق آزادی کو مقید کرنے والی صرف ایک چیز تھی، وہ یہ کہ آدمی اپنی آزادی کے استعمال میں جارح نہ بنے، وہ تشدد کے بجائے پرامن ذرائع سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرے اس کی وضاحت کے لئے دو متعلق قصے کا ذکر مفید ہو گا جو اس معاملہ کو بخوبی طور پر واضح کرتا ہے۔

۳۰۰ سال پہلے جب امریکہ انگریزوں کے سیاسی غلبہ سے آزاد ہوا تو ایک امریکی شہری خوشی منانے کے لئے ایک سڑک پر نکلا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو زور زور سے ہلاتا ہوا جا رہا تھا۔ اس دوران اس کا ایک ہاتھ ایک راہ گیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہ گیر نے غصہ ہو کر کہا کہ یہ کیا نامعقول حرکت ہے (What is this nonsense)۔ امریکی شہری نے جواب دیا کہ اب امریکہ آزاد ہے، اب میں جو چاہوں کروں۔ راہ گیر نے نرمی کے ساتھ جواب دیا کہ بیشک تم آزاد ہو مگر تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے۔ Your freedom ends where my nose begins.

یہ قصہ آزادی کے جدید تصور کو نہایت خوبی کے ساتھ واضح کر رہا ہے۔ جدید دور انسان کو مکمل آزادی دیتا ہے، اس واحد شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے ساتھ تشدد نہ کرے۔ مہاتما گاندھی جو اپنی مغربی تعلیم کے دوران اس حقیقت کو جان چکے تھے۔ انہوں نے اس کو ہندوستان تحریک آزادی میں استعمال کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے ۱۸۵۷ء میں ہندوستان کے مسلم رہنماؤں نے انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے یہ تحریک پر تشدد طریق کار کے اصول پر چلائی۔ ۶۰ سال سے زیادہ لمبی مدت تک خونیں جنگ کرنے کے باوجود یہ تحریک ناکام رہی۔ اس کے بعد ۱۹۱۹ء میں مہاتما گاندھی نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی۔ نے طریق کار کو بدل کر آزادی کی اس تحریک کو پر امن جدوجہد کے اصول پر چلایا۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان آزاد ہو گیا۔

اس فرق کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مسلم رہنما اپنے مقلدانہ فقہی ذہن کی بنا پر طریق کار کے نام سے صرف ایک ہی طریقہ کو جانتے تھے اور وہ مسلح جہاد ہے۔ مدون فقہ کی تمام کتابیں پر امن جدوجہد (peaceful struggle) کے تصور سے خالی ہیں۔ یہ کتابیں صرف ایک ہی طریقہ کا تعارف کراتی ہیں اور وہ پر تشدد جدوجہد ہے۔ کیوں کہ یہ کتابیں اس دور میں لکھی گئیں جب کہ انسان طاقت کے نام سے صرف تلوار کو جانتا تھا۔ عربی کا ایک قدیم مقولہ ہے : جنگ کو جنگ کاٹتی ہے (الحرب انفی للحرب)۔ ایک فارسی شاعر نے اس قدیم تصور کی ترجمانی ان الفاظ میں کی ہے۔ جو شخص تلوار مارتا ہے اسی کے نام کا سکہ چلتا ہے : ہر کہ شمشیر زند سکہ بنامش خوانند یہ عسکری طرز فکر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اس طرح سرایت کئے ہوئے ہے کہ شاید کوئی بھی مسلمان اس سے خالی نہیں۔ مختلف شکلوں میں ہر جگہ اس کو دہرایا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ایک فلسطینی ترانہ کا ایک شعر یہ ہے کہ آؤ، ہم لڑیں، آؤ، ہم لڑیں ۔ کیوں کہ لڑائی ہی کی کامیابی کا راستہ ہے : هلم نقاتل هلم نقاتل فان القتال سبيل الرشاد

قدیم فقہ پر مبنی یہ ذہنی ڈھانچہ (mental framework) اتنا زیادہ عام ہوا کہ نام نہاد جدید مفکرین بھی اس کے خول سے باہر نہ آسکے۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی، سید قطب، ڈاکٹر اقبال، سید ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر موجودہ زمانہ میں ہمارے رہنماؤں کی تمام قربانیاں رائیگاں ہو کر رہ گئیں ۔

موجودہ زمانہ میں مسلح طریقہ کار کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار کس طرح زیادہ نتیجہ خیز ہے اس کا اندازہ مہاتما گاندھی کی ایک مثال سے ہوتا ہے۔ وہ ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں 1919 میں شریک ہوئے۔ اس وقت تک ہندوستان کی تحریکِ آزادی تشدد کے اصول پر چلائی جا رہی برٹش حکومت اس تشدد کو جوابی تشدد سے کچل دیتی تھی۔ مہاتما گاندھی نے اچانک یہ اعلان کیا کہ ہم تشدد کے بجائے عدم تشدد کے اصول پر اپنی تحریک چلائیں گے۔ طریقہ کار کی اس تبدیلی نے برٹش حکومت کو بے بس کر دیا۔ کیوں کہ غیر متشددانہ تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے اس کے پاس کوئی جواز باقی نہ رہا تھا۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ جب مہاتما گاندھی نے تحریکِ آزادی کے لیڈر کی حیثیت سے نیا اعلان کیا تو ایک انگریز کلکٹر نے اپنے سیکریٹریٹ کو یہ ٹیلی گرام بھیجا براہ کرم یہ بتائیں کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کیسے ہلاک کیا جائے : Kindly wire instructions how to kill a tiger non-violently. خلاف زمانہ روش موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ فکر کی بنا پر ایک قسم کی خلاف زمانہ روش (anachronistic attitude) میں مبتلا ہو گئے۔ جن قدیم شخصیتوں کے وہ ذہنی مقلد بنے ہوئے تھے ان کے یہاں پر امن طریقہ کار یا پر امن جدوجہد کا تصور سرے سے موجود ہی نہ یہ تصور قرآن وسنت میں واضح طور پر موجود تھا مگر براہِ راست قرآن وسنت سے حکم اخذ کرنے کے لئے اجتہاد درکار تھا اور انہوں نے پہلے ہی اجتہاد کا دروازہ اس طرح بند کر دیا تھا کہ ایک صاحب کے بقول اب اس کی کنجی بھی گم ہو گئی تھی۔

قرآن میں فطرت کا ایک ابدی قانون ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: ’’الصلح خیر‘‘ (النساء ۱۲۸)۔ یعنی ٹکراؤ کے طریقہ کے مقابلہ میں مصالحانہ طریقہ زیادہ بہتر ہے۔ یہ واضح طور پر تشدد کے مقابلہ میں عدم تشدد کی اہمیت کی تعلیم ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم، کتاب البر) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ متشددانہ طریقہ کار کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار زیادہ نتیجہ خیز ہے۔

پر امن طریقہ کار (peaceful method) کے حق میں قرآن و سنت میں اس قسم کی واضح تعلیمات موجود تھیں۔ مگر دور جدید کے مسلم رہنما اور دانشور اپنے مقلدانہ ذہن کی بنا پر ان کو دریافت نہ کر سکے، وہ تشدد کی چٹان سے بے فائدہ طور پر اپنا سر ٹکراتے رہے اور بطور خود یہ سمجھتے رہے کہ وہ قربانی اور شہادت کی مثالیں قائم کر رہے ہیں۔

اس مقلدانہ ذہن نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو بے شمار نقصانات پہنچائے اور فائدہ کچھ بھی نہیں دیا۔ مثال کے طور پر فلسطین کے عربوں کو اگر یہ راز معلوم ہوتا تو وہ 1948 کے بعد اپنی تباہ کن مسلح جد و جہد نہ چھیڑتے بلکہ وہ پر امن طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے جدید امکانات سے فائدہ اٹھاتے۔ اس کے بعد فلسطین میں ان کو مزید اضافہ کے ساتھ وہی پر عظمت حیثیت حاصل ہو جاتی جو اسی اصول کو استعمال کر کے یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح کشمیر کے مسلمان اگر اس قیمتی راز سے واقف ہوتے تو وہ کشمیر میں گن کلچر اور بم کلچر نہ چلاتے بلکہ اس کے بجائے وہ پیس کلچر چلاتے۔ وہ امن کے دائرے میں رہتے ہوئے جدید امکانات کو استعمال کرتے۔ اس کے بعد وہ نہ صرف کشمیر میں بلکہ پورے ہندوستان میں ایسی با عظمت حیثیت حاصل کر لیتے جو نام نہاد آزاد کشمیر کے مقابلہ میں ان کے حق میں ۱۰۰ گنا زیادہ اسی طرح موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما جو مختلف مسلم ملکوں میں ’’لڑ کر اقتدار کی کنجی‘‘ چھیننے میں مشغول ہیں، اور اپنے ملکوں کو صرف تباہی میں اضافہ کا تحفہ دے رہے ہیں، وہ اگر پر امن

طریق کار کی اہمیت کو جانتے تو وہ اپنے ملکوں کو اب تک اسلامی چمنستان بنا چکے ہوتے۔ سیکولرزم کا عقیدہ رکھنے والوں نے اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے مختلف ملکوں میں انجام دیا ہے، مثال کے طور پر سنگاپور، وغیرہ۔

Printed page