تقلیدی نظر اور اجتہادی نظر کا فرق
Al-Risala, July 2001, pp. 33–35
By Maulana Wahiduddin Khan
مولاناسید حسین احمد مدنی (وفات ۱۹۵۷ء) نے لکھا ہے کہ___”تاریخ بتاتی ہے کہ ہند میں جب مسلمان آئے تو عام طور سے اہل ہند بودھ مذہب رکھتے تھے اور چھوت چھات تو در کنار بیاہ شادی تک بخوشی کرتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اختلاط نے نہایت قوی تاثیر کی، خاندان کے خاندان مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد جب محمود غزنوی کا زمانہ آیا ہے تو ہندوؤں میں مختلف احوال کی وجہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ اور شنکر اچاریہ لوگوں کو بدھ مذہب سے نکال کر برہمنی مذہب کو اختیار کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور پھر برہمنی مذہب سارے ملک میں پھیل برہمن چونکہ دیکھ رہنے تھے کہ اسلام کا سیلاب اختلاط کی بنا پر ان کے مذہب کو مٹا رہا اس لئے انہوں نے عوام میں نفرت کا پروپیگنڈہ پھیلایا اور مسلمانوں کو ملچھ کاخطاب دیا۔ نے اس تفریقی خیال اور اس عقیدہ کو جڑ سے اکھاڑنا چاہا۔ اگر اکبر کی جاری کردہ پالیسی جاری رہے پاتی تو ضرور بالضرور برہمنوں کی یہ چال مدفون ہو جاتی۔ اور اسلام کے دلدادہ آج ہندوستان میں اکثریت میں ہوتے۔ اکبر نے عام ہندو ذہنیت اور منافرت کی جڑوں کو کھو کھلا کر دیا تھا۔ (اپنی کم علمی کے باعث) نفس دین اسلام میں بھی کچھ غلطیاں کیں، جن سے مسلم طبقہ میں اس سے بد ظنی ہوئی، اگر چہ بہت سے بد ظنی کرنے والے غافل اور کم سمجھ تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے، صلح حدیبیہ ہی فتح مکہ اور فتح عرب کا پیش خیمہ ہے۔ جس روز صلح حدیبیہ تمام کو پہنچی ہے اسی روز انا فتحنا لك فتحاً مبینا کی آیت نازل ہوئی کہ آپس میں اختلاط کا ہونا، نفرت میں کمی آنا، مسلمانوں کے اخلاق اور ان کی تعلیمات کا معاینہ کرنا، دلوں سے ہٹ اور ضد کا اٹھ جانا، یہی امور تھے جنہوں نے قریش کو کھینچ کھینچ کر صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان بناتے ہوئے مکہ سے مدینہ پہنچا۔
الغرض اختلاط باعث عدم تنا فر ہے اور وہ اقوام کو اسلام کی طرف لانے والا ہے اور تنافر باعث ضد اور عدم اطلاع علی المحاسن ہے۔ اور وہ اسلامی ترقی میں سدراہ ہونے والا ہے۔ اسلام تبلیغی مذہب ہے۔ اس لئے اس کا فریضہ ہے کہ جس قدر ہو سکے غیر کو اپنے میں شامل کرے نہ یہ کہ ان کو دور کرے۔ اس لئے اگر ہمسایہ قومیں ہم سے نفرت کریں تو ہم کو ان کے ساتھ نفرت نہ کرنا چاہئے۔ اگر وہ ہم کو نجس اور ملچھ کہیں تو ہم کو انہیں یہ نہ کہنا چاہئے۔ اگر وہ ہم سے چھوت چھات کریں تو ہم کو ان سے ایسا نہ کرنا چاہئے۔ وہ ہم سے ظالمانہ برتاؤ کریں تو ہم کو ان کے ساتھ ظالمانہ اور غیر منصفانہ برتاؤ نہ کرنا چاہئے۔ “ (مکتوبات شیخ الاسلام، حصہ اول، مکتوب نمبر ۶۳، مطبوعہ مکتبہ دینیہ، دیوبند، صفحہ ۱۴۱- ۱۴۲)
مولاناسید حسین احمد مدنی کے اس بیان پر غور کیجئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقلدانہ نظر کس طرح چیزوں کو صرف ان کے ظاہر (face value) پر لیتی ہے، اور مجتہدانہ نظر کس طرح چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ جاتی ہے۔ مغل بادشاہ اکبر اگرچہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھا مگر وہ بے حد اس نے اس راز کو سمجھا کہ اسلام اپنی فطری کشش کی بنا پر ہر انسان کو اپیل کرتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان ضد اور نفرت کی فضا نہ پائی جارہی ہو۔ اس نے مزید اس حقیقت کو سمجھا کہ برہمنوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوری پیدا کر کے اسلام کی اشاعت کو مصنوعی طور پر روک دیا ہے۔ اس دریافت کی بنا پر اکبر نے یہ کیا کہ اس نے کچھ بے ضرر ہندو رسموں کو اپنے دربار میں رائج کر دیا۔ اکبر کی یہ روش ہندو مذہب کو اپنانے کے لئے نہ تھی بلکہ وہ صرف تالیف قلب کے لئے تھی۔ اس کا اصل مقصد اسلام کی اشاعت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔
لیکن اکبر کے کچھ معاصر علماء اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ ان کی نگاہ صرف اکبر کے گیروے کپڑے کو دیکھ سکی۔ اکبر نے جس گہری پالیسی کے تحت وقتی طور پر گیروے کپڑے کو اختیار کیا تھا اس حکمت کو سمجھنے سے وہ قاصر رہے۔ انہوں نے اکبر کے خلاف اتنا طوفان اٹھایا کہ اکبر کا منصوبہ
اپنی تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ اس معاملہ کو غلط رنگ دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی تاریخ کا سفر اسلام کی موافقت میں جاری ہونے کے بجائے اسلام کے خلاف جاری ہو گیا۔ سید حسین احمد مدنی نے اس معاملہ پر جو تبصرہ کیا ہے وہ مجتہدانہ نظر کی ایک واضح مثال ہے۔ مجتہدانہ بصیرت کی بنا پر اس راز کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ معتدل حالات میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان اختلاط ہمیشہ اسلام کی اشاعت کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ چھری اور خربوزہ کے درمیان اگر ٹکراؤ ہو تو جیت ہمیشہ چھری کی ہو گی۔ خواہ چھری کو خربوزہ کے اوپر رکھا گیا ہو یا خربوزہ کے نیچے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ چھری نے بظاہر اپنے آپ کو خربوزہ کے رنگ میں رنگ لیا ہو۔