Al-Risala · July 2001

تنقید اور اجتہاد

Al-Risala, July 2001, pp. 35–38

By Maulana Wahiduddin Khan

تنقید اور تقلید دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جہاں تقلید ہو گی وہاں تنقید نہیں ہو گی۔ اور جہاں تنقید ہو گی وہاں تقلید نہیں ہو گی۔ اجتہاد کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ طور پر تنقید چاہتا ہے۔ جہاں تنقید کا ماحول نہ ہو وہاں کبھی اجتہاد کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔ تاہم تنقید کو تنقید ہونا چاہئے نہ کہ تنقیص۔ تنقید علمی اور منطقی تجزیہ کا نام ہے۔ برعکس تنقیص کا سارا انحصار عیب جوئی اور الزام تراشی پر ہوتا ہے۔ تنقید اگر تنقیص کی صورت اختیار کر لے تو وہ سب وشتم ہو گا نہ کہ حقیقی معنوں میں تنقید۔

مثال کے طور پر صلیبی جنگوں کے بعد مسیحی پادریوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کتابیں انہوں نے عربوں کی تصویر یہ بنائی کہ وہ ایک وحشی قوم ہیں۔ اس کا ایک ثبوت ان کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ دوسرے اسلامی خلیفہ عمر فاروق نے جب مصر فتح کیا تو اس وقت وہاں کے شہر اسکندریہ میں ایک بڑا کتب خانہ تھا۔ خلیفہ اسلام کے حکم سے یہ پورا کتب خانہ جلا دیا گیا۔ تمام قیمتی کتابیں تباہ ہو گئیں۔

اس معاملہ میں مسیحی پادریوں کے جواب کی ایک صورت یہ تھی کہ یہ کہا جائے کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں۔ وہ صلیبی جنگوں میں شکست کا بدلہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے سازش کے تحت کتب خانہ جلانے کی یہ کہانی بنائی ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی باتیں تنقید نہیں بلکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ صرف سب وشتم ہیں۔ اس طرح کی باتیں مسیحی پادریوں کے الزام کا علمی جواب نہیں۔ مگر بعد کو بعض اہل علم نے اس معاملہ کی تحقیق کی اور خالص تاریخی شواہد کے ذریعہ یہ ثابت کیا کہ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے کہ حضرت عمر فاروق کے حکم سے اسکندریہ کا کتب خانہ اصل یہ ہے کہ اسلامی فتح کے وقت یہ کتب خانہ سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ بتاتے ہیں کہ عربوں نے ۶۴۲ھ میں مصر کو فتح کیا۔

جب کہ اس سے بہت پہلے ۴۸ء میں رومی حاکم جولیس سیزر کے حکم سے اسکندریہ کے اس کتب خانہ کو تباہ کیا جا چکا تھا۔ جواب کا یہ دوسرا طریقہ علمی تنقید کی مثال ہے۔ لئے دیکھیے فلپ کے ہٹی کی کتاب ’ہسٹری آف دی عربس‘، صفحہ ۱۶۶)

تنقید کوئی برائی نہیں، تنقید ذہنی ترقی(intellectual development) کا ذریعہ تنقیدی ماحول کے بغیر ذہنی ترقی کا عمل جاری نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہمارے لئے جو انتخاب (choice) ہے وہ تنقید اور بے تنقید میں نہیں ہے بلکہ تنقید اور ذہنی جمود میں ہے۔ تنقید کو ختم کرنے کے بعد جو چیز ہمارے حصہ میں آئے گی وہ ذہنی ارتقاء کا خاتمہ ہوگا نہ کہ سادہ طور پر صرف تنقید کا خاتمہ۔

اجتہاد کا عمل بحث و مباحثہ (discussion) کے درمیان جاری ہوتا ہے۔ معلوم سے نامعلوم تک پہنچنے کا دوسرا نام ہے۔ کچھ باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ ہوتے ہیں جن کا جواب ہمیں درکار ہوتا ہے۔ اب اگر کھلے اظہار خیال کا ماحول ہو تو ہر شخص آزادانہ طور پر اپنی رائے کو بیان کرے گا۔ اب افکار کا ٹکراؤ وجود میں آئے گا۔ اس طرح آزادانہ فکری تبادلہ کے دوران معاملہ کے نئے پہلو سامنے آئیں گے۔ اس کے بعد تنقیح کا عمل شروع

یہاں تک کہ وہ تحقیقی رائے سامنے آجائے گی جو ہماری فکری تلاش کا اصل مقصود تھی۔ فکری عمل کا نام اجتہاد ہے۔

نظری اور عملی دونوں پہلوؤں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اجتہاد زندگی کی ایک ناگزیر اجتہاد کسی گروہ کے لئے ترقی کا ضامن ہے۔ جس گروہ میں اجتہاد کا عمل رک جائے اس کے درمیان ترقی کا عمل بھی رک جائے گا۔ مگر اجتہاد کے عمل کو درست طور پر جاری ہونے کے لئے تنقید لازمی طور پر ضروری ہے۔ اجتہاد کا فائدہ انہیں لوگوں کو مل سکتا ہے جو تنقید کو گوارا جن لوگوں کے اندر یہ مزاج نہ ہو کہ وہ تنقید کو کھلے طور پر سنیں اور کھلے دل کے ساتھ اس کو قبول کر لیں ان کے حصہ میں کبھی وہ فکری خوش قسمتی نہیں آئے گی جس کو مجتہدانہ رائے قائم کرنا کہا جاتا ہے۔ اس معاملہ کی وضاحت کے لئے یہاں دو متقابل مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ میدان بدر کا انتخاب پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانہ میں ۲ھ میں غزوہ بدر پیش آیا۔ اس وقت آپ مدینہ میں تھے۔ آپ کو خبر ملی کہ قریش کا ایک لشکر مدینہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آپ نے اس کے مقابلہ کے لئے ایک فوج تیار کی اور اس کو لے کر اس رخ پر روانہ ہوئے جدھر سے قریش کا لشکر آرہا تھا۔ پہلے ایک مقام پر آپ نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑاؤ ڈالا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر دشمن آگے بڑھتا ہے تو اسی مقام پر اس سے مقابلہ کیا جائے گا۔ اس وقت ایک صحابی خباب بن منذر اٹھے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر کہا کہ اے اللہ کے رسول، یہ جگہ جہاں آپ ٹھہرے ہیں یہ اللہ کے حکم سے ہے یا یہ ایک رائے ہے اور جنگی تدبیر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، یہ ایک رائے ہے اور جنگی تدبیر ہے۔ یہ سن کر صحابی نے کہا: فان هذا ليس بمنزل۔ یعنی پھر یہ تو کوئی پڑاؤ ڈالنے کی جگہ نہیں (سیرت ابن ہشام، الجزء الثانی، صفحه ۲۵۹)۔

یہ واضح طور پر ایک اعتراض کا معاملہ تھا۔ مگر آپ نے اس اعتراض کو برا نہیں مانا بلکہ صحابی سے صرف یہ کہا کہ تمہاری یہ مخالف رائے کیوں ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی رائے کی

انہوں نے کہا کہ ہمارے اور دشمن کے درمیان کئی پانی کے کنویں ہیں۔ اگر ہم یہاں ٹھہریں اور دشمن کو آگے بڑھنے کا موقع دیں تو سارے کنویں دشمن کے قبضہ میں آجائیں گے ۔ اس لئے ہمیں یہ کرنا چاہئے کہ ہم یہاں سے چل کر آگے کے مقام پر ٹھہریں اور ان سارے کنووں پر اپنا قبضہ کرلیں۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ ہم پانی پئیں گے اور وہ لوگ پانی نہ پی سکیں گے (فنشرپ ولا يشربون) رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر کہا کہ تم نے بہت اچھی رائے دی (لقد اشرت بالرانی)

یہ پوری گفتگو انتہائی معتدل ماحول میں ہوئی۔ آخر کار رسول اللہ ﷺ نے رائے دینے والے کی رائے کوپسند ید گی کے ساتھ قبول فرمایا اور اس کے مطابق عمل کیا۔ اس کے بعد جو نتیجہ ہوا وہ یہ تھا کہ اہل اسلام کو اس مقابلہ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی معاملہ میں صحیح رائے تک پہنچنے کے لئے آزادانہ اظہار خیال کا ماحول کتنا زیادہ ضروری ہے، اختلافی رایوں سے کس طرح معاملہ کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں جو صحیح رائے تک پہنچنے کے لئے بے حد مددگار ہیں۔ اس معاملہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اختلاف رائے اگر بالفرض جارحانہ انداز میں ہو تب بھی اس کو خوش دلی کے ساتھ گوارا

Printed page