تنقید نہ سننے کا نقصان
Al-Risala, July 2001, pp. 38–42
By Maulana Wahiduddin Khan
سید احمد شہید بریلوی نے ۱۸۳۱ء میں مسلمانوں کی ایک فوج کے ساتھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کیا۔ یہ واقعہ بالا کوٹ (پنجاب) میں پیش آیا۔ اس جنگ میں سید احمد شہید بریلوی اور ان کے اکثر ساتھی رنجیت سنگھ کی فوجوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ یہ پر جوش جہاد عملی اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوا۔
سید احمد شہید بریلوی کی فوج میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جوان سے بیعت کئے ہوئے تھے۔ انہی میں سے ایک مولانا میر محبوب علی الدہلوی (وفات ۱۲۸۰ھ) تھے۔ وہ اپنے وقت کے ایک
مشہور عالم تھے۔ وہ سید احمد شہید بریلوی کی فوج میں شریک ہو کر روانہ ہوئے۔ چار سدہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا گیا۔ یہاں پہنچ کر مولانا میر محبوب علی صاحب کو سید صاحب سے اختلاف ہو گیا۔ مولانا میر محبوب علی صاحب نے اپنی اس اختلاف کی روداداپنی عربی کتاب ”تاریخ الأئمة فی خلفاء الامۃ‘‘ میں درج کی ہے۔ یہ کتاب دہلی میں جامعہ ہمدرد ( تغلق آباد) کے کتب خانہ میں
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میر محبوب علی صاحب نے چار سدہ کے مقام پر سید احمد شہید بریلوی سے خلوت میں ملاقات کی۔ انہوں نے سید صاحب سے پوچھا کہ آپ نے سکھوں کے خلاف جہاد کا یہ اقدام کس بنیاد پر کیا ہے۔ سید صاحب نے بتایا کہ کشف اور خواب کی بنیاد پر۔ میر محبوب علی صاحب نے کہا کہ جہاد کا فیصلہ کشف اور خواب کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ میں ہے کہ ”وامرهم شوری بینهم“ (الشوریٰ ۳۸)۔ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ جہاد کا فیصلہ مشورہ کے ذریعہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو بھی مشورہ کرنا چاہئے اور اقدام سے پہلے اس معاملہ کی پوری تحقیق کرنا چاہئے۔
مگر سید احمد شہید بریلوی نے میر محبوب علی صاحب کی اس بات کو نہیں مانا۔ کہا کہ تم اپنی اس تنقید سے میرے کام میں خلل ڈال رہے ہو، تمہاری اطاعت خاموشی کے ساتھ سننے کی ہونی چاہئے، ایسی خاموشی جیسی اس سامنے والے پہاڑ کی ہے۔ سید صاحب سے میر محبوب علی صاحب کی یہ گفتگو نا کام رہی چنانچہ وہ واپس ہو کر دہلی آگئے۔ سید صاحب نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: من ذهب من عندی الى وطنه مراجعا فقد ذهب ايمانه اس واقعہ کو بعض کتابوں میں میر محبوب علی صاحب کی ”گمراہی“ کے طور پر پیش کیا گیا مولانا سید عبدالحی صاحب (سابق ناظم ندوة العلماء لکھنؤ) نے لکھا ہے کہ مولانا میر محبوب علی صاحب اپنے وقت کے مشہور علماء میں سے ایک تھے۔ انہوں نے سید احمد شہید بریلوی کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کی اور سید صاحب اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ یاغستان کا سفر کیا۔
مگر شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا چنانچہ انہوں نے سید صاحب کا ساتھ چھوڑ دیا اور ہندوستان واپس آگئے (وبايع السيد المجاهد احمد بن عرفان البريلوي بيعة الجهاد و سافر إلى یاغستان مع أصحابه لينصره فى الجهاد، ولكن الشيطان و سوس في صدره فتأخر ورجع الى الهند) نزهة الخواطر و بهجة المسامع والنواظر، الجزء السابع، صفحه ۴۰۶ - ۴۰۷۔
سید احمد شہید بریلوی نے اپنے اقدام کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں کیا۔ انہوں نے یہ تحقیق بھی نہیں کی کہ پنجاب میں اسلامی شعائر کی بے حرمتی کی خبریں جو انہوں نے سنی ہیں وہ کس حد تک درست ہیں۔ انہوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجی طاقت کتنی زیادہ ہے اور ان کے اپنے مریدوں کی غیر تربیت یافتہ فوج کس حد تک اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ وہ محض خوش عقیدگی کے تحت مہاراجہ رنجیت سنگھ کی ریاست میں داخل ہو گئے، جب کہ یہاں کے جغرافیہ کا بھی انہیں پوری طرح علم نہ تھا۔ فطری طور پر اس کا انجام یہ ہوا کہ سید صاحب اور ان کے بیشتر ساتھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔ کی یہ مہم مسلمانوں کی یک طرفہ تباہی کے ساتھ ختم ہو گئی۔
اس دوسری مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملَات میں درست رائے تک پہنچنے کے لیے یہ کتنا ضروری ہے کہ اختلاف رائے کا کھلا ماحول ہو، لوگوں کی تنقیدیں خوش دلی کے ساتھ سنی جائیں اور علمی بحث و مذاکرہ کے بعد درست فیصلہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ شخصیت نہیں بلکہ اصول ایک عالم نے ایک علمی مسئلہ میں اپنے شیخ طریقت پر تنقید کی۔ کسی نے کہا کہ آپ اپنے شیخ پر تنقید کر رہے ہیں۔ عالم نے جواب دیا: نحن نحب شيخنا ولكن الحق أحب إلينا من الشيخ (ہم اپنے شیخ سے محبت کرتے ہیں مگر حق ہم کو شیخ سے بھی زیادہ محبوب ہے)۔ مذکورہ عالم کا یہ قول ایک اہم حقیقت کو بتاتا ہے۔ وہ یہ کہ جب کسی مسئلہ میں کوئی تنقیدی
بات کہی جائے تو خواہ بظاہر وہ کسی متعین شخص کے حوالہ سے کہی گئی ہو، مگر وہ ایک اصول پر تنقید اس قسم کی تنقید میں شخصیت کا حوالہ ضروری ہے، کیوں کہ شخصی حوالہ کے بغیر تنقید ایک مجہول اظہار رائے بن جائے گی اور تنقید کا اصل مقصد حاصل نہ ہوگا۔
تنقید یا اختلاف رائے کا عمل اسلام کی پوری تاریخ میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ درمیان آپس میں بہت سے اختلافات تھے اور اکثر کھلے انداز میں اس کا اظہار ہوتا تھا۔ تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء وغیرہ، کے درمیان ہمیشہ اختلافات رہے ہیں اور ان کا کھلا اظہار بھی ہمیشہ کیا جاتا رہا ہے۔ مگر کبھی کسی نے ان اختلافات کو بُرا نہیں بتایا اور نہ یہ کہا کہ اختلاف اور تنقید کا طریقہ ختم کر دینا چاہیے۔ اسلامی تاریخ کے پورے قدیم دور میں تنقید اور اختلاف کو ہمیشہ گوارا کیا جاتا رہا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ تنقید واختلاف کو اصول کی نسبت سے دیکھتے تھے نہ کہ شخصیتوں کی نسبت سے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب دین انسانیت، باب "حریت فکر")
تنقید کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سننا اور اس پر غور کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی شخصیتوں کی عظمت میں گم نہیں ہے۔ اس کے نزدیک اصل اہمیت اصول کی ہے نہ کہ شخصیت ایسا آدمی کسی شخصیت کے مجروح ہونے کو گوارا کر لے گا مگر حق کا مجروح ہونا اس کو گوارا نہ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر حقیقی دینی روح زندہ ہو۔ مگر جب کسی قوم پر زوال کا دور آجائے تو اس وقت شخصیتیں ہی لوگوں کا مرجع بن جاتی ہیں۔ اب لوگ اصول کے بارے میں حساس نہیں ہوتے۔ البتہ وہ اپنی محبوب شخصیتوں کے بارے میں بے حد حساس ہو جاتے یہی وجہ ہے کہ دور زوال میں تنقید لوگوں کے لئے ایک مبغوض چیز بن جاتی ہے۔ جب بھی کوئی ایسی تنقید سنتے ہیں جس کی زد ان کے مفروضہ اکابر پر پڑ رہی ہو تو وہ سخت برہم ہو جاتے ہیں، ان کی یہ برہمی بظاہر ناقد کے خلاف ہوتی ہے، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ وہ ابھی تک معرفتِ حق کی لذت سے آشنا نہ ہو سکے۔ حق کے نام
سے وہ صرف کچھ شخصیتوں کو جانتے ہیں نہ کہ خود حق و صداقت کو۔