تنقید کا فائدہ
Al-Risala, July 2001, pp. 42–50
By Maulana Wahiduddin Khan
تنقید کوئی برائی نہیں، تنقید ایک نعمت ہے۔ تنقید علم کے نئے گوشوں کو کھولتی ہے۔ تنقید کے ذریعہ معاملہ کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ تنقید کوئی عیب زنی نہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے ناقد شخص اور زیر تنقید شخص کے درمیان ایک قسم کی تفکیری شرکت (intellectual sharing) ہے جو دونوں ہی کے لئے یکساں طور پر مفید ہے۔ طور پر دونوں کے ذہنی افق کو وسیع کرتی ہے۔ سچی تنقید ایک انسان کی طرف سے دوسرے انسان کے لئے علمی تحفہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ اس شخص پر رحم کرے جو مجھ کو میرے عیوب کا ہدیہ بھیجے (رحم اللہ امرأ اهدى الى عيوبي)
تنقید کا انتہائی مفید ہونا راقم الحروف کے لیے صرف ایک نظری بات نہیں۔ لئے ایک عملی تجربہ ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ میں پیدائشی طور پر ایک تنقید پسند اپنے اس مزاج کی بنا پر میں اپنے قریبی ساتھیوں سے ہمیشہ یہ امید کرتا ہوں کہ وہ میرے اوپر علمی تنقید کریں۔ اس معاملہ میں میرا مزاج کیا ہے اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہو تا میرے ایک رفیق کار مولانا انیس لقمان ندوی تقریباً ۸ سال تک میرے ساتھ تھے۔ ایک عرب ملک میں ہیں۔ پہلی بار جب وہ عرب گئے تو ایک شیخ نے ان سے پوچھا کہ تم ہندوستان میں کیا کام کرتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا: انا ناقد اکبر ناقد فی الہند (میں ہندوستان کے سب سے بڑے ناقد کا ناقد ہوں) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تنقید کے معاملہ میں میرا ذوق کیا
ایک صاحب علم کے لئے سب سے زیادہ لذیذ چیز علمی تبادلہ خیال ہے۔ تنقید میں بظاہر ایک شخص سامنے آتا ہے۔ مگر حقیقۃ تنقید کا نشانہ شخص نہیں ہو تا بلکہ موضوع ہوتا ہے۔
دو شخصوں کے درمیان ایک موضوع پر ڈسکشن ہے، خواہ بظاہر وہ کسی فرد کے حوالہ سے کیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سچی تنقید کبھی کسی شخص کے لئے ذاتی وقار کا سوال نہیں بنتی۔ کیوں کہ سچی تنقید میں کوئی ذات سرے سے نشانہ پر ہوتی ہی نہیں۔
تنقید اگر صحیح ہو تو وہ آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے ذہن کو درست کر لے۔ وہ غلط فکر کے اندھیرے سے نکل کر صحیح فکر کی روشنی میں آجائے۔ وہ اپنے آپ کو علمی اعتبار سے پہلے سے زیادہ درست انسان بنا لے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ تنقید کرنے والے کی تنقید صحیح نہ ہو تب بھی اس میں یہ فائدہ ہے کہ اس سے موضوع کے مزید گوشے واضح ہوتے ہیں۔ زیر تنقید شخص اگر تنقید کو سن کر برہم نہ ہو تو تنقید اس کی قوت فکر کو بڑھائے گی۔ وہ اس کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) لانے کا سبب بنے گی۔ وہ اس کو موقع دے گی کہ وہ اپنی بات کو زیادہ واضح اور زیادہ مدلل انداز میں پیش کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ تنقید ہر حال میں مفید ہے، خواہ وہ صحیح تنقید ہو یا غلط تنقید۔ ۱۹۶۵ کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں لکھنؤ میں تھا۔ میری ملاقات ایک غیر مسلم اسکالر سے وہ مذاہب یا مذہبی شخصیتوں کو نہیں مانتے تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے پیغمبر اسلام پر آپ کے خلاف بولتے ہوئے انہوں نے کہا: محمدؐ کو اگر تاریخ سے نکال دیا جائے تو تاریخ میں کیا کی رہ جائے گی۔
ان کے یہ الفاظ یقیناً اشتعال انگیز تھے۔ اگر میں اس پر غصہ ہو جاتا تو میں صرف یہ کرتا کہ ان کو لعن طعن کرتا اور لا حول ولا قوۃ پڑھتے ہوئے وہاں سے واپس چلا آتا۔ مگر اللہ کے فضل سے میں نے اپنے ذہنی اعتدال کو باقی رکھا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میرے ذہن میں فکری عمل مثبت انداز میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک لمحہ کے بعد میری زبان پر ان کی بات کا یہ جواب آ گیا: وہی کمی جو محمدؐ سے پہلے تاریخ میں تھی۔
مذکورہ تنقید نے مجھے پیغمبر اسلام کی سیرت کے ایک ایسے پہلو پر سوچنے پر مجبور کر دیا جو
اس سے پہلے میرے ذہن میں واضح نہ تھا۔ اس طرح مذکورہ اسکالر کی تنقید میرے لیے سیرت کے ایک نئے اور بے حد اہم گوشہ کی دریافت کا سبب بن گئی۔ جب میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا کی تمام سائنسی اور تہذیبی ترقیاں پیغمبر اسلام کی بعثت کے بعد ظہور میں آئی ہیں، آپ سے پہلے ان چیزوں کا کوئی وجود ہی نہ تھا تو یہ سوچ میرے لیے ایک نئی دریافت تک پہنچنے کا ذریعہ بن گئی۔ نے یہ دریافت کیا کہ دونوں واقعات میں ایک گہرا رشتہ ہے۔ اس دریافت کے بعد میں نے اس موضوع پر باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ اس مطالعہ کا نتیجہ راقم الحروف کی وہ کتاب تھی جو اسلام دور جدید کا خالق (Islam the Creator of the Modern Age) کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی اگر تنقید کو سن کر برہم نہ ہو، وہ اپنے ذہنی اعتدال کو برقرار رکھے تو تنقید اس کے لئے کتنی زیادہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ صحیح معیار اور غلط معیار مقلدانہ فکر کے بہت سے نقصانات ہیں۔ ان میں شاید سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسے لوگ حق کو خود حق سے نہیں پہچانتے بلکہ وہ اس کو ر جال کی نسبت سے پہچانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا سب سے بڑا مرجع ان کے مفروضہ بزرگ بن جاتے ہیں۔ یہ مفروضہ بزرگ جس چیز کو حق بتائیں اس کو وہ حق مان لیتے ہیں۔ کوئی شخص جو ان کے مفروضہ بزرگوں کی فہرست میں شامل نہ ہو وہ خواہ کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ کسی بات کو پیش کرے، وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے، کیوں کہ ان کے اندر یہ ذاتی صلاحیت ہی نہیں ہوتی کہ وہ دلیل کے ذریعہ کسی چیز کو پہچانیں اور اس کو اختیار کر لیں۔
یہی واحد سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بنا پر ہر دور میں پیغمبروں کا انکار کیا گیا۔ اپنے معاصرین کو ایک نیا شخص دکھائی دیتا تھا جو ان کے مفروضہ بزرگوں کی فہرست سے باہر تھا، اس لئے وہ پیغمبر کو اس کی زندگی میں قابل لحاظ شخص کا درجہ نہ دے سکے۔ مزید یہ کہ پیغمبر جب ان کی محبوب شخصیتوں پر تنقید کرتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ بھڑک جاتے اور اس کے پیغام پر
سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے لئے تیار نہ ہوتے۔
مقلدانہ ذہن اور مجتہدانہ ذہن کے درمیان سب سے زیادہ اہم فرق یہ ہے کہ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ حق کو صرف اپنی شخصیتوں کے حوالے سے پہچانتے ہیں۔ اس کے برعکس مجتہدانہ ذہن رکھنے والے لوگوں میں یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ حق کو خالص دلیل کے زور پر پہچانیں اور اس کو پوری آمادگی کے ساتھ اختیار کر سکیں۔
اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ عین اسی چیز سے محروم ہو جاتے ہیں جس کو دین میں سب سے زیادہ اہم حیثیت حاصل ہے، یعنی معرفت والا ایمان۔ والے ایمان کا سرچشمہ ذاتی دریافت (self-discovery) ہے۔ مقلدانہ ذہن رکھنے والے لوگ خود اپنے ذہن کو آزادانہ طور پر استعمال ہی نہیں کرتے، اس لئے وہ معرفت والے اسلام سے آشنا
مجتہدانہ ذہن رکھنے والوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایسے لوگوں کے ذہن کی کھڑکیاں ہر وقت کھلی رہتی ہیں۔ وہ ہمیشہ آزادانہ طور پر غور و فکر کے لئے تیار رہتے ہیں۔ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر کسی چیز کا حق ہونا ظاہر ہو تو وہ فوراً اس کو پہچان لیں اور کسی تردد کے بغیر اس کو مان لیں۔
موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لئے سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ وہ حق کو دریافت کرے۔ یہ احساس کہ میں نے سچائی کو پالیا ہے، بلاشبہ اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ مگر یہ عظیم ترین نعمت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو مجتہدانہ فکر کے حامل ہوں۔ جو لوگ مقلدانہ فکر کے اندھیروں میں گم ہوں وہ کبھی معرفت والی سچائی کا تجربہ نہیں کر سکتے۔ انقلابی ذہن کی ضرورت شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات ۱۷۶۲ء) نے اپنی کتاب عقد الجید میں اجتہاد اور مجتہد کے مسئلہ پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجتہد وہ ہے، جس کے اندر پانچ قسم کے علوم موجود ہوںـــــ
کتاب اللہ کا علم، سنت رسول کا علم، علماء سلف کے اقوال یعنی ان کے اتفاقات اور اختلافات کا علم، زبان کا علم، اور قیاس واستنباط کا علم (المجتہد من جمع خمسة انواع من العلم علم کتاب الله عز وجل وعلم سنة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، واقاويل علماء السلف من اجماعهم واختلافهم وعلم اللغة وعلم القياس)۔
شاہ ولی اللہ دہلوی (اور دوسرے علماء) نے مجتہد کی جو شرطیں لکھی ہیں وہ بجائے خود مگر یہ شرطیں صرف مقید اجتہاد کے لئے کار آمد ہیں، غیر مقید اجتہاد کے لئے یہ شرطیں کافی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں۔ ایک عام اجتہاد اور دوسرا، خاص اجتہاد۔ اجتہاد سے مراد وہ اجتہاد ہے جو احوال ظاہری سے تعلق رکھتا ہو۔ اور خاص اجتہاد سے مراد وہ اجتہاد ہے جس کا تعلق احوال باطنی سے ہے۔ یعنی وہ حالات جو اوپری سطح (face value) پر دکھائی نہ دیتے ہوں مگر وہ گہری سطح (under current) میں موجود ہوں۔ ان دونوں کے فرق کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ اجتہاد عام کا تعلق بصارت سے ہے، اور اجتہاد خاص کا تعلق بصیرت سے۔
مثال کے طور پر اگر مجتہد کے سامنے یہ مسئلہ ہو کہ مسح علی الخفین چمڑے کے موزوں پر مسح) کی جو رعایت شریعت میں دی گئی ہے، کیا وہ رعایت موجودہ زمانہ کے صنعتی موزوں پر بھی ہے، تو اس قسم کے اجتہاد کے لئے مذکورہ ۵ علوم کی واقفیت کافی ہے۔ اسی طرح اگر یہ سوال ہو کہ انجکشن کی سوئی جسم میں داخل ہونے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں تو اس مسئلہ کا حکم معلوم کرنے کے لئے بھی مذکورہ پانچ علوم میں واقفیت کافی ہو سکتی ہے۔ ایسا آدمی اپنے اس علم کی بنیاد پر قدیم فقہی ذخیرہ میں ایک ایسا جزئیہ پاسکتا ہے جس میں فقیہہ نے یہ فتویٰ دیا ہو کہ بچھو کسی کے جسم میں ڈنک داخل کردے تو اس کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹے گایا نہیں۔
مگر اجتہاد خاص کے لئے مذکورہ پانچ شرطوں کے علاوہ ایک اور شرط لازمی طور پر ضروری
یہ مزید شرط حدیث کے الفاظ میں یہ ہے : وعلی العاقل ان يكون بصيراً بزمانه (جامع العلوم والحکم، ابن رجب الحنبلی، صفحہ ۹۸) یعنی دانا شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانہ کو جاننے والا ہو۔
حدیث میں جس مزید شرط کا ذکر ہے اس کو ایک لفظ میں حالات زمانہ سے واقفیت کہا یعنی مجتہد جس زمان ومکان میں اجتہاد کر رہا ہے، اس زمان ومکان سے وہ بھر پور واقفیت وہ تقلیدی علوم میںدستگاہ کے ساتھ غیر تقلیدی علوم پر گہری نظر رکھتا ہو۔ صلاحیت خارجی معلومات اور غور و فکر اور حقائق کی معرفت کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں غیر مقید اجتہادی تخلیقی اجتہاد کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ کی ایک مثال مدنی دور میں کی جانے والی صلح حدیبیہ ہے۔ اس صلح کے وقت بظاہر جو حالات تھے وہ تمام تر اہل اسلام کے خلاف تھے۔ کیوں کہ یہ ۱۰ سالہ نا جنگ معاہدہ مخالفین کی یک طرفہ شرطوں کو مان کر کیا جا رہا تھا۔ صلح کے اس ظاہری پہلو کی بنا پر اس کو قبول کرنا صحابہ پر سخت گراں گزر رہا حتیٰ کہ عمر فاروق نے اس معاہدہ کو دمیۃ (ذلت) قرار دیا۔
اس معاملہ کی حقیقت قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن میں اس معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فعلم ما لم تعلموا (الفتح (۷۲) اس آیت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ : پس جانا اللہ نے جو کچھ نہ جانا تم نے۔ مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم صرف دکھائی دینے والی باتوں کو جانتے تھے مگر اسی کے ساتھ کچھ بظاہر نہ دکھائی دینے والی باتیں بھی وہاں موجود تھیں اور اللہ کی رہنمائی سے اللہ کے رسول نے ان بظاہر نہ دکھائی دینے والی باتوں کی بنیاد پر صلح کا یہ معاہدہ کیا۔ حدیبیہ کے وقت ظاہری باتیں تو یہ تھیں کہ یہ صلح مخالفین کی یکطرفہ شرطوں پر کی جا رہی تھی۔ مگر غیر ظاہری (under current) بات یہ تھی کہ اہل اسلام اور غیر اہل اسلام کے درمیان جنگی حالات کی بنا پر معتدل فضا میں اختلاط (interaction) ختم ہو گیا تھا۔ دونوں فریقوں کے درمیان نا جنگ معاہدہ ہو جائے تو معتدل حالات میں لوگ ایک دوسرے
سے ملنے لگیں گے اور دونوں فریقوں کے درمیان کھلا تبادلہ خیال (open dialogue) شروع ہو جائے گا۔ اس عمل کے دوران اسلام کی خوبیاں اپنے آپ لوگوں کے اوپر ظاہر ہونے لگیں گی اور وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں یدخلون فی دین اللہ افواجاً (النصر) سے تعبیر کیا گیا ہے۔
چنانچہ یہی ہوا۔ صلح حدیبیہ کے وقت اہل اسلام کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی مگر اس کے بعد امن کے حالات میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی اس کے نتیجہ میں دو سال سے بھی کم مدت میں اہل اسلام کی تعداد10 ہزار تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ کسی جنگ کے بغیر صرف عددی طاقت کے ذریعہ اہل اسلام کو غلبہ حاصل ہو گیا۔
یہی واقعہ تیرہویں صدی میں ایک اور صورت میں پیش آیا۔ جنگجو تاتاری ہتھیار کی طاقت سے مسلم دنیا میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے سمرقند سے حلب تک مسلم بستیوں کو تباہ کیا اور عباسی خلافت کا خاتمہ کر دیا۔ یہ فتنہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں میں یہ مقولہ مشہور ہو گیا کہ : اذا قیل لك ان التتر انهزموا فلا تصدق (اگر تم سے کہا جائے کہ تاتاری شکست کھا گئے تو تم اس کو نہ ماننا) یہ ظاہری صورت حال تھی۔ مگر اس کی تہہ میں ایک اور چیز چھپی ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ تاتاری نیزہ اور تلوار کی طاقت ضرور رکھتے تھے مگر وہ نظریۂ حیات (ideology) سے خالی تھے۔ مسلمانوں سے اختلاط کے دوران وہ اسلام کے نظریہ سے متعارف ہوئے۔ چونکہ ان کے پاس اس سے مقابلہ کے لئے کوئی جوابی نظریہ موجود نہ تھا، وہ تیزی سے اسلامی نظریہ سے متاثر یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کو ایک مشہور مستشرق فلپ کے ہٹی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو گئے تھے :
The religion of Muslims have conquered where their arms had failed. اب بعد کے زمانہ کو دیکھئے۔ اس سلسلہ میں پہلی سبق آموز مثال شاہ ولی اللہ دہلوی کی ہے۔
ان کے زمانہ میں ہندوستان کی مغل سلطنت کمزور ہو گئی تھی۔ اور یہ آثار نظر آنے لگے تھے کہ جلد ہی وہ زوال کا شکار ہو کر ختم ہو جائے گی۔ اس وقت شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کوشش اس پر لگادی کہ یہ مسلم سلطنت کسی نہ کسی طرح دوبارہ مستحکم ہو جائے۔ انہوں نے اس وقت کے مسلم حکمرانوں کو جوش دلایا کہ تم لوگ تلوار لے کر اٹھو اور اپنے دشمنوں سے لڑ کر ان کا خاتمہ کر دو۔ دوسری طرف انہوں نے کابل کے حاکم احمد شاہ ابدالی کو ترغیب دی کہ وہ ہندوستان پر حملہ کر کے سکھوں اور مرہٹوں کا زور توڑ دے تاکہ مغل سلطنت محفوظ ہو کر قائم رہ سکے۔
مگر شاہ ولی اللہ کی یہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنے قریبی اور ظاہری حالات کو دیکھتے تھے۔ عالمی اعتبار سے حالات کا جو نیا سیلاب آ رہا تھا اس سے وہ قطعاً بے خبر تھے۔ نئے سیلاب سے میری مراد ڈیموکریسی کا دور ہے۔ شاہ ولی اللہ کا یہ خیال تھا کہ وہ قائم الزمان ہیں۔ مگر ان کی ساری سوچ جانے والے دورِ بادشاہت میں کام کر رہی تھی۔ آنے والے دور جمہوریت میں کیا صورت پیش آئے گی، اس سے وہ مطلع نہ ہو سکے۔ دورِ بادشاہت میں ایک شخص پورے ملک کا حاکم ہوا کرتا تھا مگر دورِ جمہوریت میں عوامی حاکمیت کا اصول رائج ہونے والا تھا۔ مسئلہ پیدا ہونے والا تھا جس کو اکثریت کے مقابلہ میں اقلیت کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ اگر حالات کے رخ کو دیکھ پاتے تو وہ اپنی ساری طاقت دعوت کے محاذ پر لگادیتے۔ جس میں گویا اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کا راز چھپا ہوا تھا۔ دعوت کا مطلب یہ تھا کہ مغل سلطنت اگر ختم ہو جائے تب بھی اہلِ اسلام اپنی عددی برتری کے زور پر غالب حیثیت کے حامل ہوں گے۔ مگر شاہ ولی اللہ دہلوی دعوت کی اس انقلابی اہمیت سے بالکل بے خبر تھے۔ حتیٰ کہ ان کی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں ہر قسم کے ابواب ہیں مگر کتاب الدعوۃ یا کتاب التبلیغ اس کے اندر موجود نہیں۔ اب سید جمال الدین افغانی (وفات ۱۸۹۷ء) کی مثال لیجیے۔ ان کے زمانہ میں انگریز اور فرانسیسی تقریباً پوری مسلم دنیا پر سیاسی اعتبار سے غالب آگئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے اپنی پوری زندگی اس سیاسی غلبہ کو ختم کرنے میں لگادی۔ ان کا نعرہ تھا الشرق للشرقيين (مشرق
مشرقیوں کے لیے ہے) بظاہر دیکھئے تو آج مغربی قوموں کا سیاسی تسلط ختم ہو چکا ہے اور تقریباً ساٹھ آزاد مسلم ممالک دنیا کے نقشہ پر وجود میں آ چکے ہیں۔ مگر حقیقی حالات کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوا۔ مسلم قومیں آج بھی اہل مغرب کی بالاتری کے تحت جینے پر مجبور ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سید جمال الدین افغانی حالات کو صرف ظاہر کے اعتبار سے دیکھ سکے، وہ گہری حقیقتوں سے آشنا نہ ہو سکے۔ وہ انگریز اور فرانسیسیوں کے غلبہ کو صرف سیاسی غلبہ کے ہم معنی سمجھتے رہے۔ مگر یہ اصل معاملہ کا صرف ایک ظاہری پہلو تھا۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ مغربی قوموں نے علم میں تقدم حاصل کر لیا تھا، وہ سائنس اور ٹکنالوجی میں مسلمانوں سے آگے بڑھ گئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی اپنے قدیم سیاسی ذہن کی بنا پر معاملہ کے ان گہرے پہلوؤں کو نہ دیکھ سکے۔
سید جمال الدین افغانی اگر جدید زمانہ میں علم کی اہمیت کو سمجھتے تو وہ بیرونی غلبہ کو ایک وقتی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتے اور اپنی ساری طاقت اس راہ پر لگا دیتے کہ مسلمان علمی اعتبار سے اس طرح آگے بڑھ سکیں جس طرح مغربی قومیں اس میدان میں آگے بڑھ گئی ہیں۔ اگر وہ بے فائدہ سیاسی جہاد کو چھوڑ کر علمی جہاد میں سرگرم ہو جاتے اور اپنے ساتھیوں کو اس راہ پر لگا دیتے تو یقینی ہے کہ مسلم ملکوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو آج ہر طرف دکھائی دیتی ہے۔ یہ چند مثالیں بتاتی ہیں کہ مذکورہ پانچ شرطیں مقید اجتہاد کے لئے بلاشبہ کافی ہیں۔ مقید اجتہاد یا مطلق اجتہاد کے لئے ایک اور شرط لازمی طور پر ضروری ہے اور وہ ہے زمانہ کے حالات سے گہرائی کے ساتھ باخبر ہونا۔ اس مزید شرط کے بغیر جو اجتہاد کیا جائے گا وہ سراسر بے نتیجہ رہے گا۔ ایسا اجتہاد کبھی ملت کو نتیجہ خیز رہنمائی نہیں دے سکتا۔