Your comments help us to serve you better.
Al-Risala, August 2001, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اپنے تبصرہ میں کھانے اور سروس وغیرہ کے بارے میں تعریفی الفاظ لکھے۔ ایک خانہ تجویز (suggestion) کا تھا۔ سفر کے دوران واحد جو چیز میرے لئے تکلیف دہ ثابت ہوئی وہ یہ تھی کہ اس ایگز یکٹیو کو چ کو انہوں نے مکمل طور پر ائرکنڈیشنڈ کرکے مسافروں کو باہر کے شور سے تو محفوظ کر دیا تھا مگر اس کے اندر میوزک کے نام پر گانا اور باجا سنایا جا رہا تھا جو میرے نزدیک خود بھی شور کے ہم چنانچہ میں نے تجویز کے خانہ میں یہ الفاظ لکھ دئے:
The loud music in the coach was very disturbing. For me it was nothing but noise polution. Either you must put a stop to it or arrange for headphones as in aeroplane.
ہماری ٹرین پنجاب کے میدانوں میں دوڑتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ کوچ میں دونوں طرف لگے ہوئے بڑے بڑے سفید شیشوں کے ذریعہ باہر کی دنیا صاف دکھائی دے رہی تھی۔ درختوں کے مسلسل جھنڈ اور اس کے پیچھے جگہ جگہ نئے طرز کی بنی ہوئی خوبصورت عمارتیں، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کہ مساکن طیبہ فی جنات عدن (الصّف ۱۲) کا منظر بہت دور سے دکھایا جا رہا ہو۔ موجودہ زمانہ میں جو خوشنما مادی ترقیاں ظہور میں آئی ہیں وہ بہت سے لوگوں کے اندر صرف مادی حرص کا جذبہ جگاتی ہیں۔ مگر میں جب ان کو دیکھتا ہوں تو میری زبان پر یہ الفاظ آجاتے ہیں آخرت کی جنت کا بعید تعارف۔
کوچ کے اندر پڑھنے کے لئے انگریزی اخبارات دئے گئے۔ میں نے ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) کا شمارہ ۱۴ ستمبر ۲۰۰۰ دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر یہ خبر تھی کہ مائیکروسافٹ کا چیف اور دنیا کا امیر ترین آدمی بل گیٹس (Bill Gates) ۱۳ ستمبر ۲۰۰۰ کو ہندوستان آیا ہے۔ بتایا گیا تھا کہ بل گیٹس بے حد مصروف زندگی گزارتے ہیں۔ وہ اپنا ایک ایک منٹ استعمال کرتے جب وہ نئی دہلی پہنچے تو شیریٹن ہوٹل میں ایک الیویٹر(Elevator) (Elevator) ان کے لئے پیشگی طور پر ریزرو رکھا گیا تھا تاکہ جب وہ یہاں پہنچیں تو اپنا ایک لمحہ ضائع کئے بغیر فوراً وہ اوپر اپنے اسپیشل روم میں پہنچ سکیں۔
پنجاب زرعی اعتبار سے ہندوستان کی سب سے زیادہ خوشحال ریاست ہے۔ اس کا خاص سبب یہ ہے کہ ۱۸۵۷ کے غدر (Mutiny) میں پنجاب کے سکھوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا اور انہیں کامیاب بنانے میں خصوصی مدد دی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزوں کا کنٹرول جب انڈیا پر قائم ہو گیا تو انہوں نے پنجاب کو بہت زیادہ نوازا۔ یہاں زرعی آبپاشی کے لئے کثرت سے نہریں نکالی گئیں۔ چھوٹی اقلیت کے باوجود سکھوں کو فوج میں ۳۳ فیصد تک جگہ دی گئی۔ آزادی کے بعد جب ہندوستان کے لوگ دوبارہ برطانیہ جانے لگے تو سکھوں کے لئے برطانیہ کے دروازے خصوصی طور پر کھول دئے
راستہ میں ہماری ٹرین انبالہ سے گزری۔ انبالہ کے ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کچھ دیر کے لئے رکی تو مجھے یاد آیا کہ تقریباً ۳۰ سال قبل میں پہلی بار انبالہ آیا تھا۔ اور یہاں وقف بورڈ کے دفتر میں کچھ دیر اس سفر کا مختصر تذکرہ اسی زمانہ میں الجمعیۃ ویکلی میں شائع ہوا تھا۔ یکم اکتوبر ۲۰۰۰ کو بی بی سی لندن کے ایک نشر یہ میں انبالہ کا ذکر سنا۔ یہ انبالہ کی جامع مسجد کے خطیب قاری محمد اسحاق صاحب کا انٹرویو تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تقسیم سے پہلے انبالہ شہر میں ۲۰۰ مسجدیں تھیں ۔ تقسیم کے بعد انبالہ سے امرتسر کا علاقہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا۔ اب اس علاقہ میں ہر جگہ مسلمان آکر آباد ہو گئے ہیں۔ ہر جگہ مسجدوں سے اللہ اکبر کی آوازیں دوبارہ سنائی دینے لگی ہیں۔ انبالہ میں اس وقت پانچ مسجدیں آباد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انبالہ کی جامع مسجد میں تقسیم کے بعد کچھ غیر مسلم رہنے لگے تھے۔ ۱۹۵۱ میں مجھے وقف بورڈ کی طرف سے یہاں کا امام مقرر کیا گیا تو میں نے ان قابضین کے خلاف کارروائی شروع کی۔ کئی سال کے مقدمہ کے بعد مقامی ہندوؤں کی مدد سے مسجد خالی کرانے میں کامیابی ہوئی۔
قاری محمد اسحاق صاحب نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ جب انبالہ کی جامع مسجد خالی ہوگئی اور یہاں صفائی کر کے پہلا جمعہ پڑھا گیا تو وہ ایک عجیب یادگار دن تھا۔ میں منبر پر خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو میں جذبات سے اس قدر بھر اہوا تھا کہ میں بے اختیار رونے لگا۔ میں نے اس دن پورا خطبہ روتے ہوئے پڑھا۔ جمعہ کی اس نماز میں کافی مسلمان اکٹھا ہو گئے تھے۔ ان میں کئی ایسے مسلمان بھی تھے جو فوجی ملازمتوں میں تھے۔ لوگوں پر ایسا تاثر ہوا کہ سب کے سب رونے لگے۔ قاری محمد اسحاق صاحب نے بتایا کہ جب میں پہلی بار انبالہ آیا اور جامع مسجد کا منظر دیکھا تو بظاہر یہ نا ممکن معلوم ہوتا تھا کہ یہ مسجد دوبارہ خالی ہو کر آباد کی جاسکے گی۔ مگر اللہ کے بھروسہ پر میں نے اپنا کام شروع کیا۔ اس میں تقریباً تین سال لگے۔ آخر کار مقامی ہندوؤں کا تعاون اور عدالت کے انصاف کی بنا پر مجھے کامیابی ہوئی اور آج اللہ کے فضل سے یہ مسجد پہلے سے زیادہ شاندار طور پر آباد ہے۔
تقریباً چھ گھنٹہ سفر کرنے کے بعد میں امرتسر ریلوے اسٹیشن پر پہنچا۔ یہاں گرو نانک یونیورسٹی کے ڈاکٹر جسوند ر سنگھ ڈھلوں رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر گرو نانک یونیورسٹی پہنچا۔ یہاں میرا قیام یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ شہر کی مختلف سڑکوں سے گزرتے ہوئے ایک انوکھا احساس میرے ذہن میں آرہا تھا۔ آج اس تاریخی شہر کو دیکھ رہا ہوں جس کی بنیاد تقریباً پانچ سوسال پہلے قائم کی گئی تھی۔ شہر میں صفائی اور ڈسپلن کا معیار ملک کے دوسرے کئی شہروں سے اچھا نظر اآیا۔
امرتسر کی ابتدائی بنیاد کے بارے میں ایک عجیب و غریب کہانی مشہور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک عورت کا شوہر اپنگ (اپاہج) ہو گیا تھا۔ جب وہ عورت کہیں جاتی تو اس کو اسے اپنے سر پر رکھ کر لے جانا پڑتا۔ ایک دن وہ اپنے اپنگ شوہر کو لے کر جنگل گئی۔ وہاں اس نے اس کو ایک درخت کے نیچے بٹھایا اور پھر جنگل میں اپنی ضرورت کے لئے چلی گئی۔ درخت کے پاس ایک چشمہ اپنگ مرد نے دیکھا کہ وہاں ایک کو آیا۔ اس نے اس چشمہ میں غوطہ لگایا۔ غوطہ لگاتے ہی وہ سفید ہو گیا۔ اسی طرح وہاں کئی کوے آئے اور ہر ایک چشمہ کے پانی کی طلسماتی کرامت سے کالے سے سفید بنتار ہا۔
یہ دیکھ کر اپنگ مرد کو بھی شوق پیدا ہوا۔ وہ کسی نہ کسی طرح گھسٹ کر چشمہ کے پاس پہنچا اور اس کا پانی اپنے سارے بدن پر ڈالنا شروع کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں اسے محسوس ہوا کہ میرے اندر تبدیلی آرہی ہے ۔ یہاں تک کہ چند لمحوں میں اس کی بیماری ختم ہو گئی اور وہ ایک نارمل انسان بن کر کھڑا ہو گیا ۔ یہ تبدیلی اتنی زیادہ نمایاں تھی کہ جب اس کی بیوی آئی تو وہ اس کو پہچان نہ سکی کہ یہ شخص وہی ہے جو میرا شوہر تھا۔ اس حیرت انگیز واقعہ کی شہرت بڑھی تو سکھوں کے چوتھے گرو، گرو رام داس جی نے ۱۵۷۷ء میں اسی مقام پر امرتسر شہر کی بنیاد ڈالی۔ اس وقت یہ پورا علاقہ جنگلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔
یہ کہانی بلاشبہ ایک افسانہ ہے نہ کہ حقیقت۔ مگر یہاں کے لوگ اس کہانی کو اس طرح بیان
کرتے ہیں جیسے کہ وہ فی الواقع ایک تاریخی حقیقت ہو۔ مجھے اپنے تجربہ میں بہت کم ایسے لوگ ملے ہیں جو توہم (superstition) اور حقیقت (reality) میں فرق کرتے ہوں۔ ۹۹ فیصد سے زیادہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ جو کچھ وہ سنتے اور پڑھتے ہیں اس کو وہ علمی جانچ (scientific scrutiny) کے بغیر مان لیتے ہیں۔
۵۰۰ سال پہلے امرتسر کے آس پاس بہت دور تک کا علاقہ سرسبز جنگلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ یہاں جنگل نظر نہیں آتے۔ جغرافی اصول کے مطابق، کسی ملک کا کم از کم ۳۰ فیصد حصہ جنگل پر مشتمل یہ موسمی توازن کے لئے بے حد ضروری ہے۔ مگر عرصہ سے ہندوستان کے جنگلات میں کمی واقع ہورہی ہے۔ ۱۹۴۷ میں ہندوستان جب آزاد ہوا تو ملک کی زمین کا ۲۲ فیصد حصہ جنگلات کے مسلسل کٹاؤ کے نتیجہ میں آج ہندوستان میں صرف ۹ فیصد جنگل باقی رہ گئے ہیں۔ جارہے ہیں، مگر درخت لگائے نہیں جاتے ۔ یہ بے حد خطرناک صورت حال ہے۔ اس کا برا انجام آج ہی شروع ہو چکا ہے، آئندہ کیا ہوگا اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔
امرتسر کا لفظ سب سے پہلے میں نے غالباً ۱۹۳۵ میں جانا۔ اس وقت میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ مقامی مدرسہ میں جب میں نے ابتدائی اردو کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد عربی کی تعلیم شروع کی تو مجھے کتاب النحو اور کتاب الصرف پڑھنے کے لئے دی گئی۔ اس کے مصنف مولا نا حافظ عبد الرحمن امرتسری تھے۔ یہ دونوں کتابیں میں نے تقریباً رٹ ڈالیں مگر ان کے قدیم اسلوب کی بنا پر ان کو رٹنے کے باوجود میں عربی زبان سے اس قدر نا آشنا رہا کہ میں سوچتا تھا کہ شاید یہ عوامی مقولہ صحیح ہے کہ: پڑھے عربی، پگھلے چربی۔
مگر یہ میری خوش قسمتی تھی کہ ۱۹۳۸ میں میرے چچا صوفی عبدالمجید خاں مرحوم نے مجھے ایک بڑے تعلیمی ادارہ مدرسۃ الاصلاح میں داخل کر دیا۔ یہاں مجھے معلوم ہوا کہ مولانا امرتسری کے قدیم نہج کے علاوہ بھی عربی صرف ونحو کی تعلیم کا ایک اور طریقہ ہے جو اس کے مقابلہ میں نہایت آسان اور قابلِ یہ مولانا حمید الدین فراہی کی تیار کردہ کتابیں، اسباق النحو اور اسباق الصرف، وغیرہ تھیں جو
قدیم انداز سے ہٹ کر نئے انداز میں لکھی گئی تھیں ۔ یہ گویا عربی گرامر کی کامیاب تسهیل تھی۔ جب میں نے مولانا حمید الدین فراہی کی کتابوں کے ذریعہ عربی نحو اور صرف کو پڑھنا شروع کیا تو وہ میرے لئے اتنا زیادہ آسان ثابت ہوا کہ وہ میرا محبوب موضوع بن گیا۔ تسهیل کے انداز میں اب بہت سی کتابیں اردو، عربی اور انگریزی میں دستیاب ہیں۔
اس ابتدائی دور تعلیم کی ایک مثال اب تک مجھے یاد ہے۔ یہ عربی انشاء کا ایک پرچہ تھا۔ پرچہ میں اردو کے کچھ جملے تھے جن کو عربی میں منتقل کرنا تھا۔ ان میں سے ایک جملہ یہ تھا کہ میں تین دن سے بخار میں مبتلا ہوں۔ میرے درجہ کے تقریباً تمام طلبہ نے اس جملہ کی عربی اس طرح بنائی تھی: انی مبتلا بالحمیٰ منذ ثلاثة ایام ۔ مگر میں نے اس کی عربی کسی قدر فرق کے ساتھ اس طرح بنائی تھی: ابتليت بالحمی منذ ثلاثة أيام ۔
یہ پرچہ مدرسہ کے جس استاد کے پاس تھا انہوں نے بعد کو مجھے بلایا اور کہا کہ دوسرے طالب علموں کے ترجمہ میں اردو پن تھا اور تمہارے ترجمہ میں عربی پن ۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے اندر ادبی ذوق ہے اس لئے تم لکھنے کی مشق کرو اور مجھے دکھایا کرو۔
امرتسر میں یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس میں جب میں اپنے کمرہ میں آیا تو یہاں کے کارکن نے کہا کہ آپ کو یہاں اپنے سامان کے بارہ میں کچھ ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں آپ کی ہر چیز تالہ کے بغیر سر چھت ہے۔ میرے پاس اگر چہ کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کی حفاظت کی ضرورت ہو لیکن جب میں وہاں گھوما پھراتو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے گیسٹ ہاؤس کا پورا ماحول زبان حال سے کہہ رہا ہو کہ فکر نہ کیجئے، یہاں آپ کی ہر چیز بالکل محفوظ ہے۔
گیسٹ ہاؤس کے پاس بہت بڑا پارک تھا۔ میں شام کو اس پارک میں دیر تک ٹہلتا رہا۔ وقت اندھیرا ہو چکا تھا مگر میں نے دیکھا کہ پارک کے مختلف حصوں میں عورتیں بے فکری کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں جیسے کہ انہیں کسی چیز کا ڈر نہ ہو۔ میرا خیال ہے کہ جس طرح سکھ لوگوں کے درمیان یہ روایت قائم ہو چکی ہے کہ کوئی سردار کبھی بھیک نہیں مانگتا اسی طرح شاید یہاں کی روایت میں یہ بھی شامل ہو چکا
ہے کہ چوری وغیرہ جیسی چیز کو سردار لوگ اپنے لئے اپنے رتبہ سے کم تر چیز سمجھتے ہیں۔ امرتسر کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی موسیٰ راجدھانی تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ اگر چہ تعلیم یافتہ نہ تھا مگر وہ غیر معمولی صفات کا حامل تھا، اس کے بارے میں بہت سے واقعات معلوم ہوئے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ اپنے ہاتھی پر بیٹھ کر بازار میں نکلا۔ اس وقت ایک پیشہ ور رقاصہ بھی اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ منظر سردار لوگوں کو بہت ناپسند ہوا۔ چنانچہ اس کا مقدمہ اکال تخت تک پہنچا۔ اکال تخت کی طرف سے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو بلايا گیا۔ اس کا جرم ثابت ہونے پر اکال تخت کی طرف سے یہ فیصلہ سنایا گیا کہ رنجیت سنگھ کے شاہانہ کپڑے اتار دئے جائیں اور اس کو ایک پیڑ میں باندھ دیا جائے اور اس کے بعد اس کو جوتے سے مارا جائے ۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پاس اس وقت ایک طاقتور فوج تھی۔ وہ اس فیصلہ کو نہ ماننے کے لئے کوئی بھی کارروائی کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے خاموشی کے ساتھ اس فیصلہ کو مان لیا۔ یہاں تک کہ ان کو پیڑ سے باندھ دیا گیا۔ قریب تھا کہ ان کو جوتے سے مارا جائے۔ مگر حاضرین نے ایک زبان ہو کر کہا کہ بس، اتنا کافی ہے۔ چنانچہ اس کے بعد ان کو چھوڑ دیا گیا۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ایسا کر کے اپنی قوم پر بہت بڑا احسان کیا۔ کیوں کہ اس طرح انہوں نے اعتراف کی عظیم روایت اپنی قوم میں قائم کردی۔ قومی زندگی روایات پر چلتی ہے۔ اور اس قسم کی اعلیٰ روایات ہمیشہ قوم کے بڑے لوگ قائم کرتے ہیں۔ کسی بڑے آدمی کے لئے مذکورہ قسم کی روایت قائم کرنا بلا شبہ نہایت مشکل قربانی ہے۔ مگر وہی قوم ترقی کرتی ہے جس کے بڑے اس قسم کی مشکل قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔
امرتسر ایک تاریخی شہر ہے۔ ہندوستان میں ۳۰۰۰ تاریخی شہر اور قصبے ہیں۔ امرتسر ان میں سے ایک اہم شہر ہے۔ وہ ملک کے شمال مغربی حصہ میں واقع ہے۔ وہ راجدھانی دہلی سے ۴۶۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ پاکستان کی بین اقوامی سرحد سے وہ صرف ۲۶ کلومیٹر دور ہے۔ امرتسر پنجاب کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس شہر کو گرورام داس نے ۱۵۷۷ میں قائم کیا۔
گرو رام داس سکھوں کے چوتھے گرو تھے۔ انہوں نے امرتسر کو ایک مقدس تالاب کے کنارے قائم کیا جس کا نام امرتیا سرس تھا۔ شہر کا نام اس تالاب کے نام پر امرتسر رکھا گیا۔ امرتسر سکھ دھرم کا مرکزی مقام ہے۔ 1849 میں اس کو برٹش انڈیا میں شامل کیا گیا۔ مشہور جلیان والا باغ اسی امرتسر میں ہے جہاں انگریزی فوج نے ۱۹۱۹ میں ایک سیاسی جلسہ پر گولی چلا دی تھی جس میں سیکڑوں آدمی مرگئے تھے۔
امرتسر کے جلیان والا باغ کو باہر سے دیکھا۔ ۱۹۱۹ میں جب کہ یہاں جنرل ڈائر نے گولی چلائی تھی اس وقت وہ ایک پارک کی صورت میں تھا۔ اس فائرنگ میں ۳۷۹ لوگ مرے تھے اور ۱۲۰۰ لوگ زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعہ کے بارے میں لمبی مدت تک میں صرف یہی جانتا تھا کہ انگریز نے یہاں نہتے لوگوں پر گولی چلائی۔ بہت بعد کو ذاتی مطالعہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہ ایک خلاف قانون جلسہ تھا جو پیشگی ممانعت کے باوجود کیا گیا تھا۔
آزادی ہند کی تحریک پر امن اصول کی بنیاد پر چلائی گئی۔ یہ بات صرف جزئی طور پر درست ہے کیوں کہ عملاً جو ہوا وہ یہ تھا کہ اس پر امن لڑائی میں گولی اور بم کی جگہ ”قانون شکنی“ کا طریقہ اختیار قانون شکنی کو ہمارے تمام لیڈروں نے بہت بڑے پیمانہ پر گلوریفائی (glorify) کیا۔ ۱۹۷ سے پہلے کی قانون شکنی بظاہر انگریزی حکومت کے خلاف تھی، اس لئے اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی تھی۔ مگر ملک کا پورا معاشرہ قانون شکنی کے اس مزاج کو لے کر جب آزادی کے دور میں داخل ہوا تو اب قانون شکنی کے اس’’ بم‘‘ کا نشانہ خارجی دشمن نہیں بلکہ خود اپنا ملک اور اپنا سماج پچھلے آندولن کے نتیجے میں قانون کے احترام کی روایات ٹوٹ چکی تھیں۔ اس کے برعکس قانون کو ناقابل احترام سمجھنے کی روایات ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورا ملک قانونیت (lawlessness) کا شکار ہوکر رہ گیا۔
امرتسر کا گردوارہ مختلف ناموں سے مشہور ہے: ہری مندر، دربار صاحب، سورن مندر،
گولڈن ٹیمپل ۔ یہ سکھ لوگوں کا سب سے زیادہ مقدس مقام ہے۔ یہ گردوارہ ۱۶۰۲ میں گرو ارجن نے بنایا تھا۔ اس کا سنگ بنیاد لاہور کے ایک صوفی میاں میر نے رکھا تھا۔ رنجیت سنگھ کے دور حکومت (۱۸۰۱-۱۸۳۹) میں اس پر سونے کی پلیٹیں چڑھائی گئیں جو آج تک اس کے اوپر موجود ہیں۔
گولڈن ٹیمپل ایک کلومیٹر مربع کے رقبہ میں واقع ہے۔ وہ ۲۴ گھنٹہ کھلا رہتا ہے۔ روز تقریباً ڈیڑھ لاکھ آدمیوں کو تینوں وقت لنگر کے تحت کھانا کھلایا جاتا ہے۔ آپ رات دن جس وقت بھی وہاں جائیں، وہ انسانوں سے آباد ملے گا۔
ڈاکٹر جسو ندر سنگھ ڈھلوں کے ساتھ14 ستمبر کی رات کو میں وہاں گیا اور تفصیل سے اس کے ہر حصہ کو دیکھا۔ یہاں وہی سب مناظر دکھائی دئے جو عام طور پر درگاہوں میں ہوتے ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ یہاں سارا کیمپس آخری حد تک صاف ستھرا اور منظم تھا۔ جوتا رکھنے کے لئے ایک پورا ڈپارٹمنٹ بنا ہوا تھا۔ کہیں کوئی شخص روک ٹوک کرنے والا یا نند رانہ مانگنے والا دکھائی نہیں اس کے گیٹ پر فقیروں کی قطاریں بھی نہیں تھیں۔ یہ گردوارہ ایک وسیع ایمپائر کی مانند تھا۔ وہاں صفائی اور انتظام اور لنگر سے لے کر زائرین کے جوتوں کی نگہداشت تک ہر قسم کی سرگرمیاں نہایت نظم اور سلیقہ کے ساتھ جاری تھیں ۔ اور یہ سب کچھ والنٹیر قسم کے لوگ انجام دے رہے یہاں نہ کوئی تنخواہ دار عملہ تھا اور نہ مختلف قسم کے کاموں کی دیکھ بھال کے لئے کوئی ناظم یا نگراں ہر کام آٹومیٹک مشین کی طرح انجام پارہا تھا۔ میں دیر تک اس گردوارہ میں رہا اور نیچے اوپر اس کے تقریباً ہر حصہ کو چل کر دیکھا۔ میں مسلم دنیا اور غیر مسلم دنیا کے بیشتر مقامات پر گیا ہوں مگر اس قسم کا نظم اور صفائی مجھے کسی اور جگہ دیکھنے کو نہیں ملی۔ اور یہ بات تو نا قابل فہم حد تک تعجب خیز تھی کہ اگر چہ یہاں رات دن لاکھوں کی تعداد میں زائرین آتے ہیں مگر ان زائرین کا مالی استحصال کرنے والا یہاں کوئی نہیں۔
ان سب سے بڑھ کر اعجب العجائب چیز جو وہاں میرے تجربہ میں آئی وہ یہ تھی کہ ان ساری اعلیٰ
ترین سرگرمیوں کا مرکز جو چیز تھی وہ سائنٹفک ذہن رکھنے والے ایک انسان کے لئے توہم (superstition) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اتفاق سے میں ایسے وقت وہاں گیا تھا جب کہ میں اس توہماتی معاملہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا تھا۔
گردوارہ کے درمیانی حصہ میں ایک مخصوص جگہ ہے جہاں وہ مقدس کتاب رکھی ہوئی ہے جس کو گرو گرنتھ صاحب کہا جاتا ہے۔ یہ ایک موٹی، چوکور سائز میں ہاتھ سے لکھی ہوئی کتاب ہے جو سکھ عقیدہ کے مطابق عام معنوں میں صرف ایک کتاب نہیں ہے بلکہ وہ زندہ گرو کی حیثیت رکھتی پوری کتاب ایک خاص کپڑے سے ڈھکی ہوئی تھی۔ اس کو ہر روز سونے کی ایک پالکی میں رکھ کر ایک زندہ آدمی کی طرح اکال تخت لے جایا جاتا ہے۔ اس دوران اس کے رکھنے کی مخصوص جگہ کو اہتمام کے ساتھ دھویا جاتا ہے اور صاف کیا جاتا ہے۔ اور پھر گرو گرنتھ صاحب کو دوبارہ سونے کی پالکی میں رکھ کر واپس لاتے ہیں۔ اس پورے عمل کے دوران وہاں معتقدین کی زبردست بھیڑ رہتی ہے۔ گرو گرنتھ صاحب کے اوپر مورچھل کے ذریعہ مسلسل پنکھا کیا جاتا ہے جیسے کہ وہ سچ مچ کوئی زندہ شخصیت ہو۔
اس پورے معاملہ کی توجیہ کیا ہے، یہ ایک مشکل سوال ہے۔ تجربہ کی روشنی میں ایک بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ اس دنیا میں پراسرار عقیدہ عوام کے لیے ہمیشہ زیادہ طاقتور ثابت ہوا ہے، خواہ وہ کتنا ہی زیادہ خلاف عقل کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس عقلی اور منطقی بات عملاً سب سے زیادہ غیر مؤثر رہی ہے خواہ وہ کتنا ہی زیادہ ثابت شدہ کیوں نہ ہو۔ اس فرق کا سبب غالباً یہ ہے کہ پراسرار چیز میں ہمیشہ برکت کا تصور شامل ہو جاتا ہے۔ اس میں ہر شخص کو اپنی حالت اور ضرورت کے لحاظ سے برکت ملنے لگتی ہے، اگرچہ یہ پورا معاملہ فرضی امیدوں کا کاروبار (false hopes business) کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جو چیز عقلی اور منطقی ہو اس میں لوگوں کو برکت دکھائی نہیں دیتی۔ سکھ دھرم میں گرو گو بند سنگھ کو دسواں گرومانا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ حکم دیا کہ دسویں گرو کے بعد اب کوئی زندہ گرو نہیں ہوگا۔ یہ جو آدی گرنتھ ہے اب سے وہ گرو گرنتھ صاحب کہا جائے گا۔ اس کو لونگ
گرو (living guru) کی طرح مانا جائے۔ سب سکھن کو حکم ہے گرو مانیو گرنتھ۔ یہ ایک عجیب و غریب عقیدہ ہے کہ ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک کتاب کو ہمیشہ کے لئے زندہ گرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک توہماتی قسم کا عقیدہ ہے۔ مگر اس توہماتی عقیدہ کا عملی فائدہ سکھ کمیونٹی کو یہ ملا کہ وہ سیکڑوں سال سے متحد حالت میں قائم ہے۔ ’’ زندہ گرو‘‘ کا یہی غیر زندہ عقیدہ ہے جو سکھوں کو زندہ قوم بنانے میں سب سے زیادہ کارگر ثابت ہوا ہے۔
میرے تجربہ کے مطابق ، سردار لوگوں میں ایک استثنائی صفت ہے اور وہ ہے ڈائرکشن کو فوراً ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ۱۹۶۵ کا ایک واقعہ بتایا۔ اس وقت وہ نینی تال میں تھے۔ انہوں نے ایک سڑک پر دیکھا کہ ایک اسکوٹر والا پیدل چلتے ہوئے ایک نوجوان سے ٹکرا گیا۔ میں کسی کو سخت چوٹ تو نہیں آئی، تاہم دونوں سڑک پر گر پڑے۔ دونوں میں سے ایک بظاہر کمزور تھا اور دوسرا طاقتور اور تنومند۔ طاقتور آدمی کمزور نوجوان کو گرا کر اس کے سینہ پر بیٹھ گیا اور اس کو مارنے لگا۔ عین اُس وقت نوجوان نے پنجابی زبان میں کچھ کہا۔ یہ سن کر اوپر والے آدمی نے اس سے پوچھا: کیا تم نیچے والے نوجوان نے کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد اوپر والے آدمی نے فوراً اس کو چھوڑ دیا اور کہا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا۔ (سبق آموز واقعات، صفحہ ۲۸)
ایک لمحہ میں ڈائرکشن کو بدل لینے کی یہ صفت سردار لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔ اس کا ایک انوکھا مظاہرہ بیسویں صدی کے ربع آخر میں ہوا۔ اس زمانہ میں پنجاب میں علیحدہ اسٹیٹ بنانے کی تحریک ہنگامہ خیز طور پر شروع ہوئی۔ 1984 میں یہ تحریک اتنے عروج پر پہنچ گئی کہ بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ علیحدہ سکھ اسٹیٹ بن کر رہے گا۔
۴ ستمبر ۱۹۸۲ کا واقعہ ہے، لکھنؤ کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان مجھ سے دہلی میں ملے۔ دوران انہوں نے پورے یقین کے ساتھ مجھ سے کہا کہ علیحدہ سکھ ریاست بن کر رہے گی۔ میں نے کہا کہ ہرگز ایسا ہونے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکھ لوگوں کا عزم اتنا زبردست ہے کہ وہ جو چاہتے ہیں کر کے رہتے ہیں۔ اور اس کو بھی وہ کر کے دکھا دیں گے۔
انہوں نے اپنے قلم سے میری ڈائری میں یہ الفاظ لکھے:
Within 3 years Punjabis will have an independent Khalistan.------Bet Rs. 1 lakh. ان کو اس معاملہ میں اتنا زیادہ یقین تھا کہ انہوں نے کہا کہ اگر اب سے ۳ سال کے اندر پنجاب میں علیحدہ سکھ ریاست نہ بنی تو میں ایک لاکھ روپے آپ کو دوں گا۔ اب اس واقعہ پر ۱۶ سال سے زیادہ گزر چکے ہیں مگر جیسا کہ معلوم ہے، سکھ ریاست بننا تو درکنار، اس کا تصور بھی اب سکھوں میں ختم ہو گیا۔
میرا ذہن اس طرح کے معاملہ میں ہمیشہ بالکل صاف رہا ہے۔ میں اول دن سے یہ کہتا رہا ہوں کہ سکھ ریاست کبھی بننے والی نہیں۔ اپریل ۱۹۸۶ کے آخری ہفتہ میں امرتسر میں کچھ سکھوں نے بطور خود آزاد خالصتان کے قیام کا اعلان کر دیا۔ عین اسی زمانہ میں میں نے دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس میں ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان یہ تھا: