Al-Risala · January 2001

You will need information to back up your ideas.

Al-Risala, January 2001, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

معلومات کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ کسی عورت یا مرد کو تیار ذہن (prepared mind) جب اس کے ساتھ غور و فکر (thinking) کا عنصر شامل ہو جائے تو اس کے بعد وہ حضرت علی ابن ابی طالب کے قول کے مطابق اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ چیزوں کو ان کے واقعی اور اصلی مقام پر رکھ سکے (العاقل هو الذي يضع الشی موضعہ)۔

دنیا کی بیشتر فکری اور عملی خرابیاں اسی لئے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ چیزوں کو اس کے اصل مقام پر رکھ کر دیکھ نہیں پاتے۔ اس بنا پر ان کا فیصلہ غلط ہو جاتا ہے اور ان کی منصوبہ بندی بھی غلط۔ اس دنیا میں کامیاب عورت یا مرد وہ ہے جس کو دنیا میں اللہ سے محبت اور خوف اور قربت کی غذا ئیں ملنے لگیں۔ حتیٰ کہ مادی چیز بھی اس کے لئے روحانی رزق کا ذریعہ بن جائے۔ اس اعلیٰ شعوری درجہ کو حاصل کرنے کے لئے ایک اور چیز بے حد ضروری ہے۔ اور وہ سادگی جو عورت یا مرد سادگی کو اپنا طریقہ نہ بنا سکے وہ دنیا کی مادی چیزوں میں گم رہے گا۔ وہ اللہ کی معرفت سے آشنا نہیں ہو سکتا۔

مومن یا مومنہ وہ ہے جس کو ہر دوسری چیز سے زیادہ اللہ پر یقین ہو۔ جس کی دلچسپیوں کا مرکز اللہ کا دین بن جائے۔ جو دنیا سے زیادہ آخرت کا طالب ہو جائے۔ جس کا یہ حال ہو کہ جنت کا شوق اس کے ہر دوسرے شوق پر غالب آ جائے۔

جس عورت یا مرد میں یہ ایمانی صفات پیدا ہو جائیں وہ تعریف اور تنقید سے اوپر اٹھ جاتا دنیوی کامیابی اس کو ناز میں مبتلا نہیں کرتی۔ کسی کا برا سلوک اس کے اندر انتقام کی نفسیات ناکامی کا تجربہ اس کے اندر مایوسی پیدا نہیں کرتا۔ اس کا دل ہر ایک کی خیر خواہی سے بھر جاتا ہے۔ خواہ وہ اس کا اپنا ہو یا کوئی غیر۔ وہ اللہ میں جینے والا بن جاتا ہے نہ کہ غیر اللہ میں

نئی دہلی، ۷ اکتوبر ۲۰۰۰ دعا گو وحید الدین

Printed page