Al-Risala · August 2001

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

Al-Risala, August 2001

By Maulana Wahiduddin Khan

اس فرق کا سبب غالباً یہ ہے کہ سکھ لوگوں کے پاس اپنی تباہی کو جائز ثابت (justify) کرنے کے لئے کوئی شاندار نظریہ موجود نہ تھا۔ جب کہ دوسرے گروہ کے پاس ایسے شاندار نظریات موجود ہیں جن کے ذریعہ وہ خودکشی کو شہادت جیسا خوبصورت عنوان دے سکیں۔

مذکورہ قسم کا ایک تجربہ مجھے کشمیر کے معاملہ میں بھی پیش آیا۔ 27 جنوری1992 کاواقعہ ہے۔ کشمیر کے دو تعلیم یافتہ مسلمان دہلی آئے اور مجھ سے ملاقات کی۔ یہ لوگ خود تو کسی جنگجو تنظیم کے باضابطہ ممبر نہیں تھے مگر وہ کشمیر کی جنگجوئی کی تحریک کے پوری طرح حامی تھے۔ وہ عملی جنگجو نہ ہوتے ہوئے بھی پورے معنی میں فکری جنگجو تھے۔

گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی نام نہاد تحریک کشمیر کسی بھی اعتبار سے درست وہ نہ جہاد ہے اور نہ اس سے اسلامی نظام قائم ہونے والا ہے۔ اور نہ علیحدگی کی کوئی معنویت اس کا نتیجہ بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ انہوں نے پرجوش طور پر اپنی موجودہ تحریک کی حمایت کی اور دعویٰ کیا کہ ہم جلد ہی ایک عظیم کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے میرے کہنے پر اپنے دستخط کے ساتھ حسب ذیل الفاظ میری ڈائری میں لکھے:

ہندوستان سے علیحدگی کے بعد جو کشمیر بنے گا، انشاء اللہ وہ کشمیر اسلامی کشمیر ہوگا۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ آپ لوگوں کی یہ بات بے بنیاد خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں۔ لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ آپ کے اندازے کتنے زیادہ بے حقیقت تھے۔ پھر میں نے اپنی ڈائری میں ان کے سامنے یہ الفاظ لکھے:

بالفرض اگر کشمیر ہندوستان سے علیحدہ ہو تو اس کے بعد جو آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر بنے گا وہ ایک برباد کشمیر ہوگا۔ کشمیر یوں کے لئے چوائس (choice) ہندوستانی کشمیر یا پاکستانی کشمیر میں نہیں ہے۔ ہندوستانی کشمیر یا برباد کشمیر میں ہے۔

اس واقعہ پر اب تقریباً دس سال پورے ہو رہے ہیں۔ اس دس سالہ تجربہ نے آخری طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ مذکورہ کشمیری مجاہد کے الفاظ فرضی خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہ تھے۔ اس کے برعکس میں

نے جو کچھ اللہ کی توفیق سے کہا وہ آج ایک نا قابل انکار حقیقت بن چکا ہے۔ واقعات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کشمیر کا فائدہ نہ آزاد کشمیر بننے میں ہے اور نہ پاکستانی کشمیر بننے میں۔ کشمیر کا فائدہ ہر اعتبار سے یہ ہے کہ وہ ہندوستان کا حصہ بن جائے اور ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ کر پر امن تعمیر کا طریقہ اختیار کر لے۔ ۱۴ ستمبر کی شام کا کھانا گرو نانک یونیورسٹی کے پروفیسر جسوندر سنگھ ڈھلوں (Tel. (0183-258312 کے یہاں تھا۔ کھانے کی میز پر دوسری چیزوں کے ساتھ باسمتی چاول بھی تھا جس کو صاحب خانہ نے اہتمام کے ساتھ بنوایا تھا۔ مجھے ذاتی طور پر لذیذ کھانوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ہر چاول کو یکساں طور پر اللہ کی نعمت سمجھ کر کھاتا ہوں۔ لیکن میز پر باسمتی چاول ہونے کی وجہ سے اس سے متعلق ایک اور گفتگو شروع ہوگئی۔ میں نے پوچھا کہ اخباروں میں آیا ہے کہ امریکہ نے باسمتی چاول کو پیٹنٹ کرا لیا ہے۔ اس کے مطابق ، کوئی دوسرا شخص باسمتی چاول نہیں بیچ سکتا۔ اس بات کو عام طور پر اسی انداز میں لیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے معاملہ صحیح طور پر سمجھ میں نہیں آتا۔ پروفیسر صاحب نے بتایا کہ امریکہ نے جس چیز کو پیٹنٹ کیا ہے وہ خود باسمتی چاول نہیں ہے۔ بلکہ باسمتی چاول کی وہ قسم ہے جس کو وہ خرید کر اپنے انداز میں پراسس کرکے اپنے علیحدہ ٹریڈ مارک کے ساتھ بازار میں لائے گا۔ امریکہ اگر جدید تکنیک کے ذریعہ باسمتی چاول کی ایک قسم تیار کرتا ہے اور اس کو اپنے انداز میں پیک کرتا ہے اور پھر اس کو گولڈن باسمتی کے نام سے بازار میں لاتا ہے تو اس مخصوص نام کے ساتھ کسی اور کو باسمتی چاول بیچنے کی اجازت نہ ہوگی۔

یہی معاملہ ان دوسری چیزوں کا ہے جن کو امریکہ نے پیٹنٹ کیا ہے یا کرا رہا ہے۔ مثلاً نیم ، کریلا ، ہلدی ، وغیرہ۔ ہر چیز کا معاملہ یہی ہے کہ امریکہ نے خود جنس کو پیٹنٹ نہیں کیا ہے اور نہ کر بلکہ اپنے ٹریڈ مارک کو پیٹنٹ کیا ہے جس کے تحت وہ کسی جنس کو مارکیٹ کرنا چاہتا ہے۔ اس معاملے میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ ہندوستانی تاجروں کو یہ ڈر ہوا کہ جس طرح’کو کا کولا‘ نے آکر دوسرے تمام ہندوستانی ڈرنک کو بازار سے باہر کر دیا ہے۔ کیوں کہ خریدنے والے کو کا کولا کی موجودگی میں دوسری چیزوں کی خریداری پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح امریکہ کی ’’گولڈن کوالٹی‘‘ کا باسمتی چاول یا

اور کوئی چیز بازار میں آئے گی تو وہ اپنی کوالٹی یا اپنی پلسٹی کے اعتبار سے اتنی ممتاز ہوگی کہ لوگ اسی پر ٹوٹ پڑیں گے اور ہندوستانی تاجروں کے غیر معیاری سامان کو خریدنا پسند نہ کریں گے، اگر چہ یہ ہندوستانی سامان بھی افراط کے ساتھ بازار میں موجود ہوگا۔ ہندوستانی تاجروں کو کہنا یہ چاہئے تھا کہ امریکہ کے معیاری سامان کی موجودگی میں خود ہندوستانی لوگ ہمارا غیر معیاری سامان نہیں خریدیں مگر ایسا نہ کہہ کر انہوں نے جذباتی الفاظ بول کر امریکہ کو بدنام کرنا شروع کیا۔ تا کہ ان کی نا اہلی چھپی رہے، وہ عوام پر ظاہر نہ ہونے پائے۔

ایک پروفیسر نے تعلیم کے مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم صرف کالج یا یونیورسٹی سے ڈگری لینے کا نام نہیں، تعلیم ایک ایسا مسلسل عمل ہے جو آدمی کی آخر عمر تک جاری رہتا ہے: Education is a life-long process. یہ بات نہایت درست ہے۔ کسی تعلیم گاہ کی ڈگری صرف جاب کے لئے ہوتی ہے نہ کہ علم کے علم ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ جس آدمی کے اندر علم کا ذوق پیدا ہو جائے وہ کسی مقام پر ٹھہر نہیں سکتا۔ عربی کا یہ مقولہ بالکل درست ہے کہ علم تم کو اپنا جزء اس وقت تک نہیں دیتا جب تک کہ تم اپنا کل اس کو نہ دے دو (العلم لا يعطيك جزءه حتى تعطيه كلك)۔

۱۵ ستمبر کی صبح کو گیسٹ ہاؤس میں اول وقت میں نے فجر کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد باہر نکل کر گیسٹ ہاؤس کے وسیع گارڈن میں ٹہلنے لگا۔ اس وقت گارڈن میں تقریباً سناٹا تھا۔ تاہم ہر طرف ہرے بھرے درخت کھڑے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ یہ درخت ہر طرف اپنی خاموش زبان میں قدرت کے پیغامات نشر کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ یہ ہرے بھرے درخت اپنی آس پاس کی دنیا سے کیا کہہ شاید وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر تم اپنی تعمیر چاہتے ہو تو ہماری طرح خاموش عمل کرو۔ ہنگامہ کے ذریعہ تخریب تو کی جاسکتی ہے مگر حقیقی تعمیر شور اور ہنگامہ کے ذریعہ ممکن نہیں۔ ۱۵ ستمبر کو آج کا انگریزی روز نامہ ٹری بیون (چندی گڑھ) دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک نمایاں خبر یہ تھی کہ امریکہ کے "صنعتی شہنشاہ‘ ولیم بل گیٹس (William Bill Gates) چند دن

کے دورے پر ہندوستان آئے ہیں۔ ان کا یہ سفر کس لئے ہوا اس پر غور کیجئے تو ایک اہم حقیقت سامنے

آزادی (۱۹۴۷) کے بعد ملک کے حکمرانوں نے یہاں، اپنے الفاظ میں مخلوط اقتصادیات (mixed economy) کا نظام قائم کیا۔ یعنی پرائیویٹ سیکٹر، اور پبلک سیکٹر کے نام سے سرکاری سیکٹر۔ نام نہاد پبلک سیکٹر نے ملک کو تباہ کرنے کے سوا کوئی اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔ البتہ پرائیویٹ سیکٹر نے مصنوعی پابندیوں کے باوجود، بہت بڑا کام کیا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پبلک سیکٹر کا کوئی ایسا کارنامہ نہیں جس کو دیکھنے کے لئے ترقی یافتہ ملک کے لوگ ہندوستان آئیں ۔ جب کہ پرائیویٹ سیکٹر نے ایسے کئی نمایاں کام کئے ہیں جن کو دیکھنے اور ان سے معاملہ کرنے کے لئے ترقی یافتہ ملکوں کے لوگ روزانہ یہاں آرہے ہیں۔ انہی میں سے ایک کمپیوٹر یا انفارمیشن ٹکنالوجی ہے۔ جس نے پچھلے برسوں میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔ یہ ترقی صد فی صد پرائیویٹ سیکٹر کے تحت انجام پائی ہے۔ اسی کو دیکھنے کے لئے امریکہ کے مذکورہ صنعت کار ہندوستان آئے۔

۱۵ ستمبر کو ساڑھے دس بجے یونیورسٹی کے ہال میں تقریر کا انتظام تھا۔ یہاں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے اساتذہ تھے۔ ان میں کچھ سینئر افراد بھی موجود تھے۔ مثلاً بابا نریندر سنگھ (عمر ۹۲ سال) ان سے میں نے پوچھا کہ آپ اپنا کوئی تجربہ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا تجر بہ تو یہی ہے کہ آج آپ سے ملاقات ہو گئی۔

میرے خطاب سے پہلے یونیورسٹی کے بعض ذمہ داروں نے تقریریں کیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے درمیان اسلام کے ایک بڑے عالم موجود ہیں۔ ہم ان سے جاننا چاہیں گے کہ اسلام کی تعلیمات کیا ہیں اور انسانیت کے لئے اس کا نظریہ کیا ہے۔ اس کے بعد مجھے موقع دیا گیا۔ میں نے اپنی ۴۵ منٹ کی تقریر میں تفصیل کے ساتھ اسلام کے انسانی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور قرآن وحدیث کے حوالوں سے اس کو واضح کیا۔

تقریر کے بعد سوال وجواب کا وقفہ تھا۔ لوگوں نے کثرت سے سوالات کئے ۔ مردوں نے بھی

اور خواتین نے بھی۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ کے یہاں یہ قانون ہے کہ کوئی غیر مسلم کعبہ میں نہیں اب اگر کوئی شخص اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے تو وہ کیسے اسلام کو سمجھے گا۔ میں نے کہا کہ اسلام کو سمجھنے کے لئے مکہ جا کر کعبہ کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ جو حج کی استطاعت نہیں رکھتے وہ کعبہ کو دیکھے بغیر مرجاتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کو مسلمان ہی مانا کعبہ نہ دیکھنے کی وجہ سے ان کے اسلام میں کوئی کمی نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ اسلام کیا ہے اس کو جاننے کے لئے آپ کو قرآن وحدیث وسیرت رسول کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ یہی چیزیں اسلام کا اصل کعبہ کی زیارت کا تعلق اسلام کو سمجھنے سے نہیں ہے بلکہ اسلام کو مان لینے کے بعد اس کے احکام کی تعمیل سے ہے۔

پھر میں نے کہا کہ کعبہ یا بیت اللہ کے سلسلہ میں ”پابندی“ صرف غیر مسلموں کے لئے نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ حرم کعبہ میں داخل ہو کر وہاں کسی کو ستائیں یا خون بہائیں۔ حتیٰ کہ کسی جانور کا بھی نہیں۔ اس دو طرفہ حرمت کا سبب کعبہ کو پاک مسلمانوں پر یہ پابندی اس لئے ہے تاکہ وہ بیت اللہ کو اپنی سیاست کا اڈہ نہ بنائیں ۔ مسلموں پر جو پابندی ہے وہ اس لئے ہے تا کہ وہ اس کو بتوں کا اڈہ نہ بنائیں جیسا کہ ظہور اسلام سے پہلے کیا گیا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام سے پہلے وہاں یہ پابندی نہ تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بت پرست لوگوں نے اپنے اپنے بت لا کر کعبہ میں رکھنا شروع کر دئے یہاں تک کہ وہ ۳۶۰ بتوں کا مرکز موجودہ پابندی اس لئے ہے کہ یہ تاریخ دوبارہ کعبہ میں دہرائی نہ جاسکے۔ یونیورسٹی کا یہ ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس میں یونیورسٹی کے علاوہ دوسرے کالجوں کے اساتذہ بھی شریک تھے۔ اسلام کے بارے میں کثرت سے سوالات کئے گئے ۔ میں نے ہر سوال کا جواب معتدل انداز میں دیا۔ لوگ خدا کے فضل سے مطمئن ہو گئے۔ ایک سوال یہ تھا کہ کچھ مسلم ملکوں میں قرآن کا قانون نافذ کیا جا رہا ہے جس کی خبریں میڈیا میں آ رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ اس وقت کوئی بھی مسلم ملک ایسا نہیں ہے جہاں واقعی معنوں میں قرآن کے قانون کو نافذ کیا گیا ہو۔ جو کچھ آپ سنتے

ہیں وہ قرآن کے نام پر اپنی پالیٹکس چلانا ہے۔ وہ اسلام کو exploit کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اسلام کے ہنگامے تو بہت سنتے ہیں مگر اسلام کی رحمتیں اور برکتیں کسی مسلم ملک میں دکھائی نہیں دیتیں۔ امرتسر کی گرو نانک یونیورسٹی میں انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مقامی نمائندہ رچنا سویر سین (553618:Tel) نے ملاقات کی۔ انہوں نے اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق کچھ مسلمانوں سے تھا اور کچھ ملک سے۔ ایک سوال کے جواب میں، میں نے کہا کہ مسلم کمیونٹی کی تصویر جو آپ کے ذہن میں ہے وہ حقیقی تصویر نہیں ہے، بلکہ اخباری تصویر ہے۔ لوگ اخباروں میں جو کچھ پڑھتے ہیں اسی سے مسلم کمیونٹی کے بارے میں رائے بناتے ہیں۔ اخبارات یا میڈیا کا حال یہ ہے کہ وہ سلیکٹر رپورٹنگ کا ادارہ ہے۔ مزید یہ کہ اپنے مخصوص مزاج کی بناپر میڈیا زیادہ ترمنفی خبروں کو رپورٹ کرتا ہے۔ اور مثبت خبروں کو چھوڑ دیتا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لئے آپ لوگوں کو اخباری دائرہ سے باہر آنا چاہئے۔ اس کے بغیر آپ لوگ نہ مسلمانوں کے بارے میں درست رائے قائم کر سکتے ہیں اور نہ غیر مسلموں کے بارے میں۔ امرتسر میں بار بار شہر کے اندر جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے دیکھا کہ یہاں کی سڑکیں دوسرے شہروں کے مقابلہ میں نسبتاً بہتر ہیں، چوڑی اور صاف ستھری بھی۔ فٹ پاتھ پر وہ مناظر بھی نہیں تھے جو عام طور پر ہندوستانی شہروں میں ہوتے ہیں۔

یہاں کے ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ پنجاب کے بارے میں میں نے سنا ہے کہ یہاں کے لوگ زیادہ تر ایگریکلچر میں مصروف رہتے ہیں۔ انڈسٹری میں وہ زیادہ آگے نہ بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں کی زمین اچھی ہے اور زراعت میں انہیں بہت آسانی سے معقول آمدنی ہو جاتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں انڈسٹری کا شعبہ انہیں زیادہ محنت طلب معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے وہ زیادہ تر زراعت ہی میں مشغول رہنا پسند کرتے ہیں۔ پنجاب میں زرخیز زمین کی وجہ سے یہاں کے لوگ زیادہ تر زراعت میں رہ گئے۔ میں زرخیز زمین نہ تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کے لوگوں نے صنعت اور تجارت میں محنت کر کے اعلیٰ

اس دنیا میں ناموافق حالات بھی اپنے اندر عظیم موافق پہلو رکھتے ہیں۔ ۱۵ ستمبر کی شام کو چندی گڑھ کے اخبارٹری بیون کے نمائندہ مسٹر اشوک سیٹھی مقیم امرتسر (223680 :.Tel) نے انٹرویو لیا۔ سوالات کے دوران میں نے کہا کہ فرق اور اختلاف فطرت کا حصہ ہے۔ آپ ان کو ختم نہیں کر سکتے۔ اس لئے فرق و اختلاف کے ساتھ زندہ رہنے کا آرٹ سیکھنا چاہئے نہ کہ فرق و اختلاف کو ختم کر کے یکساں سماج بنانے کی کوشش کی جائے، کیوں کہ وہ ممکن ہی نہیں۔

۱۵ ستمبر کی شام کو امرتسر سے جالندھر کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ سفر شان پنجاب ایکسپریس کے ذریعہ طے ہوا۔ یہ تقریباً ایک گھنٹہ کا سفر تھا۔ ’’شان پنجاب ایکسپریس‘‘ نام کے اعتبار سے بظاہر جتنی شاندار معلوم ہوتی ہے حقیقت کے اعتبار سے وہ اتنی شاندار نہیں۔ اس کی بوگیاں پرانی نظر آئیں ۔ ہندوستان میں چند ٹرینیں تو واقعی اعلیٰ معیار کی نظر آتی ہیں۔ مگر بیشتر ٹرینیں خستہ حالت یہی حال پٹریوں کا بھی ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آئے دن اخباروں میں ٹرین حادثات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان میں بھی اس قسم کے مسائل کا حل وہی ہے جو مغربی ملکوں میں ہوا ہے۔ یعنی اس قسم کے تمام اداروں کو پرائیویٹ ملکیت میں دے دینا۔ پبلک سیکٹر یا سرکاری سیکٹر ہی ان تمام مسائل کا اصل سبب ہے۔ جواہر لال نہرو اور ان کے ساتھی کرشنا مینن یہ کہا کرتے تھے کہ پبلک سیکٹر کو ہم نے اس لئے قائم کیا ہے کہ سرکاری کنٹرول کے ذریعہ ہم ان کو اعلیٰ کار کردگی کا نمونہ بنائیں تاکہ اس کو دیکھ کر پرائیویٹ سیکٹر بھی اچھی طرح کام کر یہ الفاظ گرامر کے لحاظ سے درست تھے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط۔ کیونکہ حسن کار کردگی کا موثر ذریعہ آزادانہ کمپटीशन ہے، نہ کہ سرکاری کنٹرول۔ پبلک سیکٹر میں ذاتی انٹرسٹ کا دباؤ موجود نہیں ہوتا اس لئے پبلک سیکٹر میں بہتر کام بھی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس پرائیویٹ سیکٹر میں یہ دباؤ مسلسل طور پر موجود رہتا ہے۔ اس لئے یہاں ہر آدمی خود اپنے انٹرسٹ کے تحت مجبور ہوتا ہے کہ وہ بہتر کار کردگی کا نمونہ پیش کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ پبلک سیکٹر کی اس مفروضہ منطق نے ملک کو اتنا پیچھے کر دیا کہ اب وہ خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہی نہ رہا۔ یہاں تک کہ نو آبادیاتی نظام (colonialism) دوبارہ ملک کے اندر داخل ہو گیا۔ پہلے وہ براہِ راست طور پر سیاسی طاقت کے ذریعہ آیا تھا۔ اب وہ بالواسطہ انداز میں اقتصادی طاقت کے ذریعہ ملک میں آرہا ہے۔

۱۵ ستمبر کو مسٹرونے کمار کے ساتھ روانہ ہو کر امرتسر ریلوے اسٹیشن پر پہنچا۔ یہاں شان پنجاب ایکسپریس آچکی تھی اور پلیٹ فارم پر کھڑی ہوئی تھی۔ تاہم سیٹ تلاش کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی اور جلد ہی ہم لوگ گاڑی کے اندر اپنی سیٹ پر پہنچ چکے تھے۔ اس ٹرین سے چل کر مجھے جالندھر پہنچنا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ آپ اسٹیشن سے اتر کر پلیٹ فارم پر ٹھہرے رہیں۔ اسپک میکے کے لوگ وہیں پلیٹ فارم پر آ کر آپ کو لے جائیں گے۔ چنانچہ میں دیر تک پلیٹ فارم پر کھڑا رہا۔ آخر کار جب ٹرین چلی گئی اور پلیٹ فارم مسافروں سے خالی ہو گیا تو میں نے سوچا کہ یہاں سے چل کر گیٹ پر پہنچنا چاہئے۔ پہنچا تو وہاں اسپک میکے کا بینر لئے ہوئے دو نو جوان میرے انتظار میں موجود تھے۔ یہ دونوں انجینئر نگ کے طالب علم تھے جن میں سے ایک کا نام ابو شیخ تھا اور دوسرے کا نام مسٹر جارج تھا۔ یہ ’’حادثہ‘‘ کیوں اس کا سبب کمیونی کیشن گیپ (communication gap) ہے۔ امرتسر سے ٹیلی فون کرنے والوں نے انہیں بتایا کہ وہ گیٹ پر موجود رہیں، میں گیٹ پر انہیں مل جاؤں گا۔ مگر امرتسر میں جن صاحب نے مجھ کو بتایا انہوں نے مجھ سے یہ کہا کہ جالندھر میں آپ کا استقبال کرنے والے پلیٹ فارم پر موجود رہیں گے، آپ وہیں ٹھہریں۔ پیغام رسانی کے اس فرق نے مسئلہ پیدا کیا۔ اس طرح کے معاملات میں انتہائی محدود الفاظ میں پیغام رسانی ہونی چاہئے تاکہ طرفین کو غیر مشتبہ طور پر طے شدہ بات کا علم ہو۔ مگر میرا تجربہ ہے کہ معاملات میں محدود اور متعین (specific) انداز میں اطلاع دینا بہت کمیاب ہے۔ بیشتر لوگ غیر محدود انداز میں بات کرنے کے عادی ہیں۔ بیشتر حالات میں لوگوں کے درمیان مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

جالندھر ریلوے اسٹیشن سے مسٹر ابو شیخ اور مسٹر جارج کے ساتھ روانہ ہو کر شہر پہنچا۔

قيام ڈاکٹر امبیڈکر انجینئرنگ کالج میں تھا۔ یہ کالج اعلیٰ تکنیکل تعلیم کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ ایکڑ کے رقبہ میں واقع ہے۔ یہ ایک خود کفیل کالج ہے۔ یہاں ہر قسم کی ضرورتیں خود کالج کے کیمپس میں پوری ہو جاتی ہیں۔ میرا قیام اس کالج کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔

مسٹر گورپریت سنگھ ڈاکٹر امبیڈکر کالج میں انجینئرنگ کے لکچرر ہیں۔ وہ میرے کمرے میں آئے اور کہا کہ میں نے زی ٹی وی پر آپ کو دیکھا تھا۔ مجھے آپ کی بات اچھی لگی۔ پھر جب معلوم ہوا کہ آپ ہمارے کالج میں آرہے ہیں تو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ آج شام کو یہاں صوفی میوزک کا ایک پروگرام ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کچھ دیر کے لئے اس میں چلیں۔ میں نے معذرت کی مگر پھر ان کے اصرار پر جانے کے لئے تیار ہو گیا۔

یہ پروگرام میرے ذوق کے مطابق نہ تھا۔ مثال کے طور پر یہاں عجیب و غریب طور پر اچھل کود کے انداز میں طلسماتی کہانیاں سنائی جارہی تھیں۔ ایک کہانی یہ تھی کہ دو عورتیں ایک بزرگ کے یہاں دونوں کا مسئلہ یہ تھا کہ ان کے یہاں بچہ پیدا نہیں ہوا تھا۔ بزرگ نے دونوں کو ایک ایک کھجور دی اور کہا کہ اس کو نگل کر کھا لینا۔ اس کے بعد ایک عورت کے یہاں بچہ پیدا ہوا اور دوسرے کے یہاں بچہ پیدا نہیں ہوا۔

پھر کچھ عرصہ بعد وہ عورتیں دوبارہ مذکورہ بزرگ کے پاس آئیں ۔ بزرگ نے دیکھا کہ ایک عورت کی گود میں بچہ ہے اور دوسری عورت کی گود میں بچہ نہیں۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ایک عورت نے کھجور کو کھا لیا تھا۔ چنانچہ اس کے یہاں بچہ پیدا ہوا۔ دوسری عورت نے کھجور کو طاق پر رکھ دیا اور اس نے بزرگ نے دوسری عورت سے کہا کہ تم نے اس کھجور کو کھجور سمجھ کر طاق پر رکھ دیا۔ بچہ تھا اب دوبارہ جا کر تم اسے دیکھو۔ اس کے بعد عورت اپنے گھر واپس آئی اور کھجور کو توڑ کر دیکھا تو اس کے اندر واقعۃً ایک بچہ موجود تھا۔

یہ بلاشبہ ایک جھوٹی کہانی ہے۔ مگر اسی قسم کی بے اصل اور بے بنیاد کہانیوں پر بزرگی اور برکت کا وہ کاروبار قائم ہے جو ہندو اور مسلمان دونوں کے یہاں یکساں طور پر موجود ہے۔

بزرگ ، حتی کہ ہر مقدس جماعت کے گرد بے بنیاد قسم کی کہانیوں کا ایک طلسماتی جال بچھا دیا گیا ہے۔ افسانوی داستانوں کو اتنا زیادہ دہرایا جاتا ہے کہ لوگ اس پر یقین کر لیتے ہیں۔ میرے تجربہ کے مطابق ، اس دنیا میں سب سے زیادہ جس چیز کی کمی ہے وہ علمی طرز فکر ہے۔ کمی مذکورہ قسم کے لوگوں کے لئے نہایت زرخیز زمین کی حیثیت رکھتی ہے۔ خواب اور مکاشفات اور کرامات کی ” طلسم ہوش ربا“ اسی غیر علمی ذہن پر قائم ہے۔ اسلام اس توہماتی مذہب کو ختم کرنے کے لئے آیا تھا مگر مسلمانوں نے خود ساختہ اضافوں کے ذریعہ اپنی محبوب شخصیتوں اور اپنی محبوب جماعتوں کے گرد توہمات کی وہ پوری دنیا آباد کر لی جو نہ صرف غیر حقیقی ہے بلکہ وہ اسلام کی اصل اسپرٹ کو ذبح کرنے کے ہم معنی ہے۔

۱۹۴۷ سے پہلے جالندھر میں کافی مسلمان تھے۔ تقسیم کے بعد جالندھر مسلمانوں سے خالی ہو گیا ۔ اب دوبارہ کچھ مسلمان یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ حفیظ جالندھری کا نام کافی مشہور ہے۔ انہوں نے شاہنامہ اسلام لکھی تھی جو ایک زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بہت مقبول ہوئی۔ سوچا کہ ” شاہنامہ اسلام“ کی قسم کی کتابیں تو بہت سے مسلمانوں نے لکھیں۔ مسلمانوں کی ہر زبان میں اس قسم کی کتابیں کثرت سے ملتی ہیں مثلاً عربی میں فتوح الشام ، وغیرہ۔ مگر دعوت نامہ اسلام‘‘ شاید کسی بھی مسلمان نے نہیں لکھی۔ نہ اردو میں اور نہ دوسری کسی زبان میں۔ دعوت کے موضوع پر واحد قابل ذکر کتاب ایک برطانی اسکالر پروفیسر ٹامس آرنلڈ (Thomas Arnold) کی ہے۔ ساڑھے چار سو صفحہ کی اس کتاب کا نام پر بیچنگ آف اسلام (The Preaching of Islam) ہے۔ وہ پہلی بار لندن سے ۱۸۹۶ میں شائع ہوئی تھی۔

اس کتاب کو حال میں نئی دہلی کے ایک پبلشنگ ادارہ گڈ ورڈ بکس (Goodword Books) نے زیادہ بہتر گٹ اپ (get up) کے ساتھ چھاپا ہے۔ اس کتاب کا موجودہ نام یہ ہے: The Spread of Islam in the World آج کا ٹائمس آف انڈیا (۱۲ ستمبر (۲۰۰۰) دیکھا۔ اس کے صفحہ اول پر واشنگٹن کی ڈیٹ لائن

کے ساتھ دلیپ ووکر کی لکھی ہوئی ایک رپورٹ چھپی تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ واشنگٹن میں اٹل بہاری واجپئی کی موجودگی میں امریکی صدر کلنٹن نے ایک تقریر کی ۔ انہوں نے انڈیا کو ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انفارمیشن ٹکنالوجی میں حیرت ناک ترقی کر رہا ہے: He saluted India as a ‘‘rising economic leader, making breath-taking strides in information technology. اس کو پڑھتے ہوئے میں نے سوچا کہ ہندوستان کو اس ’’حیرت ناک ترقی‘‘ تک کس نے پہنچایا۔ یقینی طور پر اس ملکی حکومت نے نہیں جو بے شمار قربانیوں کے بعد1947 میں قائم ہوئی تھی۔ نے تو سوشلزم کے نام پر وہ چیز قائم کی جس کو راج گوپال اچاری لائسنس پرمٹ راج کہا کرتے تھے۔ لائسنس اور پرمٹ نظام نے ملک کی اقتصادیات کو صرف تباہ کرنے کا کام کیا ہے۔ ملک کی یہ خوش قسمتی تھی کہ نام نہاد پبلک سیکٹر کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی زندہ رہنے کا موقع یہی پرائیویٹ سیکٹر ہے جس نے ملک کو اس ترقی سے ہم کنار کیا۔ ورنہ جہاں تک نام نہاد پبلک سیکٹر کا تعلق ہے اس نے تو ۵۰ سال کے دوران صرف دو منفی کارنامے انجام دئے ہیں۔ پہلے تو ملک کی دولت کو سمیٹ کر غیر نفع بخش کاموں میں انوسٹمنٹ (investment)، اور پھر اس غیر نفع بخش سرمایہ کاری کا ڈس انوسٹمنٹ (disinvestment)۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کسی چیز سے سبق لینے میں سب سے بڑی چیز جور کاوٹ بنتی ہے وہ یہ کہ آدمی کے اندر سبق لینے کا ذہن موجود نہ ہو۔ دنیا میں بے شمار چیزیں موجود ہیں جو اپنے ساتھ نصیحت اور سبق کا دفتر لئے ہوئے ہیں۔ مگر آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہیں یا تو وقتی تفریح سے دلچسپی ہے یا مادی انٹرسٹ سے۔ کسی کے اندر یہ جذبہ ہی نہیں کہ وہ چیزوں سے سبق جب لوگوں کا مزاج ایسا ہو تو اس کے بعد یہی ہوگا کہ نصیحت اور سبق کے ہجوم میں بھی وہ نصیحت اور سبق لینے سے محروم رہیں گے ۔

۱۶ ستمبر کو میں جالندھر میں تھا۔ صبح کو اول وقت فجر کی نماز پڑھنے کے بعد گیسٹ ہاؤس کے باہر اور اس کے وسیع لان میں ٹہلنے لگا۔ صبح کا سہانا سماں تھا۔ لان کی گھاس سبز فرش کی مانند دکھائی دے

جگہ جگہ ہرے درخت کھڑے ہوئے تھے اسی کے ساتھ چڑیوں کی آوازیں اور کھلا ماحول، ان چیزوں نے پورے ماحول کو پر تاثیر بنا دیا تھا۔ اس قسم کا قدرتی ماحول میرے لئے ہمیشہ ربانی انسپریشن (inspiration) کا ذریعہ ہوتا ہے۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھلے ماحول میں گھاس کے اوپر نماز پڑھنا پسند فرماتے تھے۔ اس کے علاوہ اور بھی متعدد آیتیں اور حدیثیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ روحانی انسپریشن کا سب سے بڑا ذریعہ خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت ہے۔ یہ فطرت خدا کی صفات کمال کا تعارف کراتی ہے۔ اگر آدمی کے اندر اخذ کا مادہ بیدار ہو چکا ہو تو فطرت کی پوری دنیا آدمی کے لئے ربانی تربیت کا ذریعہ بن جائے گی۔

ایک تعلیم یافتہ سکھ سے ملاقات ہوئی۔ وہ سکھ دھرم کو سب سے اونچا دھرم سمجھتے تھے۔ نے کہا کہ سکھ دھرم میں جو کھلا پن ہے وہ کسی اور دھرم میں نہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام کو دیکھئے ۔ وہاں یہ حال ہے کہ کوئی نان مسلم کعبہ کی مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا۔ صرف مسلمان ہی جا سکتا ہے۔ جب کہ سکھوں کا سب سے مقدس استھان دربار صاحب (امرتسر) ۲۴ گھنٹہ ہر ایک کے لئے کھلا رہتا ہے۔ وہاں کسی کے جانے پر کوئی پابندی نہیں۔ ہر مذہب کا آدمی ہر وقت وہاں جا سکتا ہے۔

میں نے کہا کہ کسی مذہب کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لئے یہ کوئی صحیح معیار نہیں کہ یہ دیکھا جائے کہ وہاں کتنا کھلا پن ہے اور کتنا کھلا پن نہیں۔ کسی لبرل ادارے میں آپ جائیں تو وہاں اور بھی زیادہ کھلا پن نظر آئے گا حالانکہ وہ لوگ مذہب کو مانتے ہی نہیں۔ مذاہب کے تقابلی مطالعہ میں دیکھنے کی اصل چیز یہ ہے کہ اس کی تعلیمات کتنی زیادہ مبنی بر صداقت ہیں۔ اس سے وابستہ شخصیتیں تاریخی ہیں یا غیر تاریخی۔ اس کی مقدس کتاب میں تحریفات ہوئی ہیں یا ابھی تک وہ غیر محرف حالت میں اس کی تعلیمات علمی جانچ (scientific scrutiny) پر پوری اترتی ہیں یا نہیں۔ مختلف معاملات میں اس کے پاس رہنمائی کی کیا اسکیم ہے۔ انسان کی مجموعی ترقی کے لئے اس کی

تعلیمات کس حد تک کارآمد ہیں۔ وہ انسان کے ذہنی اور عقلی ارتقاء کا ساتھ دیتا ہے یا نہیں۔ اس کا جو ابتدائی ماخذ (source) ہے وہ کس حد تک قابل اعتبار (credible) ہے۔

ایک پروفیسر صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کی تحریریں پڑھی ہیں آپ اسلام کو ایک پرامن مذہب کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر عام طور پر اس کی جو تصویر ہے اس کے مطابق ، تو اسلام ایک تشدد کا مذہب ہے۔ کیوں کہ اسلام میں سب سے بڑی عبادت جہاد بتائی گئی ہے۔ حالت میں آپ اسلام کو امن کا مذہب کیسے کہتے ہیں۔

میں نے کہا کہ اس قسم کی باتیں صرف غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے ۲۳ سال میں اترا۔ اس ۲۳ سالہ مدت کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک حصہ تقریباً ۲۰ سال کی مدت تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا دوسرا حصہ تقریباً ۳ سال پر مشتمل ہے۔ سال وہ ہیں جب کہ وہاں معتدل حالات تھے۔ اس مدت میں قرآن کی عمومی تعلیمات اتریں۔ کی سب براہ راست یا بالواسطہ طور پر امن کے اصول سے تعلق رکھتی ہیں۔

تین سالہ دور وہ ہے جب کہ مسلمانوں پر متشددانہ حملہ کیا گیا۔ اور مسلم معاشرہ میں جنگ کی حالت (state of war) قائم ہوگئی۔ اس زمانہ میں جو احکام اترے وہ ایسے احکام تھے جو ہنگامی حالات میں دئے جاتے ہیں۔ اس طرح کے ہنگامی حالات میں ہر مذہب اور ہر سوسائٹی کو وہ احکام دئے جاتے ہیں جو دفاع کی وقتی ضرورت پر مبنی ہوتے ہیں۔ جو لوگ اسلام کو تشدد کا مذہب ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کرتے ہیں کہ ۳ سال کی ہنگامی مدت میں قرآن کی جو آیتیں اتریں ان کو ان کے سیاق (context) سے ہٹا کر انہی کو قرآن کی اصل تعلیمات قرار دے دیتے ہیں۔ یہ گویا استثناء (exception) کی تعمیم (generalisation) ہے، جو کسی بھی سسٹم کو سمجھنے کے لئے درست اور منصفانہ

ایک صاحب نے کہا کہ مسلمان اپنے سوا دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں اور اس کا سبب خود اسلام کی تعلیمات ہیں۔ قرآن کے مطابق، مسلمانوں کے سوا جو لوگ ہیں وہ سب

کے سب کافر ہیں۔ مسلمان ان کو کافر کہتے ہیں۔ اس قسم کے عقیدہ کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو دوسروں کے بارے میں نفرت اور حقارت پیدا ہو جائے۔

میں نے کہا کہ کافر کا یہ مطلب نہیں۔ کافر کا لفظی مطلب ہے انکار کرنے والا۔ اور یہ مسلمان کا کلمہ نہیں ہے بلکہ یہ خدا کا کلمہ ہے۔ قرآن میں جہاں بھی کافر کا لفظ آیا ہے وہ خدا کی طرف سے ہے نہ کہ مسلمانوں کی طرف سے۔ "ایھا الکافرون‘‘ خدا کا قول ہے۔ خود پیغمبر نے کبھی ایھا الکافرون کے لفظ سے خطاب نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اے لوگو، اے میری قوم، اے انسانو، جیسے الفاظ سے خطاب کیا۔ کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو کافر کہے یا اس کے کافر ہونے کا اعلان کرے۔ یہ بہت بڑی جسارت ہے اور اپنی حد سے تجاوز کرنا ہے۔ یہ تمام تر خدا کا کام ہے کہ وہ اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر کسی کو کافر (منکر) قرار دے۔ کسی کے کافر (منکر) ہونے کا تعلق دو چیزوں سے ہے۔ ایک یہ کہ اس پر اتمام حجت کیا جا چکا ہو۔ اور دوسرے یہ کہ وہ فی الواقع سمجھ بوجھ کر انکار کی روش پر قائم رہے۔ باتوں کا حقیقی علم صرف خدا کو ہے۔ اس لئے صرف خدا ہی کو یہ حق ہے کہ وہ کسی کو کافر قرار دے۔ یہ ہے کہ کسی کے بارے میں یہ اعلان کرنا کہ وہ کافر ہے یہ خدا کے خصوصی اختیار کی بات ہے۔ مسلمان اگر ایسا کرے تو ایک حدیث کے مطابق، یہ اندیشہ ہے کہ وہ خود اس چیز کا مجرم بن جائے جس کا الزام وہ دوسروں کو دے رہا تھا۔

کون شخص حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے، اس کا اعلان کرنے کا حق صرف خدا کو ہے۔ کی ذمہ داری آخر وقت تک صرف یہ ہے کہ وہ دعوتی عمل کے ذریعہ خدا کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائے۔ اس کے بعد لوگوں کے انجام کا فیصلہ کرنا صرف خدا کی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی دوسرے شخص کو اس کا حق اس معاملہ میں اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کے بارے میں کافر ہونے کا اعلان کرے تو گویا کہ یہ خدا کی عمل داری (Jurisdiction) میں داخل ہونا ہے۔ جو بذات خود ایک سنگین جرم ہے۔ خدا سے ڈرنے والا کوئی انسان اس کی جرات نہیں کر سکتا۔

ایک تعلیم یافتہ سردار نے کہا کہ اسلام میں عورت کو مرد کے مقابلہ میں دوسرے درجہ پر رکھا گیا

اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتی گواہی کے معاملہ میں قرآن میں بتایا گیا ہے کہ دو عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے (البقرہ ۲۸۲)۔

میں نے کہا کہ یہ کمتر درجہ (degradation) کی بات نہیں ہے بلکہ ایک فطری حقیقت کا لحاظ کرنے کی بات ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بوجھ اٹھانا ہو تو یہ کہا جائے کہ جوان آدمی ہو تو ایک ہی آدمی اس کو اٹھانے کے لئے کافی ہے اور اگر بوڑھا آدمی ہو تو دو آدمی اس کو اٹھانے کے لئے درکار ہوں گے۔ یہی معاملہ مذکورہ قانون کا ہے۔ طب اور حیاتیات اور نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ عورت اور مرد کی بناوٹ میں بے حد بنیادی فرق ہے۔ مرد عام طور پر سال بھر یکساں حالت میں رہتا ہے۔ جب کہ عورت پر مختلف فطری اسباب سے داخلی تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی یادداشت متاثر ہوتی اس کے اندر جھنجھلاہٹ آ جاتی ہے۔ اکثر وہ جذباتی ہو جاتی ہے۔ کسی واقعہ کو ترکز (concentration) کے ساتھ دیکھنا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی عورت کے مزاج کے خلاف ہے کہ وہ کامل خاموشی کے ساتھ کسی خارجی واقعہ کا معائنہ کرے۔ اس قسم کے فطری فروق (differances) کی بنا پر ایسا کیا گیا کہ گواہی کے لئے ایک مرد کی جگہ دو عورت کو مقرر کیا گیا تاکہ، خود قرآن کے الفاظ میں، ایک عورت کے بیان میں کچھ کمی ہو تو دوسری عورت اس کی تلافی کردے۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہمارے علماء عام طور پر تنقید اور اختلاف کو پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ ہمارے تمام دینی اداروں میں تنقید کو ایک امر ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات علماء اور طلبہ دونوں کے لئے سخت مضر ہے۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے ذہنی ترقی کا عمل (process) رک جاتا میں نے کہا کہ ۱۵ ستمبر ۲۰۰۰ کو گرو نانک یونیورسٹی کے اجتماع میں میرا سامنا (encounter) اساتذہ اور تعلیم یافتہ لوگوں سے ہوا جو تقریبأ سب کے سب غیر مسلم تھے۔ میری تقریر کے بعد ان لوگوں نے’’بوچھاڑ‘‘ کے انداز میں اسلام پر اپنے اعتراضات پیش کرنا شروع کردئے۔ یہ میرے لئے ایک غیر متوقع صورت حال تھی۔ کوئی عام آدمی اس کو دیکھ کر یہ کہتا کہ دیکھو یہ لوگ اسلام کے خلاف اپنے دل

کا بخار نکال رہے ہیں۔ مگر میرا مزاج خدا کے فضل سے اس قسم کا نہیں ہے۔

میں ہر سوال کو خالص علمی سوال کے طور پر لیتا ہوں ، اس کو نیت کا مسئلہ نہیں بناتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان تیز وتند سوالات نے خود میرے ذہن کو کھول دیا۔ اسلام کے خلاف اعتراضات کی زیادہ معقول اور مؤثر وضاحت میری سمجھ میں آگئی۔ چنانچہ پروگرام کے بعد مختلف حاضرین نے کہا کہ آپ کے جوابات سے بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئیں اور اسلام کے بارے میں ہماری غلط فہمیاں دور ہوئیں ۔

پنجاب کے سفر میں ایک بات یہ سمجھ میں آئی کہ مذاہب میں بعد کے زمانہ میں بگاڑ کس طرح سکھ دھرم تقریباً ۵۰۰ سال پہلے وجود میں آیا۔ اس کے بانی گرو نانک تھے۔ اس کے بعد ان کے درمیان کئی گرو پیدا ہوئے ۔ ان کے آخری گرو گوبند سنگھ تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب میرے بعد کوئی گرو نہیں ہوگا۔ آئندہ کے لئے انہوں نے کہا کہ سب سکھن کو حکم ہے گرو مانیو گرنتھ۔ دسویں گرو کے اس قول کا مطلب بظاہر یہ تھا کہ آئندہ تمہیں کسی کو گرو نہیں ماننا ہے بلکہ اسی کتاب (گرنتھ) سے اپنے لئے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ اس کو پڑھتے رہو اور اس کی باتوں پر عمل مگر بعد کو کچھ لوگوں نے دسویں گرو کے الفاظ کی خود ساختہ تشریح کر کے اس کو یہ معنی دے دیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ گرو گرنتھ صاحب کی حیثیت ہی اب ہمارے لئے زندہ گرو کی ہے۔ ساختہ تشریح سے زندہ گرو (living guru) کا تصور پیدا ہوا۔ حتیٰ کہ کتاب (گرنتھ) کے ساتھ وہ رسوم ادا کی جانے لگیں جو ایک زندہ شخصیت کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ مثلاً پنکھا جھلنا، پالکی میں یہاں سے وہاں لے جانا، وغیرہ۔

اسی قسم کی صورتیں ہر مذہب میں پیش آئیں ، حتیٰ کہ خود اسلام میں بھی۔ مگر اسلام کے متن کو اللہ نے کامل طور پر محفوظ کر دیا ہے۔ اس لئے بعد کے زمانہ میں کسی کے لئے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ خود متن میں کوئی تحریف کرے، البتہ تشریح میں بار بار اس قسم کی جسارت کی گئی۔

مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے کچھ پہلے فرمایا تھا کہ ترکت فیکم

الثقلین (میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزوں کو چھوڑ رہا ہوں) اس حدیث میں ثقلین سے مراد کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ تھی۔ مگر کچھ لوگوں نے اس کو اپنے ذہن کے مطابق ڈھال کر اس کو کتاب اللہ وعترتی (اللہ کی کتاب اور میرا خاندان) بنا دیا اور اس طرح خود ساختہ طور پر خاندان نبوت کو وہ درجہ دیا جو اللہ کی کتاب کا درجہ تھا۔

۱۵ ستمبر کی شام کو جالندھر میں صوفیانہ پروگرام (صوفی سانگ) تھا۔ اس پروگرام کے لئے پنجاب کے مشہور وڈالی برادرس( (Wadali Brothers) کو بلایا گیا تھا۔ یہ ایک ٹیم تھی جو نہایت ماہر قسم کے پیشہ ور لوگوں پر مشتمل تھی۔ انہوں نے باجا اور گانا اور ایکٹنگ کے ذریعہ صوفیانہ تصورات اور صوفیانہ قصوں کا پروگرام پیش کیا۔ لوگ بار بار تالیاں بجارہے تھے۔ مگر یہ روحانی پروگرام میرے لئے صرف ایک روحانی اذیت تھا۔ مجھے اس سے روحانی غذا ملنے کے بجائے روحانی تکلیف ملی۔ جالندھر میں امر اجالا کے کرسپا نڈنٹ مسٹر نظام علی نے اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ سوال یہ تھا کہ کشمیر میں جو ٹر رزم چلا آرہا ہے اس کو اسلامی جہاد کہا جاتا ہے۔ یہ تو کشمیریوں کی اپنی مانگیں ہیں، اس کے لئے یہ لڑائی ہورہی ہے۔

میں نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں کشمیر کی لڑائی کو ایک قومی لڑائی سمجھتا ہوں، میں اس کو اسلامی جہاد نہیں سمجھتا۔ یہ ملک و مال کی لڑائی ہے اور اسلامی جہاد اللہ کے راستہ میں ہوتا ہے ملک و مال کے لئے نہیں۔ ایک اور سوال کے تحت انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اپنی موجودہ شکل میں بے فائدہ ہو گئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان مدارس کو ماڈرنائز کیا جائے اور ان میں جدید علوم اور جدید ہنر کو داخل کیا جائے ۔

میں نے کہا کہ مدارس کے اندر اس قسم کی تبدیلی سے میں متفق نہیں ہوں۔ مدارس کو صرف دینی تعلیم کے لئے خاص ہونا چاہئے۔ موجودہ زمانہ میں مدارس کے اندر جو کمی آئی ہے وہ یہ ہے کہ اب ان میں ویسی گہری تعلیم نہیں ہوتی جیسی ہمارے زمانہ میں ہوتی تھی۔ مدارس کے سلسلے میں اصل کام ان کے تعلیمی معیار کو بڑھانا ہے نہ کہ ان کے نصاب میں جدید مضامین کو داخل کرنا۔

ایک سوال یہ تھا کہ بھاجپا کے صدر نے کہا کہ میں مسلمانوں کو جوڑنے کی کوشش کروں گا۔ مسلمان کہتے ہیں کہ یہ ایک جہانسا ہے، مسلمانوں کے خلاف ایک چال ہے۔

میں نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلام ہمیشہ امن کے حالات میں ترقی کرتا ہے۔ کی تمام تعلیمات امن پسندی کے اصول پر مبنی ہیں۔ چنانچہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر تمہارے دشمن امن کے لئے جھکیں تو تم بھی اس کے لئے جھک جاؤ۔ اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔ (الانفال ۶۱) قرآن کی اس تعلیم کے مطابق ہمیں ان کی پیش کش کو رد کرنے کے بجائے ان سے ڈائیلاگ کرنا چاہئے۔ اور مسلمانوں کی جو معقول مانگیں ہیں وہ ان کے سامنے رکھنا پھر دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنی پیش کش میں کتنے سنجیدہ ہیں۔

ایک سوال یہ تھا کہ پچھلے ۵۰ سالوں میں سروس میں مسلمانوں کا تناسب (ratio) بہت گھٹ گیا اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔

میں نے کہا کہ اصل مسئلہ ملازمتوں میں کمی کا نہیں ہے بلکہ تعلیم میں کمی کا ہے۔ ۱۹۴۷ میں مسلم ملازمین کثرت سے پاکستان چلے گئے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمان محنت کر کے تعلیم میں آگے بڑھیں، پھر دھیرے دھیرے پچھلا تناسب دوبارہ قائم ہو جائے گا۔

جالندھر کے ایک ہندی اخبار کے نمائندہ مسٹر رنجیت سنگھ نے مجھ سے ملاقات کی اور اپنے اخبار کے لئے تفصیلی انٹرویو لیا۔ انہوں نے مختلف قسم کے ملی اور ملکی سوالات کئے ۔ ایک سوال یہ تھا کہ مسلمانوں کے جو مدرسے ہیں وہ وقت کی ضرورت کو پورا نہیں کرتے۔ کیا آپ کے نزدیک ان کو ماڈرنائز کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی ان مدرسوں میں کمپیوٹر اور نئے علوم پڑھائے جائیں۔ کہا کہ میں اس سے متفق نہیں ہوں کہ مدارس کو ماڈرنائز کیا جائے۔ میں نے کہا کہ ہر کمیونٹی کی ایک ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے درمیان مذہبی علماء کا ایک طبقہ ہو جو مذہبی اعتبار سے ان کو صحیح رہنمائی دیتا اس مقصد کے لئے ہندوؤں میں پاٹھ شالائیں اور عیسائیوں میں سمینریز (seminaries) ہوتی اسی طرح مسلمانوں میں مدارس ہیں۔ میں نے کہا کہ سیکولر تعلیم بلاشبہ ضروری ہے مگر اس کا

انتظام الگ اداروں میں ہونا چاہئے نہ کہ مدرسوں میں۔

انہوں نے کہا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مدارس کی موجودہ حالت پر مطمئن ہیں۔ نے کہا کہ نہیں۔ میں بلا شبہ مدارس میں اصلاح کی ضرورت محسوس کرتا ہوں مگر میرے نزدیک مدارس میں جس اصلاح کی ضرورت ہے وہ یہ نہیں ہے کہ اس میں ماڈرن علوم پڑھائے جائیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ خود قدیم علوم کی تعلیم کو زیادہ بہتر بنایا جائے تاکہ مدارس میں صاحب استعداد علماء

جہاں تک دنیوی علوم کا تعلق ہے، وہ بھی بلاشبہ ضروری ہیں۔ مگر اس کی صورت یہ نہیں کہ خود ان علوم کو مدارس کے نصاب میں شامل کیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہاں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو مشہور انگریزی مقولہ ہر چیز کا جانکار، ماہر کسی چیز کا نہیں (Jack of all master of none) کے مصداق ہوں گے۔ اس لئے زیادہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو طلبہ اس قسم کا ذوق رکھتے ہیں وہ دوارن تعلیم یا بعد از تعلیم سیکولر اداروں سے ربط قائم کر کے علوم دنیوی میں ضروری تربیت حاصل کریں۔

دینی تعلیم کے اعتبار سے موجودہ زمانہ کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ آج ہمارے مدارس میں ایسے افراد پیدا نہیں ہورہے ہیں جو دینی علوم پر ماہرانہ انداز میں رائے دے سکیں جب کہ مدارس کا اصل مقصد یہی ہے۔ مسلم دنیا میں ایسے لوگوں کی شدید قلت ہے جن کی طرف دینی علوم کے معاملہ میں پُر اعتماد طور پر رجوع کیا جائے۔ جو قرآن، حدیث ، فقہ ، اسلامی تاریخ ، عربی ادب، وغیرہ موضوعات پر گہری بصیرت رکھتے ہوں اور واقف کارانہ رائے دے سکیں ۔ یہ مسلم دنیا کا سب سے زیادہ سنگین بحران مدارس کو ماڈرنائز کرنے سے یہ بحران ختم نہ ہوگا، بلکہ وہ موجودہ مدارس کو مستحکم کرنے سے ہوگا۔ موجودہ زمانہ میں مدارس کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ہر مدرسہ جو پہلے تعلیمی جھونپڑے کی حیثیت رکھتا تھا آج وہ عمارتی اعتبار سے تعلیمی محل کی مانند دکھائی دیتا اس لئے مدارس کو زیادہ بامعنی بنانے کے لئے اصل ضرورت یہ ہے کہ اس کے علمی معیار کو بڑھایا

جائے نہ یہ کہ اس کے نصاب کو بدلا جائے۔

اس سلسلہ میں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ ۱۹۷ سے پہلے جب میں ایک عربی مدرسہ میں پڑھ رہا تھا، اس وقت وہاں جو اعلیٰ علمی ماحول تھا وہ آج کے عربی مدارس میں نظر نہیں آتا۔ مدارس میں ایسے اساتذہ ہوتے تھے جو اپنے شعبہ علم میں گہری مہارت رکھتے تھے۔ ان کا جذبہ اتنا بڑھا ہوا تھا کہ وہ مسلسل طور پر طلبہ کی علمی نگرانی کرتے تھے اور زیادہ سے زیادہ وقت دے کر ان کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔

جالندھر میں میرا قیام ڈاکٹر امبیڈکر ریجنل انجینئرنگ کالج میں تھا۔ یہ ادارہ دس سال پہلے ۱۵۳ ایکڑ رقبہ میں قائم کیا گیا۔ وہ سائنسی اور ٹیکنیکل تعلیم کے لئے مخصوص ہے۔ ۱۶ ستمبر کو کالج کے ہال میں میری ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر کا موضوع تھا روحانیت۔ اپنی مفصل تقریر میں بتایا کہ روحانیت کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ روحانی ساز یاروحانی نغمہ سے محظوظ ہوں اور اس سے آنند لیں۔ روحانیت کوئی خارجی چیز نہیں۔ وہ خود انسان کے اندر چھپا ہوا ایک فطری یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص ایک لطیف ساز چھیڑتا ہے یا کوئی شخص روحانی نغمہ چھیڑتا ہے تو اپنے اندر چھپے ہوئے احساس کی بنا پر آدمی اس سے کیف محسوس کرنے لگتا ہے۔

اس قسم کا تجربہ بھی ایک مفید تجربہ ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کے غم کو بھلا دیتا ہے۔ اس سے آدمی کا ذہنی تناؤ (tension) دور ہو جاتا ہے۔ وہ بجائے خود ایک جائز چیز ہے مگر وہی اصل چیز نہیں۔ روحانیت کا اس سے بھی زیادہ بڑا ایک اور پہلو ہے۔ وہ تطبیق روحانیت (applied sprituality) ہے، یعنی روحانیت کو عملی زندگی میں اپنانا۔ روحانی قدروں (spiritual values) کو خارجی معاملات میں استعمال کرنا۔ روحانیت کا یہ دوسرا پہلو کامیاب انسانی زندگی کی تعمیر کے لئے بے حد ضروری ہے۔ اول الذکر کا مطلب اگر روحانی شراب پینا ہے تو ثانی الذکر کا مطلب روحانیت کی بنیاد پر عملی زندگی کی

تطبیقی روحانیت سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت کے لئے میں نے کئی مثالیں پیش کیں۔

مثلاً ایک شخص ایک صوفی سے ناراض ہو گیا۔ اس نے اس کو پتھر مار دیا۔ اس پر صوفی غصہ نہیں ہوئے بلکہ آگے بڑھ کر اس کو سینہ سے لگا لیا۔ آدمی نے کہا کہ میں نے تو آپ کو پتھر مارا اور آپ میرے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کر رہے ہیں۔ صوفی نے کہا کہ تمہارے جیسے آدمی ہی کو تو سینہ سے لگانا ہے۔ کیوں کہ تمہارے اندر ایک برائی ہے۔ اس سلوک کا آدمی کے اوپر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ آئندہ کے لئے وہ مستقل طور پر صوفی کا شاگرد بن گیا۔

یہی تطبیقی روحانیت ہے۔ نفرت کے جواب میں نفرت کرنا یا تشدد کے جواب میں تشدد کرنا ایک غیر روحانی عمل ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی نفرت کے جواب میں خیر خواہی کرے۔ اور تشدد کا جواب امن سے دے اس نے گویا روحانی قدروں کو عملی زندگی میں منتقل کیا۔ یہی کامیاب زندگی کا سب سے زیادہ یقینی فارمولا ہے۔

تقریر کے بعد لوگوں کو سوال کا موقع دیا گیا۔ حاضرین میں زیادہ تر نوجوان طلبہ تھے۔ طرف سے بہت سے سوالات کئے گئے۔ سوال کرنے والوں میں لڑکے بھی تھے اور لڑکیاں بھی۔ میں نے ہر سوال کا جواب مثبت انداز میں دیا۔ بعد کو لوگوں نے بتایا کہ لوگ میرے جواب سے پوری طرح مطمئن رہے۔

جالندھر میں میری تقریر کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ یہ ایک ونڈرفل تقریر تھی۔ کنفیوزن میں ہوں کہ کون سا مارگ سپرئیر (superior) ہے۔ آپ نے جو چیزیں بتائی ہیں اس کو پریکٹکل روپ کیسے دیں۔ میں نے کہا کہ یہ مسئلہ ایک میٹنگ سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے آپ کو مزید مطالعہ کرنا چاہئے۔

ایک اور صاحب کے سوالات کے جواب میں میں نے کہا کہ پہلا کام یہ ہے کہ لوگوں میں شعوری بیداری (intellectual awakening) لائی جائے۔ اور ان میں روحانی ترقی (spiritual uplift) پیدا کی جائے۔ اس کے بعد ہی عملی طور پر کوئی بڑا کام کیا جا سکتا ہے۔ سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اس وقت اسلام کے نام پر جو دھوم نظر آتی ہے وہ اسلام کے نام

پر پالیتکس ہے۔ اس کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

میری تقریر کے بعد کالج کے پرنسپل نے اپنی اختتامی تقریر میں کہا کہ مولانا صاحب کی تقریر سے ہم سب لوگوں کو بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کے سامنے اس طرح بار بار مثبت پیغام پہنچنا چاہئے تاکہ وہ اپنی زندگی کو درست بنیادوں پر قائم کریں۔ پرنسپل نے کہا کہ مولانا صاحب نے عام فہم سطح (down to earth) پر ہمارے طالب علموں کو بہت اونچی باتیں سمجھا دیں۔ اور ہمارے کالج کی فضا میں اسپرچولٹی (spirituality) بھرنے کی کوشش کی۔ اور کہا کہ ہماری بنتی ہے کہ جب بھی انہیں سے ملے تو وہ ضرور ہمارے لئے ٹائم نکالیں۔

جالندھر سے دوبارہ سورن شتابدی اکسپریس کے ذریعہ دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ فرخ آباد سے تعلق رکھنے والے انجینئرنگ کے دو اسٹوڈنٹ اسٹیشن تک آئے۔ ان میں سے ایک طالب علم پہلے منفی ذہن رکھتا تھا۔ اس نے جلسہ کے اندر بہت سے جارحانہ قسم کے سوالات کئے ۔ توفیق سے میں نے ہر سوال کا معتدل انداز میں جواب دیا۔ آخر کار وہ اتنا متاثر ہوا کہ خود اپنے شوق سے مجھے پہنچانے کے لئے اسٹیشن آیا۔

میں سورن شتابدی اکسپریس کے ایگزیکیٹو کلاس میں تھا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ وہ فطری وسائل جن کو استعمال کر کے یہ ٹرین بنائی گئی ہے۔ وہ مسلمانوں کے ہزار سالہ اقتدار کے زمانہ میں بھی اس دنیا میں موجود تھے۔ مگر ان کو واقعہ بنانے کا کام مغربی قوموں نے انجام دیا۔ یہ مغربی قومیں تھیں جنہوں نے پانی کو اسٹیم پاور میں تبدیل کیا، جنہوں نے لوہے کو اسٹیل میں تبدیل کر کے مشینیں بنائیں۔ جنہوں نے میٹر میں الکٹرسٹی کاراز دریافت کیا۔ غرض جدید دور کی مادی ترقیاں سب کی سب مغربی قوموں کی دین ہیں۔

میں نے سوچا کہ مسلمان تقریباً ہزار سال تک عروج کی حالت میں تھے۔ پھر وہ دنیا کو یہ چیزیں کیوں نہ دے سکے۔ اس کو سوچتے ہوئے مجھے ایک اہم حقیقت سمجھ میں آئی۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں ہوسکتی جو تنہا سب کچھ کر ڈالے۔ اس لئے کہ یہاں عروج کے ساتھ زوال لگا ہوا ہے۔

جس طرح ایک فرد جوانی کے بعد بوڑھا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم عروج کے بعد زوال (degeneration) کا شکار ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو اقبال نے اس طرح بیان کرنے کی کوشش کی ہے: آنجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر اقبال نے کسی قوم کے زوال کا سبب تو بالکل درست لکھا ہے مگر عروج کے بارے میں ان کا نظریہ درست نہیں۔ قرآن کے مطابق، کسی قوم کے عروج کاراز نفع بخشی (الرعد ۱۷) کی طاقت ہے نہ کہ شمشیر زنی کی طاقت۔ اقبال کے شعر کو زیادہ صحیح طور پر اس طرح ہونا چاہئے: آنجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے تعمیر و عطا اول طاؤس و رباب آخر مسلمانوں نے اپنے دور اقتدار میں دنیا کو بہت سی ترقیاں دیں مگر ان کی تمام ترقیاں روایتی معنوں میں تھیں۔ روایتی اعتبار سے انہوں نے ترقی کے عمل کو اپنی آخری حد تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد انسانیت کو ترقی کے اگلے مرحلہ میں پہنچانا تھا۔ یعنی روایتی ترقی کے دور سے نکال کر مشینی ترقی کے دور میں لے جانا۔ یہ کام مسلمان نہیں کر سکتے تھے۔ کیوں کہ روایتی ترقی کے دور کو آخری حد تک پہنچاتے پہنچاتے وہ اپنے زوال کے اس دور میں پہنچ چکے تھے جب کہ قومیں عیش و راحت میں مبتلا ہو کر قوت عمل کھو دیتی ہیں۔

عین اس وقت قانون فطرت (محمد ۳۸) کے تحت مسلمانوں کو غلبہ و اقتدار کے مقام سے ہٹا کر مغربی قوموں کو وہاں پہنچا دیا گیا۔ اسی تبدیلی کا نتیجہ وہ تمام سائنسی ترقیاں ہیں جو آج ساری دنیا میں نظر اگر ایسا ہوتا کہ زوال کے باوجود مسلمان ہی دنیا پر غالب رہتے تو جدید ترقيات کا دور سرے سے شروع ہی نہ ہوتا۔

تبدیلی کے اس عمل کو جو لوگ سازش اور ظلم کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں وہ صرف اپنی قومی خواہشات کو جانتے ہیں۔ انہیں فطرت کے قانون کی خبر نہیں۔

۱۶ ستمبر ۲۰۰۰ کی رات کو گیارہ بجے ہماری ٹرین دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ جس کوچ میں میرا یہ سفر ہوا وہ مکمل طور پر ائیر کنڈیشینڈ تھی۔ جب میں اس سے نکل کر باہر پلیٹ فارم پر آیا

تو اچانک یہاں اس کے بجائے گرم موسم تھا ، ایک طرف ٹھنڈا اور دوسری طرف گرم کا یہ ماحول دیکھ کر مجھے قرآن کی آیت یاد آئی: باطنه فيه الرحمة و ظاهره من قبله العذاب (الحديد ۱۳) ایک تفسیر کے مطابق ، اس آیت میں رحمت اور عذاب کے الفاظ تعبیری طور پر استعمال ہوئے چنانچہ یہاں رحمت سے مراد مومنین کا نور ہے اور عذاب سے مراد منافقین کی ظلمت۔ (القرطبی، ۱۷/ ۲۴۶)

اس کے مطابق، آیت کا مطلب یہ ہے کہ مومن اور منافق کے درمیان جو چیز تفریق کرتی ہے، وہ یہ کہ مومن اپنے درست ذہن کی بنا پر حقیقتوں کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے اور منافق اس کے برعکس حقیقتوں کو منفی انداز میں دیکھتا ہے۔ یہی فرق آخرت میں یہ صورت اختیار کرے گا کہ منافق عذاب میں گھر جائے گا اور مومن رحمتوں کے سائے میں رہے گا۔

۱۶ ستمبر ۲۰۰۰ کی رات کو میں واپس دہلی پہنچا۔

Printed page