تاریخ کا مطالعہ
Al-Risala, January 2001, pp. 6–13
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کی تاریخ گھڑی کے پنڈولم کی طرح بار بار ایک انتہاء سے دوسرے انتہاء کی طرف گردش کرتی رہی ہے۔ شخصی حکمرانی سے عوامی جمہوریت کی طرف، غلامی سے آزادی کی طرف، انفرادی نظام سے سوشلسٹ نظام کی طرف، کنٹرول اکانومی سے لبرل اکانومی کی طرف، وغیرہ۔
اس تاریخی صورت حال کو کارل مارکس نے جدلی مادیت (dialectical materialism) کا نام دیا ہے۔ اس کے نزدیک یہ تاریخ انسانی کا ارتقائی سفر ہے جو فطرت کے اپنے لازمی قوانین کے تحت ہو رہا ہے۔ اس کے نزدیک فطرت کا یہ عمل انسانی سماج میں طبقاتی کش مکش کے ذریعہ سماج کے اندر پہلے داخلی قوانین کے تحت ایک مقدمہ (thesis) سامنے آتا ہے۔ بعد خود انسانی سماج کے داخلی قوانین کے تحت جوابی مقدمہ (anti-thesis) ظہور میں آتا ہے۔ پھر ان دونوں کے درمیان باہمی ٹکراؤ پیش آتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک نیا امتزاج (synthesis) یہ عمل بار بار جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ انسانی تاریخ اپنے آخری ارتقائی درجہ تک پہنچ
کارل مارکس (۱۸۱۸- ۱۸۸۳) کی یہ بات محض ایک خیالی مفروضہ تھی۔ یہ خیالی مفروضہ علمی اعتبار سے اول دن ہی سے غیر ثابت شدہ تھا۔ مگر ۱۹۹۱ میں روس کے کیونسٹ سسٹم کا ٹوٹنا، اور اسی طرح ہندوستان سمیت دوسرے اس قسم کے ملکوں میں سوشلسٹ معاشیات کا مکمل طور پر ناکام ہو جانا، مارکس کے نظریہ کی آخری تردید ہے۔
مارکس اور اس کے ساتھیوں نے اپنے تجزیہ کے مطابق یہ دعویٰ کیا تھا کہ انسانی تاریخ ہزاروں سال کے جدلیاتی سفر کے بعد اپنی آخری ارتقائی منزل تک پہنچ چکی ہے۔ ارتقائی منزل اس کے نزدیک سوشلسٹ سماج تھا۔ مگر بیسویں صدی کے آخر میں سوشلسٹ
اکانومی کی تباہ کن ناکامی نے آخری طور پر ثابت کر دیا ہے کہ مارکس اور اس کے ساتھیوں نے انسانی زندگی کا جو نظریہ پیش کیا تھا وہ صرف ایک تخیلاتی مفروضہ تھا، وہ کسی بھی درجہ میں حقائق وواقعات پرمبنی نہ تھا۔
کارل مارکس اور اس طرح کے دوسرے مفکرین کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے انسانی تاریخ کو زندہ اور غیر زندہ مادی کائنات پر قیاس کیا۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ جس طرح مادی کائنات ناقابل تغیر فطری قوانین (natural laws) کے تحت چل رہی ہے، اسی طرح انسانی تاریخ بھی اٹل قسم کے غیر متغیر قوانین کے تحت اپنا سفر کر رہی ہے۔ حالانکہ یہ قیاس مع الفارق بے جان مادہ بلاشبہ غیر متغیر قوانین کا پابند ہے۔ مگر انسان ایک آزاد اور با اختیار مخلوق ہے، وہ خود اپنے ارادہ کے تحت عمل کرتا ہے، نہ کہ لازمی قسم کے کسی خارجی قانون کے تحت۔ انسان کی یہی بے قید آزادی وہ چیز ہے جو تمام تاریخی مسائل کی اصل ذمہ دار ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تاریخ کے تمام مسائل انسانی آزادی کے غلط استعمال (misuse) کا نتیجہ ہیں۔
انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک دہرا مشکل (dilemma) کا شکار ہے۔ وہ اپنے قول اور عمل کے لئے مکمل طور پر آزاد ہے، اسے کامل اختیار حاصل ہے کہ وہ جو چاہے بولے اور جو چاہے کرے۔ مگر معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسے ایک ایسی دنیا میں کرنا ہے جس کو اس نے نہ خود بنایا اور نہ وہ اس کے احکام کی تابع ہے۔ یہ خارجی دنیا انسانی ارادے سے آزاد خود اپنے محکم قوانین کے تحت عمل کرتی ہے۔
اس صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ کے اظہار کے اعتبار سے تو کامل طور پر آزاد ہے، مگر اپنے ارادے کی کامل تعمیل کے اعتبار سے وہ آزاد نہیں۔ اپنے ذہن کے دائرہ میں سوچتے ہوئے بظاہر وہ اپنے آپ کو پوری طرح آزاد پاتا ہے، مگر جیسے ہی وہ اپنی ذہنی سوچ کو خارج میں واقعہ بنانا چاہتا ہے، اس کو فورا ہی محسوس ہوتا ہے کہ یہاں مختلف قسم کی
محدودیتیں (limitations) اس کے راستہ میں حائل ہیں۔ اس طرح انسان اس دنیا میں ایک ایسی مخلوق بن جاتا ہے جو سوچنے کے اعتبار سے لامحدود طور پر آزاد ہے مگر اپنی سوچ کو عملی واقعہ بنانے کے اعتبار سے وہ اتناہی زیادہ محدود ہے۔
یہ حقیقت بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی صرف اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب کہ وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اس طرح کرے کہ اس میں اس کی محدودیتوں کی رعایت شامل ہو۔ جس منصوبہ بندی میں انسانی محدودیت کی کامل رعایت نہ کی گئی ہو اس کا اس عالم اسباب میں ناکام ہونا اتنا زیادہ یقینی ہے کہ اس سے زیادہ یقینی اور کوئی بات نہیں۔
اس حقیقت کی روشنی میں دیکھا جائے تو مذکورہ تاریخی ظاہرہ((historical (historical phenomenon) کی تشریح کرنا بخوبی طور پر ممکن ہو جاتا ہے۔ وہ تشریح یہ ہے کہ انسان یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی خواہش اور ارادے کے تحت ایک سمت میں اقدام کرتا ہے۔ اپنی ذاتی خواہش کے اعتبار سے وہ اس اقدام میں آخری انتہاء تک پہنچ جانا چاہتا ہے۔ مگر ابھی اس کا سفر پورا نہیں ہوتا کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایسی محدودیتوں کا شکار ہو گیا ہے جو فیصلہ کن طور پر اس کے راستوں میں حائل ہیں۔ صورت حال کے نتیجہ میں اس کے اندر رد عمل (reaction) کی نفسیات پیدا ہوتی ہے۔ عمل کے زیر اثر وہ لوٹتا ہے اور دوسری انتہا کی طرف بھاگنا شروع کر دیتا ہے۔ مگر دوبارہ یہی ہوتا ہے کہ اس کا سفر مکمل نہیں ہوتا کہ درمیان ہی میں وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا سفر فیصلہ کن محدودیتوں کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کے بعد پھر وہ یہی کرتا ہے کہ دوسری انتہا کی طرف دوڑنا شروع کر دیتا ہے، صرف اس لئے کہ وہ دوبارہ پہلے ہی کی طرح نا قابل عبور محدودیتوں کا شکار ہو اور پھر وہاں سے لوٹ کر الٹی سمت میں دوبارہ ایک ایسے سفر کا آغاز کر دے جس کی ناکامی پیشگی طور پر معلوم اور مقدر ہو۔
انسان کی یہی دوطرفہ حیثیت ہے جس کا نتیجہ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ انسان کی تاریخ گھڑی کے پنڈولم کی مانند بار بار ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف جا رہی ہے۔ ہزاروں سال تک سفر
کرنے کے باوجود وہ اپنی منزلِ مقصود تک نہیں پہنچتی۔ تقریباً پوری انسانی تاریخ اسی قسم کی ناکامی کی ایک مسلسل کہانی ہے۔
انسان کے سوا جو مادی کائنات ہے، اس میں ناکام تجربات کا یہ المیہ مطلق نظر نہیں آتا۔ غیر ذی روح مادی اشیاء کا سفرِ کامل صحت کے ساتھ اربوں سال سے مسلسل جاری ہے۔ (الملک ۳) کے الفاظ میں اس کے اندر کسی فتور (flaw) کا کوئی وجود نہیں۔ وہ کامل بے نقص انداز میں مسلسل اور دائمی طور پر چلی جا رہی ہے۔
مادی اشیاء کا اس طرح بے نقص ہونا اس لئے ہے کہ اس خطہ کائنات میں انسانی دنیا کی طرح آزادانہ اختیار (free will) کا وجود نہیں۔ یہ حصہ کائنات مکمل طور پر جبر (determinism) کے تحت ہے۔ مادی دنیا اپنے ذاتی ارادہ کے تحت کوئی خود ساختہ کورس اختیار نہیں کرتی جس میں اسے انسان جیسی محدودیت سے دوچار ہونا پڑے۔ مادی دنیا عین وہی عمل کرتی ہے جو قانونِ فطرت کے تحت اسے کرنا چاہئے، اور اس عمل سے ہمیشہ باز رہتی ہے جو اسے نہیں کرنا چاہئے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے مادی دنیا کو، انسانی دنیا کے برعکس، ایک ایسی دنیا بنا دیا ہے جہاں ناکامیوں اور پسپائیوں کی دوطرفہ داستان موجود نہیں۔
اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ انسانی زندگی میں ارادہ اور عمل کے درمیان جو تضاد پایا جاتا ہے اس تضاد کا حل کیا ہے، اسی مسئلہ کے حل کے لئے خالق کائنات نے اپنے پیغمبر مبعوث کئے- ان پیغمبروں کو اللہ نے حقیقت کا کلی علم دیا۔ اور انہیں یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ انسان کو اس کے حدود (limitations) سے آگاہ کر دیں۔ وہ اس کو بتائیں کہ انسان اگرچہ ذاتی ارادہ کے اعتبار سے لا محدود ہے، مگر وہ اپنے ارادہ کی خارجی تعمیل کے اعتبار سے یقینی طور پر محدود ہے۔ پیغمبرانہ مشن کا یہی وہ پہلو ہے جس کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و سلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: وحد حدوداً فلا تعتدوها (الدار قطنی، بحوالہ مشکوۃ المصابیح ۶۹/۱) یعنی اللہ نے تمہارے لئے حدیں (limitations) مقرر کر دی ہیں، تو تم ان حدوں سے تجاوز نہ کرو۔
یہ گویا پیغمبر کی زبان سے ایک خدائی انتباہ (warning) ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے یہ خصوصی امتیاز دیا ہے کہ اس کو کامل آزادی عطا فرمائی ہے۔ کے ساتھ انسان کو یہ جاننا چاہئے کہ اگر وہ اپنی آزادی کا لا محدود استعمال کرے گا تو وہ اس دنیا میں انار کی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ اس بنا پر انسان کے لئے درست طریقہ یہ ہے کہ وہ خدا کے پیغمبر کی ہدایت (guidance) سے فائدہ اٹھائے۔ وہ اپنی آزادی کو جاننے کے ساتھ اپنی واقعی حدود کو بھی جانے، جو پیغمبر کے ذریعہ اس کو بتائی جارہی ہے۔ حدود کی معرفت کے بغیر انسانی آزادی انار کی بن کر رہ جاتی ہے، اور حدود کی معرفت کے ساتھ انسانی آزادی اسی طرح اپنی ایک کامل دنیا کی تخلیق کر سکتی ہے جس طرح مادی دنیا ایک کامل نمونہ کی صورت میں نظر آرہی ہے۔ اس دنیا میں ہمیں انسانی تشکیل کے دو واضح نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک وہ جس کو روسی ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ دوسرا وہ جس کو امریکی ماڈل کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، روسی ماڈل ۷۵ سالہ تجربہ کے باوجود مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ وہ قابل بقاء (sustainable) ثابت نہ اس کے بر عکس امریکی ماڈل سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت سے چلا جا رہا ہے۔ پوری طرح قابل بقاء (sustainable) ہے۔
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ روسی ماڈل تو ضرور قابل رد ہے، مگر امریکی ماڈل قابل رد نہیں، حالانکہ امریکی ماڈل کو پیغمبرانہ ہدایت کی بنیاد پر قائم نہیں کیا گیا، اور نہ وہ پیغمبرانہ ہدایت کی بنیاد پر چلایا جارہا ہے۔
اس معاملہ کی حقیقت یہ ہے کہ امریکی ماڈل اگرچہ براہِ راست طور پر پیغمبرانہ ہدایت کی بنیاد پر قائم نہیں گیا مگر بالواسطہ طور پر وہ پیغمبرانہ ہدایت ہی کی جزئی تعمیل ہے۔ پیغمبرانہ ہدایت کا ایک پہلو وہ ہے جو آخرت کی کامیابی سے متعلق ہے۔ اس پہلو سے امریکی ماڈل مکمل طور پر پیغمبرانہ ہدایت سے دور ہے۔ مگر پیغمبرانہ ہدایت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ انسان اپنی دنیا کی تعمیر حقائق فطرت کی روشنی یہی وہ پہلو ہے جس کی بابت پیغمبر اسلام نے فرمایا: انتم اعلم بأمر دنیا کم (صحیح مسلم)۔
امریکی ماڈل کی ظاہری کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ قانون فطرت کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے۔ جب کہ روسی ماڈل کی ناکامی کا راز یہ ہے کہ اس کی تشکیل میں فطرت کے قانون کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ امریکی ماڈل اگر پیغمبرانہ ہدایت سے پچاس فیصد محروم تھا تو روسی ماڈل پیغمبرانہ ہدایت سے صد فی صد محروم۔
اس اعتبار سے، امریکی ماڈل اور روسی ماڈل کے فرق کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ امریکی ماڈل فطرت کے اعتراف مگر نبوت کے انکار پر مبنی ہے۔ جب کہ روسی ماڈل بیک وقت فطرت کا بھی انکار کرتا ہے اور نبوت کا بھی انکار۔ گویا امریکی ماڈل اگر پچاس فی صد صداقت سے خالی ہے تو روسی ماڈل صد فی صد صداقت سے خالی۔
چند سال پہلے امریکہ میں ایک کتاب چھپی تھی۔ اس کتاب کے مصنف نے امریکی معاشرے کا جائزہ لینے کے بعد کہا تھا کہ امریکی معاشرہ بے قید آزادی کے اصول پر قائم ہے، مگر حقائق بتاتے ہیں کہ ہم آزادی کا تحمل نہیں کرسکتے: We can't afford freedon یہ کتاب گویا اس بنیادی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے جو ظاہری کامیابی کے باوجو د امریکی ماڈل کو لاحق ہے۔ امریکی ماڈل کی ظاہری کامیابی کا راز یہ ہے کہ اس نے انسانی فطرت کو سمجھتے ہوئے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جو تمام تر مبنی بر مفاد (interest-based) معاشرہ تھا۔ انور سب سے زیادہ طاقت در جذبہ ذاتی مفاد کا جذبہ ہے۔ امریکی ماڈل میں اسی ذاتی جذبے کو بھر پور طور پر استعمال کیا گیا۔ یہی واحد راز ہے جس کی بنا پر امریکہ ایک قابل بقا (sustainable) معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے برعکس روسی ماڈل اس لئے ناکام ہوا کہ اس میں اس انسانی فطرت کا انکار کر دیا گیا تھا۔
تاہم امریکی ماڈل، اپنی ظاہری خوشنمائی کے باوجود ایک لازمی کمزوری سے دوچار ہے۔ اسی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ امریکی معاشرہ ظاہری ترقی کے باوجود مختلف قسم کے ناقابل حل مسائل سے دوچار ہے اور امریکی مدبرین کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ان مسائل کو کس طرح حل
مثلاً متشد، ازدواجی تعلقات کا عدم استحکام، شراب اور جنسی انار کی سے پیدا ہونے والی حتی کہ سیاسی چپقلش جس کا ایک مظاہرہ نومبر ۲۰۰۰ کے صدارتی انتخابات میں دونوں کی گنتی کے معاملہ میں ہوا۔
اس قسم کے مسائل کا بنیادی سبب یہ ہے کہ امریکی انسان کے پاس ایسا کوئی قابلِ یقین علم نہیں جس کے ذریعہ وہ اپنی حدود (limitations) کو جان سکے اور اپنی بے قیدی کو پابندی کے دائرے میں لے آئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی انسان کو پیغمبرانہ ہدایت کی ضرورت ہے۔ آج امریکی انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کو یہ بتلایا جائے کہ انسانی آزادی کے حدود کیا ہیں۔ پیغمبرانہ ہدایت ہی اس معاملہ میں انسان کے لئے رہنمائی کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔ پیغمبرانہ ہدایت بتاتی ہے کہ انسان اگر اپنی آزادی کو حدود کا پابند نہ بنائے تو اس کی آزادی مہلک انار کی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ انسان پر امن عمل کے لئے آزاد ہے مگر وہ تشدد دانہ عمل کے لئے آزاد نہیں۔ انسان جائز تجارت کے لئے آزاد ہے مگر وہ مالی استحصال کے لئے آزاد نہیں۔ انسان از دواجی تعلقات کے لئے آزاد ہے مگر وہ آزادانہ جنسی تعلق کے لئے آزاد نہیں، انسان صحت بخش چیزوں کے استعمال کے لئے آزاد ہے مگر وہ نشہ اور چیزوں کے استعمال کے لئے آزاد
حد بندی فطرت کا قانون ہے، مگر انسان خود اپنی عقل یا اپنی سائنس کے ذریعہ اس کا درست علم حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پیغمبرِ خدا کی ہدایت کے تحت انسان کی مدد پیغمبر خدا کی وحی کی روشنی میں انسان کو یہ بتاتا ہے کہ وہ کن حدود کا پابند رہ کر اس دنیا میں
حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر کی ہدایت ہی انسان کو اس ناکامی سے بچاتی ہے کہ وہ گھڑی کے پنڈولم کی طرح دو انتہاؤں کے درمیان گردش کرتا رہے۔ پیغمبر کے ذریعہ انسان اس صراط مستقیم کو پالیتا ہے جو مطلوب انسانی منزل کی طرف سیدھی چلی جارہی ہے، جو آدمی کو انتہا پسندانہ
ٹھوکروں سے بچا کر اس قابل بناتی ہے کہ وہ سچائی کی شاہراہ پر سیدھا چلتا رہے یہاں تک کہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
پیغمبرانہ ہدایت انسان کو بیک وقت دو چیزیں دیتی ہے ــــ صحیح حدود کار کا علم اور ان حدود کو عملاً اپنی زندگی میں اختیار کرنے کا محرک (incentive)۔ یہ دونوں چیزیں بیک وقت ضروری ہیں، ایک کے بغیر اس دنیا میں دوسری چیز نامکمل رہتی ہے۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، پیغمبر انسان کو بتاتا ہے کہ آدمی اپنی زندگی کی مختلف سرگرمیوں میں کہاں تک جائے اور کہاں تک پہنچ کر رک جائے۔ اسی کے ساتھ دوسری اہم چیز جو پیغمبر کے ذریعہ انسان کو بتائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ حدود کار کا یہ معاملہ خدائی قانون کا معاملہ ہے نہ کہ سادہ طور پر انسانی قانون کا معاملہ۔ انسان اگر اس حدود کار کی پابندی کرے تو وہ دنیا میں ایک کامیاب زندگی کی تعمیر کرے گا اور اسی کے ساتھ موت کے بعد کی زندگی میں وہ ابدی جنت میں داخلہ کا مستحق قرار پائے گا۔
لیکن انسان اگر اس حدود کار کی پابندی نہ کرے تو صرف یہی نہیں ہوگا کہ اس کی دنیوی زندگی کے معاملات بگڑ جائیں گے، وہ زمین پر ایک صالح معاشرہ قائم کرنے میں ناکام رہے گا۔ اسی کے ساتھ وہ اپنے آپ کو اس سنگین انجام کا مستحق بناتا ہے کہ اس کا خالق اس پر غضبناک ہو اور موت کے بعد اس کو ابدی جہنم میں ڈال دے۔
پیغمبرانہ ہدایت میں یہ دو طرفہ محرک اس بات کی یقینی ضمانت ہے کہ انسان اس ہدایت کو لازماً اختیار کرے، خود اپنے ذاتی مفاد کا محرک اس کو مجبور کر دے کہ وہ اس روش سے انحراف نہ وہ دل کی آمادگی کے ساتھ اس پر قائم ہو جائے۔