ایمان کا کرشمہ
Al-Risala, September 2001
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جو شخص توبہ کرے اور ایمان لائے اور عمل صالح کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی سیئات کو حسنات سے بدل دے گا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے قرآنی اسلوب کو جاننا بہت ضروری ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ اگر چہ متعدی کے صیغہ میں ہے مگر اس سے مراد لازم کا صیغہ ہے۔ یعنی اس سے مراد توفیق الہی ہے نہ کہ لفظی معنوں میں حکم الہی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص سچائی کو دریافت کرتا ہے، جب اس کا طرز فکر ربانی طرز فکر بن جاتا ہے۔ جب اس کے اعمال اللہ کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں تو اس کے اندر احساس اور شعور کی ایک نئی شخصیت ظہور میں آتی ہے۔ اس کے اندر ایک نیا ایمانی مزاج پرورش پاتا ہے۔ اسی ایمانی مزاج کے تحت یہ کرشمہ وقوع میں آتا ہے کہ بظاہر ایک برائی اس کے لئے نیکی میں تبدیل ہو جائے۔
اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک واقعاتی مثال لیجئے۔ میرٹھ کے محمد ساجد خاں صاحب الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ اللہ کی توفیق سے ان کے اندر گہرا دینی مزاج پیدا ہو چکا ہے۔ ایک دن وہ اپنے کاروبار میں مشغول تھے۔ ایک معاملہ میں ان کو اپنے ایک کارکن پر سخت غصہ آگیا۔ اس وقت ان کو قرآن کی یہ آیت یاد آئی: واذا ما غضبوا هم يغفرون (الشورى ۳۷) انہوں نے غصہ کو ضبط کر لیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اٹھ کر قریب کی مسجد میں گئے۔ وہاں انہوں نے وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھی اور وہ جب دوبارہ اپنے دفتر میں واپس آئے تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اب وہ ایک نارمل انسان بن چکے تھے جیسا کہ وہ پہلے تھے۔ اس واقعہ کو جب میں نے سنا تو میں نے کہا کہ آپ نے غصہ کو عبادت میں تبدیل کر دیا۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ برائی کا نیکی میں تبدیل ہو جانا کیا ہے۔ یہ انوکھا واقعہ کس طرح ایک بندہ مومن کی زندگی میں پیش آتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایمان ایک اعلیٰ ترین شعوری واقعہ
جس آدمی کو اللہ کی توفیق سے ایمان حاصل ہو اس کی نفسیاتی شخصیت اور اس کا پورا فکری وجود بدل جاتا ہے ۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ہر معاملے کو اللہ کی نظر سے دیکھے، ہر معاملہ کو آخرت کی سوچ میں
ایسا آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ منفی صورت حال کا بھی مثبت جواب (positive response) دے۔ وہ انسانی تجربہ میں بھی اللہ کو یاد کرنے لگے۔ مادی نقصان میں بھی روحانی یافت کا تجربہ کرے ۔ اس سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو یہ غلطی اس کے اندر خود احتسابی کا جذبہ پیدا کر کے اس کو اور زیادہ نیکی کی طرف مائل کر دے۔ ایمان کے ذریعہ بننے والے یہی وہ خاص انسان ہیں جن کو اللہ کی خصوصی مدد سے یہ توفیق ملتی ہے کہ ان کی برائیاں بھی نیکیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ان کی شخصیت گویا ایک ایسا سانچہ (mould) بن جاتی ہے جس میں داخل ہونے والی ہر چیز ربانی نمونہ میں ڈھل جائے ، خواہ ابتدائی طور پر بظاہر وہ غیر ربانی دکھائی دیتی ہو۔
سیئات کا حسنات بن جانا دراصل تغیر (conversion) کا ایک عمل ہے، یہ ویسا ہی ہے جیسے دودھ دینے والے ایک جانور کے اندر غیر دودھ (non-milk) داخل ہوتا ہے اور وہ دودھ (milk) بن کر باہر آتا ہے۔ جانور کے اندر یہ واقعہ ایک فطری عمل (natural process) کے تحت ہوتا ہے۔ ربانی انسان کے اندر اس قسم کا واقعہ ایک ذہنی عمل (intellectual process) کے تحت پیش آتا ہے۔ مومن کا ترقی یافتہ شعور اس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ خارجی حالات سے متاثر ہوئے بغیر خود اپنے آزاد ذہن کے تحت سوچے، وہ رد عمل کی نفسیات میں مبتلا ہوئے بغیر اعلی انسانیت پر قائم رہے۔ ندامت کے آنسو اس کی برائی کو بھی اس کے اعمال نامہ میں نیکی کے عنوان کے تحت درج کر دیں۔