جذبہ شکر کی حفاظت
Al-Risala, September 2001, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ البخاری (کتاب الرقاق)، مسلم (کتاب الزهد)، الترمذی (کتاب اللباس)، ابن ماجه (کتاب الزهد)، مسند احمد، مسند احمد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : انظروا الى من هو أسفل منكم ولا تنظروا الى من هو فوقكم فانه أجدر أن لا تزدروا نعمة الله عليكم (تم اس کو دیکھو جو تم سے نیچے ہے اور تم اس کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہے، کیوں کہ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو کم نہیں سمجھو گے)۔ اس حدیث کی مزید تشریح ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔ ایک مرفوع روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خصلتان من كانتا فيه كتبه الله شاكرا صابراً، من نظر في دنیاه الى من هو دونه فحمد الله على ما فضله به عليه، ومن نظر في دينه إلى من هو فوقه فاقتدى به. وأما من نظر في دنياه إلى من هو فوقه فأسف على ما فاته فإنه لا يكتب شاكرا و لا صابرا (فتح الباری ۳۳۰/۱۱)۔ یعنی دو صفتیں ہیں جو کسی کے اندر ہوں تو اللہ اس کو شاکر اور صابر لکھ دیتا ہے۔ جو دنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جو اس سے کم ہے پھر وہ اللہ کا شکر کرے اس نعمت پر جو اللہ نے اسے دی ہے۔ اور جو اپنے دین کے معاملہ میں اس کو دیکھے جو اس کے اوپر ہے پھر وہ اس کی پیروی کرے۔ مگر جو اپنی دنیا کے معاملہ میں اس کو دیکھے جو اس کے اوپر ہے پھر وہ اس پر افسوس کرے جو اس سے کھویا گیا تو وہ نہ شاکر لکھا جائے گا اور نہ صابر لکھا جائے گا۔ شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ کسی بندے سے جو چیز سب سے زیادہ مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کو ایک عظیم منعم کے طور پر دریافت کرے۔ اللہ کی نعمتوں کے احساس سے اس کا سینہ بھرا اس کی روح میں شکر کا ابدی چشمہ جاری ہو جائے۔ وہ اللہ کو ایک ایسی ہستی کے طور پر پائے جو اس پر بے پایاں نعمتوں کی بارش کر رہا ہے۔ یہ شعور اتنا زیادہ قوی ہو کہ کسی بھی حال میں اس کا سینہ شکر خداوندی کے احساس سے خالی نہ ہو۔
مگر یہ کوئی آسان بات یں۔ اپنے آپ کو شکر کے جذبہ سے سرشار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آدمی کا شعور اس معاملہ میں پوری طرح زندہ ہو۔ وہ اس کا مسلسل اہتمام کرے۔ وہ کسی ایسے خیال کو اپنے دل میں جگہ دے جو اس کے جذبہ شکر کو مجروح کرنے والا ہو۔ وہ سب کچھ برداشت کرلے مگر وہ اپنے جذبہ شکر کا کٹاؤ (erosion) کبھی برداشت نہ کرے۔
موجودہ دنیا میں فطری طور پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان نابرابری قائم رہتی ہے۔ اس بنا پر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مادی اعتبار سے کوئی اس سے کم ہے اور کوئی اس سے زیادہ۔ آدمی اپنا مقابلہ اس شخص سے کرے جو بظاہر اس سے زیادہ ہے تو اس کے اندر کمتری کا احساس پیدا ہوگا اور اس کا جذبہ شکر دب کر رہ جائے گا۔ اس لیے آدمی کو ایسا کبھی نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اپنا موازنہ نہ اس سے کرے جو مادی اعتبار سے بظاہر اس سے زیادہ ہے۔ اس کے بجائے آدمی کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ اپنا موازنہ نہ ان لوگوں سے کرے جو مادی اعتبار سے اس سے کم ہیں۔ اس طرح اس کا جذبہ شکر زندہ رہے اس کا دل کبھی نعمت کے احساس سے خالی نہ ہو سکے گا۔
موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ تمام لوگ مادی اعتبار سے یکساں نہیں ہوتے۔ ہوتا ہے اور کوئی کم، کوئی پیچھے ہوتا ہے اور کوئی آگے، کوئی طاقت ور ہوتا ہے اور کوئی کمزور۔ اس قسم کے تمام فرق امتحان کی مصلحت کی بنا پر ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ آدمی مختلف قسم کے حالات سے گزرے، مگر وہ حالات سے متاثر ہوئے بغیر اپنے ایمانی شعور کو زندہ رکھے۔
وہ ناشکری والے حالات سے دوچار ہو، پھر بھی اس کے شکر کے جذبہ میں کوئی کمی نہ آئے۔ بے اعترافی کی صورت حال سے گزرے، مگر وہ اپنے اعتراف کی صفت کو نہ کھوئے۔ وہ منفی جذبات پیدا کرنے والے حالات سے دوچار ہو، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو مثبت طرزِ فکر پر قائم رکھے۔ وہ سب سے قیمتی متاع ہے جس کو انسان اپنے رب کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں عقل مند انسان وہ ہے جو اپنے سینہ کو شکر کے احساس سے خالی نہ ہونے دے، حتی کہ انتہائی غیر موافق صورت حال میں بھی۔