تالیف قلب
Al-Risala, September 2001
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں بتایا گیا ہے کہ زکوۃ (صدقات) کے خرچ کی مدیں کیا کیا ہیں اور وہ کن لوگوں کو دی جائیں گی۔ ان مستحقین میں سے ایک قسم وہ ہے جن کو قرآن میں مؤلفۃ القلوب کہا گیا ہے (التوبہ یعنی وہ لوگ جن کی دلجوئی کرنا مقصود ہو۔ اس سے مراد وہ افراد ہیں جن کو اسلام کی طرف راغب کرنا ہو یا وہ اسلام قبول کرنے کے باوجود کمزور ہوں اور انہیں ایمان پر مستحکم کرنے کے لئے مالی دلجوئی کی ضرورت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں دونوں قسم کے لوگوں کو اس مقصد کے لیے یہ عطیات دئے۔ نو مسلموں میں اقرع بن حابس کو، اور غیر مسلموں میں صفوان بن امیہ کو، وغیرہ۔
بعد کو عباسی خلافت کے زمانہ میں جب اسلامی فقہ کی تدوین ہوئی تو بیشتر علماء اس کے قائل ہو گئے کہ اسلام کے عزت اور غلبہ کے بعد اب مؤلفۃ القلوب کی مد ساقط اور منقطع ہو چکی ہے۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے کہ: انقطع هذا الصنف بعز الإسلام و ظهوره (الجامع لأحكام القرآن، ۸ / ۱۸۱)۔
تالیف قلب کا یہ مسئلہ کسی بھی کتاب کے متعلق ابواب میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مثلاً قاضی محمد ثناء اللہ العثمانی نے یہ بتاتے ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں مؤلفۃ القلوب کو ترغیب کے لیے خمس یا زکوۃ میں سے عطیات دئے، لکھتے ہیں: وأما اليوم فقد أعز الله تعالى الإسلام و له الحمد وأغناه عن أن يتألف عليه رجال فلا يعطى مشرك تالفا بحال و قد قال بهذا كثير من أهل العلم أن المؤلفة منقطعة و سهمهم ساقط (التفسير المظهری، ۴/ ۲۳۴) یعنی جہاں تک آج کا تعلق ہے، تو اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو عزت و طاقت دے دی ہے اور اسلام کو اس سے مستغنی کر دیا ہے کہ کسی کی تالیف قلب کی جائے۔ پس کسی بھی مشرک کو کسی بھی حال میں تالیف قلب کے لئے کچھ نہیں دیا اور اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ مؤلفۃ القلوب کی مد منقطع ہے اور ان کا حصہ ساقط ہو چکا ہے۔ ملاحظہ ہو، فتح القدير للشو کانی ۴ / ۳۷۴)
بعد کے زمانہ کے اکثر علماء کا مسلک یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تالیف قلب کی یہ مد باقی نہ رہی۔ گویا کہ اب مال زکوۃ کی صرف سات مدیں ہیں نہ کہ قرآن کے بیان کے مطابق، آٹھ مدیں ۔ ان لوگوں کے نزدیک تالیف قلب کی حکمت ضعف ہے۔ یعنی اسلام جب ضعیف تھا تو اپنے
ضعف کی مالی تلافی کے لیے زکوۃ میں یہ مد مدقرار کی گئی۔ مگر اسلام جب طاقتور ہو گیا تو اس قسم کی مالی دلجوئی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس بنا پر بعد کو یہ مد ساقط یا موقوف ہوگئی۔ فقہاء میں امام مالک اور امام ابو حنیفہ کا یہ مسلک کلیتاً ہے اور دوسرے علماء کا کسی قدر گنجائش کے ساتھ۔ مثلاً یہ کہ اب نومسلم کو دیا جاسکتا ہے مگر کسی غیر مسلم کو نہیں دیا جائے گا۔ ان کے نزدیک نومسلم لوگ فقراء مسلمین کے حکم میں داخل ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تالیف قلب کا حکم نہ تو ساقط ہوا ہے اور نہ یہ حکم ضعفِ اسلام کی بنا پر تھا۔ یہ حکم مصلحتِ دعوت کی بنا پر ہے نہ کہ ضعفِ اسلام کی بنا پر۔
اسلامی دعوت میں اصل انحصار دلیل پر ہوتا ہے۔ داعی کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ دلیل کی قوت سے مدعو کو مطمئن کرے اور اُس کے اندر ذہنی تبدیلی لائے۔ مگر اس دعوتی عمل میں کچھ چیزوں کی ضرورت بطور معاون ہوتی ہے۔ مثلاً نرم گفتاری، اعلیٰ اخلاق، مدعو کے ساتھ تقریب کا معاملہ کرنا۔ چنانچہ تقریبِ دعوت کی اسی مصلحت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد تقریباً سولہ ماہ تک یہود کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنائے رکھا۔ (تفسیر القرطبی، ۲/ ۱۵۰)
تالیفِ قلب کی انہی صورتوں میں سے ایک صورت یہ ہے کہ مال یا تحفہ کے ذریعہ ان کی دلجوئی کی اس مقصد کے لئے دوسرے اموال کے علاوہ زکوۃ کی رقم بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ مال زکوۃ کے خرچ کی یہ مد ابدی ہے، وہ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک دعوت کا عمل لوگوں کے درمیان جاری ہو، خواہ مسلمان، سیاسی اعتبار سے، طاقت کی حالت میں ہوں یا ضعف کی حالت میں۔
تالیف قلب (دلجوئی) کا تعلق صرف زکوۃ کے مال سے نہیں ہے۔ اس کو زکوۃ کی ۸ مدوں میں سے ایک مقرر دینے کا مطلب یہ ہے کہ مدعو گروہ کی آخری حد تک رعایت کرو۔ حتی کہ ان کی دلجوئی کے لئے اگر زکوۃ کے اموال سے دینا ہو تو اُس میں سے بھی انہیں دو۔
تالیفِ قلب آدابِ دعوت کا ایک عام اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر اس پہلو سے ہے جو مدعو کے دل میں اسلام کے لئے نرم گوشہ (soft corner) پیدا کرنے والا ہو۔ قرآن و سنت میں اس کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ کا فرعون سے نرم زبان میں کلام کرنا (طہ 44)، پیغمبروں کا اپنی مخاطب قوم سے یہ کہنا کہ ہم تو تمہاری ایذاؤں پر صبر ہی کریں گے (ابراہیم ۱۲) مخالف لوگوں سے موعظت حسنہ (النحل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی تو آپ نے بنو ہاشم کے لوگوں کو اپنے گھر پر بلایا تا کہ انہیں توحید
کا پیغام دیں۔ اس موقع پر آپ نے پہلے ان کی تواضع کی اور انہیں دودھ پلایا۔ جب وہ اس سے فارغ ہو گئے تو اس کے بعد آپ نے انہیں نبوت کا پیغام دیا۔ یہ بھی مدعو کے حق میں تالیف قلب کی ایک صورت تھی۔ احمد، الجزء الاول، صفحہ ۱۵۹)
تالیف قلب دراصل ایک جامع حکم ہے جس کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً ایک بدو مدینہ کی مسجد نبوی اُس نے مسجد کے اندر پیشاب کر دیا۔ لوگ اس کو مارنے کے لیے دوڑے تو آپ نے لوگوں کو منع کر دیا اور بدوکوز جروتو بیخ کے بغیر واپس کر دیا۔ یہ بھی تالیف قلب کی ایک صورت تھی۔
اسی طرح قبیلہ دُوس کے طفیل بن عمر والدوسی ﷺ کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف واپس گئے اور اس کو اسلام کی دعوت دی۔ مگر قوم نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ ان کو ستایا اور سرکشی کا معاملہ کیا۔ وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور قبیلہ کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ دُوس کے حق میں دعا کی اور طفیل بن عمر والدوسی سے کہا کہ تم اپنی قوم کی طرف واپس جاؤ، اس کو اسلام کی طرف دعوت دو اور اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرو (ارجع الى قومك فادعهم وارفق بهم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت بھی مدعو کے حق میں تالیف قلب کی ایک مثال ہے۔ ہشام، الجزء الاول، صفحہ ۴۰۹)
جو لوگ مؤلفۃ القلوب کے حصہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد منقطع یا منسوخ مانتے ہیں ان کی اس رائے کی ایک خاص بنیاد حضرت عمر فاروق کا ایک واقعہ ہے۔ ابن ہمام کی روایت ہے کہ عیینہ اور اقرع خلیفہ ابو بکر صدیق کے پاس آئے اور ایک زمین کی مانگ کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے پہلے تالیف قلب کے طور پر کچھ مال دیا تھا۔ ان کی مانگ پر ان کے لیے حضرت ابو بکر نے ایک تحریر لکھ کر حالانکہ یہ دونوں مدینہ کے صاحب ثروت افراد تھے۔
یہ دونوں جب باہر آئے تو ان کی ملاقات حضرت عمر فاروق سے ہوئی۔ حضرت عمر نے تحریر کو لے کر پھاڑ دیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ اس کے بعد یہ معاملہ خلیفہ ابو بکر صدیق کے سامنے آیا۔ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیز تم کو تالیف قلب کے لیے دی تھی ۔ اب اللہ نے اسلام کو طا قتور بنا دیا ہے اور اس کو تم سے بے نیاز کر دیا ہے۔ حضرت ابو بکر نے حضرت عمر کی اس رائے سے اتفاق کیا۔ المظهری ۴/ ۲۳۶)۔
اس واقعہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تالیف قلب کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔ اصل یہ ہے کہ تالیف قلب
کے لیے جو مال دیا جاتا ہے وہ مؤلفۃ القلوب کے مطالبہ پر نہیں دیا جاتا بلکہ حاکم کی اپنی صوابدید پر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ مذکورہ دونوں اشخاص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی فیصلہ کے تحت کچھ مال دیا تھا کہ ان کے مطالبہ کی بنیاد پر۔ اس کے بعد جب حضرت ابوبکر کی خلافت کا زمانہ آیا تو ان دونوں صاحبان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے یہ مانگ کی کہ ہم کو فلاں زمین عطیہ میں دی جائے۔ یہ ایک قسم کا استحصال (exploitation) تھا۔ حضرت عمر فاروق نے معاملہ کی اس نوعیت کو سمجھا اور درمیان میں پڑ کر دونوں صاحبان کو اس سے روک دیا کہ وہ مسلمانوں کے اموال کو غلط طور پر حاصل
حقیقت یہ ہے کہ تالیف قلب اسلام کا ایک مستقل اصول ہے۔ وہ اپنی مختلف صورتوں میں ہر حال میں جاری رہتا ہے خواہ امن کے حالات ہوں یا جنگ کے حالات، اور خواہ اہل اسلام بے اقتدار ہوں یا اقتدار کی حالت میں ہوں، کسی بھی حال میں تالیف قلب کا حکم ساقط یا موقوف نہیں ہوتا۔
دعوت الی اللہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، خیر خواہی کا ایک عمل ہے (الاعراف ۹۷)۔ انسانیت کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ ہے جو ایک مومن کو مجبور کرتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کو اللہ کی رحمت کے سائے میں لانے کی کوشش کرے۔ اسی خیر خواہی کی بنا پر مومن یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنی بات اس طرح مؤثر انداز میں کہے کہ وہ سننے والے کے دل میں اتر جائے (النساء ۶۳)۔ یہی جذبہ داعی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے مخاطب کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کرے تاکہ پیغام رسانی کا ماحول بگڑنے نہ پائے (ابراہیم ۱۲)، وغیرہ۔ اس قسم کی مختلف چیزیں گویا آداب دعوت سے تعلق رکھتی ہیں۔ دعوت کے انہی آداب میں سے ایک متعین چیز وہ ہے جس کو تالیف قلب کہا جاتا ہے، یعنی مدعو کی دل جوئی اور اس کی رعایت۔ جس طرح ایک سچا تاجر اپنے گاہک کی آخری حد تک رعایت کرتا ہے تاکہ اس کے ساتھ مستحکم تجارتی تعلقات قائم ہوں۔ طرح داعی ہر ممکن طریقہ سے اپنے مدعو کی دل جوئی کرتا ہے تاکہ وہ اس کے دعوتی پیغام کی طرف پوری طرح حقیقت یہ ہے کہ تالیف قلب دعوت و تبلیغ کا مستقل اصول ہے، کسی بھی حال میں اور کسی بھی صورت میں اس کو ساقط نہیں کیا جاسکتا۔