Al-Risala · September 2001

جہاد کا تصور اسلام میں

Al-Risala, September 2001

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاد کا مادہ جہد ہے۔ جہد کے معنی ہیں کوشش کرنا (to strive, to struggle)۔ اس لفظ میں مبالغہ کا مفہوم ہے یعنی کسی کام میں اپنی ساری کوشش صرف کر دینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ بذل جہده، یا بذل مجہودہ،یعنی یعنی اس نے اپنی پوری طاقت صرف کر دی ۔ لسان العرب میں ہے کہ: جهد الرجل في كذا أي جد فيه و بالغ (۳/ ۱۳۳) آدمی نے فلاں معاملہ میں جد وجہد کی، یعنی اس میں مبالغہ کی حد تک کوشش کر ڈالی۔

جہاد مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی کسی کام میں اپنی ساری ممکن کوشش صرف کرنا۔ لسان العرب میں ہے: الجهاد: المبالغة و استفراغ الوسع فى الحرب أو اللسان أو ما أطاق من شئ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وجاهدوا في الله حق جهاده (الحج ۷۸) یعنی اللہ کی راہ میں خوب کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔

عربی زبان میں جہاد اصلاً کوشش یا بھر پور کوشش کے معنی میں ہے۔ دشمن سے جنگ بھی چوں کہ کوشش کی ایک صورت ہے اس لیے تو وسیعی مفہوم کے اعتبار سے دشمن کے ساتھ جنگ کو بھی جہاد کہہ دیا جاتا ہے۔ تاہم اس دوسرے مفہوم کے لیے عربی میں اصل لفظ قتال ہے نہ کہ جہاد۔ دشمن سے جنگ ایک اتفاقی واقعہ ہے جو کبھی پیش آتا ہے اور کبھی پیش نہیں آتا۔ لیکن جہاد ایک مسلسل عمل ہے جو مومن کی زندگی میں ہر دن اور ہر رات جاری رہتا ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جہاد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں اللہ کی مرضی پر قائم رہے۔ اس قیام میں جو چیز بھی رکاوٹ ہو اس کو اپنی زندگی پر اثر انداز نہ ہونے دے۔ مثلاً نفس کی خواہش، مفاد کی طلب، رسم و رواج کا زور، مصلحتوں کے تقاضے، ذاتی انا کا مسئلہ، مال کی حرص، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں عمل صالح کے لیے رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس قسم کی تمام رکاوٹوں کو زیر کرتے ہوئے اللہ کے حکم پر قائم رہنا، یہی اصل جہاد ہے، اور یہی جہاد کا ابتدائی مفہوم ہے۔ اس جہاد کے بارہ میں حدیث میں بہت سی روایتیں

مثلاً مسند امام احمد کی چند روایتیں یہ ہیں :

المجاهد من جاهد نفسه لله (۲۰/۶)

المجاهد من جاهد نفسه في سبيل الله (۲۲/۶)

المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله (۲۲/۶)

موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں کا پورا ماحول اس طرح بنایا گیا ہے کہ آدمی مسلسل طور پر آزمائش کے حالات سے گزرتا رہے۔ ان آزمائشی مواقع پر آدمی کو طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا پیش آتا ہے۔ مثلاً ایک حق اس کے سامنے آئے مگر اس کا اعتراف کرنے میں اپنا درجہ نیچا ہوتا ہوا دکھائی دے، کسی کا مال آدمی کے قبضہ میں ہو اور اس کو حقدار کی طرف واپس کرنے میں اپنا نقصان نظر آتا ہو، تواضع کی مطلوب زندگی گزارنے میں اپنے نفس پر جبر کرنا پڑے، غصہ اور انتقام کے جذبات کو برداشت کرنا اپنی نفی کے ہم معنی بن گیا ہو، انصاف کی بات بولنے میں یہ اندیشہ ہو کہ لوگوں کے درمیان مقبولیت ختم ہوجائے گی، خودغرضانہ کردار کے بجائے بااصول کردار اختیار کرنے میں سہولیات سے محرومی نظر آتی ہو، وغیرہ۔

اس طرح کے مختلف مواقع پر بار بار آدمی کو اپنی خواہش کو دبانا پڑتا ہے۔ اپنی نفسیات کی قربانی دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ حتی کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے اپنی انا کو ذبح کرنا پڑے گا۔ اس طرح کے تمام مواقع پر ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اور ہر نقصان کو جھیلتے ہوئے حق پر قائم رہنا یہی اصلی اور ابتدائی جہاد ہے۔ جو لوگ اس جہاد پر قائم رہیں وہی آخرت میں جنت کے مستحق قرار دیے

جہاد اصلا پر امن جد و جہد کا عمل ہے۔ اسی پر امن جد و جہد کی ایک صورت وہ ہے جس کو دعوت و تبلیغ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : فلا تطع الكافرين و جاهد هم به جهاداً كبيرا (الفرقان (۵۲) یعنی منکرین کی اطاعت نہ کرو اور ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ مطلب یہ ہے کہ اہل باطل جو بات ان سے منوانا چاہتے ہیں اس کو ہرگز نہ مانو۔ بلکہ قرآن کی تعلیمات

کولے کر ان کے خلاف دعوت و تبلیغ کا عمل کرو اور اس عمل میں اپنی آخری کوشش صرف کر دو۔ میں جہاد سے مراد کوئی عسکری عمل نہیں ہے بلکہ اس سے مراد تمام تر فکری اور نظریاتی عمل ہے۔ اس عمل کو ایک لفظ میں ابطال باطل اور احقاق حق کہا جا سکتا ہے۔

جہاد بمعنی قتال بھی اپنے ابتدائی مفہوم کے لحاظ سے پُر امن جد و جہد ہی کا دوسرا نام ہے۔ کی طرف سے اگر فوجی اور عسکری چیلنج دیا جائے تب بھی اولاً ساری کوشش اس بات کی کی جائے گی کہ اس کا جواب پر امن طریقہ سے دیا جائے ۔ پُر امن طریقہ کو صرف اُس وقت ترک کیا جائے گا جب کہ اس کو استعمال کرنا ممکن ہی نہ ہو، جب کہ قتال کے جواب میں قتال ہی واحد ممکن انتخاب کی صورت

اس معاملہ میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہمارے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا: ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما (صحیح البخاری، کتاب الادب) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کسی معاملہ میں دو امکانی انتخاب ہوتا ، ایک آسان انتخاب (easier option) اور دوسرا مشکل انتخاب (harder option) تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب کو چھوڑ دیتے اور جو آسان ہوتا اس کو اختیار فرما لینے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کا تعلق زندگی کے صرف عام معاملات سے نہ تھا بلکہ جنگ جیسے سنگین معاملہ سے بھی تھا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مشکل انتخاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے کبھی خود اپنی طرف سے جنگ کا اقدام نہیں کیا۔ اور جب آپ کے مخالفین کی طرف سے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی گئی تو آپ نے ہمیشہ اعراض کی کوئی تدبیر اختیار کر کے جنگ کو ٹالنے کی کوشش کی ۔ آپ صرف اُس وقت جنگ میں شریک ہوئے جب کہ دوسرا کوئی راستہ سرے سے باقی ہی نہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ، اسلام میں

جارحانہ جنگ نہیں ہے، اسلام میں صرف مدافعانہ جنگ ہے اور وہ بھی صرف اس وقت جب کہ اس سے بچنا سرے سے ممکن ہی نہ رہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ دو میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ رہتا ہے— پُر امن جد و جہد، اور پُر تشدد جد و جہد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اور ہر معاملہ میں یہی کیا کہ پُر تشدد طریق کار کو چھوڑ کر پُر امن طریق کار کو اختیار فرمایا۔ آپ کی پوری زندگی اسی اصول کا ایک کامیاب عملی نمونہ ہے۔ یہاں اس نوعیت کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ پیغمبری ملنے کے بعد فوراً ہی آپ کے سامنے یہ سوال تھا کہ آپ مذکورہ دونوں طریقوں میں سے کس طریقہ کو اختیار کریں۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر کی حیثیت سے آپ کا مشن یہ تھا کہ شرک کو ختم کریں اور توحید کو قائم فرمائیں۔ مکہ میں کعبہ اللہ اسی توحید کے مرکز کے طور پر بنایا گیا تھا مگر آپ کی بعثت کے وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھ دیئے گئے تھے۔ اس لحاظ سے بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ قرآن میں سب سے پہلے اس طرح کی کوئی آیت اترتی کہ: طہر الکعبة من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو) اور اس کو دوبارہ مرکز توحید بنا کر اپنے مشن کو آگے بڑھاؤ۔

مگر کام کا یہ آغاز قریش سے جنگ کرنے کے ہم معنی تھا، جن کی قیادت عرب میں اسی لیے قائم تھی کہ وہ کعبہ کے متولی بنے ہوئے تھے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کی عملی تطہیر کے معاملہ سے مکمل طور پر احتراز فرمایا اور اپنے آپ کو صرف توحید کی نظری دعوت تک محدود رکھا۔ یہ گویا پرُ تشدد طریق کار کے مقابلہ میں پُر امن طریق کار کی پہلی پیغمبرانہ مثال تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پُر امن اصول پر قائم رہتے ہوئے تیرہ سال تک مکہ میں اپنا کام کرتے رہے۔ مگر اس کے باوجود قریش آپ کے دشمن بن گئے۔ یہاں تک کہ ان کے سرداروں نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا کہ سب مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے تلواروں سے مسلح ہو کر آپ کے گھر کو گھیر لیا۔

یہ گویا رسول اور اصحاب رسول کے لیے جنگ کا کھلا چیلنج تھا۔ مگر آپ نے اللہ کی رہنمائی کے

تحت یہ فیصلہ فرمایا کہ جنگی مقابلہ سے اعراض کریں۔ چنانچہ آپ رات کے سناٹے میں مکہ سے نکلے اور خاموشی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے مدینہ پہنچ گئے۔ اس واقعہ کو اسلام کی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہجرت واضح طور پر پر تشدد طریقہ کار کے مقابلہ میں پر امن طریقہ کار کو اختیار کرنے کی ایک

غزوہ خندق یا غزوہ احزاب بھی اسی سنت کی ایک مثال ہے۔ اس موقع پر مختلف قبائل کے لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہو کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ وہ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ طور پر آپ کے مخالفین کی طرف سے ایک جنگی چیلنج تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے بچنے کے لیے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ رات دن کی محنت سے اپنے اور مخالفین کے درمیان ایک لمبی خندق اس وقت کے حالات میں یہ خندق گویا ایک حاجزہ یاٹکرروک طریقہ (buffer) تھا۔ قریش کا لشکر خندق کے دوسری طرف کچھ دن ٹھہرار ہا اور اس کے بعد واپس چلا گیا۔ یہ خندق بھی گویا پر تشد دعمل کے مقابلہ میں پر امن عمل کا انتخاب لینے کی ایک مثال ہے۔

اسی طرح صلح حدیبیہ بھی اسی قسم کی ایک سنت کی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر یہ صورت تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرنا چاہتے تھے۔ مگر مکہ کے سرداروں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک دیا اور کہا کہ آپ لوگ مدینہ واپس جائیں۔ ہم کسی قیمت پر آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یہ گویا قریش کی طرف سے آپ کے لیے ایک جنگی چیلنج تھا۔ اپنے ارادہ کے مطابق عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی طرف بڑھیں تو یقینی تھا کہ قریش سے جنگی ٹکراؤ پیش مگر آپ نے حدیبیہ پر اپنا سفرختم کر دیا اور قریش کی یک طرفہ شرطوں پر امن کا معاہدہ کر کے مدینہ واپس آگئے ۔ یہ بھی واضح طور پر تشدد کے مقابلہ میں امن کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک پیغمبرانہ

فتح مکہ کے واقعہ سے بھی آپ کی یہی سنت ثابت ہوتی ہے۔ اس وقت آپ کے پاس جاں نثار صحابہ دس ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔ وہ یقینی طور پر قریش سے کامیاب لڑائی لڑ سکتے تھے۔

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال طاقت کے بجائے مظاہرۂ طاقت کا طریقہ اختیار فرمایا۔ آپ نے ایسا نہیں کیا کہ دس ہزار افراد کی اس فوج کو لے کر اعلان کے ساتھ نکلیں اور قریش سے جنگی تصادم کر کے مکہ پر قبضہ حاصل کریں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ کامل راز داری کے ساتھ سفر کی تیاری کی اور اپنے اصحاب کے ساتھ سفر کرتے ہوئے نہایت خاموشی کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گئے۔ آپ کا یہ داخلہ اتنا اچانک تھا کہ قریش آپ کے خلاف کوئی تیاری نہ کر سکے اور مکہ کسی خونی تصادم کے بغیر فتح ہو گیا یہ بھی پر تشدد طریق کار کے مقابلہ میں پر امن طریق کار کو اختیار کرنے کی ایک اعلیٰ مثال ان چند مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف عام حالات میں بلکہ انتہائی ہنگامی حالات میں بھی رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے مقابلہ میں امن کے اصول کو اختیار فرمایا۔ آپ کی تمام کامیابیاں اسی سنت امن کی عملی مثالیں ہیں۔

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، اسلام میں امن کی حیثیت حکم عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف مجبورانہ استثناء کی۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور پھر یہ دیکھیے کہ موجودہ زمانہ میں صورت حال کیا ہے۔ اس معاملہ میں جدید دور قدیم دور سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ قدیم زمانہ میں پر تشدد طریق کار ایک عام رواج کی حیثیت رکھتا تھا۔ اور امن کا طریقہ اختیار کرنا بے حد مشکل کام تھا۔ مگر اب صورت حال یکسر طور پر بدل گئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں پر تشدد طریق کار آخری حد تک غیر مطلوب اور غیر محمود بن چکا اس کے مقابلہ میں پر امن طریق کار کو واحد پسندیدہ طریق کار کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ یہ کہ موجودہ زمانہ میں پر امن طریق کار کو ایسی فکری اور عملی تائیدات حاصل ہو گئی ہیں جنہوں نے پر امن طریق کار کو بذات خود ایک انتہائی طاقتور طریق کار کی حیثیت دے دی ہے۔

ان جدید تائیدات میں بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ مثلاً اظہارِ رائے کی آزادی کا حق، جدید کمیونیکیشن کے ذریعہ اپنی بات کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے امکانات، میڈیا کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کرنا، وغیرہ۔ ان جدید تبدیلیوں نے پر امن طریق کار کو بیک وقت مقبول طریق کار بھی بنا دیا ہے اور اسی کے ساتھ زیادہ مؤثر طریق کار بھی۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ جب پُر امن طریقہ کار عملاً دستیاب (available) ہو تو اسلامی جدوجہد میں صرف اسی کو اختیار کیا جائے گا، اور پر تشدد جدوجہد کو ترک کر دیا جائے گا۔ اب موجودہ صورت حال یہ ہے کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجہ میں پُر امن طریق کار نہ صرف مستقل طور پر دستیاب ہے، بلکہ مختلف تائیدی عوامل (supporting factors) کی بنا پر وہ بہت زیادہ مؤثر حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ یہ کہنا بلا مبالغہ درست ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں پرتشدد طریق کار مشکل ہونے کے ساتھ عملاً بالکل غیر مفید ہے، اس کے مقابلے میں پُر امن طریق کار آسان ہونے کے ساتھ انتہائی مؤثر اور نتیجہ خیز ہے۔ اب پُر امن طریق کار کی حیثیت دوامکانی انتخابات (possible options) میں سے صرف ایک انتخاب کی نہیں ہے بلکہ وہی واحد ممکن اور نتیجہ خیز انتخاب ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اب پرتشدد طریق کار عملاً متروک قرار پا چکا ہے، یعنی وہی چیز جس کو شرعی زبان میں منسوخ کہا جاتا ہے۔ اب اہل اسلام کے لیے عملی طور پر ایک ہی طریق کار کا انتخاب باقی رہ گیا ہے، اور وہ بلا شبہ پر امن طریق کار ہے، الا یہ کہ صورت حال میں ایسی تبدیلی پیدا ہو جو دوبارہ حکم کو بدل دے۔ یہ صحیح ہے کہ پچھلے زمانہ میں بعض اوقات پرتشدد طریق کار کو اختیار کیا گیا مگر اس کی حیثیت زمانی اسباب کی بنا پر صرف ایک مجبورانہ انتخاب کی تھی۔ اب جب کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجہ میں یہ مجبوری باقی نہیں رہی تو پرتشدد طریق کار کو اختیار کرنا بھی غیر ضروری اور غیر مسنون قرار پا گیا۔ حالات میں صرف پُر امن طریق کار کا انتخاب کیا جائے گا۔ جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے، جہاد کے معاملہ میں امن کی حیثیت عموم کی ہے، اور جنگ کی حیثیت صرف ایک نادر الوقوع استثناء کی۔ موجودہ زمانہ میں اس معاملہ کی ایک سبق آموز مثال ہندوستانی لیڈر مہاتما گاندھی (وفات ۱۹۴۸) کی زندگی میں ملتی ہے۔ اسی زمانی تبدیلی کی بنا پر مہاتما گاندھی کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ ہندستان میں ایک مکمل قسم کی سیاسی لڑائی لڑیں اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائیں۔ اور یہ سب کچھ شروع سے آخر تک عدم تشدد کا طریقہ (non-violent method) اور پر امن عمل (peaceful activism) کے اصول کو اختیار کر کے انجام پایا۔

فقہ کا یہ ایک معلوم اصول ہے کہ: تتغیر الأحکام بتغیر الزمان والمکان (زمان اور مکان کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں) اس مسلمہ فقہی اصول کا تقاضا ہے کہ جب زمانی حالات بدل چکے ہوں تو شرعی احکام کا از سر نو انطباق (re-application) تلاش کیا جائے، تا کہ شرعی حکم کو زمانی حالات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس فقہی اصول کا تعلق جس طرح دوسرے معاملات سے ہے اسی طرح یقینی طور پر اس کا تعلق جنگ کے معاملہ سے بھی ہے۔ اس اصول کا بھی یہ تقاضا ہے کہ پر تشدد طریق کار کو اب عملاً متروک قرار دیا جائے اور صرف پر امن طریق کار کو شرعی جواز کا درجہ دیا جائے۔ موجودہ زمانہ کی جہادی تحریکیں موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد کے نام سے بہت سے ملکوں کے مسلمان مسلح جہاد کی تحریکیں چلا مگر کوئی تحریک محض اس بنا پر جہاد کی تحریک نہیں ہو سکتی کہ اس کے علم برداروں نے اس کو جہاد کا نام دے دیا ہو۔ کوئی عمل صرف اس وقت اسلامی جہاد قرار پاتا ہے جب کہ وہ اسلام کی مقرر کی ہوئی شرطوں پر پورا اترے۔ جہاد کی شرطوں کی تکمیل کے بغیر جو جہاد کیا جائے وہ عملاً جہاد نہیں ہوگا بلکہ فساد جو لوگ اس کام میں مشغول ہوں وہ اپنے اس کام پر جہاد کا انعام نہیں پائیں گے بلکہ اللہ کی طرف سے وہ صرف سزا کے مستحق ہوں گے۔

جہاد بمعنی قتال کی شرطیں کیا کیا ہیں، اس کو میں اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں یہاں صرف ایک بات کا اظہار کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ جہاد بمعنی قتال کی حیثیت نماز روزہ جیسے انفرادی عمل کی نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسا عمل ہے جس کا تعلق مکمل طور پر ریاست سے ہے۔ جہاد (بمعنی قتال) کی یہ اصولی حیثیت قرآن و حدیث کی مختلف نصوص سے واضح طور پر معلوم مثلاً قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ دشمن کی طرف سے خوف کی صورت پیدا ہو تو اس کو لے کر خود سے اس کے خلاف کارروائی شروع نہ کر دو بلکہ اس کو اولوالأمر (ارباب حکومت) کی طرف لوٹاؤ، تاکہ وہ معاملہ کی صحیح نوعیت کو سمجھیں اور اس کے بارہ میں صحیح اور ضروری اقدام کریں (النساء ۸۳)۔ بتاتی ہے کہ خوف (جنگی صورت حال) پیش آنے کی صورت میں عوام کے لیے خود سے اقدام کرنا جائز

وہ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ معاملہ کو حاکم کے حوالہ کردیں اور حاکم کی طرف سے جو اقدام کیا جائے اس میں اس کا ساتھ دیں۔

اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: انما امام جنة، يقاتل من ورائه و يتقى به (صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسیر، باب يقاتل من وراء الإمام، ويتقى به) یعنی بلاشبہ امام ڈھال ہے، قتال اس کی ماتحتی میں کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ حفاظت حاصل کی جاتی اس سے معلوم ہوا کہ جنگی دفاع ہمیشہ حاکم کی قیادت میں کیا جائے گا۔ عام مسلمانوں کا فرض صرف یہ ہوگا کہ وہ اپنے حاکم کی اتباع کریں اور اس کا ساتھ دے کر حکومت کے منصوبہ کو کامیاب

فقہ میں یہ مسئلہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے جس میں غالباً کسی قابل ذکر عالم کا اختلاف نہیں۔ چنانچہ فقہاء کے متفقہ مسلک کے مطابق ، جنگ کا اعلان صرف ایک قائم شدہ حکومت ہی کرسکتی ہے، غیر حکومتی عوام کو اس قسم کا اعلان کرنے کا حق نہیں۔ اسی لیے فقہ میں یہ مسئلہ ہے کہ: الرحیل للإمام (جنگ کا اعلان کرنا صرف حاکم وقت کا کام ہے۔

اصل یہ ہے کہ جنگ ایک انتہائی منظم عمل کا نام ہے۔ اس قسم کا منظم عمل صرف با اختیار حکومت ہی کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی اقدام صرف حکومت کے لیے جائز ہے، عوام کے لیے جنگی اقدام کرنا سرے سے جائز ہی نہیں۔

موجودہ زمانہ میں مختلف مقامات پر مسلمان جہاد کے نام پر حکومتوں سے پُر تشدد ٹکراؤ چھیڑے مگر تقریباً بلا استثناء ان میں سے ہر ایک کی حیثیت فساد کی ہے نہ کہ اسلامی جہاد کی۔ سبب یہ ہے کہ اُن میں سے کوئی بھی’’جہاد‘‘ کسی حکومت کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا ہے۔ آج کل کی زبان میں ان میں سے ہر ایک جہاد غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کی طرف سے شروع کیا گیا اور انہی کی طرف سے ان کو چلایا جارہاہے۔ اگران میں سے کسی جہادی سرگرمی کو بالفرض کسی مسلم حکومت کا تعاون حاصل ہے تو یہ تعاون بلا اعلان صرف خفیہ انداز میں کیا جارہا ہے، اور

شریعت کے مطابق کسی مسلم حکومت کو بھی جہاد کا حق صرف اس وقت ہے جب کہ وہ باقاعدہ طور پر اس کا اعلان کرے (الانفال ۵۸)۔ اعلان کے بغیر کسی مسلم حکومت کے لیے بھی قتال کرنا جائز نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی طرف سے جہاد کے نام پر جو سرگرمیاں جاری ہیں، آج کل کی زبان میں وہ دو قسم کی ہیں۔ یا تو اس کی حیثیت گوریلا وار (guerrilla war) کی ہے، یا پراکسی وار (proxy war) کی۔ اور یہ دونوں ہی قسم کی جنگیں یقینی طور پر اسلام میں نا جائز ہیں۔ وار اس لیے نا جائز ہے کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے چلائی جاتی ہے نہ کہ کسی قائم شدہ حکومت کی اور پراکسی وار اس لیے نا جائز ہے کہ کوئی حکومت اس کو بلا اعلان جاری کرواتی ہے، اور اعلان کے بغیر جنگ اسلام میں جائز نہیں۔

Printed page