سوال و جواب
Al-Risala, September 2001
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے ایک عزیز نے مجھے تین سو صفحہ کی ایک کتاب دی۔ اس کا نام نمازِ نبوی ہے۔ کے ٹائٹل پر یہ حدیث لکھی ہوئی ہے کہ : اُس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے جن صاحب نے مجھ کو یہ کتاب دی انہوں نے کہا کہ عرب میں زیادہ تر لوگ اسی طرح نماز پڑھتے اس کتاب کے مطابق ، مرد و عورت کے نماز پڑھنے کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر رکعت کے شروع میں رکوع اور سجدہ سے پہلے ’’ رفع یدین‘‘ ( دونوں ہاتھ کندھوں اور کانوں تک اٹھانا) کرنا ہے۔ عشاء کی وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی جگہ ایک اور دعا کا پڑھنا ہے۔ طرح کے کئی طریقوں پر زور دیا گیا ہے جو ہم لوگوں کی نماز سے الگ ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس کتاب میں بتایا ہوا طریقہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ ہے اور کیا مجھ کو اپنے موجودہ حنفی طریقہ کو چھوڑ کر اس کتاب میں بتائے ہوئے طریقہ پر نماز پڑھنا ( صوفیہ حیدر، بتیا، بہار)
یہ صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : صلوا كما رأيتموني أصلی (اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو)۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات عمومی مفہوم میں ہے نہ کہ کلی مفہوم میں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی ادائیگی کے اعتبار سے تم لوگ میرے طریقہ پر نماز پڑھو۔ جہاں تک جزئی پہلوؤں کا تعلق ہے، وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مختلف ہے۔ اس لیے آپ کے اس قول کو کلی مفہوم میں لینا ممکن ہی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے، اس کو معلوم کرنے کا ذریعہ آپ کے اصحاب کی روایتیں ہیں۔ اصحاب رسول کی یہ روایتیں حدیث کی مستند کتابوں میں تفصیل کے ساتھ ان روایتوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اصحاب رسول نے آپ کی نماز کے جو طریقے بتائے ہیں وہ سب کے سب یکساں نہیں ہیں ، بلکہ ان میں بہت سے فرق ہیں۔
ان روایتوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نماز کے کچھ اجزاء کے بارے میں تمام صحابہ متفق الرائے مثلاً فجر کی دو رکعت، ظہر کی چار رکعت اور مغرب کی تین رکعت۔ اسی طرح ہر رکعت میں رکوع ایک بار اور سجدہ دوبار۔ یہ اجزاء وہ ہیں جن میں کسی بھی صحابی کا کوئی اختلاف منقول نہیں۔ مگر نماز کے کچھ اور اجزاء ہیں جن میں خود صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً کسی روایت سے آمین بالجہر کا ثبوت ملتا ہے تو کسی روایت سے آمین بالسّر کا۔ کسی روایت میں رکوع اور سجدہ کے لیے ایک ذکر ہے تو دوسری روایت میں دوسرا ذکر، وغیرہ۔
آپ نے مذکورہ کتاب میں رسول اللہ کی نماز کا جو طریقہ پڑھا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حدیث کی کتابوں میں صرف اسی طریقہ کا تذکرہ ہے جو اس کتاب میں درج ہے۔ ’’نماز نبوی‘‘ کی یہ تصویر انتخابی طور پر بنائی گئی ہے نہ کہ کلی طور پر۔ یعنی کچھ روایتوں کو لے کر کہہ دیا گیا کہ یہ نماز نبوی ہے اور اس کے برعکس دوسری روایتوں کو یا تو لیا نہیں گیا یا یہ کہہ دیا گیا کہ وہ یا تو منسوخ ہیں یا مرجوح ہیں یا غیر افضل ہیں۔ ترجیح کا یہی خود ساختہ اصول حنفی لوگ بھی استعمال کرتے ہیں اور غیر حنفی لوگ بھی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتب حدیث کی جن روایتوں کو منسوخ یا مرجوح یا غیر افضل قرار دیا جاتا ہے، ان کی اس نوعیت کا علم کہاں سے ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خود روایت کے متن سے ان کی یہ نوعیت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ دعویٰ تمام تر فقہاء کے اپنے قیاس پر مبنی ہے، اور عبادت کے معاملہ میں قیاس قابل اعتبار نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، یہ قیاسی فقہ تبع تابعین کے دور میں پیدا ہوئی۔ اس سے پہلے صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں نماز نبوی کی انتخابی تصویر کا طریقہ رائج ہی نہ تھا۔ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں بھی طریق نماز میں یہ اختلافات عملاً موجود تھے۔ مگر وہ لوگ یہ نہیں کرتے تھے کہ مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کو درست قرار دینے کی کوشش کریں، بلکہ ان کا کہنا یہ تھا کہ مختلف صحابہ میں سے جس صحابی کے طریقہ کی بھی تم پیروی کرو گے تم ہدایت پر ہوگے اور تمہاری نماز درست نماز قرار پائے گی۔ اصل یہ ہے کہ ظاہری اعتبار سے نماز کے دو حصے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ارکانِ نماز اور
دوسرے کو آدابِ نماز کہا جاسکتا ہے۔ ارکان سے مراد نماز کے وہ اجزاء ہیں جن میں تمام صحابہ متفق ہیں اور جن میں تمام صحابہ کی روایتیں ایک ہی تصویر پیش کرتی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں آداب سے مراد نماز کے وہ جزئی پہلو ہیں جن میں صحابہ کی روایتوں میں فرق و اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال کی صحیح توجیہ یہ ہے کہ ارکانِ نماز میں توحّد (یکسانیت) مطلوب ہے اور آدابِ نماز میں تنوع۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ مختلف روایتوں میں سے کچھ روایتوں کو چھوڑتے ہیں اور کچھ روایتوں کو لیتے ہیں اور پھر اپنی منتخب روایتوں کی بنیاد پر ایک تصویر بنا کر کہتے ہیں کہ یہ نماز نبوی (صلاۃ النبی) ہے۔ ان لوگوں سے کہا جائے کہ جن ثابت شدہ روایتوں کو آپ نے چھوڑا ہے وہ بھی تو آخر نماز نبوی ہی کا حصہ ہیں۔ اس کے جواب میں وہ یہ کہیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان جواز کے لئے ایسا کیا۔ مگر ’’بیانِ جواز‘‘ کا یہ نظریہ قیاسی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب نماز کا کوئی ایک واحد معین طریقہ مطلوب تھا تو اس کی کیا ضرورت تھی کہ ’’بیانِ جواز‘‘ کے لئے ایک مختلف طریقہ کا نمونہ قائم کیا جائے۔ وہ چیزیں جو ارکانِ نماز کی حیثیت رکھتی ہیں وہاں آپ نے بیانِ جواز کی خاطر کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔ پھر بیانِ جواز کا جو اصول ارکانِ نماز میں غیر مطلوب تھا وہ آدابِ نماز میں کیوں مطلوب
اس معاملہ کی نوعیت امام شافعی کے قول سے بہت اچھی طرح واضح ہوتی ہے۔ اگر چہ خود بھی انہوں نے انتخابی اصول کو استعمال کرتے ہوئے نمازِ نبوی کی ایک تصویر بنائی۔ مگر اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: رأیی صواب يحتمل الخطاء و رأى غیرى خطاء يحتمل الصواب (میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ، اور میرے علاوہ کی رائے غلط ہے احتمال صحت کے ساتھ)۔
انتخابی تصویر بنانے کی ساری کوشش کے بعد بھی کیا وجہ ہے کہ دونوں فریقوں کے حق میں صرف احتمال خطا یا احتمالِ صواب ہی حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک فریق جب کچھ منتخب روایتوں کو لے کر اپنی تصویر مکمل کرتا ہے تو اُس کے بعد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ میری تصویر کے علاوہ بھی بہت سی
مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں جن کو رد کرنا میرے لئے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں تطبیق کا صحیح فارمولا وہ نہیں ہے جو امام شافعی نے اپنے مذکورہ قول میں پیش کیا۔ اس کے بجائے تطبیق کا صحیح فارمولا یہ ہے کہ آداب نماز میں فرق واختلاف کے معاملے کو تنوع (diversity) پر محمول کیا جائے۔ یعنی یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ بھی ٹھیک۔
آخری بات یہ کہ آداب نماز کے معاملہ میں روایتوں کا اختلاف کوئی نقص کی بات نہیں بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ نماز کوئی مشینی عمل نہیں، وہ کیفیت کے ساتھ ادا کیا جانے والا ایک روحانی عمل ہے۔ مشینی عمل میں کلی یکسانیت ہو سکتی ہے مگر کیفی عمل میں کلی یکسانیت ممکن نہیں۔ کیفی عمل میں بنیادی ارکان کے اعتبار سے تو ضرور یکسانیت ہوگی مگر اس کے جزئی پہلوؤں میں فطری طور پر کچھ نہ کچھ فرق ہو جائے گا اور یہ فرق عبادت گذار کی داخلی کیفیت کی بنا پر ہوگا۔
داخلی کیفیت کے اعتبار سے نماز کے جزئی پہلوؤں میں فرق ہونا خود احادیث سے ثابت ہے۔ مثال کے طور پر ایک صحابی کا رکوع سے اٹھنے کے بعد خلاف معمول طور پر یہ کہہ اٹھنا: ربنا لك الحمد حمداً كثيراً طيباً مباركاً فيه ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کی تصدیق فرمانا، وغیرہ۔ غیر مسلم لوگ ہم سے اکثر یہ کہتے ہیں کہ تمہارے مذہب میں باپ کے مرنے کے بعد پوتا حق وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہے یہ تو بڑا ظلم ہے۔ اس اعتراض کا کیا جواب ہے۔
محجوب پوتے کی وراثت کا جو مسئلہ فقہ میں ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ محجوب پوتے کو وراثت ہی اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وراثتی نقشہ میں درمیانی لنک ٹوٹ جانے کی وجہ سے ایسے پوتے کو ظاہری قانون کے اعتبار سے وراثت نہیں پہنچتی۔ ایسی حالت میں قانونی ڈھانچہ کو برقرار رکھتے ہوئے دوسرے طریقہ سے اس کی تلافی کی جائے۔ تلافی کا یہ طریقہ وصیت کا اصول ہے۔ یعنی جہاں براہ
راست قانونی لنک کے ذریعہ وراثت نہیں پہنچ رہی ہے وہاں دادا اپنے حق وصیت کو استعمال کرتے ہوئے محجوب پوتے کو اس کا واقعی حصہ دے دے۔ چنانچہ اسلام کی پوری تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔
کچھ خاندان ایسے ہو سکتے ہیں جہاں محجوب پوتے کو وراثت نہ دی گئی ہو۔ مگر اس کا سبب سرکشی ہے نہ کہ قانون میں کوئی کمی۔ جن لوگوں کے مزاج میں سرکشی ہو وہ محجوب پوتے کے علاوہ دوسرے مسلم معاملات میں بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ مثلاً بہنوں کو حق نہ دینا، جس کی مثالیں موجودہ مسلم معاشرہ میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ حالاں کہ یہ شریعت سے انحراف کی بنا پر ہے نہ کہ شریعت کی پیروی کی بنا پر۔ آپ نے الرسالہ دسمبر ۷۹ء میں ’’فطری روش‘‘ کے تحت لکھا ہے کہ عرب جاہلیت کا یہ واقعہ دراصل فطرت انسانی کا واقعہ ہے، اس وقت عرب کے لوگ اپنی فطرت پر قائم تھے۔ اس پر اعتراض یہ ہے کہ اگر عرب کے لوگ فطرت پر قائم ہوتے تو اُن کے دور کو دور جاہلیت کے دور سے موسوم کیوں کیا جاتا، اور پیغمبر اسلام کو دین فطرت کی عظمت ان کے دلوں میں بٹھانے میں جنگوں کا سامنا کیوں کرنا معلوم ہوا کہ وہ لوگ غیر فطری زندگی گزارتے تھے، پیغمبر اسلام کی قربانیوں سے وہ فطری زندگی پر آئے۔ (امیر حمزہ، جامعہ سراج العلوم، کرنا)
اسلام کے مقابلہ میں جب جاہلیت کا لفظ بولا جاتا ہے تو اُس کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو اُردو زبان میں اس لفظ کا مستعمل مفہوم ہے۔ بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے، بے خبری (ignorance)۔ سے مراد ظہور اسلام سے پہلے کا دور ہے جب کہ اہل عرب وحی اور نبوت سے بے خبر تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جن عربوں (بنو اسماعیل) کے درمیان بھیجے گئے ان کے بارے میں وہ بات خود احادیث سے ثابت ہے جس کا تذکرہ آپ نے الرسالہ میں پڑھا۔ احادیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو خیار عرب میں مبعوث فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے اندر اسلام
سے پہلے اعلیٰ انسانی صفات (human qualities) موجود تھیں ۔ حدیث کی زبان ، اسلام نے ان کے اندر فقہ (شعورِ ایمان) کا اضافہ کیا۔ اس طرح جاہلیت کے بہترین لوگ اسلام میں بہترین لوگ بن گئے (خیار کم فی الجاہلية خیاركم في الإسلام إذا فقہوا)۔
عرب کے یہ لوگ جو اسلام میں آنے کے بعد بہترین امت بن گئے، وہ کسی پر اسرار قسم کی قربانی کے ذریعہ نہیں بنے۔ بلکہ وہ دعوتی جد و جہد کے ذریعہ بنے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ اور قرآن کے مطالعہ نے ان کے اندر حق کا شعور پیدا کیا۔ ان کے اندر ذہنی بیداری آئی۔ انہوں نے معرفت (دریافت) کے طور پر اللہ کے دین کو پایا۔ یہ مکمل طور پر فکری انقلاب (intellectual revolution) کے ذریعہ پیش آنے والا ایک واقعہ تھا نہ کہ کسی پر اسرار قربانی کے ذریعہ پر اسرار طور پر پیش آنے والا کوئی واقعہ۔
آپ کی تحریروں کے ذریعہ میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ دعوت و تبلیغ کا فریضہ کسی بھی اسلامی دور میں متروک نہیں رہا ہے۔ اور آپ کی تحریروں سے بعض لوگوں کے اس استنباط کی بھی تردید ہوتی ہے کہ دعوتی و دینی نقطہ نظر سے امت مسلمہ پر طویل قرونِ مظلمہ کا دور گزر رہا ہے۔ خط کا موضوع صوفیاء کرام کی تبلیغی و دعوتی کوشش ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ۱۲۰۰ء کے بعد جب کہ صوفی تحریک کو عالمگیر فروغ حاصل ہوا، کیا اس دور میں بھی صوفیائے کرام نے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام نہیں دیا ہے، اس ضمن میں میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔ (شکیل احمد فاروقی، مہاراشٹر) یہ بات صحیح ہے کہ حضرات صوفیاء نے براہ راست طور پر دعوتی کام نہیں کیا۔ یعنی وہ ایسا نہیں کرتے تھے کہ غیر مسلموں کے پاس جا کر کہیں کہ : ایھا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا صوفیاء کا جو کارنامہ ہے اس کو معاون دعوت کا نام کہا جا سکتا ہے نہ کہ براہ راست دعوت و تبلیغ کا کارنامہ۔ اصل یہ ہے کہ دورِ اول کے بعد اسلام عالمی طور پر ایک معروف دین بن گیا تھا۔ مزید یہ کہ اپنی
فطری سادگی کی بنا پر اس کے اندر ہر انسان کے لیے کشش تھی۔ اس طرح اسلام کے اندر اپنے آپ لوگوں کے دلوں میں نفوذ کرنے کی طاقت پیدا ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی اشاعت ایک عمل (process) کے روپ میں خود اپنے زور پر مسلسل ہونے لگی۔ دور اول کی بعد کی تاریخ میں اسلام اسی طرح اپنے آپ پھیلتا رہا۔
صوفیاء کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ منفی کام نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے نادان مسلم لیڈروں نے کیا۔ ان لیڈروں نے قومی تحریکیں چلا کر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مصنوعی طور پر تناؤ کا ماحول پیدا کر دیا۔ اور اس طرح داعی اور مدعو کے درمیان نفرت پیدا کر کے اسلام کے اشاعتی عمل میں رکاوٹ ڈال دی۔ صوفیاء نے اپنے آپ کو اس قسم کے منفی عمل سے مکمل طور پر بچایا۔ انہوں نے اپنے مخصوص طریقہ کے ذریعہ مختلف فرقوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کی فضا قائم کی۔ طرح معتدل اور خوشگوار تعلقات کے درمیان جب مسلمانوں اور غیر مسلموں کا اختلاط بڑھا تو اپنے آپ اسلام بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔ صوفیاء کی براہ راست تبلیغ کے بغیر لوگ جوق در جوق آ کر صوفیاء کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے لگے۔
مدنی دور میں صلح حدیبیہ کے بعد ہی یہ بات ثابت ہو چکی تھی کہ اسلام کی اشاعت کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں یا داعی اور مدعو کے درمیان کشیدگی نہ ہو اور معتدل فضا میں اختلاط (interaction) ہونے لگے تو اسلام اپنے آپ پھیلنے لگے گا۔ صوفیاء نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی امکان کو استعمال کیا جو بدقسمتی سے کوئی دوسرا مسلم گروہ استعمال نہ کر سکا۔ اس وقت عالم اسلام جن مسائل سے دوچار ہے ان میں شاید سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ مختلف مکاتب کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف زہر افشانی اور تکفیر تک کرتے رہتے ہیں جو اتحاد بین المسلمین میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ میں خود ایک گروہ سے وابستہ ہوں اور اس کی قدر کرتا ہوں مگر دوسرے کچھ گروہ اس کی تکفیر کرتے ہیں، اس معاملہ میں آپ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔ (محمد جنید احمد حقانی، اسکاٹ، کشمیر)
موجودہ قسم کی تکفیر کا طریقہ جو کچھ مسلمانوں میں رائج ہے، وہ یقیناً غلط ہے۔ یہ ایک بدعت صحابہ کرام کے دور میں اس قسم کی تکفیر کا رواج بالکل نہ تھا اور جس طریقہ کا رواج صحابہ کرام کے یہاں نہ پایا جائے وہ بلا شبہ قابلِ رد ہے۔
ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کا طریقہ سلطنتِ عباسی کے دور میں شروع ہوا۔ یہ طریقہ چند سو سال تک جاری رہا۔ اس زمانہ میں لوگوں کو اس سے دلچسپی نہ رہی کہ وہ غیر مسلموں کو اسلام میں داخل اس کے بجائے وہ اس نامحمود عمل میں مشغول ہو گئے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام سے خارج قرار دیں۔ تکفیر کا یہ طریقہ چند سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ علماء نے اس سلسلہ کو بند کرنے کے لئے متفقہ طور پر یہ اعلان کیا کہ ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کریں گے (لانكفر احدا من اهل القبلة)۔ حقیقت یہ ہے کہ تکفیر و تفسيق کے موجودہ ہنگامہ کا کوئی بھی شرعی جواز نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ گویا ایک مذہبی گالی گلوچ ہے نہ کہ کوئی مطلوب مذہبی عمل۔
غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ علماء کرام اور دانشورانِ اسلام اگر اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اسلام کا پیغام غیر مسلم حضرات تک حکمت کے ساتھ پہنچائیں تو امید ہے کہ غیر مسلموں کی ایک کثیر تعداد اسلام کے بارے میں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھے گی اور قرآن پاک جیسی کتاب کو جلانے کے بجائے اسے سینے سے لگائے گی اور اس کا مطالعہ کرے گی تو قبولیتِ اسلام کے لئے بھی تیار ہو جائے گی۔ مگر اس معاملہ میں اس قدر کوتاہی برتی جا رہی ہے کہ جیسے یہ کرنے کا کوئی کام ہی نہیں۔ اس سلسلہ میں کن لوگوں کو کن حکمتوں کے ساتھ یہ کام کرنا چاہئے (شکیل احمد فار میسٹ، بھنڈارہ)
موجودہ زمانہ کے مسلمان جو معمولی معمولی واقعات پر مشتعل ہو کر جلوس نکالتے ہیں اور جلاتے
پھو نکتے ہیں وہ ایک جرم ہے نہ کہ کوئی اسلامی خدمت ۔ موجودہ مسلمانوں کی یہی منفی ذہنیت اسلام کی توسیع و اشاعت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا آغاز انسانی خیر خواہی سے جس طرح کوئی تاجر صرف اس وقت کامیاب تجارت کر سکتا ہے جب کہ وہ اپنے گاہکوں کا خیر خواہ ہو اور ان سے محبت اور رعایت کا تعلق قائم کرے۔ اسی طرح دعوتی عمل کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ داعی کے دل میں اپنے مدعو کے لئے خیر خواہی ہو۔ وہ سارے انسانوں سے محبت کرنے والا ہو نہ کہ صرف اپنی قوم سے محبت کرنے والا۔ یہ حقیقت ہے کہ دعوت کا کام احترام انسانیت کے اصول پر قائم ہوتا ہے، مگر بدقسمتی یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان صرف احترام مسلم سے واقف ہیں، وہ احترام انسان سے واقف نہیں۔ یہی وہ اصل حکمت دعوت ہے جس کے زندہ ہونے پر دعوت کا عمل جاری انسان کے راستے میں حائل ہو سکتا ہے۔