قدرتی ڈھال
Al-Risala, October 2001, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
چنگیز خاں کا پوتا ہلاکو خاں وحشی تاتاری قبائل کی فوج لے کر ۱۲۵۸ء میں بغداد میں داخل ہوا اور اس کو تباہ کر ڈالا۔ اس کے بعد عرصہ تک وہ لوگ مسلم دنیا کو اپنی تخریب کاری کا نشانہ امام ابن تیمیہ (۱۳۲۸ = ۱۲۶۳ء) کا زمانہ وہی ہے جو اس تاتاری فتنہ کا زمانہ ہے۔ دمشق میں ایک بار ابن تیمیہ ایک مقام سے گزر رہے تھے۔ اس مقام پر تاتاریوں کا ایک گروہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ اس وقت وہ لوگ شراب نوشی میں مشغول تھے۔ تیمیہ کے بعض ساتھیوں نے چاہا کہ ان کے پاس جائیں اور ان کو شراب پینے سے ابن تیمیہ نے اپنے ساتھیوں کو منع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کو ان کے حال پر جب تک یہ لوگ نشہ کی حالت میں رہیں گے، مسلمان ان کی جارحیت سے محفوظ رہیں گے۔ ان کی ہوش کی حالت کے مقابلہ میں ان کی مدہوشی کی حالت زیادہ بہتر ہے (سکرهم خير من صحوهم)
موجودہ دنیا میں عافیت کی زندگی حاصل کرنے کے لئے یہ ایک قیمتی اصول ہے۔ لوگوں کو ان کی دلچسپیوں میں مشغول رہنے دیجئے، آپ ان کے فتنوں سے محفوظ یہ اصول دور جدید کے تاتاریوں پر مزید اضافہ کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے۔ موجودہ صنعتی دور کے تاتاری اس سے بھی زیادہ بڑے نشے میں مبتلا ہیں۔ یہ دولت کمانے کا جدید صنعتی انقلاب نے دولت کمانے کے بے حساب موقع کھول دئے ہیں۔ ہر آدمی اپنی ساری توجہ زیادہ سے زیادہ کمائی کرنے میں لگائے ہوئے ہے۔ برادران وطن میں یہ کیفیت اور بھی زیادہ ہے کیوں کہ وہ دولت کو دیوتا کا درجہ دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں لوگوں کے شر سے بچنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا جائے۔ بعض اوقات صبر و تحمل بہترین ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔