Al-Risala · October 2001

تدبیر اور توکل

Al-Risala, October 2001, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۶ میں ارشاد ہوا ہے: (وإن يمسسك الله بضر فلا كاشف له إلا هو وإن يمسسك بخير فهو على كل شي قدير (الانعام ۱۷) یعنی اور اگر اللہ تم کو کوئی دکھ پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر اللہ تم کو کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

دکھ کو دور کرنے والا صرف اللہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر تم کسی دکھ میں مبتلا ہو تو اس نے نجات کے لیے اللہ کے فرشتوں کا انتظار کرو۔ یہ دراصل دکھ کے وقت اعتدال پر قائم رہنے کی تعلیم ہے۔ اگر کسی کے پاؤں میں کانٹا چھب جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ فورا نکالنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ بیمار ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ فوراً دوا کا استعمال کرے۔ اعتدال کے دائرہ میں دکھ کو دور کرنے کی کوشش کرنا ایک فطری امر ہے۔ خود فطرت ہی یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ ایسے موقع پر آدمی کو فوراً ضروری تدبیر کی طرف متوجہ ہو جانا چاہئے۔

لیکن اگر ایسا ہو کہ اعتدال کے دائرہ میں فطری تدبیر سے مسئلہ حل ہو تا ہو نظر نہ آئے تو ایسی حالت میں آدمی کو اللہ سے دعا کرنا چاہئے اور اللہ سے مدد کا طالب ہونا اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ تدبیر کو ناکافی دیکھ کر وہ مایوسی کا شکار ہو یا قبروں اور درگاہوں کی طرف دوڑنے لگے یا اور کوئی ایسا اقدام کر بیٹھے جو اعتماد علی اللہ کے انسانی تدبیر کے بعد اللہ پر بھروسہ کرنا ہے نہ کہ کسی غیر اللہ کا سہارا ڈھونڈنا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اور اگر اللہ تم کو کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس آیت میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ دنیا کی کوئی بھلائی کسی آدمی کو ملے تو وہ اس کو اپنا ذاتی کمال سمجھ کر اس پر نازاں نہ ہو۔ وہ تواضع کی روش سے نہ ہٹے ۔ کیوں کہ جو کچھ اس کو ملا ہے وہ اللہ کے اذن سے ملا ہے۔ اللہ جب چاہے، حالات میں ایسی تبدیلی پیدا کر دے کہ ملی ہوئی چیز اس سے چھن جائے۔ اس آیت کی مزید تشریح ایک حدیث سے ہوتی ہے۔

الترمذی نے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی سواری کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے لڑکے یا اے میرے بیٹے، کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ اس کے ذریعہ سے اللہ تم کو نفع میں نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کو یاد رکھو، اللہ تمہیں یاد رکھے گا۔ تم اللہ کو یاد کرو، تم اس کو اپنے سامنے پاؤ گے ۔ تم خوش حالی میں اللہ کو نہ بھولو، وہ تم کو تنگی میں سمجھ لے گا۔ جب تم مانگو تو اللہ سے مانگو۔ اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد کیوں کہ جو ہونے والا ہے وہ سب لکھا جا چکا ہے۔ پس اگر تمام انسان تم کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہیں جس کا فیصلہ اللہ نے تمہارے لیے نہ کیا ہو تو وہ اس پر قادر نہ ہوں اور اللہ کے لیے عمل کرو شکر اور یقین کے ساتھ ۔ اور جان لو کہ جو چیز تم کو ناپسند ہو اس پر صبر کرنے میں تمہارے لیے بہت زیادہ بھلائی ہے۔ اور اللہ کی مدد صبر کے اور کشادگی تکلیف کے ساتھ ہے ۔ اور بے شک آسانی مشکل کے ساتھ (الجامع لأحكام القرآن للقرطبی ۵ / ۳۹۸)

ایمانی زندگی تدبیر کے ساتھ توکل کا نام ہے اور توکل کے ساتھ تدبیر کا۔ اگر انسانی محنت کا اظہار ہے تو توکل اللہ کے قادر مطلق ہونے کا اظہار ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں انسان کے ساتھ بری حالت بھی پیش آتی ہے اور اچھی حالت اور ان دونوں ہی کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے اور وہ آزمائش ہے (ونبلوکم بالشر والخیر فتنة) الانبیاء ۳۵۔

اس سے معلوم ہوا کہ دکھ اور سکھ اگرچہ بظاہر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اللہ کے تخلیقی منصوبہ کے مطابق، دونوں کی حیثیت ایک ہے اور دونوں کا مقصد بھی ایک ہے۔ اللہ کے تخلیقی منصوبہ کے مطابق، انسان کو چاہئے کہ جب اس پر دکھ کی حالت پڑے تو وہ اپنے سکھ کی حالت کو یاد کرے اور اس طرح اپنے اس اعتماد کو زندہ رکھے کہ اللہ اس کے دکھ کو سکھ میں بدلنے پر قادر ہے۔ اسی طرح جب وہ زندگی میں سکھ کا تجربہ کرے تو وہ اپنے دکھ کے لمحات کو یاد کرے اور اس طرح اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ کرے کہ اللہ اگر چاہے تو اس سے سکھ کو چھین لے اور اس کو دکھ کی حالت میں مبتلا کر دے۔

Printed page