عقیدہ خدا اور سائنس
Al-Risala, October 2001, pp. 7–10
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین اسی علم فطرت کا ظہور ہے جس کی خبر پیشگی طور پر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی تھی ــ سنريهم آياتنا في الآفاق و في أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (حم السجده (۵۳) یعنی ہم لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اور انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ یہ (قرآن) حق ہے۔
سائنس کی جدید تحقیقات کی روشنی میں کائنات کی جو نئی تصویر بنی ہے، وہ عین وہی ہے جو قرآن میں پیشگی طور پر بتا دی گئی تھی۔ اس اعتبار سے جدید سائنسی دریافتیں گویا کتاب الہی کے اشارات کی تفصیل ہیں اور اسی کے ساتھ اس کی دلیل بھی۔ یہاں مختصر طور پر ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جدید دریافت کے مطابق، کائنات کی ابتدا تقریباً ۲۵ بلین سال پہلے ہوئی۔ اس کے بعد مختلف تدر یجی انقلابات سے گزرتے ہوئے وہ اپنی موجودہ حالت تک پہنچی۔ اس پورے سفر کی روداد اس موضوع کی کتابوں میں پڑھ کر معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو محسوس طور پر کسی سائنسی پلے نیٹیریم (Planetarium) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ میں نے یہ پورا منظر واشنگٹن کے نیشنل پلے نیٹیریم میں دیکھا ہے۔
سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ ۲۵ بلین سال پہلے خلا میں ایک سپر ایٹم ظاہر ہوا۔ یہ ان تمام ذرات (particles) کا مجموعہ تھا جو موجودہ کائنات میں پائے جاتے ہیں۔ گویا موجودہ پوری کائنات ایک بہت بڑے فٹ بال جیسے گولے کی صورت میں شدت کے ساتھ باہمی طور پر چمٹی اس گولے کے تمام ذرات بے حد طاقتور کشش کے ساتھ ایک دوسرے سے داخلی طور پر جڑے ہوئے تھے۔ معلوم طبیعیاتی قانون کے مطابق ، یہ ناممکن تھا کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو کر بیرونی سمت میں سفر کریں۔
اس وقت اس سپر ایٹم کے اندر نہایت طاقتور دھماکہ ہوا۔ اس دھماکہ کے فوراً بعد سپر ایٹم
کے ذرات بکھر کر تیزی سے بیرونی سمت میں سفر کرنے لگے۔ اس کے بعد یہ ذرات وسیع خلا میں مختلف مجموعوں کی صورت میں اکٹھا ہو گئے۔ انہیں مجموعوں سے خلا میں پائی جانے والی وہ دنیا میں بنیں جن کو ستارہ، سیارہ، کہکشاں، شمسی نظام، زمین اور چاند جیسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ سپر ایٹم کا یہ دھماکہ بیک وقت دو چیزیں ثابت کرتا ہے۔ ایک یہ کہ یہاں کائنات سے الگ ایک طاقتور ہستی پہلے سے موجود تھی جس نے اپنی ارادی مداخلت کے ذریعہ یہ غیر معمولی واقعہ کیا کہ سپر ایٹم کے ذرات داخلی رخ پر سفر کے بجائے بیرونی رخ پر سفر کرنے لگے۔ اس واقعہ کا دوسرا عظیم پہلو یہ ہے کہ دھماکہ (explosion) ہمیشہ تخریبی نتائج کا سبب چنانچہ سے لے کر بم تک ہر دھماکہ بلا استثناء یہی خاصیت رکھتا ہے۔ مگر سپر ایٹم کا دھماکہ استثنائی طور پر غیر تخریبی تھا۔ اس نے مکمل طور پر صرف صحت مند اور تعمیری نتائج پیدا کئے۔ استثنائی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا ئنات کا خالق لا محدود قدرت کا مالک ہے۔ وہ یہ استثنائی اختیار رکھتا ہے کہ واقعہ کے ساتھ نتائج پر مکمل کنٹرول کر سکے۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) وہ غبارہ کی مانند مسلسل طور پر بیرونی سمت میں پھیل رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کائنات کا ایک متعین آغاز ہے۔ اگر کائنات ابدی ہوتی تو وہ اپنی اس پھیلتی ہوئی نوعیت کی بنا پر اب تک ختم ہو چکی ہوتی۔ یہ ثابت ہونا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے، یہ بھی ثابت کر دیتا ہے کہ اس کا کوئی آغاز کرنے والا ہے۔ ایک غیر موجود چیز کا آغاز اس وقت ممکن ہے جب کہ اس سے پہلے کوئی موجود ہو جو اپنے ارادہ سے اُس کا آغاز کر سکے۔
کائنات میں ایسے بے شمار شواہد ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کا منصوبہ ساز اور اس کا ناظم صرف ایک ہے۔ اگر ایک سے زیادہ ناظم ہوتے تو یقینی طور پر کائنات میں فساد برپا
مثال کے طور پر زمین اور سورج کا فاصلہ تقریباً ۹ کروڑ ۳۰ لاکھ میل ہے۔
مسلسل طور پر اپنی حالت پر برقرار رہتا ہے۔ اگر اس فاصلہ میں تبدیلی آجائے تو اس کے مہلک نتائج پیدا ہوں گے۔ مثلاً اگر یہ فاصلہ بڑھ کر ۲۰ کرور میل دور ہو جائے تو زمین پر اتنی ٹھنڈ پیدا ہو کہ پانی، نباتات، حیوانات اور انسان سب منجمد ہو جائیں۔ اسی طرح یہ فاصلہ اگر کم ہو کر ۵ کرور میل ہو جائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ تمام چیزیں بشمول انسان جل کر ختم ہو جائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سورج اور زمین دونوں کا خدا ایک ہے۔ اگر دونوں کے خدا الگ الگ ہوتے تو دونوں الگ الگ اپنی مرضی چلاتے اور پھر یقینی طور پر یہ فاصلہ گھٹتا یا بڑھتا رہتا اور اس بے قاعدگی کی بنا پر زمین پر انسانی تہذیب کا وجود نا ممکن ہو جاتا۔
نا معلوم حد تک وسیع کائنات میں ہمارا زمینی سیارہ ایک نادر استثناء ہے۔ یہاں پانی اور ہوا اور نباتات جیسی ان گنت چیزیں پائی جاتی ہیں جو انسانی زندگی کے لئے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ جب کہ وسیع خلا میں معلوم طور پر کوئی بھی ایسی دنیا موجود نہیں جہاں بقائے حیات کا یہ سامان پایا جاتا ہو ۔ یہ استثناء بتاتا ہے کہ یہ دنیا محض بے شعور مادہ کے ذریعہ نہیں بنی بلکہ وہ ایک باشعور ہستی کا تخلیقی کرشمہ ہے۔ اگر وہ محض مادی قوانین کے بے شعور تعامل کا نتیجہ ہوتی تو کائنات میں بہت سی ایسی زمینیں ہو تیں نہ کہ صرف ایک ایسی زمین۔
ہماری دنیا کی ہر چیز انتہائی حد تک با معنی ہے۔ چیزوں کی معنویت یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ دنیا ایک باشعور تخلیق کا نتیجہ ہے۔ کوئی دوسرا نظریہ اس حکمت اور معنویت کی توجیہہ نہیں کر سکتا۔ مثلاً زمین کے حجم (سائز) کو لیجئے۔ زمین کا موجودہ حجم تقریباً ۲۵ ہزار میل کی گولائی میں یہ حجم بے حد با معنی ہے۔ چنانچہ یہ حجم اگر ۵۰ ہزار میل ہو تا تو زمین کی کشش اتنی زیادہ بڑھ جاتی کہ وہ انسانی جسم کی بڑھوتری کو روک دیتی۔ اس کے بعد زمین پر صرف بالشتیے قسم کے انسان اس کے بر عکس اگر زمین کا حجم گھٹ کر ۱۲ ہزار میل ہو تا تو اس کی قوت کشش اتنی کم ہو جاتی کہ وہ انسانی بڑھوتری کو روک نہ سکتی۔ انسان کا قد تار کی طرح لمبا ہو جاتا۔ اس کے سوا اور بے شمار قسم کے غیر موافق حالات پیدا ہوتے جو انسان کی تمام تمدنی ترقیوں کو نا ممکن بنا دیتے۔
مذکورہ پہلوؤں پر غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ سائنسی اعتبار سے، یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ اس دنیا کا ایک خالق ہے اور وہ یقینی طور پر صرف ایک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہمارے لئے جو انتخاب ہے وہ باخدا کائنات (universe with God) اور بے خدا کائنات (universe without God) میں نہیں ہے۔ بلکہ ہمارے لیے حقیقی انتخاب باخدا کائنات (universe with God) اور غیر موجود کائنات (no universe at all) میں یعنی اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کریں تو ہم کو کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ کہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کر سکتے اس لیے ہم خدا کے وجود کا بھی انکار نہیں کر سکتے۔ معاملہ میں ہمارے لیے دوسرا کوئی ممکن انتخاب موجود نہیں۔