میرٹھ کا سفر
Al-Risala, October 2001, pp. 11–45
By Maulana Wahiduddin Khan
میرٹھ مجھے بار بار جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ تاہم سفر نامہ کی نسبت سے پانچ سفر قابل ذکر ہیں۔ اس حیثیت سے میرٹھ کے لئے میرا پہلا سفر جنوری ۱۹۶۸ میں ہوا۔ سفر کی روداد اُس زمانہ میں الجمعیۃ دہلی ۹ فروری ۱۹۶۸ میں شائع ہوئی تھی۔ میرٹھ کے لئے میرا دوسرا سفر جون ۱۹۷۹ میں ہوا۔ اس موقع پر وہاں میری چند تقریریں ہوئیں اور مختلف اہلِ علم سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس سفر کا ایک واقعہ اللہ اکبر (صفحہ ۹۰) میں درج ہے۔
میرٹھ کے لئے میرا تیسرا سفر جون ۱۹۸۷ میں ہوا۔ یہ سفر خاص طور پر میرٹھ کے فساد کا جائزہ لینے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس سفر کی تفصیلی روداد الرسالہ نومبر ۱۹۸۸ میں چھپ چکی ہے۔ میرٹھ کا چوتھا سفر سر دھنہ کے سفر کے ذیل میں ہوا۔ اس سفر میں کچھ نئے اور انوکھے قسم کے تجربات ہوئے۔ اس سفر کی تفصیلی روداد الرسالہ نومبر ۱۹۹۶ میں خصوصی نمبر کے طور پر شائع ہوئی۔
میرٹھ کے لئے میرا پانچواں سفر ۱۰ ستمبر ۲۰۰۰ کو ہوا۔ اس پانچویں سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
میرٹھ مغربی یوپی کا ایک شہر ہے، جو دہلی سے ۷۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ابتدائی چار اسفار کی نوعیت موجودہ سفر سے مختلف تھی۔ پچھلے اسفار عام اداروں اور تنظیموں کی دعوت پر ہوئے۔ موجودہ پانچویں سفر کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ حلقہ الرسالہ کی دعوت اور اس کے انتظام کے تحت ہوا۔
میرٹھ میں اللہ کے فضل سے الرسالہ مشن کا ایک مؤثر حلقہ بن گیا ہے۔ لوگوں کی مخلصانہ دعوت پر یہ سفر ہوا۔ اس سفر میں میرے ساتھ مولانا محمد عرفان قاسمی
(میرٹھ) اور مولانا محمد راشد خاں قاسمی (منڈولی) تھے۔
میرٹھ میں نوجوانوں کا ایک گروپ ہے جو مثبت فکر کی بنیاد پر اکٹھا ہوا ہے۔ تعمیر اور دعوت کے میدان میں خاموش کام کر رہا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ لمبی مدت سے میرٹھ کی تصویر ایک پر تشدد شہر کی بنی ہوئی ہے۔ ہم اللہ کی مدد سے اس تصویر کو بدلیں گے اور میرٹھ کو امن کا شہر بنائیں گے۔
مولانا محمد عرفان قاسمی نے بذریعہ ٹیلی فون بتایا تھا کہ اس گروپ کی خواہش ہے کہ میں میرٹھ کا سفر کروں۔ اور وہاں کچھ وقت ان نوجوانوں کے ساتھ گزاروں۔ میں نے اس دعوت کو فوراً منظور کر لیا۔ اگر چہ آج کل میرا یہ حال ہے کہ میں اپنے کچھ علمی کاموں میں اتنا زیادہ مشغول ہو گیا ہوں کہ اسفار کا سلسلہ بہت کم کر دیا ہے۔ اس دوران میں نے بہت سے ملکی اور غیر ملکی سفر کے دعوت نامے قبول نہیں کئے ۔ اگست - ستمبر ۲۰۰۰ کے لئے مجھے کئی بیرونی کانفرنسوں میں شرکت کے دعوت نامے مثلاً پرتگال، فلسطین، نیویارک، اور انڈونیشیا، وغیرہ۔ مگر میں وہاں نہ لیکن میرٹھ کے نوجوانوں کے تعمیری اور دعوتی جذبات میرے لئے اتنا زیادہ پر کشش ثابت ہوئے کہ میں ان کی دعوت کو قبول کئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس پروگرام کے مطابق ۱۰ ستمبر ۲۰۰۰ کی صبح کو دہلی سے میرٹھ کا سفر کیا اور ۱۵ ستمبر کی رات کو وہاں سے واپسی ہوئی ۔ ہم لوگ دہلی سے روانہ ہوئے تو سورج طلوع ہو چکا تھا۔ اس کی روشنی چاروں طرف پھیلتی ہوئی دکھائی دی۔ اس منظر کو دیکھ کر مولانا محمد عرفان صاحب نے کہا کہ اس پروگرام کے لئے میں میرٹھ سے روانہ ہوا تو رات کا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ اب ہم دہلی سے میرٹھ کا سفر کر رہے ہیں تو ہر طرف روشنی پھیل یہ گویا علامت ہے جو بتا رہی ہے کہ ہمارا تاریک دور بہت جلد ختم ہونے والا ہے اور عنقریب ہمارے لئے روشن دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ بلکہ اس کا آغاز ہو چکا ہے۔
دہلی کی سڑکوں پر ہماری گاڑی دوڑ رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف درخت کے سر سبز مناظر تھے۔ ان درختوں کے پیچھے دونوں طرف جدید طرز کی عمارتیں جھانکتی دکھائی دے رہی تھیں۔ ان سب کے اوپر سورج ایک عالمی چراغ کی مانند ہر طرف روشنی بکھیر رہا تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دوڑتی ہوئی گاڑیاں سڑک پر نظر آتی تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر ہم آج سے پانچ نو سال پہلے اس راستہ پر چل رہے ہوتے تو اس وقت یہاں منظر بالکل دوسرا ہوتا۔ پچھلی صدیوں میں دنیا نے "غیر تمدن دور" سے نکل کر "متمدن دور" میں قدم رکھا ہے۔ تاہم اس ظاہری ترقی کے باوجود آج کے مسائل، ماضی کے مسائل کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہیں۔
پچھلے دور کا انسان سکون کی زندگی گزارتا تھا، آج کسی کو سکون حاصل نہیں۔ پچھلے دور میں انسانی قدریں زندہ تھیں، مگر آج کے زمانہ میں ان کا وجود بہت کم نظر آتا پچھلے دور کے انسان کے پاس مذہب اور اخلاق کے لئے کافی وقت ہوتا تھا، مگر آج کا انسان مادی بھاگ دوڑ میں اتنا مصروف ہے کہ مذہب اور اخلاق جیسی چیزوں کے لئے اس کے پاس کوئی وقت نہیں۔
میں اس سوال پر غور کر رہا تھا کہ ہماری گاڑی کے پاس سے ایک بھاری ٹرک گزرا، اس کے انجن سے نکلنے والا تیز دھواں ہماری گاڑی کی کھڑکی سے اندر داخل ہوا۔ اس تیز دھوئیں نے تھوڑی دیر کے لئے میرے ذہن کو منتشر کر دیا۔ مگر اسی تلخ تجربہ میں میرے سوال کا خاموش جواب بھی چھپا ہوا تھا۔ ٹرک کا کثیف دھواں گویا جھنجھوڑنے والی زبان میں میرے سوال کا جواب تھا۔ یہ دھواں میرے لئے جدید تہذیب کی ایک پر شور علامت بن گیا۔ اس نے علامتی طور پر مجھے بتایا کہ جدید تہذیب اگرچہ بظاہر خوشنما تر قیاں لائی ہے مگر اسی کے ساتھ وہ بے شمار مشینی برائیاں بھی لائی ہے۔ اس کی ایک مثال ٹرک کا یہ کثیف دھواں ہے۔
میں نے اپنے دل میں سوچا کہ قدیم زمانہ میں انسان نے ”جنتِ شداد“ جیسے افسانے اور پریوں کی کہانیاں لکھیں۔ یہ گویا انسان کی چھپی ہوئی تمنا کا اظہار تھا کہ وہ اسی دنیا میں اپنی جنت تعمیر کر سکے۔ جدید سائنسی و صنعتی انقلاب کے بعد جو بے شمار قسم کی مادی ترقیاں ظہور میں آئیں اس نے گویا قدیم انسان کی آرزوؤں کو واقعہ بنا دیا۔ شداد“ بھی عملاً تعمیر ہو گئی اور پریوں کی دنیا بھی اب ایک ایسا عمومی واقعہ ہے جس کو ہر آدمی تصویروں کی صورت میں اخبار، ٹی وی اور سینما وغیرہ کے ذریعہ دیکھ رہا ہے۔ مگر عین اسی وقت انسان کو محسوس ہوا کہ ان ظاہری ترقیوں نے اس سے وہی اصل چیز چھین لی ہے جو اس کو سب سے زیادہ مطلوب تھی، یعنی خوشی اور سکون۔ سوچتے ہوئے مجھے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد یاد آیا جو آپ نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا تھا ـــــ اللهم لا عیش إلا الآخرة۔
دورِ جدید اپنی تمام ظاہری ترقیوں کے ساتھ گویا اس ارشادِ رسول کی تفسیر ہے۔ مسرت سے خالی یہ خوشنما مادی ترقیاں گویا خاموش زبان میں یہ اعلان کر رہی ہیں کہ انسان جو پرُ راحت اور پرُ مسرت زندگی چاہتا ہے وہ صرف آخرت کی دنیا میں مل سکتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ موجودہ دنیا کے وسائل کو جنت کی تعمیر میں لگائے : لمثل هذا فلیعمل العاملون (الصافات ٦١) مولانامحمد عرفان قاسمی (۲۰ سال) ۱۹۸۰ سے الرسالہ کا مسلسل مطالعہ کر رہے انہوں نے الرسالہ کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الرسالہ بند ذہن کو کھولتا ہے اور ذہنی جمود کو توڑ کر اس کو آفاقی بناتا ہے۔ الرسالہ پڑھنے سے پہلے مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ امت مسلمہ کا سفر ایک بند گلی میں پہنچ کر رک گیا ہے۔ دوسرے اخبارات ورسائل اور جلسوں کی تقریروں سے یہی سبق ملتا مگر جب میں نے الرسالہ پڑھنا شروع کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ میں کھلی شاہراہ پر آگیا اب ہر طرف تاریکی کے بجائے روشنی اور تنگی کے بجائے کشادگی نظر آنے لگی۔
ہماری گاڑی چلتی ہوئی مودی نگر کے صنعتی شہر میں پہنچی جو دہلی اور میرٹھ کے در میان واقع ہے۔ میرے شریک سفر مولا نا محمد راشد خاں قاسمی (۳۰ سال) نے بتایا کہ میری پیدائش اسی مودی نگر میں ہوئی۔ میرے والد عبد المعید خاں مرحوم (وفات (۱۹۹۷) یہاں سرو سن کرتے تھے۔ میں نے مولا نا محمد راشد صاحب سے پوچھا کہ الرساله مشن کے بارے میں آپ کا تاثر کیا ہے۔ انہوں نے ان الفاظ میں اپنا تاثر بتایا کہ جب میں مظاہر العلوم سہار نپور میں (۱۹۸۳ء - ۸۷) میں زیر تعلیم تھا تو مولا نا محمد عرفان قاسمی نے جو میرے استاذ بھی ہیں، اپنی طرف سے میرے نام الرساله جاری کر دیا۔ جب میں نے الرساله پڑھنا شروع کیا تو ابتداء میں مجھے اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے، خاص طور پر اس بات پر کہ الرساله میں ہمیشہ صبر کی بات کی جاتی ہے جب کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا میں مسلمانوں کے اوپر ظلم و ستم کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں صبر کی تلقین کرنا گویا مسلمانوں کو الٹی خوراک دینا ہے۔ ان شکوک کے باوجود الرساله پڑھتا رہا۔ آخر کار مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ الرساله میں جو بات کہی جاتی ہے وہ ہمیشہ قرآن وحدیث کے حوالہ سے کہی جاتی ہے۔ وہ الرساله کی ذاتی بات نہیں ہوتی۔
پھر مجھے محسوس ہوا کہ جب میں دوسروں کی تحریریں پڑھتا ہوں تو ان میں ہمیشہ لڑائی جھگڑا اور نفرت و تشدد ملتا ہے۔ ان تحریروں میں نہ سکون کا سامان ہوتا ہے اور نہ ان سے مستقبل کے بارے میں روشنی ملتی ہے۔ اس کے بر عکس الرسالہ کی تحریروں میں ذہنی اطمینان کا سامان ہوتا ہے، اور اسی کے ساتھ ایسی واضح رہنمائی ہوتی ہے جس سے راستے روشن ہوں اور عمل کے مواقع نظر آئیں۔ اب میری شدید خواہش یہ ہے کہ اللہ کی توفیق سے آخر عمر تک اس مشن سے جڑا رہوں اور اس کے مثبت پیغام کو ساری دنیا میں پہنچاؤں۔ مولا نا محمد راشد خاں نے بتایا کہ میرے والد عبد المعید خاں صاحب مرحوم اچھے
تعلیم یافتہ اور ذہین شخص تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ والد صاحب کے آخری زمانہ میں ان کو الرسالہ پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ وہ اس کے مضامین کو سن کر بہت خوش ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ بیٹے تم اس کو ضرور پڑھا کرو۔
انہوں نے کہا کہ میرے والد صاحب نے مختلف ملکوں کا سفر کیا تھا۔ مسلم دنیا میں انہوں نے ہر جگہ ظلم و تشدد کے تذکرے سنے تھے۔ مسلم رہنماؤں کی بھڑکئی تقریبوں اور جو شیلی تحریروں سے وہ بہت نالاں تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے مسائل کے لئے وہ خود ان کے رہنماؤں کو ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔ جب ان کو الرسالہ ملا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ عین وہی چیز ہے جسے ان کی فطرت تلاش کر رہی تھی۔ جب بھی الرسالہ کا نیا شمارہ آتا تو وہ اس کو پڑھ کر بہت خوش ہوتے اور بار بار اس کے لئے دعائیں کرتے۔ راستہ میں مولانا محمد عرفان قاسمی صاحب نے بتایا کہ میلہ نوچندی (میرٹھ) کے ترنگے گیٹ پر پہنچنے پر ہمارے ساتھی آپ کا استقبال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ وہاں کھڑے ہوئے آپ کو ملیں گے۔ انہوں نے مولانا محمد عرفان صاحب سے پوچھا تھا کہ ہم ان کو ہار ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہار ڈالنا جائز ہے یا نا جائز۔
میں نے یہ بات سنی تو میں نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر اس قسم کی نمائش چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مگر اسی کے ساتھ میری رائے یہ ہے کہ ہر چیز کو جائز اور نا جائز کا سوال بنانا خود نا جائز ہے۔ کیوں کہ فقہ اسلامی کا مسئلہ مسئلہ ہے کہ الاصل فی الاشیاء الاباحۃ (چیزوں کی اصل ان کا مباح ہونا ہے)
سفر کرتے ہوئے ہم لوگ میرٹھ پہنچے تو گھڑی میں 9 بج چکے تھے۔ کے کنارے الرسالہ کے قارئین کا ایک گروہ موجود تھا۔ ان سے ملاقات کے بعد ہم لوگ جناب محمد شہزاد علی خاں صاحب کے مکان (شاستری نگر) پہنچے۔ یہاں تقریبا دو گھنٹہ قیام رہا۔ میرٹھ کے قارئین الرسالہ یہاں جمع ہو گئے۔ ان کی تعداد تقریبا ۳۰ تھی۔
ان لوگوں کی طرف سے مختلف قسم کے سوالات پیش کئے جاتے رہے جن کے جواب میں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں دئے۔ صحیح بخاری (کتاب المرضی) کی ایک حدیث نقل کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مؤمن کی صفت خاص یہ ہے کہ اس کے اندر اکثر وہ تواضع اور فروتنی میں جیتا ہے۔ اللہ کی عظمت کا یقین اور آخرت کی جواب دہی کا احساس اس سے اکڑ کی نفسیات چھین لیتا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اکثر کی نفسیات نہ ہونا کوئی کمزوری کی بات نہیں ہے۔ اس دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور انسان وہ ہے جو اکڑ جیسے جذبات سے خالی ہو جائے۔
ایک اور سوال کے جواب میں، میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل دعوت ہے۔
انسان کے اندر اعلیٰ صفات پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے سامنے ایک اعلیٰ مشن ہو۔ اعلیٰ مشن ہی وہ واحد کلید ہے جو کسی شخص کے اندر اعلیٰ انسانی صفات پیدا کرتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اگر دعوت کی اسپرٹ صحیح معنوں میں پیدا ہو جائے تو ان کے اندر دینی اسپرٹ بھی آجائے گی۔ اور اتحاد واتفاق بھی پیدا ہوگا۔ اخلاقی اور انسانی صفات بھی پیدا ہوں گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دعوت کام کی بنا پر اللہ کی خصوصی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں، میں نے کہا کہ یہ نظریہ غلط ہے کہ پہلے اپنی اصلاح کرو اور پھر دعوت کا کام کرو۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر (جلد اول صفحہ ۸۱) میں لکھا ہے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ دعوت کے لئے ذاتی اصلاح شرط نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غیر عملی شرط ہے۔ اگر لوگوں کے دل میں یہ بٹھا دیا جائے کہ اپنی اصلاح کی تکمیل سے پہلے دعوتی کام نہ کرنا چاہئے تو دعوتی کام کبھی وجود میں نہیں آئے گا، ایک حقیقی مومن کبھی بھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ اس کی اصلاح ہو گئی، کیوں کہ حقیقی مومن اللہ سے
ڈرنے والا انسان ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ کرنے کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کچھ بھی گویا کہ مومن وہ ہے جو ہمیشہ اپنے آپ کو غیر اصلاح یافتہ سمجھے۔ میں دعوت کا کام ہمیشہ رکارہے گا۔ اگر اہل ایمان ہمیشہ اپنے بارے میں یہ سمجھتے رہیں کہ میں تو ایک غیر اصلاح یافتہ انسان ہوں تو پھر میں دعوت کا کام کیسے کروں۔ ضروری ہے کہ دعوت عام اور ذاتی اصلاح کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھا جائے۔ پھر میں نے کہا کہ دعوت کی سب سے زیادہ اہم اور لازمی شرط یہ ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور بے زاری کی فضا نہ ہو بلکہ معتدل فضا ہو، یہی چیز دعوت کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ صبر و اعراض کے ذریعہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تلخی کو دور کریں۔ مفروضہ اور غیر مفروضہ ہر قسم کی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے ہوئے دعوت کا ماحول پیدا کریں۔ خدا نخواستہ بزدلی کی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم ترین عبادت ہے۔ جو شخص اس روش کا ثبوت دے اس کو بے حساب اجر عطا کیا جائے گا۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ ابھی تک زیادہ تر ذاتی طور پر کام کر رہے ہیں، آپ نے کوئی بڑا ادارہ نہیں بنایا۔ میں نے کہا کہ الرسالہ مشن سے وابستہ لوگوں کا حلقہ اللہ کے فضل سے ہر جگہ موجود ہے، جیسا کہ خود میرٹھ میں آپ دیکھ رہے ہیں۔ ہمارا ادارہ ہے۔ درودیوار کی صورت میں جو بڑے بڑے ادارے قائم ہوتے ہیں وہ کوئی بہت اچھی علامت نہیں۔ اس قسم کے ادارے ہمیشہ کسی امت کے دور زوال میں بنائے یہی وجہ ہے کہ کسی بھی نبی کی زندگی میں موجودہ قسم کے بڑے بڑے ادارے قائم نہیں ہوئے۔ پیغمبر کی زندگی میں اس کا مشن اسپرٹ کے زور پر چلتا ہے۔ اس زمانہ میں اسپرٹ ہی ادارہ کا قائم مقام ہوتی ہے۔ بعد کی نسلوں میں جب اسپرٹ
کمزور پڑ جاتی ہے اور ظواہر پسندی بڑھ جاتی ہے ، اس وقت بڑی بڑی عمارتیں بنتی ہیں اور عالیشان ادارے قائم ہوتے ہیں۔ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو یہ ادارے دراصل روح دین کا قبرستان ہوتے ہیں۔ ان عالیشان اداروں میں بظاہر سب کچھ ہو تا ہے مگر وہی چیز نہیں ہوتی جو اصلاً مطلوب ہے، یعنی دین کی روح اور اس کی اسپرٹ ۔ اسی حقیقت کو اقبال نے خدا کی طرف سے اس طرح بیان کیا ہے ۔
میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے میرے لئے مٹی کا حرم اور بنا دو مسٹر ایس شفیق احمد ایڈوکیٹ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرہ میں عصبیت، طبقہ واریت اور ذات پات کے رجحان سے ملت کو منتشر و منقسم کیا جا رہا اس سیاسی حربہ سے، مسلم کی حفاظت کے لئے دعوت کا کیالا ئحہ عمل ہے۔ میں نے کہا کہ ایک درخت سوکھ رہا ہو تو اس کو دوبارہ ہرا کرنے کے لئے ایک سو ایک نسخے نہیں ہوتے بلکہ ایک ہی صحیح نسخہ ہوتا ہے، وہ یہ کہ اس کی جڑوں کو پانی میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں جو کمیاں ہیں وہ سب کی سب اس لئے ہیں کہ وہ ایک بے حقیقت گروہ بن کر رہ گئے ہیں۔ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا معاملہ، دونوں ہی کے لئے اصلاح کا نسخہ صرف ایک ہے وہ یہ کہ ان کو ایک اعلیٰ مقصد پر کھڑا کر دیا جائے۔ اعلیٰ مقصد اپنے آپ تمام انسانی صفات پیدا کر دیتا ہے۔ ہم مسلمانوں کو اسی اعلیٰ مقصد پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور وہ مقصد بلاشبہ دعوت الی اللہ ہے۔ مسلمانوں میں دعوت الی اللہ بطور مقصد شامل ہو جائے، تو بقیہ تمام صفات اپنے آپ کے اندر پیدا ہو جائیں گی۔
ساڑھے گیارہ بجے ہم لوگ مسجد الفاروق (زیدی فارم) پر پہنچے، یہاں عمومی جلسہ رکھا گیا تھا۔ مسلمانوں کے علاوہ، کچھ غیر مسلم حضرات بھی موجود تھے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ اس جلسہ میں تقریر کا عنوان اسلام اور امن تھا ۔
نے کہا کہ امن کی تعریف عام طور پر جنگ کی غیر موجودگی (absence of war) کی جاتی مگر یہ تعریف ادھوری ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ امن ایک طریقہ کار ہے۔ طریقہ کار کے اعتبار سے امن کو بہر حال جنگ اور تشدد پر فوقیت حاصل ہے۔ چنانچہ صحیح البخاری میں ایک حدیث آتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : ان الله يعطى علی الرفق مالا يعطى على العنف ۔ (اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا) پوری انسانی تاریخ اس قول رسول کی صداقت کی تصدیق کرتی ہے۔ تاریخ کی تمام بڑی بڑی کامیابیاں امن کے ذریعہ حاصل ہوئی ہیں۔ جنگ کے ذریعہ کوئی حقیقی کامیابی کبھی کسی کو نہیں ملی۔ امن کا ایک طاقت ہونا اسلام کی پوری تاریخ سے ثابت ہوتا ہے۔ دورِ اول میں سوا لاکھ صحابہ کا جو قیمتی گروہ بنا تھا وہ سب پر امن جد و جہد کے ذریعہ بنا تھا۔ جن لوگوں کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے وہ چار قسم کے لوگ تھے۔ انصار، طلقاء اور وافدین۔
مہاجرین وہ ہیں جو مکہ کی تیرہ سالہ مدت میں اسلام لائے، جب کہ اس پوری مدت میں کبھی جنگ نہیں ہوئی۔ انصار وہ لوگ ہیں جو مدینہ کے قبائل سے تعلق رکھتے جیسا کہ معلوم ہے، مدینہ پر کبھی فوج کشی نہیں کی گئی۔ طلقاء ان مسلمانوں کو کہا جاتا ہے جو فتح مکہ کے بعد مکہ میں اسلام لائے۔ یہ لوگ بھی جنگ کے بغیر اسلام میں داخل کیوں کہ فتح مکہ کے وقت اور نہ اس کے بعد وہاں کوئی جنگی طاقت استعمال کی گئی۔ اس کے بعد وافدین کا دور ہے۔ ہجرت کے آخری سالوں میں عرب کے قبائل سے کثرت سے وفود مدینہ آئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
یہ وافدین بھی جنگ کے ذریعہ نہیں بلکہ پر امن تبلیغ کے ذریعہ اسلام میں داخل یہی معاملہ اسلام کی تاریخ میں بار بار پیش آتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر تیرہویں صدی عیسوی میں تاتاری سمرقند سے لے کر حلب تک مسلم دنیا پر قابض ہو گئے۔
اس وقت وہ اتنا زور اور تھے کہ ان کے مقابلہ میں جنگ کا کوئی سوال نہ تھا مگر اسلام کی پر امن دعوتی طاقت ظاہر ہوئی اور اس نے بیشتر تاتاریوں کو اسلام میں داخل کر دیا۔ مسجد کے اس جلسہ میں مولانا محمد عرفان قاسمی نے بھی تقریر کی۔ ان کی تقریر کا خلاصہ انہی کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے: "یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان داعی الی اللہ مولانا وحید الدین خاں موجود ہیں۔ آپ حلقہ الرسالہ کی دعوت پر یہاں آئے ہیں۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ بتایا جائے کہ الرسالہ کا مشن الرسالہ فکر کی کئی تعریفیں کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً کہا جاسکتا ہے کہ الرسالہ حقیقت پسندی کی تعلیم دیتا ہے۔ یا لوگوں کو باشعور بناتا ہے یا اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاتا لیکن میرے نزدیک فکر الرسالہ کی صحیح تعریف یہ ہے کہ الرسالہ فکر نام ہے مسائل انسانی کے قرآنی حل کا۔ یعنی انسانیت کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا قرآنی حل کیا ہے وہ الرسالہ میں بتایا جاتا ہے۔ میرے ذہن میں شروع ہی سے ایک سوال تھا کہ قرآن تمام مسائل کا حل ہے لیکن اس کے باوجود مسلم قوم سب سے زیادہ مسائل سے دوچار ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ میں نے اس نقطۂ نظر سے الرسالہ کا مطالعہ کیا تو میں نے پایا کہ الرسالہ تمام مسائل میں قابل فہم قرآنی رہنمائی دیتا ہے۔ میں تقریباً میں سال سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ ان میں سالوں میں تقریباً ۱۵ سال میں نے سخت تنقیدی انداز میں اس کا مطالعہ کیا۔ میں سوچتا تھا کہ اگر مجھے کوئی بات قرآن و حدیث کے خلاف نظر آئی تو میں الرسالہ کو فوراً چھوڑ دوں گا۔ لیکن اس دوران سچائی مجھ پر ظاہر ہو گئی۔ دیکھا کہ مولانا صاحب جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف قرآن و حدیث کی بات کہتے ہیں۔ و حدیث سے ہٹ کر وہ کچھ بھی نہیں کہتے۔
مسجد میں تقریر کے بعد سوال و جواب کا دور شروع ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ دستوری طور پر ہمارے جو حقوق ہیں حکومت اس پر ایمانداری سے عمل نہیں کر رہی ہے
بلکہ اس کے قول و عمل میں تضاد ہے، ہم کو کیا کرنا چاہئے۔
میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی گروہ کو اس کا حق نہ دستور کے ذریعہ ملتا ہے، اور نہ کسی حکومت کے ذریعہ۔ اس معاملہ میں اصل چیز داخلی اہلیت ہے۔ گروہ کے اندر اہلیت ہے تو اس کو اس کا واقعی حق مل کر رہے گا۔ اور اگر اہلیت نہیں ہے تو کوئی بھی دوسری چیز اس کے کام آنے والی نہیں۔
ایک سوال، مسلم مسائل کے متعلق تھا۔ کہا گیا کہ انتظامیہ اور پولیس اپنے فرائض متعصبانہ انداز سے انجام دیتی ہے۔ حتیٰ کہ تشدد تک کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس قسم کے نظریہ سے اتفاق نہیں۔ یہ سب اخباری باتیں ہیں۔ میرا یقین قرآن کی اس آیت پر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تم کو جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے (الشوریٰ ۳۰) اس آیت کے مطابق، ہر مصیبت کا اصل سبب خود آدمی کے اندر ہوتا ہے نہ کہ اس کے باہر۔ ایسی حالت میں ہمارا اکام احتساب خویش ہونا چاہئے نہ کہ احتساب غیر۔
ایک اور سوال یہ تھا کہ آپ جو صبر واعراض کی تلقین کرتے ہیں آخر کار یہ کب میں نے کہا کہ یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ خدا کی عبادت کب صبر کوئی بزدلی نہیں، وہ ایک عبادت ہے، بلکہ وہ افضل ترین عبادت ہے (الزمر ایسی حالت میں آپ کو چاہئے کہ صبر کے مواقع کو بشارت کے روپ میں لیں، اس کو اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا ایک تحفہ سمجھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک ایجابی عمل ہے نہ کہ کوئی سلبی عمل۔ وہ ساری عمر جاری رہتا ہے۔
ایک سوال یہ تھا کہ انفرادی اور اجتماعی دعا کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ لاؤڈا سپیکر پر دعا کرنا کیسا ہے۔
میں نے کہا کہ دعا خدا اور بندے کے درمیان کا ایک معاملہ ہے، اس لئے اصلاً دعا
کو تنہائی اور خاموشی کی صورت میں ہونا چاہئے۔ لیکن ہر عموم میں استثناء ہوتا ہے۔ لئے کسی ضرورت یا مصلحت کے تحت جہری دعا کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مسئلہ کی تفصیل تفسیر روح المعانی میں سورہ الاعراف آیت ۵۵ کے تحت دیکھی جاسکتی ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ کس عالم کی تفسیر سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور کس تفسیر کو زیادہ بہتر تصور کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن کی تفسیر میں کثرت سے لکھی گئی ہر تفسیر کی کوئی نہ کوئی انفرادی خصوصیت ہے اور ہر ایک سے اپنے ذوق کے مطابق استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ میں خود ہر تفسیر کو دیکھتا ہوں۔ تاہم القرطبی کی الجامع لاحکام القرآن زیادہ تر میرے مطالعہ میں رہتی ہے۔ اس تفسیر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تفسیری روایات اور سلف کے اقوال یکجا مل جاتے ہیں۔ اس سے آیات کا مطالعہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
ایک سوال موجودہ صورتِ حال کے تحت مسلمانوں کی ملی اور سیاسی قیادت کے بارے میں تھا۔ مسلمانوں میں قیادت کی قحط کیوں ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان جس مسئلہ سے دوچار ہیں وہ فقدان قیادت نہیں ہے بلکہ فقدانِ قبولیت قیادت قوم کی قبولیت سے کوئی شخص قائد بنتا ہے۔ جب قوم میں قبولیت کا مزاج ہی نہ ہو تو کوئی قائد کس طرح قائد بنے گا۔
میرٹھ میں شام کے وقت جناب سید محمود علی صاحب (شاستری نگر) کے مکان پر ایک پریس کانفرنس ہوئی جس میں ہندی اخباروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ کانفرنس میں بہت سے سوالات کئے گئے جن کا میں نے جواب دیا۔ ایک سوال مسلمانوں کے دینی مدارس کے بارے میں تھا۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے دینی مدارس پر اپنے میگزین ”الرسالہ“ (ستمبر ۲۰۰۰) میں تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ مدارس ملک کے لئے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ مدارس گویا اچھے شہری تیار کرتے ہیں۔
بابری مسجد کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ بابری مسجد کا مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ وہ ابھی تک عدالت میں موجود ہے، اور جو مسئلہ عدالت میں زیر سماعت ہو اس کو عدالت ہی ختم کر سکتی ہے۔ اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اعلان کریں کہ عدالت جو فیصلہ کرے گی وہ ہم کو بلا شرط منظور ہوگا۔ اس معاملے میں عدالت کو نظر انداز کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ملک میں مزاج کی حوصلہ افزائی کرنے کے ہم معنی جو بلاشبہ تمام برائیوں میں سب سے زیادہ بڑی برائی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ڈیمو کریسی کے نظام میں ہر فریق برابر کا حق رکھتا ہے۔ خواہ وہ اقلیت میں ہو یا اکثریت میں۔ ڈیمو کریسی اور ڈکٹیٹر شپ میں یہی ہمارے ملک میں آزادی کے بعد ڈیمو کریسی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ حالت میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ تفریق و امتیاز کی بات کرے ۔ اس قسم کی بات کسی ایک گروہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ پورے سسٹم کو برباد کر دینے والی ہے۔ اگر سسٹم برباد ہوتا ہے تو اس کا نقصان ہر ایک کو پہنچے گا۔
سٹی چینل ٹی وی (ہل چل) نے ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انہوں نے مختلف سوالات ایک سوال یہ تھا کہ آپ اسلامی مرکز کے صدر ہیں۔ یہ بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں اسلامی تعلیمات سے ہٹ گئے ہیں۔
میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات عمومی طور پر درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ مسلمان اسلامی تعلیمات سے ہٹ گئے ہیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی درست ہے کہ بہت سے مسلمان اسلامی تعلیمات پر قائم ہیں۔ اس کی ایک مثال تبلیغی جماعت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ علماء اور مدارسن بھی اس کا ایک نمونہ ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ عروج وزوال کے واقعات ہر قوم میں ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے اسلام میں تجدید واحیام کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے اور خدا کے فضل سے آج بھی جاری ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو
مصصلحین کو اصلاحی عمل کا ثواب کیسے ملے۔
مسجد الفاروق میں ظہر کی نماز پڑھی۔ نماز کے بعد حلقہ الرسالہ کے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ دعوتی کام کے سلسلے میں آپ کا مشورہ کیا ہے۔ میں نے اُن سے کہا کہ صبر دامی کی طاقت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ الصبر معول المومن (صبر مومن کا ذریعہ ء اعتماد ہے) میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسی جامع نصیحت ہے کہ اگر اس کو کوئی پکڑ لے تو اس کو دوسری نصیحت کی ضرورت نہیں۔ صبر بلاشبہ تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔ محمد شہزاد علی خاں صاحب کے یہاں دو پہر کے کھانے کا انتظام تھا۔ بعد ایک سوال کیا گیا کہ آپ نے لوگوں کو کیا پرو گرام دیا ہے۔ میں نے کہا کہ پروگرام دیا نہیں جاتا بلکہ خود بنایا جاتا ہے۔ پرو گرام کا سر چشمہ دل کا طوفان ہے۔ لفظوں میں کوئی پروگرام نہیں ہوتا۔ آپ کے دل میں اللہ کا ڈر ہونا اور دوسروں کے لئے خیر خواہی کا جذبہ ہونا، یہی پرو گرام بنانا ہے۔ آپ پرو گرام مانگتے نہیں بلکہ خود پرو وگرام ساز بنئے۔ جناب محمد راشد صاحب انصاری (۳۰ سال) نے ایک عمدہ بات کہی۔ کہا کہ آج کل کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ خبروں میں جیتے ہیں، وہ حقیقت میں نہیں ان کا مطلب یہ تھا کہ لوگ جو کچھ اخباروں میں پڑھتے ہیں اسی سے وہ رائے بنا لیتے میں نے کہا کہ اخباری رپورٹ میں بیک وقت دو خامیاں ہوتی ہیں، ایک یہ کہ ہر اخبار انتخابی رپورٹنگ کرتا ہے۔ یعنی کچھ خبروں کو چھاپنا اور کچھ کو چھوڑ دینا۔ مزید یہ کہ اس کی یہ انتخابی رپورٹنگ اس صحافتی اصول پر مبنی ہوتی ہے کہ اچھی خبر کوئی خبر نہیں Good news is no news ہے۔ اس صحافتی اصول کی بنا پر ہر اخبار کی رپورٹنگ نہ صرف جزیٔ ہوتی ہے بلکہ وہ ناقص بھی ہوتی ہے۔ یعنی وہ قوم یا فرقہ کے بارہ میں بری خبروں کو چھاپتا ہے اور اچھی خبروں کو نہیں چھاپتا۔
مزید یہ کہ اکثر اخبار خبروں کو گھٹا کر یا بڑھا کر چھاپتے ہیں۔ اس بنا پر کسی فرد یا
کسی جماعت کی تصویر جو اخبارات میں آتی ہے وہ ناقص ہوتی ہے۔
شام کو محمد شہزاد علی صاحب کے گھر پر خواتین اکٹھا ہوئیں۔ ان کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے چند باتیں کہیں۔ ایک بات یہ تھی کہ آپ لوگ بے شکایت جینا سیکھئے ۔ دنیا میں عورت اور مرد دونوں کو شکایتوں کے درمیان جینا پڑتا ہے ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ ایسا پیش آتا ہے جو آپ کے دل میں دوسروں کے خلاف شکایت کا جذبہ پیدا یہی اس دنیا میں کسی عورت یا مرد کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ اس دنیا میں کامیاب صرف وہ شخص ہے جو شکایتوں کے طوفان میں اپنے دل کو شکایتوں سے خالی جو شکایت کے باوجود بے شکایت بن کر رہ سکے۔
بچوں کی تربیت کے سلسلے میں میں نے کہا کہ اصل تربیت یہ نہیں ہے کہ آپ ایک مقرر وقت پر جمع کر کے بچوں کو دین کے مسائل بتائیں۔ بچوں کی تربیت اس قسم کے وقتی وعظ سے نہیں ہوتی بلکہ تربیت کا اصل ذریعہ گھر کا ماحول ہے۔ اگر آپ کے گھر میں اخلاق اور انسانیت کا ماحول ہو۔ آپ کے گھر میں کسی کی غیبت اور شکایت نہ کی جاتی ہو، اور آپ کے گھر میں دوسروں کو عزت دینے کا ماحول ہو ، خواہ وہ اپنا ہو یا غیر تو یہ ماحول آپ کے گھر کو ایک زندہ تربیت گاہ بنا دے گا۔ اس کے بعد کسی رسمی وعظ کی ضرورت نہ ہوگی۔ الرساله ستمبر ۲۰۰۰ (دینی مدارس) پڑھنے کے بعد مولانا محمد عرفان قاسمی نے اپنا جو تاثر بیان کیا وہ انہی کے الفاظ میں یہ تھا: میں نے الرسالہ کے اس شمارہ کو بہت غور سطور کو بھی پڑھا اور بین السطور کو بھی۔ سطور کے اندر آپ نے دینی مدارس کی افادیت کو انتہائی طاقتور دلائل کے ذریعہ واضح کیا ہے۔ اور بین السطور میں آپ کی ایک نئی شخصیت نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ نے اپنے آپ کو قافلہ مدارس کا ایک فرد شمار ” دینی مدارس “ کو پڑھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر جو لوگ دین کی خدمت کر رہے ہیں وہ اپنے اپنے دائرہ کے اندر متحرک
دوسرا احساس یہ ہوا کہ جو تعلیم آپ دوسروں کو رسالہ میں دیتے ہیں خود اس کو مبالغہ کی حد تک پکڑے ہوئے ہیں۔ مثلاً ایک مضمون میں آپ نے لکھا تھا کہ کسی شخص کے اندر کوئی خوبی ہو تو اس خوبی کا اعتراف کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ خدا کی نعمت کا دینی مدارس کے اندر میں نے دیکھا کہ آپ نے ان حضرات کی شخصیت کا کھل کر اعتراف کیا ہے جن سے آپ کو کچھ نظریاتی اختلاف تھا۔
الرسالہ کے ایک قاری نے کچھ لوگوں کا یہ قول دہرایا کہ آپ نے الرسالہ ستمبر ۲۰۰۰ میں لکھا ہے کہ آپ نے ۱۹۶۶ میں مولانا عبد الباری ندوی سے بیعت لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بیعت کا اسلام میں حکم کیا ہے۔ آپ کی کتاب تجدید دین سے تو یہ ذہن بنتا تھا کہ بیعت وغیرہ اسلام میں اضافہ ہے۔ لیکن دینی مدارس پڑھنے کے بعد جب آپ کا یہ اعتراف دیکھا تو لوگ متحیر ہو گئے۔
میں نے کہا کہ بیعت کے بارے میں تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں بیعت ایمان لی۔ آپ کے بعد خلفاء راشدین اور صحابہ کرام میں اس قسم کی بیعت کا کوئی ثبوت نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ کی بیعت کے معاملہ کو پیغمبر کا خصوصی معاملہ سمجھا۔ سے جس بیعت کا ثبوت ملتا ہے وہ صرف بیعت سیاسی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بیعت سیاسی کو ووٹنگ کہہ سکتے ہیں۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو گا کہ موجودہ زمانہ میں ووٹنگ کا طریقہ رائج ہونے کے بعد بیعت سیاسی کی کوئی ضرورت نہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بیعت کا موجودہ طریقہ خلافت عباسی کے زمانہ میں اسلام کے آغاز کے تقریباً دو سو سال بعد رائج ہوا۔ اس اعتبار سے بیعت کے مروجہ طریقہ کو اسلامی شریعت کا کوئی مخصوص جزو نہیں کہا جا سکتا۔ اس مروجہ طریقہ بیعت کو اگر بدعت کہا جائے تو یہ ایک سخت بات ہوگی۔ کیوں کہ بہت سے صالحین امت کا نام اس میں
اس لیے میں بطریقِ اہون یہ کہتا ہوں کہ یہ ہمارے بزرگوں کی ایک اجتہادی خطا اور جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے، اجتہادی خطا پر بھی مومن کو ثواب ملتا ہے۔ تاہم بیعت کی ایک اور صورت ہے جس کو میں درست مانتا ہوں۔ میں یہ بیعت فطری ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے ۔ ایک سفر کے دوران جانبہ کے مقام پر حضرت ابو عبیدہ خلیفہ ثانی حضرت عمر بن الخطاب کے استقبال کے لیے آئے۔ دونوں ایک دوسرے کے بہت زیادہ قدر دان تھے۔ چنانچہ دونوں نے آگے بڑھ کر یہ چاہا کہ وہ ایک دوسرے کے ہاتھ کو چوم لیں۔ (البداية والنهاية ، الجزء السابع صفحه ۵۵) صحابی کی طرف سے تقبیل ید کا یہ معاملہ ایک فطری معاملہ تھا نہ کہ شرعی ایساہی معاملہ میرے نزدیک اس چیز کا ہے جس کو میں بیعت کہتا ہوں۔ محبت اور اعتماد کا ایک غیر معمولی اظہار ہے۔ شرعی معنوں میں وہ نہ تو مقدس ہے اور نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ جب آپ نے ایک بزرگ سے بیعت کر لی تو وہ آپ کی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کی ضامن بن گئی۔ خلاصہ یہ کہ میں فطری بیعت کا قائل ہوں، مگر غلو آمیز بیعت کا نہیں۔
میں نے ١٩٦٦ میں مولانا عبد الباری ندوی سے جو بیعت کی تھی وہ اسی بیعت فطری کے معنی میں تھی۔ مولانا مرحوم کو میں نے دینی شخصیتوں میں ایک منفرد شخصیت کے طور پر دریافت کیا۔ اس دریافت کا نتیجہ علامتی طور پر بیعت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ میرٹھ کا شہر دہلی سے صرف ۷۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اس کو راجدھانی کا نواحی شہر کہا جا سکتا ہے۔ اس شہر کا راجدھانی کے کواح میں واقع ہونا اس کے لئے ایک قیمتی امکان ہے۔ ایسا شہر ہمیشہ بہت ترقی کرتا ہے۔ اس کی مثال دوسرے نواحی شہروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلاً غازی آباد، فرید آباد، گڑگاؤں، پانی پت، کرنال، وغیرہ۔ ان شہروں نے اپنی نواحی پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر غیر معمولی ترقی کی ہے۔
ترقی اتنی نمایاں ہے کہ ان شہروں سے گزرنے والا آدمی پہلی نظر میں اس کو محسوس کر میرٹھ بھی ملک کی راجدھانی کے نواح میں واقع ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر اس کا معاملہ مذکورہ شہروں سے مختلف ہے۔
۱۰ستمبر کو جب کہ میں میرٹھ کی سڑکوں اور اس کے محلوں سے بار بار گزرا تو مجھے وہاں شہری پچھڑے پن کے مناظر تو دکھائی دئے مگر جدید معنوں میں شہری ترقی کے مناظر میں وہاں نہ دیکھ سکا۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب خارج میں نہیں ہے بلکہ داخل میں ہے۔ میرٹھ کے لوگ اپنی جس تاریخ پر فخر کرتے ہیں، یہی تاریخ ان کی پسماندگی کا اصل سبب ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، ۱۸۵۷ء کی مسلح جنگ میرٹھ سے شروع ہوئی۔ یہ جنگ ناکام مگر ہمارے مقررین اور مھررین نے اس مسلح کارروائی کو اتنا زیادہ گلوریفائی کیا کہ وہ میرٹھ والوں کے ذہن میں ایک پر فخریاد کے طور پر باقی رہ گئی۔ حتی کہ وہ ان کی قومی روایات میں شامل ہو گئی۔ وہ نسل در نسل انہی پر فخر روایات میں جیتے رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرٹھ غالباً ہندوستان کا واحد شہر بن گیا جہاں پچھلے ڈیڑھ سو سال کے درمیان چھوٹے یا بڑے تشدد کے واقعات برابر جاری رہے۔ "چھری اور قینچی" میرٹھ کے کلچر کی ایک علامت بن گئی۔
یہی تشد دانه مزاج میرٹھ والوں کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کی اس دنیا میں ترقی ہمیشہ امن کی طاقت سے ہوتی ہے نہ کہ تشدد کی طاقت سے۔ کے لوگ اپنی روایات کے نتیجہ میں اس حقیقت سے غافل رہے۔ وہ تشدد کی بنیاد پر اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کا خواب دیکھتے رہے۔ اس قسم کا خواب حقائق کی اس دنیا میں کبھی واقعہ بننے والا نہیں، نہ میرٹھ والوں کے حق میں اور نہ غیر میرٹھ والوں کے حق میں۔ آپ کسی معلوماتی کتاب میں میرٹھ کے بارے میں پڑھیں تو اس میں آپ کو اس
قسم کے الفاظ لکھے ہوئے ملیں گے ۔ 1857 کی مسلح شورش سب سے پہلے میرٹھ میں شروع ہوئی :
The initial uprising of the 1857 Indian mutiny occurred there (VI, p. 753) اب میرٹھ میں کچھ نوجوانوں کے اندر گہرا دعوتی جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ دعوتی جد و جہد میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہم کو ایک باقاعدہ پروگرام دیجئے تاکہ ہم یہاں اس کے مطابق اپنا دعوتی کام کر سکیں۔
میں نے کہا کہ دعوتی عمل ایک سیلابی عمل ہے۔ اس کا کوئی لگابندھا پرو گرام نہیں اگر آپ کو دریا کے اوپر ایک پل بنانا ہے یا ایک صنعتی کارخانہ قائم کرنا ہے تو آپ اس کا ایک لگابندھا منصوبہ یا پروگرام بنا سکتے ہیں۔
مگر زندہ انسانوں کی دنیا میں دعوت حق کا کام اس نوعیت کا فنی کام نہیں۔ سیلابی نوعیت کا کام ہے ۔ اس کا پیشگی طور پر کوئی متعین اور مقرر پروگرام نہیں بنایا جا سکتا ۔ دعوت کے پروگرام کی اصل یہ ہے کہ آپ کے دل میں انسان کے لئے خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔ آپ انسان کی نجات کے لئے تڑپ اٹھیں۔ آپ کو محسوس ہونے لگے کہ اگر میں نے دوسروں کو جنت میں لے جانے کی کوشش نہیں کی تو میری اپنی جنت بھی مشتبہ ہے۔
اس قسم کا طوفانی جذبہ جب آپ کے دل میں بھڑک اٹھے تو اس کے بعد کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ دعوتی عمل کا پروگرام کیا ہے۔ اس کے بعد خود آپ کے سینہ کا طوفان آپ کو یہ بتانے کے لئے کافی ہو جائے گا کہ کب اور کس وقت آپ کو کیا کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ عرب کے ایک سفر میں کچھ عرب نوجوانوں نے کہا کہ آپ نے دعوت کے موضوع کو بہت اچھی طرح کھولا ہے ۔ دعوت کی اہمیت کو ہر پہلو سے واضح کیا مگر ابھی تک آپ نے دعوتی عمل کے لئے کوئی پروگرام نہیں دیا۔
میں نے کہا کہ قرآن دنیا کی سب سے بڑی دعوتی کتاب ہے۔ آپ سارا قرآن پڑھ جایئے مگر اس میں کہیں بھی وہ چیز نہیں ملے گی جس کو آج کل پروگرام کہا جاتا ہے۔ قرآن آدمى کے اندر دعوت کا سیلابی جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اور اس کے بعد اس کو اپنی فطرت پر اور اپنی عقل پر چھوڑ دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آدمی کے اندر واقعی معنوں میں دعوت کا جذبہ بھڑک اٹھے تو اس کے بعد اس کو کسی رسمی قسم کے پروگرام کی یہ بتاتے ہوئے میں نے عرب نوجوانوں سے کہا کہ ہمارا پروگرام، پروگرام ساز انسان بنانا ہے (برنامجنا هو اعداد المبرمجين)۔
میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں جو بتاتا ہے کہ آدمی کے اندر اگر دعوت کی تڑپ پیدا ہو جائے تو وہ کس طرح اپنے آپ میں ایک پروگرام ساز انسان بن جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ مظفر نگر (یوپی) کے ایک قصبہ کا واقعہ ہے۔ وہاں ایک مسلم خاندان کے یہاں ایک ہرین عورت صفائی کے کام کے لئے روزانہ آتی تھی۔ گھر کی ایک بچی سے اس ہرین عورت کی دوستی ہو گئی۔ یہ ہرین عورت جب وہاں صفائی کے کام کے لئے آتی تو وہ سب سے پہلے مذکورہ بچی سے ملتی۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے سے بہت زیادہ مانوس ہو گئے۔
ایک دن ایسا ہوا کہ گھر کے اندر جنت اور جہنم کا تذکرہ ہوا۔ لڑکی کے باپ نے کہا کہ جنت میں داخلہ کے لئے ایمان ضروری ہے۔ جو شخص مومن اور موحد ہو وہی موت کے بعد جنت میں جائے گا۔ اور جو لوگ مشرک ہیں، جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں وہ جنت میں نہیں جائیں گے۔ بچی کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی۔ وہ سوچنے لگی کہ میں تو مومن اور موحد ہوں اس لئے میں تو جنت میں جاؤں گی۔ مگر ہر یجن عورت تو شرک میں مبتلا ہے، وہ کس طرح جنت میں جائے گی۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ اگلے دن جب مذکورہ ہرین عورت صفائی کے کام کے لئے
آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کی دوست بچی گھر میں ایک کنارے کھڑی ہوئی بری طرح رد عورت اس کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ اس نے پوچھا کہ تم کو کیا تکلیف ہے۔ اس طرح رو رہی ہو۔ بہت پوچھنے کے بعد بچی نے کہا کہ میں مومن ہوں اس لئے میں جنت میں جاؤں گی اور تم مشرک ہو اس لئے تم جنت میں نہیں جاؤ گی۔ موت کے بعد کی زندگی میں میرا اور تمہارا ساتھ چھوٹ جائے گا۔ یہ سن کر ہر بچن عورت نے کہا کہ تم مت روؤ۔ میں آج سے اسلام قبول کرتی ہوں تاکہ ہم دونوں ایک ساتھ جنت میں رہیں۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اگر کسی کے دل میں دعوت کی آگ لگ جائے تو اس کے دل کی تپش خود ہی اس کو مکمل پروگرام بتا دیتی ہے، خواہ دامی ایک عام انسان ہو، اور خواہ وہ ایک چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔
میرٹھ کے جلسے میں کچھ تعلیم یافتہ ہندو بھی شریک تھے۔ بعد کو ایک ہندو نے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں بہت اچھی باتیں کہیں۔ مگر آپ کی ایک بات ہم کو پسند نہیں وہ یہ کہ آپ کی بعض باتوں سے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ آپ اسلام کو سب سے اچھا مذہب سمجھتے ہیں۔ آپ کے نزدیک اسلام دھرم سے بہتر کوئی اور دھرم نہیں۔ میں نے کہا کہ مذہب کا معاملہ ایک ذاتی عقیدہ کا معاملہ ہے۔ مذہب آدمی کو یہ یقین دیتا ہے کہ میں نے سچائی کو پا لیا ہے، اس سچائی کو جس کو لے کر میں اس دنیا میں جی میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کا یقین ہر آدمی کے لئے ضروری ہے۔ جو آدمی اس یقین سے خالی ہو وہ یا تو اعتماد کی نعمت سے محروم ہو گیا یا وہ حقیقی سچائی سے کم تر کسی چیز کو وہ درجہ دے دے گا جو کہ سچائی کا درجہ ہے۔
میں نے کہا کہ اگر آپ کا عقیدہ اس کے سوا کچھ اور ہو تو مجھے آپ سے کوئی نفرت میں پھر بھی انسان ہونے کے اعتبار سے آپ سے محبت کروں گا۔
ایسا ہو کہ میرا یقین کسی اور سچائی پر ہو اور آپ کا یقین کسی اور چیز پر تو ایسی حالت میں میں یہ کہوں گا کہ آئیے ہم دونوں اس موضوع پر سنجیدہ اور کھلا ڈلا بحث کریں۔ تا کہ ہم حقیقی سچائی تک پہنچ سکیں۔ کیوں کہ یہ یقین جتنا ضروری ہے کہ میں نے سچائی کو پالیا ہے، اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آدمی کا یقین واقعی سچائی پر بنا ہو نہ کہ کسی اور چیز پر۔ انہوں نے کہا کہ حال میں نیویارک میں مختلف مذاہب کے لوگوں کی جو میٹنگ ہوئ ہے اس میں تو یہ اعلان کیا گیا ہے:
It emphatically stated that all religions are equal. میں نے کہا کہ اگر آپ یہ کہیں کہ تمام مذاہب یکساں طور پر قابل احترام ہیں تو میں کہوں گا کہ ہاں، عزت اور احترام کے اعتبار سے ایک مذہب اور دوسرے مذہب کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ تمام مذاہب یکساں طور پر سچے ہیں تو میں کہوں گا کہ نہیں۔ اس قسم کی بات خود مذہب کی نفی (negation) ہے۔ مذہب کیا ہے؟ مذہب سچائی کا نمائندہ ہے۔ اور سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے وحدت ہے، سچائی تعدد کا تحمل نہیں کر سکتی۔ سچائی اگر متعدد ہو تو وہ سچائی ہی نہ ہوگی۔ سچائی کی اہمیت یہ ہے کہ وہ دنیا میں جینے کے لئے آدمی کا اعتقادی سہارا ہے۔ وہ ہے جو آدمی کو اس قابل بنائے کہ وہ پورے یقین کے ساتھ دنیا کے ہنگاموں میں رہ اس قسم کا۔ مستحکم اعتماد صرف اس یقین کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہے کہ میں نے جس چیز کو پایا ہے وہ کامل سچائی ہے۔ جس مذہب کی صداقت پر آدمی کو کامل یقین نہ ہو وہ ایک سیاسی مذہب یا مصلحت پرستانہ مذہب تو ہو سکتا ہے مگر حقیقی معنوں میں اس کو مذہب کی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ اس قسم کا عقیدہ صرف منافقانہ کردار پیدا کرتا ہے نہ کہ مخلصانہ کردار۔ میرٹھ میں کچھ لوگوں نے وہاں حلقہ الرسالہ کے نام سے ایک فورم بنایا ہے جس کے تحت وہ لوگ دعوتی کام کر رہے ہیں۔ اس طرح کے حلقے ملک بھر میں جگہ جگہ قائم
اس معاملہ میں مجھے ناگپور کی مثال پسند آئی۔
ناگپور میں الرسالہ کے قارئین نے اسی قسم کا ایک حلقہ بنایا ہے۔ مگر اس کا نام انہوں نے حلقہ الرسالہ کے بجائے پازیٹیو تھنکر س فورم (Positive Thinkers' Forum) یہ نام نہایت با معنی ہے اور مجھ کو پسند ہے۔ میری خواہش ہے کہ ہر جگہ الرسالہ کے لوگ اسی نام کو استعمال کریں۔ کثرت استعمال سے انشاء اللہ پازیٹیو تھنکر س فورم ’حلقہ الرسالہ کے لفظ کا بدل بن جائے گا۔
سوویت یونین کے ٹوٹنے سے پہلے جب اشتراکی افکار کا زور تھا تو اس زمانہ میں اس سے متاثر ادیبوں نے جگہ جگہ اپنے حلقے بنائے ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اشتراکیت پسند ادیب نہیں کہتے تھے بلکہ ترقی پسند ادیب (Progressive Writer) کہتے تھے ۔ زیادہ با معنی نہ تھا۔ وہ صرف قدیم سوچ سے بغاوتم کی نمائندگی کرتا تھا۔ اس لحاظ سے وہ ایک منفی نام تھا۔ اس کے برعکس پازیٹیو تھنکر س فورم پورے معنوں میں ایک مثبت نام وہ ایجابی فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔
محمد شہزاد علی خان صاحب نے بتایا کہ کچھ لوگ آپ کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ آپ اکثری سیاسی معاملاتی میں رائے دیتے ہیں جو ٹی وی، اور اخبارات میں آتی رہتی ہے۔ یہ بزرگوں کے طریقہ کے خلاف ہے۔ اگر آپ دینی مشن لے کر چل رہے ہیں تو آپ کو سیاسی معاملات سے الگ رہ کر خالص دین کے دائرہ میں اپنا کام کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ یہ صرف غلط نہی ہے جو ایک غلط مفروضہ پر قائم ہے۔ وہ یہ کہ عالم اور بزرگ وہ ہے جو سیاست سے دور رہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کی تاریخ میں نہ پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ آج ایسا ہے۔ ماضی میں حضرت عائشہ اور حضرت حسین نے وقت کی سیاست میں حصہ امام ابو حنیفہ نے نفس ذکیہ کے سیاسی مشن میں ان کے ساتھ تعاون کیا۔ امام ابن تیمیہ اپنے زمانہ کے سیاسی حکمرانوں کے معاملات میں جرأت مندانہ طور پر اظہار خیال کرتے تھے۔
ہندوستان میں شاہ ولی اللہ دہلوی ، شاہ عبد العزیز دہلوی ، مولانا محمد قاسم نانوتوی ، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا ابو الکلام آزاد جیسے بہت سے علماء سیاسی معاملات میں اظہار خیال کرتے رہے ہیں ، حتیٰ کہ ان لوگوں میں سے کئی لوگوں نے سیاسی معاملات میں عملی حصہ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاست انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ کوئی شخص اس سے الگ نہیں رہ سکتا۔
اگر کچھ بزرگ یا دین دار حضرات سیاست سے دور رہیں حتیٰ کہ وہ اخبارات بھی نہ پڑھیں تو یہ ان کا ذاتی ذوق ہے۔ ذاتی ذوق کے اعتبار سے اس میں کچھ حرج نہیں۔ لیکن وہ اگر اس ذاتی ذوق کو اسلام کا معیار قرار دیں اور سیاسی معاملات میں بے غرضانہ طور پر صالح رہنمائی دینے والوں کو بے دین سمجھیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ وہ یا تو جہل میں مبتلا ہیں یا انتہا پسندی کا شکار ہیں۔
مولانا محمد عرفان قاسمی نے کہا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ (البخاری) ان سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ کلمہ گو کے لئے جنت ہے۔ بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔
میں نے کہا کہ میرے مطالعہ کے مطابق ، من قال لا الہ الا اللہ سے مراد من تلفظ لا الہ الا اللہ نہیں ہے۔ یعنی مجرد کلمہ کے الفاظ کی تکرار پر جنت نہیں ہے بلکہ اعتراف حق پر ہے۔ چنانچہ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ من عرف أن لا إله الا الله اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث میں ” قول “ سے مراد قول گویا جنت معرفت پر ہے نہ کہ مجرد قول پر۔
یہ بات قرآن سے واضح طور پر ثابت ہوتی ہے۔ مثلا سورہ المائدہ کی آیت ۸۵ میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ ایک گروہ کو اللہ نے جنت دی اور یہ جنت ان کو ان کے قول کے بدلے میں ملی۔ (فَأَثَابَهُمُ الله بما قالوا جنت) مگر یہ قول کیا تھا۔
مطابق، یہ ان کے داخلی عرفان حق کا ایک لسانی اظہار تھا (مما عرفوا من الحق) مزید یہ کہ ان کا یہ عرفان اتنا گہرا تھا کہ اس کے زیر اثر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ (اعينهم تفيض من الدمع)
ایک صاحب نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مومن ہر حال میں جنت میں جائے گا خواہ وہ زانی ہو یا سارق ہو، کیا یہ حدیث صحیح ہے اگر صحیح ہے تو آپ اس حدیث کی تشریح کس طرح کرتے ہیں۔
میں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ مگر آپ جو اس کا مفہوم لے رہے ہیں وہ صحیح اس حدیث میں دراصل اسی مسئلہ کو بتایا گیا ہے جو قرآن میں لَمَم کے ساتھ بیان قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اہل نجات وہ ہیں جو کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے ہیں سوائے لَمَم کے (النجم ۳۲)
یہاں لمم سے مراد وقتی وقوع ہے۔ یعنی جذبات کے شدید غلبہ کے تحت کبھی اتفاقاً ملوث ہو جانا۔ اور پھر شدید احساس ندامت کے ساتھ اس سے تائب ہونا۔ یہی بات حدیث میں بھی آئی ہے۔ حدیث میں جو لفظ ہے وہ (و إن زنی و إن سرق کا لفظ ہے، نہ کہ یزنی اور یسرق کا لفظ۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی استمراری طور پر اس قسم کا فعل کرتا رہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اتفاقی طور پر کبھی انسانی کمزوری سے مجبور ہو کر اس سے ایسا فعل سرزد ہو جائے اور پھر وہ شدت کے ساتھ اپنے گناہ کا اعتراف کرے اور یہ پختہ فیصلہ کرے کہ آئندہ وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، آیت اور حدیث دونوں میں اصلا جس چیز کی اہمیت بتائی گئی ہے وہ سادہ طور پر وقوع گناہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ مومن سے اگر کبھی بشری تقاضا کے تحت کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کا حال کیا ہونا چاہئے۔ اس کے بعد اس کو گناہ کے احساس سے تڑپ اٹھنا چاہئے۔ اس کا یہ احساس اتنا شدید ہونا چاہئے کہ اس کی
آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہو جائے، یہاں تک کہ فرشتے کہہ اٹھیں کہ اے رب، اپنے اس بندے کو معاف فرمادے۔ کیوں کہ اس نے اتنے آنسو بہائے ہیں جو اس کے گناہ کو دھونے کے لئے کافی ہوں۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ آخرت کے بارے میں جو نصوص (آیات و احادیث) آئی ہیں وہ بظاہر متعارض ہیں۔ اُن سے آخرت کی تصویر واضح نہیں ہوتی۔ مثلاً بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مرتے ہی فوراً انسان اپنے حقیقی انجام سے دوچار ہو جاتا ہے۔ اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر میں قیامت کے دن حساب و سوال یہ ہے کہ اگر مرتے ہی انسان جنت یا جہنم میں چلا جاتا ہے تو ان آیتوں اور روایتوں کی کیا تاویل کی جائے جن کے مطابق بظاہر تمام انسانوں کے خاتمہ کے بعد ایسا ہونے والا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ سارا اشکال اس لئے ہے کہ ہم زمان ومکان کے دنیوی تصور کے تحت آخرت کے معاملہ کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ قیاس مع الفارق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے بعد فوراً ہی زمان و مکاں کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ماضی وحال اور مستقبل کا وہ فرق باقی نہیں رہتا جو موجودہ دنیا میں ہمیں محسوس ہوتا ہے۔ یہ اشکال اس لئے ہے کہ ہم واقعات کو فاصلوں کے اعتبار سے سمجھنے کے عادی حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں کچھ ایسی چیزیں رکھ دی ہیں جن کے ذریعہ ہر آدمی یہ تجربہ کرتا ہے کہ فاصلوں کا معاملہ اضافی ہے۔ مثلاً ہر آدمی کا تجربہ ہے کہ بعض اوقات ایسے خواب نظر آتے ہیں جس میں وہ ایک لمحہ میں لمبی مدت کے درمیان ہونے والے واقعات کو دیکھ لیتا ہے۔ یہی معاملہ تصور کا ہے۔ ہر آدمی کا تجربہ ہے کہ ایک لمحہ کے اندر اس کا خیال ہزاروں میل سے بھی زیادہ سفر کر سکتا ہے۔ مثلاً آپ دہلی میں بیٹھے ہوئے اپنے خیال کو ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفہ میں نیویارک پہنچ سکتے ہیں۔
آنکھ بند کرتے ہی ایک لمحہ میں سورج یا چاند کو اپنے تصور میں لا سکتے ہیں۔ یہ بات اب سائنسی مطالعہ کے ذریعہ ثابت ہو چکی ہے کہ زمان و مکاں کے تصورات اضافی ہیں۔ نظریہ کو سائنس میں نظریہ اضافیت(relativity) جاتا ہے۔
یہ چیزیں آخرت کے معاملہ کو ہمارے لئے قابلِ فہم بنا رہی ہیں۔ ان کے ذریعہ یہ امکان ثابت ہوتا ہے کہ ایک ایسی دنیا بھی ہو سکتی ہے جہاں زمانی بُعد اور مکانی فاصلے مٹ گئے حال اور مستقبل کا وہ فرق باقی نہ رہا ہو جو ہم کو موجودہ محدود دنیا میں نظر آتا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ آدمی جب مر کر قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو منکر نکیر اس سے تین سوال کرتے ہیں۔ من ربک، من رسولک، ما دینك۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ قبر کا معاملہ بہت آسان ہے۔ کا جواب تو ہر مسلمان دے سکتا ہے، خواہ وہ کیسا ہی مسلمان ہو۔
میں نے کہا کہ اس کا جواب قرآن میں موجود ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد لفظی جواب نہیں ہے۔ بلکہ حقیقی جواب ہے۔ یعنی سوال کا مطلب یہ ہوگا کہ کیا تم نے اپنی زندگی میں حقیقی طور پر اللہ کو اپنا رب بنایا تھا۔ کیا تم نے حقیقی طور پر رسول کو اپنے لئے اسوہ بنایا تھا۔ کیا تم نے دینِ اسلام کو حقیقی طور پر اپنا دین قرار دیا تھا۔ اس تفسیر کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ منافقین رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے پر زور الفاظ میں کہا کہ نشھد انک لرسول اللہ۔ اللہ نے ان کے اس قول کو نہیں مانا۔ اور فرمایا کہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں (المنافقون)۔ اس سے معلوم ہوا کہ مقبول جواب وہ ہے جو حقیقت اور واقعیت پر مبنی ہو۔
قبر میں صرف وہ جواب کسی کے کام آئے گا جو واقعہ سچائی پر مبنی ہوگا۔ کی زندگی اسی کے مطابق گزری ہو۔ اس کے برعکس اگر اس کا جواب جھوٹ پر مبنی ہو تو
وہ ایک ایسی بات کا دعویٰ کر رہا ہے جو اس کی حقیقی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ آخرت میں بھی اس کا جواب اسی طرح رد کر دیا جائے گا جس طرح دنیا میں منافقین کے جواب کو رد کر دیا گیا (المنافقون)۔
الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا دینی شاکلہ صوفیا کے زیر اثر بنا ہے۔ چنانچہ تقریباً تمام عوام و خواص متصوفانہ شاکلہ کے تحت سوچتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کی عوامی مقبولیت کا راز یہی ہے کہ اس نے معمولی فرق کے ساتھ اس مانوس متصوفانہ ڈھانچہ کو اختیار کر لیا۔ اس کے برعکس جن جماعتوں یا تحریکوں کا ڈھانچہ متصوفانہ نہ تھا وہ عوام میں زیادہ مقبول نہ ہو سکیں۔ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، اس بارے میں آپ اپنی رائے بتائیں۔
میں نے کہا کہ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے آپ تعرف الاشیاء باضدادها کے اصول کا انطباق کریں۔ وہ یہ کہ یہ معاملہ جو آپ ہندوستان میں دیکھتے ہیں وہ عرب دنیا میں سرے سے موجود نہیں۔ جب کہ عربوں کو اسلام براہ راست رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ ملا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کی زبان عربی ہے اور جن کو دین براہ راست رسول اور اصحاب رسول سے ملا۔ ان کا نمونہ درست نمونہ ہے یا ان لوگوں کا جن کو دین بالواسطہ ملا۔
میں صوفیا کا یا تصوف کا مخالف نہیں ہوں۔ میں خود اپنے آپ کو ایک صوفی سمجھتا لیکن اسی کے ساتھ میں یہ کہتا ہوں کہ ہندوستان میں جو دینی شاکلہ بنا وہ خدا پرستی سے زیادہ بزرگ پرستی سے قریب تھا۔
میرا احساس یہ ہے کہ ہندوستان میں جو لوگ مسلمان ہوئے ان کی تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے یہاں دین کا وہ ڈھانچہ بن گیا جس کو میں بزرگ پرستی کہتا ہوں۔ ہند و قوم ایک ایسی قوم تھی جس کا پورا مذہب گرو کے تصور پر قائم تھا۔
گیان لینا، گرو سے آشیرواد لینا، گرو کے واسطہ سے نجات حاصل کرنا یہاں تک کہ یہ سمجھنا کہ گرو اور بھگوان میں کوئی فرق نہیں۔ اس قسم کے ذہن کے لوگ بہت بڑی تعداد میں اسلام میں اس طرح داخل ہوئے کہ اس کے بعد ان کی تعلیم و تربیت کا کوئی انتظام نہ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مسلمان تو ہو گئے مگر ان کے مزاج پر بدستور ہندو روایت کا غلبہ یہی وہ چیز ہے جس نے ہندوستان میں بزرگ پرستی اور اکابر پرستی پر مبنی اس مذہب کی صورت اختیار کر لی جو آج مسلمانوں میں دکھائی دیتی ہے۔
اس ہندوستانی اسلام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مومن کا جو تعلق اللہ سے ہونا چاہئے وہ تعلق مفروضہ بزرگوں سے قائم ہو جاتا ہے۔ لوگ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ دین وہ ہے جو ان کے بزرگوں سے ملے۔ ان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے وہ سب انہیں بزرگوں کی برکت سے ملتا ہے۔ حتی کہ جنت بھی ان کو انہیں بزرگوں کے طفیل سے ملے گی۔ ان کا خیال یہ ہو جاتا ہے کہ ان بزرگوں کا چہرہ دیکھنا اور ان کے پاس بیٹھنا، ان کی خدمت کرنا، ان کی برکت حاصل کرنا، ان کے ملفوظات سننا، بس انہی چیزوں کا نام دین ہے۔ مگر یقینی ہے کہ یہ ایک خود ساختہ مذہب ہے۔ اس کا قرآن وحدیث والے مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن وسنت کے مطابق، حقیقی اسلام وہ ہے جو اللہ کی معرفت پر قائم ہو۔ محبت اور خوف کے جذبات صرف ایک اللہ سے وابستہ ہو گئے ہوں۔ جو آدمی کو اللہ کی عظمت و جلال کی یاد میں جینے والا بنا دے۔ جس میں انسان اللہ کی طرف بھاگے اور یہ یقین رکھے کہ جو کچھ اسے ملے گا اللہ سے ملے گا۔ کسی انسان سے اس کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ جناب ڈاکٹر ذوالفقار صاحب سیفی نے کہا کہ شب برات کے موقع پر ہمارے یہاں کچھ اشتہار لگتے ہیں۔ بعض میں شب برات کی فضیلت کو ثابت کیا جاتا ہے اور بعض پرچوں میں اس کی تردید کی جاتی ہے۔ مسلمان کش مکش میں پڑ جاتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بتائیں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ کشمکش کی بات نہیں ہے بلکہ دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی بات ہے۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اپنے بیٹے اور بیٹی کی ترقی کے لئے ایک رات کی دھوم پر یقین کرلے یا کچھ وقتی رسوم ادا کرکے یہ سمجھے کہ اس کے تمام معاشی معاملات درست ہو جائیں گے۔ لوگ چونکہ اپنے ذاتی معاملات میں سنجیدہ ہیں اس لئے وہ ایسے معاملہ میں، ٹوٹنا اور ٹوٹکہ جیسی چیزوں پر یقین نہیں کرتے مگر دینی معاملات میں وہ سنجیدہ نہیں اس لئے ان کو یہ آسان نظر آتا ہے کہ سال میں ایک رات کی دھوم مچاؤ اور جنت میں چلے جاؤ۔
مزید میں نے کہا کہ اس قسم کی دھوم والا اسلام براہ راست طور پر ہندور وایات سے اخذ کیا گیا ہے۔ ہندوؤں کے یہاں خشوع اور تقویٰ والے دین کا کوئی تصور نہیں۔ ان کے نزدیک خدا کوئی علیحدہ ہستی نہیں جس کے ساتھ اپنی تو جہات کو وابستہ کیا جائے۔ وہ نمائش رسوم، جلوس، کیرتن، نوراتری اور جاگرن، جیسی دھوم والی چیزوں کو مذہب سمجھتے ہیں۔ یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو کہ ہندوستان کے مسلمان، ہندو مذہب کو اسلامائز البتہ ہندو مہذب نے یہاں کے اسلام کو ہندوائز کر لیا۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگوں میں جو مذہب تھا وہ تالی بجانا اور سیٹی بجانا، اور گانے، باجے جیسی چیزوں پر اسلام نے، اس نمائش مذہب کو سنجیدہ مذہب میں تبدیل کر دیا۔ اس کے برعکس یہ ہوا کہ خدا کے دیئے ہوئے سنجیدہ مذہب کو یہاں کے لوگوں نے دوبارہ نمائش اور دھوم اور شعر خوانی کے مذہب میں تبدیل کر دیا۔ الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ آپ نے جو یہ عالمی دعوتی مشن چلایا ہے اور اس میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ اس کے لئے لازمی تھا کہ آپ معاشی اعتبار سے تو آپ نے اپنے معاشی مسائل کو کیسے حل کیا۔
میں نے کہا کہ ابتداء عمر سے ہی میرے اندر دینی خدمات کا جذبہ تھا۔
بھی خدا سے دعا کرتا تھا تو ہمیشہ میری زبان سے یہی دعا نکلتی تھی کہ خدایا، تو مجھے اپنے دین کی خدمت کی توفیق دے۔ تا ہم یہ سوال میرے ذہن میں باقی رہتا تھا کہ جب میں اپنا پورا وقت اور اپنی پوری طاقت دین کی خدمت میں لگا رہا ہوں تو میری معاشی ضروریات کیسے پوری ہوں گی۔ اس کا جواب مجھے قرآن اور حدیث میں ملا۔ قرآن و حدیث کے گہرے مطالعہ سے ، میں نے سمجھا کہ دعوت کا عمل بندے کی ذمہ داری ہے۔ اور رزق کی فراہمی اللہ کی ذمہ داری۔ آخری بار جس چیز نے مجھے اس معاملہ میں یکسو کر دیا وہ ابن ماجہ اور البیہقی کی یہ روایت تھی:
من جعل الهموم هماً واحدا هم آخرته كفاه الله عن هموم الدنيا (مشکوة المصابیح ا/ ۸۷) جس شخص نے اپنے سارے غموں کو ایک غم بنا لیا، آخرت کا غم، تو اللہ اس کی دنیا کے غموں کے لئے کافی ہو جائے گا۔ اللہ کی توفیق سے میں نے اس حدیث کو پورے اعتماد کے ساتھ پکڑ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ میری پوری زندگی اس حدیث کی عملی تفسیر ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اللہ نے میرے ساتھ وہ معاملہ فرمایا جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: و وجدک عائلا فاغنی
میری پوری زندگی گویا و من يتوکل علی الله فهو حسبہ کا تجربہ ہے۔ اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں سے کہتا ہوں کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ براہ راست اور بلا واسطہ اللہ کا عطیہ ہے، خواہ وہ کوئی چھوٹی چیز ہو یا کوئی بڑی چیز۔ اس تجربہ کا مجھے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ میں ہر لمحہ محسوس کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دئے ہوئے سے پارہا ہوں نہ کہ اپنی محنت کی کمائی سے۔ جناب محمد عارف صاحب میرٹھ (شاستری نگر) فیضل مسجد کے امام ہیں۔ سفر سے پہلے میرٹھ کے ایک صاحب نے ان کو ماہنامہ الرسالہ پڑھنے کے لئے دیا۔
وقت وہ الرسالہ سے اس قدر بد ظن تھے کہ انہوں نے اس کو واپس کر دیا اور کہا کہ مجھے الرسالہ پڑھنا نہیں ہے۔ پھر میرٹھ کے لئے جب میرا پروگرام بنا تو الرسالہ کے بعض قارئین نے ان کو اس کی اطلاع دی اور انہیں اجتماع میں شرکت کی دعوت دی۔ کو انہوں نے قبول کر لیا اور اجتماع میں آکر میری تقریر سنی اور ہماری مجلس میں بیٹھے۔ کے بعد ان کی طرف سے مجھے ایک خط موصول ہوا اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: ملاقات سے پہلے میں آپ کے خلاف نہایت بد ظنی کا شکار تھا۔ لیکن حضرت والا کی ملاقات کے بعد فوراً ہی ذہن اور قلب متاثر ہو اور وجہ اس کی یہ ہوئی کہ حضرت والا کی تقریر اور ملاقات کا انداز بالکل ہمارے آقا ﷺ کے طریقہ پر تھا۔ حقیقت میں اس بات کو قسم کھا کر کہا جا سکتا ہے کہ حضرت والا کا نظریہ بالکل قرآن اور حدیث کے مطابق کھانے پینے میں چلنے پھرنے میں اور گفتگو کرنے میں اور ملاقات کرنے میں وہ طریقہ نہیں تھا جیسا کہ آج کے علماء کے اندر بناوٹ اور اکثر فوں پائی جاتی ہے بلکہ آپ کو دیکھ کر اور ملاقات کر کے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ ہمارے آقا کا طریقہ تھا۔ جو چاہتا سوال کرتا تو اس کا ضرور جواب دیا جاتا۔ اور اگر کوئی جہالت کا سوال کرتا تو اس کا بھی جواب دیا جاتا اور اگر وہ اپنی جہالت پر اڑا رہتا تو اس سے اعراض آپ کی گفتار آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ قرآن و حدیث کے عین مطابق پایا جاتا ہے۔ اللہ ہمارے سر پر حضرت کا سایہ تادیر قائم رکھے، آمین۔ میرٹھ میں ایک صاحب ہیں جن کا نام ابرار صدیقی ہے۔ کسب معاش کے اعتبار سے وہ رکشہ چلاتے ہیں۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ الرسالہ کے شمارے رکھتے ہیں اور جب بھی اور جہاں بھی وقت ملتا ہے وہ الرسالہ کا مطالعہ شروع کر دیتے ہیں۔ ایک صاحب نے ان کا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ وہ الرسالہ کے عاشق ہیں۔ رکشہ ان کے لئے کسب معاش کا ذریعہ ہے اور الرسالہ ان کے لئے روحانی زندگی کا ذریعہ۔ مزید یہ کہ
وہ رکشہ کے ذریعہ نہ صرف مسافروں کو ادھر سے ادھر پہنچاتے ہیں بلکہ ان کا ’’رکشہ‘‘ الرسالہ مشن کی اشاعت کا چلتا پھرتا ذریعہ بن گیا ہے۔ وہ لوگوں کے پاس جا کر الرسالہ پہنچاتے رہتے ہیں۔ میرٹھ کے بعض نوجوان جو گہرے طور پر الرسالہ سے متاثر ہیں ان کو سب سے پہلے الرسالہ ابرار صدیقی صاحب کے ذریعہ ہی ملا۔
میرٹھ میں کچھ نوجوان الرسالہ مشن سے اتنا زیادہ متاثر ہیں کہ انہوں نے اس کو اپنا مقصد حیات بنالیا ہے۔ مثال کے طور پر محمد شہزاد علی خاں صاحب، محمد ساجد خاں صاحب، اور ماسٹر محمد نفیس صاحب، محمد راشد صاحب انصاری، ڈاکٹر ذوالفقار صاحب سیفی‘ ان لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ ہفتہ میں چھ دن وہ اپنا کام کرتے ہیں اور ایک دن چھٹی کر کے الرسالہ کی اشاعت کرتے ہیں۔ وہ سائیکل اور اسکوٹر پر الرسالہ اور کتابیں لے کر نکلتے ہیں اور مختلف لوگوں کے یہاں جا کر ان سے ملتے ہیں۔ ان سے باتیں کرتے ہیں اور انہیں الرسالہ یا کتاب پڑھنے کے لئے دیتے ہیں۔ اس طرح یہ صاحبان اس اصول کا عملی نمونہ بن گئے ہیں جس کو الرسالہ میں ’’ون مین ٹو مشن‘‘ کے الفاظ میں بتایا گیا تھا۔ ان صاحبان کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ کسی سے ملتے ہیں تو الرسالہ کے مختلف شمارے اس کے سامنے اس طرح رکھ دیتے ہیں کہ وہ صفحہ اول پر چھپے ہوئے اقوال کو چنانچہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ان اقوال سے متاثر ہوتے ہیں اور فوراً الرسالہ پڑھنے کے لئے لے لیتے ہیں۔ یہ طریقہ وہ اردو اور انگریزی دونوں رسالوں کے لئے اختیار کئے ہیں۔
میرٹھ کے مختلف مقامات کے پروگراموں میں شرکت کے بعد شام کو منڈولی کے لئے روانگی ہوئی۔ جب میں گاڑی میں بیٹھ چکا تو بہت سے لوگ مصافحہ کرنے کے لئے میں نے دیکھا کہ مجھے رخصت کرتے ہوئے بعض نوجوانوں کی آنکھوں میں آنسو انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب، ہمارے لیے دعا کیجئے۔ میں نے ان
کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں آپ کو قبول فرمائے۔ ایک اور نوجوان نے رخصت ہوتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب آپ آخرت میں گواہ رہیے گا کہ ہم نے اپنی زندگی کو دعوت الی اللہ میں لگایا۔ میں نے کہا کہ یہ میری گواہی کا معاملہ نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ دنیا میں کوئی چار انگشت جگہ ایسی نہیں، جہاں اللہ کا فرشتہ موجود نہ ہو۔ یہ فرشتے میرے جیسے انسان سے پہلے آپ کے عمل کا اندراج اپنے دفتر میں کر چکے ہوتے ہیں۔ آخرت کے دن یقیناً وہ آپ کے حق میں اپنی گواہی دیں گے۔ میرٹھ کے اس سفر میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے چند نوجوان بے حد مخلص اور دعوت کا سچا جذبہ رکھنے والے نظر آئے۔ ان کے نام یہ ہیں: محمد شہزاد علی خاں، محمد ساجد خاں، ماسٹر محمد نفیس انصاری، ڈاکٹر ذوالفقار، محمد راشد، وغیرہ۔ جیسے شہر میں ایسے سنجیدہ اور داعیانہ جذبہ رکھنے والے نوجوان مجھے تعجب خیز حد تک قابل قدر نظر آئے ۔ اللہ تعالیٰ ان نوجوانوں کے نیک جذبات کو قبول فرمائے۔ میرٹھ کے پروگرام سے فارغ ہو کر مغرب کی نماز کے بعد وہاں سے واپسی پہلے ہم لوگ منڈولی پہنچے جو دہلی کے اطراف میں ایک گاؤں ہے۔ یہاں مولانا محمد راشد خاں قاسمی صاحب کے مدرسہ تحفیظ القرآن میں کچھ دیر قیام رہا۔ یہاں کے مہتمم مولانا محمد اطہر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ میری تحریروں کو الجمعیۃ کے زمانہ سے پڑھتے چلے آ رہے ہیں، انہی کی گاڑی میں یہ پورا سفر ہوا۔ عشاء کی نماز اسی مدرسہ میں یہاں مختلف لوگوں سے ملاقات اور گفتگو ہوئی۔ منڈولی سے واپس ہو کر ۱۰ ستمبر ۲۰۰۰ کی رات کو ہم لوگ دہلی پہنچے۔