زلزلہ کا سبق
Al-Risala, November 2001, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
قدرتی آفتوں میں سب سے بڑی آفت زلزلہ ہے۔ قدیم ترین زمانے سے انسان زلزلوں کا شکار ہوتا زلزلہ میں جو انسانی موتیں واقع ہوتی ہیں، ان کا سب سے بڑا سبب مکانوں کا گرنا ہے۔ زلزلہ کا جھٹکا آتا ہے تو مکانات اچانک گر پڑتے ہیں اور چھوٹے بڑے سب اس کے نیچے دب کر مر جاتے انسان نے اپنے تجربات میں یہ معلوم کیا کہ جو مکان جتنا زیادہ مضبوط ہو، اتنی ہی آسانی سے وہ زمیں بوس ہو جاتا ہے اور بھیانک حادثات کا سبب بنتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ زلزلے سے پیدا ہونے والے نقصانات سے بچنے کی تدبیر مکانات کی "مضبوطی" نہیں بلکہ اس کی "کمزوری" ہے۔ مکان بے لچک ہوتا ہے، وہ زلزلے کے مقابلہ میں مستحکم طور پر کھڑا رہنا چاہتا ہے۔ چوں کہ شدید زلزلے کا جھٹکا ہر مضبوط مکان سے بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے مکان کی مضبوطی اس کے لیے الٹی پڑتی ہے۔ وہ پورا کا پورا دھڑام سے گر جاتا ہے۔
اس کے برعکس مکان اگر زیادہ مضبوط نہ ہو بلکہ لچک دار ہو تو اس کے اندر زلزلے کے جھٹکے کو سہارہنے کی طاقت آجاتی ہے۔ زلزلہ جب جھٹکا دیتا ہے تو وہ خود بھی ہلنے لگتا ہے۔ اس طرح مکان کا ہلنا اس کو گرنے سے بچا لیتا ہے۔ زلزلہ اگر زمین کو تلپٹ نہ کرے، بلکہ صرف ہلائے، تو ایسے مکانات اکثر محفوظ رہتے ہیں اور اسی کے ساتھ ان مکانات کے باشندے بھی۔
اس تجربہ کی روشنی میں ارتھ کوئیک انجینئرنگ وجود میں آئی ہے۔ اس انجینئرنگ کے مطابق، زلزلے کے علاقوں میں ایسے مکانات بنائے جاتے ہیں جن کا ڈھانچہ فلوٹنگ فاؤنڈیشن کے اصول پر بنایا جاتا ہے۔ چنانچہ جب زلزلے کا جھٹکا آتا ہے تو ایسا مکان ہل کر رہ جاتا ہے، وہ منہدم نہیں ہوتا۔ ۱۹۸۹ میں سان فرانسکو میں شدید زلزلہ آیا۔ مگر وہاں صرف ۷۵ جب کہ جون ۱۹۹۰ میں اسی قسم کا زلزلہ شمالی ایران میں آیا تو ۴۰ ہزار آدمی مرگئے ۔ اس فرق کا سبب یہ تھا کہ سان فرانسکو میں لچک دار مکانات بنے ہوئے تھے اور ایران میں اینٹ اور سمینٹ کے مضبوط مکانات۔ یہ قدرت کا ایک سبق ہے جو بتاتا ہے کہ موجودہ حادثات کی دنیا میں بچنے کی تدبیر کیا ہے۔ تدبیر یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں اکڑ کے ساتھ نہ رہے بلکہ تواضع کے ساتھ رہے۔