رہبانیت
Al-Risala, November 2001, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
ثم قفينا على اثارهم برسنا وقفينا بعيسى پھر ہم نے ان کے نقش قدم پر اپنے رسول ابن مريم واتيناه الانجيل وجعلنا في بھیجے اور انھیں کے نقش قدم پر عیسیٰ بن مریم قلوب الذين اتبعوه رأفة ورحمة کو بھیجا اور ہم نے اس کو انجیل دی۔ ورهبانية ن ابتدعوها ما كتبناها عليهم الا لوگوں نے اس کی پیروی کی ان کے دلوں میں ابتغاء رضوان الله فما رعوها حق ہم نے شفقت اور رحمت رکھ دی۔ رعايتها کو مسیحیوں نے خود نکالا، ہم نے اس کو ان پر (الحديد ۲۷) نہیں لکھا تھا۔ ہم نے ان کے اوپر صرف اللہ کی رضا چاہنا فرض کیا تھا۔ پھر انھوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی۔
اس آیت میں رہبانیت سے مراد یہ ہے کہ آدمی خدا کے نام پر دنیا کو چھوڑ دے۔ علیہ السلام کی تعلیمات وہی تھیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں۔ مگر حضرت مسیح کے دوسو سال بعد ان کے پیروؤں میں بگاڑ آگیا۔ ان کا ایک طبقہ رہبانیت میں پڑ گیا۔ وہ لوگ دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں چلے گئے اور دنیوی چیزوں سے بے تعلق ہو کر شدید قسم کی مشقت برداشت کرنے تفصیل کے لیے انسائیکلو برٹانیکا، جلد ۱۲، مقالہ (Monasiticism) ان کا یہ ترک دنیا مذہب کے معاملہ میں غلو اور تشدد سے پیدا ہوا۔ ان کو زہد کی تعلیم دی گئی تھی جس کا مطلب نفسیاتی زہد تھا۔ مگر انھوں نے نفسیاتی زہد کے حکم کو جسمانی زہد کا حکم قرار ان سے کہا گیا تھا کہ دنیا میں مشغول ہو مگر دنیا کو مطلوب و مقصود نہ بناؤ۔ مگر انھوں نے مطلوبیت دنیا کی نفی کو مشغولیت دنیا کی نفی کے ہم معنی سمجھ لیا۔ یہی ہے حکم خداوندی کی صحیح رعایت نہ کرنا۔ مومن انسانوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے مگر اس کی توجہ خدا کی طرف لگی رہتی ہے۔ مادی کام میں مشغول دکھائی دیتا ہے۔ مگر اس کا ذہن روحانی سطح پر سرگرم رہتا ہے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو آخرت میں بسیرا لیے ہوئے ہو۔