ہے حقیقت میرے دیں کی احتساب کا ئنات
Al-Risala, February 2001, pp. 7–10
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح دین کے نام پر ایک ایسی بے دینی پیدا ہوگی جہاں دین کے نام پر پر شور ہنگامے ضرور
ہوں گے مگر وہی چیز موجود نہ ہوگی جس کے نام پر سارا ہنگامہ کھڑا کیا گیا ہے، یعنی اللہ کی مطلوب الدین داری۔
اس سلسلہ میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ اقیموالدین کی آیت قرآن کی سورۃ الشورٰی میں آئی ہے۔ یہ سورہ ثابت شدہ طور پر ایک مکی سورہ ہے، یعنی وہ اس زمانہ میں اتری جب کہ قرآن کے بیشتر حصے ابھی نازل ہی نہیں ہوئے تھے۔ اور قرآن کا وہ حصہ جو شرائع اور احکام سے تعلق رکھتا ہے وہ ابھی اہل ایمان کو دیا نہیں گیا تھا۔
آیت کا یہ زمانہ نزول حتمی طور پر بتاتا ہے کہ اقیموالدین کی آیت میں دین سے مراد مکمل دین‘‘ نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اس وقت وہ سرے سے اتراہی نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جو احکام ابھی نازل نہ ہوئے ہوں ان کو قائم کرنے کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن کی مکی سورتوں میں اقیموا الصلوٰۃ کا حکم ہے۔ اس آیت کا مفہوم بوقت نزول یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ پنج وقتہ نماز باجماعت قائم کرو کیوں کہ پنج وقتہ نماز باجماعت کا حکم اس وقت اہل ایمان کو دیا ہی نہیں گیا اسی طرح اقیموالدین میں بھی سیاسی اور قانونی احکام مراد نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ یہ آیت مکی ہے اور مکہ میں یہ احکام نازل ہی نہیں کئے گئے تھے۔
اسی طرح سورۃ الشورٰی کی مذکورہ آیت میں دوسرے پیغمبروں کا بھی ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کو بھی اسی الدین کے قائم کرنے کا حکم ملا تھا۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے حضرت موسیٰ کے سوا دوسرے پیغمبروں کو سرے سے سیاسی اور قانونی احکام دئے ہی نہیں گئے تھے۔ حتی کہ ان کی زندگی کے آخری زمانہ میں بھی نہیں۔ ایسی حالت میں ان سابق پیغمبروں کو یہ حکم دینا کہ تم لوگ مکمل دین‘‘ کو زمین پر قائم اور نافذ کرو، اور بھی زیادہ نا قابل فہم ہے۔ خدا کی شریعت میں ذمہ داری تکلیف بقدر وسع کے اصول پر مبنی ہے۔ اہل ایمان کے لئے مکی دور میں اور دوسرے اکثر انبیاء کے لئے ان کی پوری زندگی میں مکمل دین کا نفاذ ان کی وسع سے باہر تھا۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اس وقت انہیں اس کا مکلف قرار دیا جائے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اقیموا الدین میں دراصل انفرادی دین پر قائم ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی وہ دین جس کو ایک شخص ہر جگہ اور ہر صورت حال میں اختیار کر سکتا ہے۔ بات یہاں سورۃ الشوریٰ میں جمع کے صیغہ میں کہی گئی ہے وہی بات دوسری جگہ واحد کے صیغہ میں اس طرح آئی ہے : واقم وجهك للدين حنيفا۔
اقيموا الدین یا اقم وجهك للدین حنيفا کا مطلب یہ ہے کہ وحی الہی کے ذریعہ جو حقیقت تمہارے اوپر منکشف ہوئی ہے، اس کو اپنے دل و دماغ کا حصہ بنالو۔ تمہاری سوچ اسی میں ڈھل جائے، وہ تمہارے ذہن میں سما جائے، وہی تمہاری ساری تو جہات کا مرکز بنی ہوئی ہو۔ اس معرفت کے بعد یہ ہونا چاہئے کہ تمہاری پوری ہستی خداوند عالم کے آگے جھک تم اسی کے عبادت گزار بن جاؤ۔ تمہارا وجود اس کے ذکر و تسبیح میں سرشار ہو جائے ۔ خدا ئے واحد ہی تمہارے خوف و محبت کے تمام جذبات کا مرکز بن جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ آدمی کا یہ تعلق اتنا زیادہ گہرا ہو جائے کہ اس کے اخلاق وعادات اسی میں ڈھلنے لگیں۔ اس کی بولی میں خدا کا نور شامل ہو۔ اس کا عملی سلوک عبدیت کے رنگ میں رنگ جائے۔ لوگوں کے درمیان وہ ایک ایسے انسان کے روپ میں رہنے لگے جس میں خدا ترسی اور آخرت کی جواب دہی کا احساس سمایا ہوا ہو۔
اس کی زندگی دو عملی سے خالی ہو۔ اس کا کردار اعلیٰ اصولوں سے متعین ہوتا ہو نہ کہ محض مصلحت اور مفاد کے تحت ۔ وہ لوگوں کے ساتھ عدل کا برتاؤ کرے ۔ اس کا دل کینہ اور حسد اور انتقام سے پوری طرح خالی ہو۔ وہ ہر حال میں سچ بولے۔ خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے وہ لوگوں کے درمیان ایک ایسے انسان کی طرح رہے جو جہنم سے ڈرتا ہو اور جنت میں داخلہ کا حریص ہو۔
وہ اعتراف کرنے والا ہو نہ کہ سرکشی کرنے والا۔ اس کا سینہ تواضع سے بھرا ہوا ہو نہ کہ اس کے دل میں لوگوں کے لئے خیر خواہی ہو نہ کہ بدخواہی۔ وہ امانت پر قائم رہنے
والا ہو اور خیانت سے پاک ہو۔ وہ عیب جوئی، الزام تراشی سے پاک ہو اور ہمیشہ وہ بات کہے جو ٹھیک ٹھیک حق وانصاف کے مطابق ہو۔
اس کی معرفتِ حق اس کو مادیت سے اوپر اٹھادے اور اس کو روحانیت کی بلند تر دنیا میں جینے والا بنا دے۔ اس کو یاد آئے تو خدا کی یاد آئے۔ اس کو شوق ہو تو خدا کے آغوشِ رحمت کو پانے کا شوق ہو۔ اس کو حرص ہو تو جنت کی حرص ہو۔ اس کو تعلق ہو تو ان بندوں سے تعلق ہو جو اس کے لیے خدا کی راہ میں مددگار بننے والے ہوں۔
اس کی نظر میں اتنی گہرائی آ جائے کہ وہ ظاہر میں باطن کو دیکھنے لگے۔ تخلیق کے مناظر میں وہ خالق کا مشاہدہ کرنے لگے۔ دنیا کی ہر چیز اس کے لئے خدا کی صفاتِ کمال کا تعارف بن اس کی حق شناسی اتنی بڑھے کہ ساری پھیلی ہوئی کائنات اس کے لئے رزقِ ربانی کے حصول کا دستر خوان بنی ہوئی ہو۔ ہر چیز میں اس کو اضافہ ایمان کی خوراک ملنے لگے۔ خلاصہ یہ کہ اقیموالدین یا اقم وجهك للدین حنیفا سے مراد دین کو زمین پر قائم کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو خود اپنے آپ پر قائم کرنا ہے۔ اس سے مراد احتساب خویش ہے نہ کہ اس سے مراد خود اپنے آپ کو خدا کے حکم کے تابع کرنا ہے نہ کہ دوسروں کو خدا کے تابع بنانے کے نام پر ان سے جنگ چھیڑنا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی کی آنکھیں اللہ کی یاد سے آنسو بہانے لگیں نہ کہ وہ دوسروں کے اوپر تلوار چلا کر ان کا خون بہائیں۔ مطلب اپنی دنیا کو معرفتِ الہی سے آباد کرنا ہے نہ کہ خدائی حکومت قائم کرنے کے نام پر دنیا کو تشدد اور نفرت کا جنگل بنانا۔ اقیموالدین کا مطلب اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے نہ کہ آدمی اطاعت رب کا نظام قائم کرنے کے نام پر ساری دنیا کو نفرت اور فساد سے بھر دے۔ مذکورہ قرآنی آیت میں اقامت دین سے مراد پیروی دین ہے نہ کہ نفاذِ دین۔ اس کا نشانہ احتساب خویش ہے نہ کہ احتساب غیر۔ یہ فکری اور اخلاقی دنیا میں کی جانے والی ایک جد و جہد ہے نہ کہ سیاست اور حکومت کے دائرہ میں برپا کیا جانے والا خارجی ہنگامہ۔