منصوبہ تخلیق
Al-Risala, November 2001, pp. 25–27
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن گویا خدا کے تخلیقی منصوبہ کا اعلان ہے۔ قرآن کے ذریعہ خالق نے تمام انسانوں کو بتایا ہے کہ وہ کس خاص منصوبہ کے تحت زمین پر پیدا کیے گئے ہیں۔ اور فکر و عمل کا وہ کون سا طریقہ ہے جس کو انہیں اپنی کامیابی کے لیے اختیار کرنا چاہیے۔ یہ منصوبہ قرآن میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ایک آیت یہ ہے : اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے، اور وہ عزیز و غفور ہے (الملک ۲)
قرآن کے اس بیان کے مطابق، تخلیق کا کلیدی نکتہ ابتلاء (امتحان) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت اعلیٰ اور معیاری دنیا بنائی جس کا نام جنت ہے۔ یہ جنت ابدی راحت اور ابدی سرفرازی کی جگہ ہے۔ موجودہ دنیا کی زندگی اس جنت میں داخلہ کا ایک امتحانی مرحلہ جو آدمی یہاں کا مقرر امتحان پاس کرلے اس کے لیے موت کے بعد ابدی جنتوں کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔
یہ امتحان کس بات کا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ غیب میں رہتے ہوئے آدمی اپنے خدا کو پہچانے اور اپنے دل و دماغ میں اس کو سب سے اونچی جگہ دے۔ وہ اپنے قول و عمل پر خود اپنے فیصلہ سے خدا کی لگام لگائے۔ بظاہر با اختیار رہتے ہوئے وہ اپنے آپ کو خدا کے مقابلہ میں بے اختیار بنالے۔ خدا کی اس تقسیم پر راضی ہو جائے کہ موجودہ دنیا اس کے لیے ذمہ داریاں ادا کرنے کی جگہ ہے، اور آخرت کی دنیا حقوق اور انعام حاصل کرنے کی جگہ۔
جنت میں داخلہ کا ٹکٹ اس انسان کو دیا جائے گا جو جنت کو دیکھے بغیر جنت کی معرفت وہ آخرت کی نعمتوں کی خاطر دنیا کی نعمتوں سے بے رغبت ہو جائے ۔ وہ آزادی رکھتے ہوئے اپنے آپ کو پابند بنا لے۔ وہ اپنی نفسانی خواہشوں کو دبائے اور اپنی ضمیر کی آواز کو اپنا رہنما بنائے۔ بے اصولی کی زندگی کو چھوڑ کر ایک با اصول انسان جیسی زندگی اختیار کرے۔
جو لوگ اس امتحان میں پورے اتریں ان کے لیے خدا کے ابدی انعامات ہیں۔ اور جو لوگ اس میں پورے نہ اتریں ان کے لیے خدا کے یہاں نہ رحمت ہے اور نہ انعام۔
درخت کیا ہے ۔ درخت خدا کا ایک جادو ہے ۔ وہ ایک معجزاتی واقعہ ہے جو خدا اپنی خصوصی قدرت سے زمین پر ظاہر کرتا ہے۔ درخت اس بات کا اعلان ہے کہ کوئی ہے جو اپنا بیج زمین میں ڈالے تاکہ خدا اس کے لئے زندگی اور ہریالی کا ایک نیا امکان کھول دے ، کوئی ہے جو خدا کے ساتھ ایک امید قائم کرے تاکہ خدا اس کی امید کو اس کے قیاس و گمان سے بھی زیادہ بڑی مقدار میں اس کے حق میں پورا کر دے۔
جب برسات کا موسم آتا ہے اور پانی سے لدے ہوئے بادل آسمان میں تیرنا شروع کرتے بجلی کی کڑک چمک فضاؤں میں ایک تبدیلی کا اعلان کرتی ہے۔ ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے بارش کا پیغام لے کر ہر طرف دوڑنے لگتے ہیں تو یہ سب در اصل خدا کے ایک مطلوب کا اظہار ہوتا ہے ، یہ مطلوب کہ خدا اپنی زمین میں کچھ ہرے بھرے درخت اگانا چاہتا ہے۔ وقت جو کسان خدا کے اعلان کو سمجھ لے اور ایک بیج لے کر زمین میں ڈال دے تو اس کے فوراً بعد خدا کا جادو ظاہر ہوتا ہے۔ جہاں خالی زمین تھی وہاں معجزاتی طور پر ایک سر سبز و شاداب کائنات نکل کر کھڑی ہو جاتی ہے جس کے سائے کے نیچے لوگ پناہ لیں ۔ جس کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ جو لوگوں کے لئے رنگت اور خوشبو اور لذت کا ایک عظیم خدا کی دستر خوان بن جائے ۔
دنیا کا معاملہ بھی آج کچھ ایسا ہی ہے۔ موجودہ دنیا کو دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک حد پر پہنچ کر کسی نئے انقلاب کا انتظار کر رہی ہے۔ خدا کا نام آج لوگوں کے لیے ذاتی کاروبار کا
عنوان بن چکا ہے ۔ خدا کی دی ہوئی آزادی کو صرف فساد اور بگاڑ کے لئے استعمال کیا جا رہا خدا کی پیدا کی ہوئی نعمتیں لوگوں کے لئے لوٹ کا میدان بنی ہوئی ہیں ۔ خدا کی دنیا میں انسان نے خود اپنے آپ کو خدائی کے مقام پر بٹھا رکھا ہے ۔ ظلم اور فساد اتنا بڑھ چکا ہے کہ انسانی نسل پر دوبارہ وہ الفاظِ صادق آتے ہیں جو حضرت نوح نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے بارہ میں کہے تھے: انک ان تذرهم يضلوا عبادك ولا يلدوا الا فاجرا كفارا (نہ ۴) بگاڑ کی یہ انتہا اس بات کی علامت ہے کہ خدا کا فیصلہ ظاہر ہو۔ وہ وقت آ گیا ہے کہ دوبارہ زمین پر ایک طوفانِ نوح برپا ہو، تاکہ تمام برے لوگ اس میں غرق کردئے جائیں اور تمام اچھے لوگ اس سے بچا کر خدا کی زمین کے وارث بنا دیے جائیں اور پھر وہ ایک ایسی دنیا کی تعمیر کریں جو موجودہ دنیا سے زیادہ بہتر ہوگی اور زیادہ بابرکت۔ مگر طوفانِ نوح سے پہلے اعلانِ نوح کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ خدا کے بندوں میں سے کچھ بندے اٹھیں اور اپنی صحیح ترین اور کامل ترین صورت میں حق کا اعلان کر دیں ۔ خدائی موسمِ آب آخری طور پر آچکا ہے ۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ کوئی کسان اپنا بیج لے کر زمین میں ڈال دے ۔ جس دن یہ واقعہ ہوگا اسی دن خدا کا معجزاتی کرشمہ بھی ظاہر ہو جائے گا ۔ خدا کی نهر تین اس بندہ کے اوپر آسمان کے دروازے پھاڑ کر ٹوٹ پڑیں گی تاکہ جو کچھ بندے کو کرنا ہے بندہ اسے انجام دیدے۔ اور تاکہ خدا کو جو کچھ کرنا ہے خدا اس کو ظہور میں لے آئے۔
اعلان حق کا مطلب حق کو آخری حد تک مبرہن کر دینا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کل خدائی کی سطح پر کھولا جانے والا ہے اس کو آج بندگی کی سطح پر لوگوں کے لئے کھول دیا جائے۔ اس کے بعد وہ لوگ ایک طرف ہو جاتے ہیں جنہوں نے حق کو پہچان کر اس کا ساتھ دیا تھا ۔ اور وہ لوگ دوسری طرف ہو جاتے ہیں جنہوں نے حق کو نہیں پہچانا اور اپنے آپ کو اس کی سمت میں کھڑا نہیں کیا۔ جب یہ عمل پورا ہوتا ہے تو اس کے فوراً بعد خدا کا آخری فیصلہ آجاتا ہے ۔ اس وقت لوگ دیکھ لیتے ہیں کہ پہلا گروہ جنت کے زینہ پر کھڑا ہوا تھا اور دوسرا گروہ جہنم کے زینہ پر۔