Al-Risala · November 2001

صحیح رخ

Al-Risala, November 2001, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مارأيت مثل النار نام هاربها وما رأيت مثل الجنة نام طالبها۔ حدیث میں ہارب نار (جہنم سے بھاگنے والا) اور طالب جنت (جنت کا چاہنے والا) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ اسلوب بہت بامعنی ہے۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کی تخلیق اس ڈھنگ پر کی گئی ہے کہ وہ عین اپنی فطرت کے اعتبار سے ہارب جہنم اور طالب جنت بنے۔ اگرچہ اپنی فطرت سے انحراف کر کے وہ اس سے مختلف انسان بن جاتا ہے ۔

انسان تکلیف کو برداشت نہیں کر پاتا۔ کسی بھی قسم کا دکھ انسان کے لیے آخری حد تک ناپسندیدہ چیز ہے۔ اس کے بجائے انسان کا حال یہ ہے کہ وہ راحت کو دل و جان سے چاہتا ہے، وہ خوشی اور لذت کا انتہائی حد تک دلدادہ ہے۔ چنانچہ اس کی پوری زندگی انھیں دو چیزوں کے گرد گھومتی ہے۔ یعنی مصیبت سے اپنے آپ کو بچانا اور دنیا کی راحت کو اپنے لیے جمع کرنا۔ مگر یہ حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔ ساری تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان کے لیے نہ تو یہ ممکن ہے کہ وہ تکلیف اور مصیبت سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بچالے۔ اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ راحت اور خوشی کو حقیقی معنوں میں اپنے لیے حاصل کرلے۔ ساری زندگی اسی کی دوڑ دھوپ میں لگا رہتا ہے۔ مگر آخر کار اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ نہ مصیبتوں سے محفوظ زندگی حاصل کرتا ہے اور نہ آرام و راحت کی دنیا اپنے لیے بنا پاتا ہے۔ ایک طرف انسان کا یہ جذبہ ہے اور دوسری طرف موجودہ دنیا میں اس کا ناقابل حصول ہونا، ان دونوں باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس جذبہ کا اصل رخ آخرت کی طرف تھا۔ نے انحراف کر کے اس کو دنیا کی طرف موڑ دیا۔

انسان کی فطرت ہر لمحہ پکار رہی ہے کہ اے شخص تو ہارب جہنم اور طالب جنت بن۔ وہ ہے جو اس آواز کو سن کر اس کی پیروی کرے۔ ناکام وہ ہے جو اس آواز کو نہ سنے اور آخر کار ابدی مایوسی کے گڑھے میں جاگرے۔

(وہ کیسا اچھا انعام ہے اور کیسی اچھی رہنے کی جگہ) الکہف ۳۱ ہر آدمی خوشی اور آرام کی زندگی چاہتا ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ دنیا میں ہر طرف خوشی اور آرام کے سامان پھیلے ہوئے ہیں ۔ وہ اپنی پوری طاقت ان چیزوں کو حاصل کرنے میں لگا دیتا مگر جب وہ ان چیزوں کو حاصل کر لیتا ہے تو اس پر ایک نئی حقیقت منکشف ہوتی ہے۔ اب وہ جانتا ہے کہ راحت کے ہر قسم کے سامان کے باوجود وہ راحت کی زندگی سے محروم اس دنیا میں آدمی کو سامان راحت کو تلاش کرنے کی خوشی تو ملتی ہے مگر سامان راحت سے ممتمتع ہونے کی خوشی کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں راحت کا صرف تعارف ہے ، راحت سے تمتع (enjoyment) موجودہ دنیا میں کسی کے لیے ممکن نہیں۔ راحت سے تمتع ہونے کے لیے ایک کامل دنیا درکار ہے۔ موجودہ دنیا ایک ناقص دنیا ہے ، اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص یہاں راحت سے متمتع ہوسکے۔

آدمی کے اس مطلوب کو پانے کا مقام صرف آخرت ہے۔ آخرت ایک کامل دنیا ہوگی۔ وہاں راحت کے تمام سامان اپنی آخری معیاری صورت میں فراہم کیے جائیں گے ۔ یہ دنیا وقتی نہیں ہوگی بلکہ ابدی ہوگی ۔ اسی کے ساتھ خود انسان کی وہ تمام محدودیتیں (limitations) ختم کردی جائیں گی جو سامان راحت سے حقیقی تمتع میں رکاوٹ بن جاتی ہیں ۔ ان انتظامات کے بعد پہلی بار انسان کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ اپنی پسند کی زندگی کو بھر پور طور پر پا سکے ۔ آخرت کے لیے عمل کرنا اس شخص کے لیے ممکن ہوتا ہے جو حقائق مادی کے بجائے حقائق معنوی کو اہمیت دے۔ جو دکھائی دینے والی چیزوں سے گزر کر نہ دکھائی دینے والی چیزوں میں جی لگائے۔ آج کے فائدے کے مقابلہ میں کل کے فائدے کو ترجیح دے۔ جو اپنی ذات میں گم ہونے کے بجائے خدا میں گم ہو جائے۔

Printed page