Al-Risala · November 2001

ہر ایک کی کہانی

Al-Risala, November 2001, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بس میوات کے علاقے سے گزر رہی تھی۔ وہ اسٹینڈ پر رکی تو کچھ مسافر بس کے اندر داخل ان میں ایک بوڑھی ”میونی“ بھی تھی۔ اپنے سر پر گٹھڑی لیے ہوئے وہ ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ کہاں جاکر بیٹھے۔ ایک مسافر نے ازراہِ مذاق کہا : دیکھو، وہ سیٹ خالی ہے۔ یہ ڈرائیور کی سیٹ تھی۔ مگر میونی کو ڈرائیور کی سیٹ اور مسافر کی سیٹ کا فرق معلوم نہ وہ اطمینان کے ساتھ آگے بڑھی اور ”خالی سیٹ“ پر جاکر بیٹھ گئی۔

کچھ دیر کے بعد ڈرائیور اندر داخل ہوا۔ وہ اپنی سیٹ پر میونی کو دیکھ کر بولا : عورت، تو . یہاں کیسے بیٹھ گئی۔ یہاں سے تو میں بیٹھ بس چلاؤں گا۔ میونی نے اپنی گٹھڑی سنبھالتے ہوئے نہایت اطمینان کے ساتھ جواب دیا : میں تو چوکھی بیٹی ہوں، تو کہیں اور سے چلالے۔ بس کے عتبار سے دیکھئے، تو یہ صرف ایک جاہل عورت کی کہانی معلوم ہوگی۔ مگر وسیع تر اعتبار سے دیکھئے تو موجودہ زمانہ میں یہی ہر شخص کی کہانی ہے۔ موجودہ زمانہ حرص اور حب دنیا کا زمانہ ہے۔ آج ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنی سیٹ پر قناعت نہیں کرتا۔ ہر آدمی دوسرے کی سیٹ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ آدمی صرف وہاں رکھتا ہے جہاں حالات نے اس کو رُکنے کے لیے مجبور کر دیا ہو، اگر حالات اجازت دیں تو پہلی فرصت میں وہ دوسرے کی سیٹ پر قبضہ کرنے کا عمل شروع کردے گا۔

خدا کی دنیا میں ہر چیز اپنی حد کے اندر عمل کرتی ہے۔ آسمانی اجسام اپنے اپنے مدار میں جنگل کے جانور اپنے فطری دائرہ میں رہ کر زندگی گزارتے ہیں۔ خدا کی دنیا میں صرف ایک ایسی مخلوق ہے جو حد بندی کو قبول نہیں کرتی۔ یہ انسان ہے۔ انسان بار بار اپنی حد سے تجاوز کرتا ہے۔ انسان اس چیز پر قابض ہونے کا منصوبہ بناتا ہے جو با اعتبار حقیقت اس کی نہیں۔

بوڑھی میونی کا کیس بیوقوفی کا کیس تھا اور دوسرے لوگوں کا کیس سرکشی کا کیس۔ بیوقوفی قابل معافی ہوتی ہے، مگر سرکشی خدا کے قانون کے مطابق قابل معافی نہیں۔

Printed page