علم اور تقویٰ
Al-Risala, November 2001, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور وہ تم کو علم دے گا (واتقواللہ ويعلمكم الله، البقرۃ ۲۸۲) دوسرے مقام پر کہا گیا ہے کہ اگر تم اللہ سے ڈروگے تو وہ تم کو پہچان دے گا (ان تتقواللہ يجعل لكم فرقانا) ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے کہ اللہ سے ڈرو۔ وہ تم کو روشنی عطا فرمائے گا جس میں تم چلوگے (... ويجعل لكم نوراً تمشون به، امام مالک نے امام شافعی سے ان کی جوانی کی عمر میں نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: اے لڑکے، میں دیکھتا ہوں کہ اللہ نے تمھارے دل کو روشنی سے بھر دیا ہے تو تم اس کو گناہ کی تاریکی سے نہ بجھاؤ (یا فتی انی اریٰ اللہ قد ملأ قلبک نوراً فلا تطفئه بظلمة المعصية)
امام شافعی نے اپنے استاد وکیع بن الجراح سے اپنی ایک گفت گو کا ذکر اس طرح اشعار میں کیا ہے: شكوت الى وكيع سوء حفظی فار شدني الى ترك المعاصي واخبرنی بان العلم نور و نور الله لا یھدی لعاصی میں نے شیخ وکیع سے حافظہ کی خرابی کی شکایت کی تو انھوں نے مجھے نصیحت کی کہ گناہوں کو چھوڑ دو اور انھوں نے مجھے بتایا کہ علم روشنی ہے اور اللہ کی روشنی کسی گنا ہگار کو راستہ نہیں دکھاتی۔ یہاں علم سے مراد معلومات نہیں، معرفت ہے۔ ایک حقیقی معرفت تک پہنچنے کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی کے پاس الفاظ اور معلومات کا ذخیرہ ہو، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے اندر صحتِ فکر ہو۔ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر یہی صحتِ فکر پیدا کرتا ہے۔
آدمی جتنا زیادہ سنجیدہ ہو اتنا ہی زیادہ اس کے اندر صحتِ فکر کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو سب سے زیادہ سنجیدہ بناتا ہے، اس لئے اللہ کا ڈر آدمی کو سب سے زیادہ اس قابل بنا تا ہے کہ وہ صحیح اور درست طریقہ پر سوچ سکے۔
اللہ کا ڈر آدمی کے الفاظ اور معلومات کے لئے ایسا ہی ہے جیسے سانچہ خام اشیاء کے لئے۔ خام اشیاء کو با معنی صورت میں تبدیل کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ کا ڈر الفاظ اور معلومات کو معرفت میں ڈھال
کچھ علوم انسانی مدرسہ میں پڑھائے جاتے ہیں اور کچھ علوم خدا کے مدرسہ میں۔