Al-Risala · November 2001

موت کے بعد

Al-Risala, November 2001, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

غزوہ بدر میں ابو جہل جب مہلک زخم کھا کر گرا اور مرنے کے قریب ہوا تو اس نے پوچھا کہ مجھ کو مارنے والا کون ہے ۔ کسی نے بتایا کہ انصار کے ایک نوجوان نے اس کو قتل کیا ہے ۔ ابو جہل یہ سن کر بولا: لو غیر اکا ر قتلنی (کاش کسان کے علاوہ کسی اور نے مجھ کو مارا ہوتا) ستمبر1980کا واقعہ ہے۔ ڈنکرک (فرانس) کے ایک شخص نے خودکشی کرلی ۔ اس کا نام جوزف ریڈ فورڈ (Joseph Redford) تھا ۔ اس وقت اس کی عمر ۶۲ سال تھی۔ اس نے مہلک زہر کی خوراک کھائی۔ اس کے بعد وہ مقامی کرکٹ کلب میں گیا تاکہ مرنے سے پہلے اپنے کلب کے ساتھیوں سے آخری مصافحہ کر سکے ۔ اس نے کلب کے ممبروں سے کہا :

Give me a whisky, I shall be dead in half an hour. مجھ کو شراب کا ایک گلاس دو ۔ آدھ گھنٹہ کے بعد میں مر جاؤں گا ( ہندوستان ٹائمس ، نئی دہلی (۱۹ ستمبر ۱۹۸۰)

اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ انسان موت کو بس " خاتمہ " کا ایک معاملہ خیال وہ سمجھتا ہے کہ کچھ دن دنیا میں رہ کر ہمیشہ کے لیے مٹ جانے کا نام موت ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جب وہ مرے تو عزت اور سکون کے ساتھ مرے۔ اس کے مردہ جسم کے اوپر مقبرہ کی صورت میں ایک شاندار یادگار قائم ہو جو موجود لوگوں کو ختم ہونے والے انسان کی عظمت یاد دلاتی رہے۔

مگر یہ سخت ترین قسم کی غلط فہمی ہے۔ موت ، آدمی کی زندگی کا خاتمہ نہیں ، وہ آدمی کی زندگی کے ایک نئے اور طویل تر دور کا آغاز ہے۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو ۔ قاتل ، کا حسب نسب معلوم کرنے کے بجائے وہ خود اپنے اعمال نامہ کو پڑھنے کی کوشش کرے ، وہ بے خودی کی خوراک کھا کر بے خبر ہونے کے بجائے یہ چاہے کہ وہ آخری حد تک با ہوش ہو جائے تاکہ کم از کم اپنے آخری لمحات کو ضائع ہونے سے بچا سکے ۔

کتنا زیادہ فرق ہے بے خبر انسان اور باخبر انسان میں ۔

Printed page