Al-Risala · November 2001

یہ انسان

Al-Risala, November 2001, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

پھول کی ایک پنکھڑی یا چڑیا کا ایک چھوٹا پرکتنی حسین چیزیں ہیں ۔ مگر اسی کے ساتھ وہ بے حد ان کو ہاتھ سے چھونے کی کوشش بھی ان کی حسین ترکیب کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا خالق بے حد لطیف ذوق والی ہستی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آدمی اس کے تخلیقی حسن کو دیکھے مگر وہ اس کو ہاتھ نہ لگائے۔ وہ اس سے اپنی روح کی غذالے مگر اپنے جسم کی کثافت سے اس کو آلودہ نہ کرے ۔

خدا کی دنیا میں ایک چیز ایسی ہے جو چڑیا کے پر اور پھول کی پنکھڑی سے بھی زیادہ نازک یہ انسان کا دل ہے۔ ہماری معلوم دنیا میں انسان کے دل سے زیادہ نرم و نازک کوئی چیز ایسی حالت میں جو شخص کسی انسان کے دل کو دکھاتا ہے وہ خدا کی دنیا میں سب سے بڑا جرم کسی آرٹسٹ کے نازک ترین آرٹ کو جو شخص اپنے پیروں سے مسل دے وہ اس آرٹسٹ کی نظر میں کتنا بڑا مجرم ہوگا۔ اس سے کہیں زیادہ وہ شخص اللہ کی نظر میں مجرم ہے جو ایک نازک دل کو مسلتا ہے۔ جو ایک انسان کے سکون پر ڈاکہ ڈالتا ہے ۔ جو ایک انسان کے آشیاں کو اجاڑنے کے منصوبے بناتا ہے۔

اس معاملہ میں وہ لوگ اس سے کم مجرم نہیں ہیں جو یہ سب کچھ ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر وہ ” گونگے شیطان بنے رہتے ہیں۔ وہ ظالم کا ہاتھ روکنے کے لیے نہیں اٹھتے۔ وہ اپنی ممکن کوشش اس کو دفع کرنے میں نہیں لگاتے۔ پھر اس سے بھی زیادہ بڑے مجرم وہ لوگ ہیں جو ملت کو مظلومی سے نکالنے کے نام پر قیادت کرتے ہیں مگر جب ملت کا ایک مظلوم فرد ان کے سامنے آتا ہے تو اس کو مظلومی سے نکالنے کے لیے ان کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوتی۔ تقریر میں کہتے ہیں کہ ملت کا یہ حال ہونا چاہیے کہ جب ایک ستم زدہ شخص وامعتصماہ پکارے تو ملت اس کی مدد کے لیے دوڑ پڑے اور اس وقت تک کسی کو چین نہ آئے جب تک اس شخص کو ظلم سے نجات حاصل نہ ہو جائے۔ مگر جب ایک ستم زدہ انسان وامعتصماہ کی آواز بلند کرتا ہے تو اس کی آواز پر دوڑنے کا کوئی جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوتا۔

Printed page