Al-Risala · November 2001

دو گروه

Al-Risala, November 2001, pp. 43–44

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت خدا کے نیک بندوں کی رہائش گاہ ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل جنت کے دو بڑے طبقے ہوں گے۔ ایک، السابقون سبقت کرنے والے) اور دوسرے، اصحاب الیمین (دائیں طرف والے) پہلے گروہ کے لیے آخرت میں شاہانہ انعامات ہیں، اور دوسرے گروہ کے لیے عام انعامات (الواقعہہ، رکوع اول)

درجہ اول اور درجہ دوم میں، یہ فرق کس بنیاد پر ہوگا۔ قرآن کے مطابق، اس کی وجہ فتح (الحدید ۱۰) ہے۔ جو لوگ فتح سے پہلے کے دور میں حق کو مانیں اور اس کا ساتھ دیں وہ السابقون کا درجہ اور جو لوگ فتح کے بعد کے دور میں حق کو قبول کریں اور اس کے ساتھی بنیں وہ اصحاب الیمین کے گروہ میں جگہ دیے جائیں گے۔ یہ محض زمانے کا فرق نہیں بلکہ نوعیت کا فرق ہے۔ اور نوعیت ایمان کا یہی فرق دونوں گروہوں کے انجام میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔

حق جب ظاہر ہوتا ہے تو ابتداً وہ مجرد صورت میں ہوتا ہے۔ اس کی حیثیت ایک ایسی نظری حقیقت کی ہوتی ہے جس کی پشت پر دلائل کی طاقت کے سوا کوئی اور طاقت موجود نہ ہو۔ بعد کے زمانہ میں جب حق کی دعوت فتح وغلبہ کے مرحلہ میں داخل ہو جاتی ہے تو اس وقت حق کی حیثیت صرف عقلی صداقت کی نہیں ہوتی بلکہ اب اس کی حیثیت مرئی واقع کی بن جاتی ہے۔ اب ہر آنکھ والے کو وہ ایک ٹھوس واقعہ کی صورت میں دکھائی دینے لگتا ہے۔

پہلے دور میں حق کو لفظی دلیل سے پہچانا پڑتا تھا، دوسرے دور میں اس کی اہمیت کو منوانے کے لیے کھلے ہوئے واقعات موجود ہوتے ہیں۔ پہلے دور میں حق کو مانتے ہی آدمی اپنے ماحول کے اندر اجنبی بن جاتا تھا، دوسرے دور میں حق کے ساتھ وابستہ ہونا آدمی کو عزت اور مقبولیت کا مقام دے دیتا پہلے دور میں حق کا ساتھ دینے والا صرف کھوتا تھا، دوسرے دور میں حق کا ساتھ مزید پانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ پہلے دور میں بنیاد کے نیچے دفن ہونا پڑتا تھا، دوسرے دور میں گنبد کی بلندیاں مل جاتی ہیں جن کے اوپر آدمی کھڑا ہو سکے۔ یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر پہلے مرحلہ میں حق کا ساتھ دینے والے کے لیے درجہ اول کا مقام ہے اور دوسرے مرحلہ میں حق کا ساتھ دینے والے کے لیے درجہ ثانی کا مقام۔

کو اپنے ایک خاص مکان میں ملاقات کے بلایا۔ یہ مکان سمندر کے کنارے بنا ہوا تھا۔ جدید طرز کا وسیع مکان، اس کے آگے شاندار لان ، اس کے آگے حد نظر تک پھیلی ہوئی سمندر کی لہریں ۔ چاروں طرف عیش اور خوبصورتی کے مناظر ۔ اس ماحول میں مہمان اور میزبان دونوں مکان کے سامنے لان میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔

ڈاکٹر جاوید کہتے ہیں کہ میں اس ماحول میں گم تھا۔ مجھے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ میں جنت کی دنیا میں بیٹھا ہوا ہوں۔ مجھ پر محویت کا عالم طاری تھا۔ امریکی کر دیے پتی بھی چپ چاپ کسی سوچ میں مبتلا تھا۔ اچانک امریکی نے میری طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا : مسٹر جاوید ، میں چاہتا ہوں کہ امریکہ کو چھوڑ کر پاکستان چلا جاؤں اور زندگی کے بقیہ دن وہیں گزاروں ۔

ڈاکٹر جاوید نے حیرت کے ساتھ پوچھا۔

" یہ سب چیزیں مجھے کاٹتی ہیں۔ مجھے ایک منٹ کے لیے بھی سکون حاصل نہیں "

یہ واقعہ دنیا کی حقیقت کو بتا رہا ہے۔ دنیا کا حال یہ ہے کہ جو شخص پانے ہوتے نہ ہو وہ سمجھتا ہے کہ پانے کا نام خوشی ہے۔ مگر جو شخص پالے وہ محسوس کرتا ہے کہ پا کر بھی اسے خوشی حاصل نہیں ہوئی ۔ پا کر بھی اس نے خوشی کو نہیں پایا ۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی نام ہے چاہی ہوئی چیز کو نہ پانے کا۔ جو لوگ اس راز کو جان لیں وہ نہ ملنے پر بھی اس طرح مطمئن رہتے ہیں جیسے کہ انھوں نے سب کچھ پالیا ہو۔ اور جو لوگ اس راز کو نہ جانیں وہ ہمیشہ اپنی چاہی ہوئی چیز کو پانے کا خواب دیکھتے رہتے ہیں اور کبھی بھی اس کو نہیں پاتے۔ کیونکہ پانے کے بعد جلد ہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ وہ چیز نہیں جس کو انھوں نے پانا چاہا تھا۔ وہ ایک نہ ملنے والی چیز کے غم میں پڑے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ اسی حال میں مرجاتے ہیں۔

مذہب کی اصطلاح میں پہلی چیز کا نام قناعت ہے اور دوسری چیز کا نام حرص۔ لفظوں میں زندگی کی ساری کہانی چھپی ہوئی ہے ۔

Printed page