People thought it was a joke, part of the act.
Al-Risala, November 2001, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
ایکٹر اسی حال میں چند منٹ تک فرش پر پڑا رہا۔ یہاں تک کہ اس کے لڑکے ایڈم (Adam) کو شبہ اس نے ایک ڈاکٹر کو بلایا۔ ڈاکٹر نے آکر دیکھا اور فورا اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔ کے ذریعہ اس کو اسپتال پہنچایا گیا۔ اسپتال کے ڈاکٹروں نے جانچ کرنے کے بعد اعلان کیا کہ ڈک شان کا انتقال ہو چکا ہے۔ انتقال کا سبب غالباً دل کا دورہ (Heart attack) تھا۔ انتقال کے وقت اس کی عمر 57 سال تھی (ٹائمس آف انڈیا ۲۰ اپریل ۱۹۸۷) اس دنیا میں کوئی شخص روتے ہوئے مر جاتا ہے اور کوئی شخص ہنستے ہوئے کسی پر اس کی موت بد حالی میں آجاتی ہے اور کسی پر خوش حالی میں ۔ کوئی خاک پر بیٹھا ہوا اس دنیا سے چلا جاتا ہے اور کوئی تخت حکومت پر ۔ موت ایک ایسا انجام ہے جو ہر ایک پر آتا ہے خواہ وہ ایک حالت میں ہو یا دوسری حالت میں۔
مگر موت ہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جس کو انسان سب سے زیادہ بھولا ہوا ہے یہاں رونے والا اور ہنسنے والا دونوں ایک ہی حال میں مبتلا ہیں۔ وہ صرف اپنے آج کو جانتے ہیں، وہ اپنے کل کو نہیں جانتے۔ اگر وہ اپنے کل کو جان لیں تو ہنسنے والے کا حال بھی وہی ہو جائے جو رونے والے کا حال نظر آرہا ہے۔
یہ سب سے بڑی بھول ہے جس میں آج کا انسان مبتلا ہے۔