شریعت اور دین کا فرق
Al-Risala, February 2001, pp. 11–18
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ارشاد ہوا ہے : لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا ولو شاء الله لَجَعَلَكُمْ امة واحدة ولكن ليبلوكم فى ما اتاكم فاستبقوا الخيرات الى الله مرجعكم جميعاً فينبئكم بما كنتم فيه تختلفون (المائدہ ۴۸) یعنی ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک طریقہ ٹھہرایا، اور اگر خدا چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا۔ اللہ نے چاہا کہ وہ اپنے دئے ہوئے حکموں میں تمہاری آزمائش کرے۔ پس تم بھلائیوں کی طرف آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ پھر وہ تم کو آگاہ کر دے گا اس چیز سے جس میں تم اختلاف کر رہے تھے۔
قرآن میں ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کا بھیجا ہوا الدین ایک ہے اور وہ ہر پیغمبر کے پاس اسی ایک صورت میں بھیجا گیا (الشورٰی ۱۳)۔ دوسری طرف قرآن کی مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اور منہاج کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے فرق رکھا ہے۔ پیغمبروں کو مختلف شریعت اور مختلف منہاج دیا گیا۔ قرآن کی یہ آیت مطلق مفہوم میں نہیں یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر نبی کی شریعت ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف حقیقت یہ ہے کہ یہ فرق یا اختلاف صرف جزئی اور فروعی پہلو سے تھا نہ کہ کلی اور عمومی
قرآن کی مذکورہ آیت میں شرعة اور منہاج کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ شریعت سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کو آدابِ عبادت کہا جا سکتا ہے اور منہاج سے مراد طریقہ کار
اصل یہ ہے کہ عبادت کی ایک روح یا ایک حقیقت ہے۔ مثلاً قرآن کے مطابق نماز کی حقیقت خشوع ہے اور روزہ کی حقیقت شکر ہے، عبادت کی یہ داخلی حقیقت کبھی نہیں بدلتی۔
اسی کے ساتھ ہر عبادت کی ایک ظاہری صورت (form) ہے۔ دراصل عبادت کا یہی ظاہری فارم ہے جس میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ وہ کسی پیغمبر کو ایک صورت میں دیا گیا اور دوسرے پیغمبر کو کسی اور صورت میں۔
آدابِ عبادت یا ظواہر عبادت میں فرق کی ایک مثال وہ ہے جو قبلہ سے تعلق رکھتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے امت یہود کے لئے بیت المقدس (یروشلم) کو ان کا قبلہ عبادت بنایا گیا تھا۔ لیکن امت محمدی کا قبلہ عبادت کعبہ کو مقرر کیا گیا جو مکہ میں واقع ہے۔ منہاج سے مراد طریق کار ہے۔ مختلف پیغمبروں کو مختلف منہاج (طریق کار) دیا گیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہر پیغمبر کے حالات الگ تھے۔ اور طریقہ کار وہی درست ہو سکتا ہے جس میں وقت کے حالات کی رعایت کی گئی ہو۔ منہاج میں فرق کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام قدیم مصر میں آئے۔ انہوں نے اپنے ہم عصر بادشاہ سے براہ راست طور پر کہا کہ اجعلني على خزائن الارض (یوسف (۵۵) یعنی مجھ کو ملک کے خزائن پر مقرر کر دو۔ ملک مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے، مگر انہوں نے اپنے ہم عصر بادشاہ سے اس قسم کا مطالبہ نہیں فرمایا، بلکہ برعکس طور پر یہ کہا کہ مجھ کو اجازت دے کہ میں اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر ملک مصر سے باہر چلا جاؤں۔
شریعت میں فرق کی یہ توجیہہ کرنا درست نہیں کہ ایسا بر بنائے ارتقاء ہوا ہے۔ پیغمبروں کی شریعت سادہ شریعت تھی۔ پھر ان میں ترقی ہوتی رہی۔ گویا اگلے پیغمبر کی شریعت میں پچھلے پیغمبر کے مقابلہ میں فرق کا سبب یہ تھا کہ اگلے پیغمبر کی شریعت پچھلے کے مقابلہ میں زیادہ ترقی یافتہ تھی۔ یہ ارتقائی فرق جاری رہا۔ یہاں تک کہ پیغمبر آخر الزماں ﷺ کو آخری ارتقاء یافتہ شریعت دے دی گئی۔
شریعتوں میں فرق و اختلاف کی یہ ارتقائی توجیہہ درست نہیں۔ خود مذکورہ آیت اس نقطۂ نظر کی تردید کر رہی ہے۔ چنانچہ اس آیت میں شریعتوں میں فرق کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ ایسا اس
لئے کیا گیا تا کہ اللہ لوگوں کو آزمائے (لیبلوکم فی ما آتاکم)۔ یعنی خود قرآن کے بیان کے مطابق، مختلف پیغمبروں کی شریعتوں میں فرق بربناء ابتلاء تھا نہ کہ بربناء ارتقاء۔ اصل یہ ہے کہ ہر عبادتی فعل کی ایک روح ہوتی ہے اور دوسرے، اس کا ظاہری ابتداء میں جو لوگ ایمانی زندگی اختیار کرتے ہیں وہ اس فرق کو جانتے ہیں اس لئے وہ روح عبادت کے معاملہ میں زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن بعد کی نسلوں میں دھیرے دھیرے جمود پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کے اندر داخلی روح باقی نہیں رہتی۔ وہ ظواہر عبادت کو اصل سمجھ لیتے اور بس اس کی ظاہری تکمیل کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے عبادت کا فعل انجام دے دیا۔
جب امتوں سے روح دین نکل جاتی ہے اور اس کے افراد جمود میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کے ذریعہ بعض ظواہر میں تبدیلی کا حکم دے دیتے ہیں۔ اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے ظواہر ہی کو اصل سمجھ لیا تھا وہ انہی قدیم ظواہر سے چمٹے رہتے ہیں۔ نئی عبادتی شکل کو قبول نہیں کر پاتے۔ حتیٰ کہ اس بنا پر وہ اپنے ہم زمانہ پیغمبر کا انکار کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے اندر روح دین زندہ ہوتی ہے وہ ظواہر کے فرق کو اہمیت نہیں دیتے، وہ دل کی آمادگی کے ساتھ قدیم فارم کو چھوڑ کر نئے فارم کو اختیار کر لیتے ہیں۔ قدیم مدینہ میں اس وقت پیش آیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قبلہ عبادت کو بدل
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی یہ عمل جزئی طور پر جاری ہے۔ عبادت کے ظواہر کا تعلق ہے، ان میں اب تبدیلی ممکن نہیں کیوں کہ عبادات کے ظواہر میں تبدیلی کا معاملہ اجتہادی نہیں ہے۔ اس قسم کی تبدیلی صرف پیغمبر کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ چونکہ کوئی پیغمبر آنے والا نہیں، اس لئے اب عبادات کے ظواہر میں فرق یا تبدیلی کا پیش آنا بھی
مگر جہاں تک منہاج کا معاملہ ہے وہ اس سے مختلف ہے۔ منہاج (طریق کار) کا معاملہ بنیادی طور پر اجتہاد پر مبنی ہے۔ اور چونکہ اجتہاد امت مسلمہ میں قیامت تک جاری رہے گا اس لئے منہاج کے معاملہ میں فرق یا تبدیلی بھی علماء مجتہدین کی رایوں کے مطابق مسلسل ہوتی
قرآن (الاععام ۹۰) میں پیغمبر اسلام ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم دوسرے پیغمبروں کی پیروی کرو۔ (اولئك الذين هدی الله فبهداهم اقتده)۔ اللہ ﷺ نے بار بار منہاج کے معاملہ میں پچھلے پیغمبروں کا انداز اختیار کیا۔ قرآن کے تتبع سے اس کی مثالیں معلوم کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً مخالفین کے ایذاء پر صبر کی روش اختیار کرنا (الاحقاف فتح مکہ کے بعد پیغمبر اسلام کا سنت یوسفی پر عمل کرنا اور زیادتی کرنے والوں کو یہ کہہ کر معاف کر دینا کہ لا تثريب عليكم اليوم (يوسف ۹۲) وغیرہ۔
پیغمبروں کی شریعتوں میں فرق ہونا کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ یہ معاملہ ایک ثابت شدہ قانون فطرت پر مبنی ہے۔ وہ یہ کہ داعیوں کا عقیدہ یا ان کا نظریہ خواہ بالکل یکساں ہو، وہ خارجی حالات (circumstances) جن کے درمیان انہیں کام کرنا پڑتا ہے، کبھی یکساں نہیں ہوتے۔ حتیٰ کہ ایک پیغمبر کے اپنے زمانہ میں بھی حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس بنا پر بالکل فطری بات ہے کہ شریعت کے انطباق میں حالات کے اعتبار سے فرق ہو۔ مختلف پیغمبروں کی شریعتوں کا مختلف ہونا دراصل حالات کی رعایت ہی کا دوسرا نام ہے۔
مثال کے طور پر رسول اللہ ﷺ کے لئے جب مکہ میں حالات سخت ہو گئے تو آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جائیں۔ اس کے برعکس حضرت مسیح کے حالات بھی یروشلم میں سخت ہو گئے مگر انہیں یروشلم چھوڑ کر کہیں اور جانے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اس فرق کا کم از کم ایک سبب یہ ہے کہ اس وقت مدینہ کے حالات بتا رہے تھے کہ وہ مکہ سے بالکل مختلف ہیں اور یہاں با آسانی اسلام کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔ جب کہ حضرت مسیح کے
زمانہ میں یروشلم کے باہر مدینہ جیسی کوئی جگہ موجود نہ تھی، جہاں جاکر زیادہ بہتر حالات میں نیا دعوتی مرکز بنایا جاسکے۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ٢٣ سالہ زندگی میں حالات و واقعات کی جو ترتیب ہے وہ تاریخ اسلام کا ایک جزء ہے نہ کہ عقیدہ اسلام کا ایک حصہ۔ مثال کے طور پر پیغمبر اسلام نے مکہ میں پر امن دعوت کے انداز میں کام کیا۔ اس کے بعد آپ خاموش طور پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے ۔ اس کے بعد جہاد (بمعنیٰ قتال) کے واقعات پیش آئے اور آخر کار مکہ فتح ہو گیا۔ اب واقعات کی اس ترتیب کو لے کر اگر کوئی یہ کہے کہ اسلامی تحریک تین مرحلوں کا نام ہے ـــــ دعوت ، ہجرت، جہاد، تو یہ صحیح نہ ہو گا۔ اس لئے کہ یہ ترتیب مقدس عقیدہ پر قائم نہیں ہے۔ اس کی یہ ترتیب تمام تر زمانی حالات نے قائم کی نہ کہ کسی غیر متغير عقیدہ و نظریہ نے۔ اس کا تعلق منہاج سے ہے نہ کہ الدین سے۔ اس کی حیثیت تمام تر اضافی (relative) ہے۔ وہ حالات کی بنا پر بننے والی ایک تاریخ ہے نہ کہ عقیدہ کی بنا پر بننے والی ایک مقدس ترتیب۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، منہاج (method) میں فرق کا معاملہ صرف پچھلے نبیوں کے درمیان فرق کا معاملہ نہ تھا۔ یہ اصول ختم نبوت کے بعد بھی امت مسلمہ میں بدستور جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ منہاج میں فرق کا معاملہ جس اصول پر مبنی ہے وہ ایک ابدی اصول ہے، یعنی خارجی حالات میں فرق کا پیدا ہونا۔ حالات کا یہ فرق ہمیشہ مختلف صورتوں میں پیش آتا اس لیے منہاج میں فرق کی ضرورت بھی بار بار پیش آتی رہتی ہے۔
مثال کے طور پر قدیم زمانہ میں آمرانہ بادشاہت کا رواج تھا۔ تمام امور ایک جابر حکمراں کے اختیار میں ہوتے تھے اس بنا پر کسی خدا پرست گروہ کے لئے دینی زندگی گزارنا یا تو اس وقت ممکن ہوتا تھا جب کہ وہ حکمراں کے دائرہ اقتدار سے باہر چلا جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ
السلام نے کیا۔ وہ مصر میں فرعونی اقتدار کے تحت اللہ واحد کی عبادت کرتے ہوئے پرامن زندگی نہیں گزار سکتے تھے، اس لیے وہ بنی اسرائیل کے پورے گروہ کو لے کر مصر سے باہر چلے گئے اور صحرائے سینا کے غیر آباد علاقہ میں قیام کیا اور وہاں بنی اسرائیل کے لئے ایک خدا پرستانہ معاشرہ کی تشکیل کی۔
دوسری مثال وہ ہے جو اصحاب رسول کے یہاں ملتی ہے۔ ان کے زمانہ میں عرب سے متصل ایرانی شہنشاہیت (Sasanid Empire) اور رومی شہنشاہیت (Bazantine Empire) موجود تھیں ۔ یہ دونوں شہنشاہیتیں سیاسی جبر کے اصول پر قائم تھیں۔ ان کے تحت یہ ممکن نہ تھا کہ ارباب توحید آزادانہ طور پر اپنے فرائض کو ادا کر سکیں۔ اس لئے خود ان شہنشاہیوں کی جارحیت کے نتیجہ میں ان کے ساتھ اصحاب رسول کا ٹکراؤ پیش آیا۔ اللہ کی خصوصی مدد سے یہ ٹکراؤ اس کے نتیجہ میں ان جابرانہ شہنشاہیوں کا خاتمہ ہو گیا اور اہل توحید کو یہ موقعہ ملا کہ وہ خدا کی زمین پر خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
بیسویں صدی میں پہنچ کر دنیا کے حالات مکمل طور پر بدل گئے ہیں۔ نئے تاریخی عمل کے نتیجہ میں اب دنیا میں نہ شخصی حکمرانی ہے اور نہ جابرانہ سیاسی نظام۔ 1991 میں سوویت ایمپائر کا ٹوٹنا انسانی تاریخ میں نظام جبر کے خاتمہ کی آخری تکمیل تھی۔ اب اس قسم کا سیاسی جبر کبھی دنیا میں واپس آنے والا نہیں۔
سیاسی تبدیلی نے ’’منہاج‘‘ کے معاملہ کو انقلابی طور پر بدل دیا ہے۔ آج کے توحید پرستوں کو نہ اس کی ضرورت ہے کہ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف ہجرت کریں اور نہ یہ ضرورت ہے کہ وہ وقت کے حکمرانوں سے مسلح ٹکراؤ کریں، تاکہ انہیں ختم کر کے اپنے لئے آزادانہ دینی زندگی کے مواقع حاصل کر سکیں، کیوں کہ یہ چیزیں تو اب تاریخی عمل کے نتیجہ میں اپنے آپ انہیں حاصل ہو چکی ہیں۔ اس انقلابی تبدیلی کے دو بڑے پہلو ہیں: (۱) مکمل مذہبی آزادی (۲) جدید وسائل۔
موجودہ زمانہ انسانی تاریخ کا پہلا زمانہ ہے جب کہ ایک طرف فکری انقلابات اور دوسری طرف اقوام متحدہ کے قیام کے نتیجہ میں ہر فرد اور ہر گروہ کا یہ ناقابل تنسیخ حق مان لیا گیا ہے کہ وہ مکمل طور پر یہ حق رکھتا ہے کہ جس مذہب کو چاہے مانے، اس پر عمل کرے اور اس کی تبلیغ کرے، صرف اس ایک شرط کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے خلاف تشدد کا کوئی فعل نہ کرے، دوسرے لفظوں میں یہ کہ پرامن مذہبی زندگی یا پرامن دعوت و تبلیغ کے راستہ میں آج کسی بھی قسم کی کوئی خارجی رکاوٹ موجود نہیں۔
قرآن میں اصحاب رسول کو یہ دعاء تلقین کی گئی تھی کہ اے ہمارے رب، تو ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلی امتوں پر ڈالا تھا (البقرہ ۲۸۶) یہ گویا دعا کی صورت میں اس آنے والے دور کا پیشگی اعلان تھا جو پیغمبر آخر الزماں کی امت کے لئے اللہ نے مقدر کیا تھا۔ خاتمہ عصر کا یہ دور اب دنیا میں پوری طرح آچکا ہے۔
ایسی حالت میں آج کے مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ وہ نئے دور آزادی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کا بھر پور استقبال کریں، نہ کہ خود ساختہ نظریات کی بنا پر نئے دور کے سیاسی حکمرانوں سے غیر ضروری ٹکراؤ شروع کر دیں اور پھر صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عمر کے اس پیشگی انتباہ کا مصداق بنیں کہ ۔ اللہ کی توفیق سے اصحاب رسول نے سیاسی فتنہ کا خاتمہ کر دیا تھا، مگر تم لوگوں نے اپنی نادان کارروائیوں کے ذریعہ سیاسی فتنہ کو دوبارہ اپنے خلاف زندہ کر لیا (صحیح البخاری ۸/ ۳۲)
اس سلسلہ میں دوسری اہم چیز جدید وسائل کا ظہور ہے۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی اور صنعتی انقلاب کے بعد ایسے نئے وسائل کار ظہور میں آئے ہیں جو اپنی تاثیر کے لحاظ سے اتنا زیادہ دور رس ہیں کہ اب سیاسی اقتدار عملاً ثانوی درجہ کی چیز بن گیا ہے۔ آج وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ حاصل کیا جاسکتا ہے جس کی امید قدیم زمانہ میں صرف سیاسی اقتدار کے ذریعہ کی جاسکتی حقیقت یہ ہے کہ اگر ان وسائل کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو آج کی
دنیا میں ایسادینی ایمپائر بنایا جا سکتا ہے جس کا تصور بھی قدیم سیاسی ایمپائر کے زمانہ میں نہیں کیا جا سکتا تھا۔
آج پریس کی طاقت کو استعمال کر کے وہ فورتھ اسٹیٹ (Fourth Estate) بنایا جا سکتا ہے جو اپنے آپ میں ایک متوازی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج بڑی سے بڑی انٹر نیشنل کانفرنس کی جاسکتی ہے جس کا ہوائی جہاز کی ایجاد سے پہلے کوئی امکان ہی نہ تھا۔ آج نئے ذرائع کو استعمال کر کے ایسا عالی شان اسلامک سینٹر بنایا جا سکتا ہے جو قدیم طرز کے شاہی محل سے زیادہ پر عظمت ہو۔ آج انٹر نیٹ کی عالمی طاقت کو استعمال کر کے دنیا کے ہر گوشہ میں اسلام کا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے جو قدیم زمانہ میں صرف ایک بعید خواب (distant dream) معلوم ہوتا تھا،
مذہب اور سائنس الاسلام مطالعہ قرآن AL-RISALA BOOK CENTRE 1, Nizamuddin West Market, New Delhi-110013